دریا اور دوشیزہ : شیراز دستی

0

(پہلا منظر)

سلویا پلیتھ نیویارک کے مشرقی دریا (East River) پر بنی بروکلِن برِج (Brooklyn Bridge) کے عین درمیان میں کھڑی بیسویں صدی کے ترپنویں جُون سے مکالمہ کر رہی تھی۔

 اپنے پانچ فٹ نو اِنچ کے سرو قامت پر سرخ فراک زیب تن کیے، کندھے پر سرخ بیگ لٹکائے، ہونٹوں پہ شوخ سرخی سجائے، اِس وقت وہ اپنے ہموار تلووں والے سرخ جوتوں کو بروکلن برج پر جمائے کھڑی تھی۔

 دُرِ سفید ہونٹوں کو کاٹ رہے تھے۔ بے آواز لفظ اُکھڑتی ہوئی سرخی پر سے پھسل پھسل کر نیچے بہتے پانی میں گر رہے تھے:

Muhammad Sheeraz

’’واپس چلی جائوں؟‘‘

’’ڈلن ٹامس سے ملے بغیر؟‘‘

’’ہارورڈ سے رد ہو کے؟‘‘

’’پہلے سے بھی زیادہ تنہا ہو کربوسٹن لوٹ جائوں؟‘‘

’’اس دریا میں ہی کیوں نہ اُتر جائوں؟‘‘

لفظ تھمے تو اس کی آنکھوں کا ایک روشن موتی نمکین پانیوں میں ڈوبتی آنکھ سے ٹوٹا اورنچلی پلکوں پر آ بیٹھا۔ سلویا چاہتی تو اپنے وجود کے اس سوز کو بچا لیتی۔ آنسو پر اوپر والی پلکوں کی چادر ڈال کے روک لیتی۔ یا ایک بار نگاہِ آرزو آسمان کی طرف اُٹھا لیتی تو یہ ٹوٹا ہوا تارا اس سے بچھڑنے کے بجائے اس کے گالوں کی حدت کم کرنے میں مگن ہو جاتا۔مگر وہ قطرے کو قلزم میں ملتے دیکھنا چاہتی تھی۔لہریں جو باہیں پھیلائے اس ذرۂ آب کی منتظر تھیں، اس قطرے کے آتے ہی بڑے بڑے قدم بھرتی یوں بھاگیں جیسے انہیں ان کا بچھڑا ہوا بچہ مل گیا ہو۔

’’میرے آنسو کی تنہائی ختم!‘‘

’’کتنا آسان ہے دریا میں اتر جانا!‘‘

 یہ الفاظ دریا کے کان پڑے تو اسے بروکلن برج بنانے والے ان بیس مزدوروں کی موت یاد آئی جو دریا میں اتر آئے تھے،اور ان کے بھوکے بچے ہر روز آکے دریا کوایسی آہیں دیتے کہ اس کے پانی کی تہیں جمنے لگتیں۔ ایسی ایسی بد دعائیں دیتے کہ دریاکے ماتھے پہ پسینہ آنے لگتا۔ پھر اس دریا کو رابرٹ اوڈلم کی جان لیوا چھلانگ یاد آئی۔پی ٹی بارنم کے دلِ دریا کو دہلا دینے والے اکیس ہاتھیوں کی پریڈ یاد آئی۔ظاہر ہے دریا اپنی کھیلتی کودتی لہروں کو جواں سال سلویا کے خون سے رنگنے پر تیار نہیں تھا۔سو اسے بچانے کے لیے تدبیریں کرنے لگا۔

 سب سے پہلے اس نے بروکلن برج کے آگے ہاتھ جوڑے کہ اس کے لال جوتوں کو تھامے رکھو۔ پھر اپنی قوتِ اچھال کو بلایا اور تنبیہ کی کہ شاعرہ اگر نیچے آئے تو اسے اتنا اچھالو کہ مین ہیٹن (Manhattan) کی بلند عمارتیں ہیچ لگنے لگیں۔

                حالات کے ہاتھوں شکست خوردہ ہونے کے باوجود شاعرہ دریا کی سازش کو بھانپ گئی۔ سو اس نے خود سوزی کو کچھ وقت کے لیے ملتوی کیا،دریا کو خدا حافظ کہا اور خاموشی سے باربی زون ہوٹل کی طرف پلٹ گئی۔

(دوسرا منظر)

 مَیں مَین ہیٹن اور بروکلن کے درمیان رسیوں کی مدد سے معلق بروکلن برج پر آیا تو اکیسویں صدی کا سولہواں اپریل اپنی سرد ہوائوں کو تیز رفتاری کی مشق کروا رہا تھا۔ امریکی صدی کی یہ فن کار ہوائیں دورانِ مشق بھی شرارتوں سے باز نہیں آئیں۔اپنے چھپے ہاتھوں سے کبھی پُل پر ٹہلتی لڑکیوں کے سفید گالوںمیں گلابی رنگ بھرتیں، کبھی تصویر کے لیے تیار کسی نوجوان کے بال اُڑا کر اس کا پوز بگاڑ دیتیں،اورکہیں کوئی بزرگ نظر آجاتا تو اس کاگلا ہی پکڑ لیتیں۔ ان کی شرارتوں اور یخ بستگی سے بے نیاز ہزاروں لوگوں کا ایک قافلہ تھا جو پل کے آرپار رواں دواں ہزاروں انوکھی منزلوں کی جانب گامزن ہونے کی خاطر پَل بھر کواس پُل پر آ گیا تھا۔

 مَیں اُن لوگوں میں سے تھا جن کی منزل پُل ہی ہوتی ہیں۔سو میں ایک کیبل کو ہاتھ میں لے کراور پُل کے کنارے سے ٹیک لگاکر چلنے والوں کو دیکھنے لگا۔دنیا بھر سے آئے لوگ اپنی پیشانیوں پر اپنی منزلوں کے کتبے سجائے پھر رہے تھے۔ کسی کا رُخ دیارِ عشق کو تھا تو کسی کا دیارِ رزق کو۔کسی نے اپنے کتبے پر شہرِ پُر شور کندہ کرا رکھا تھا اور کسی کی منزل کا نشاں کوئی شانت سا خیال تھا۔ بچوں کی پیشانیوں پر ابھی جہانِ کھیل مسکرا رہا تھا۔ بزرگوں کے ماتھوں پر کسی شہرِ خاموش کی صفیں بچھی پڑی تھیں۔

 بروکلن برج کا یہ منظر رواں بھی تھا اور ساکت بھی۔ یہاں دیس دیس سے آئی آوازیں بھی تھیں اورپردیس سے آیا سکوت بھی تھا۔ یہاں زندگی بھی تھی اور زندگی کے پیچھے دبے پائوں آتا ہوا وقت بھی تھا۔ پُل جسے بروکلن اور مین ہیٹن کو جوڑنے کے لیے بنایا گیا تھا آج کئی گاڑی بانوں اور کرتب دانوں کے بھوکے دہن کو گرم نوالوں سے جوڑنے کا ذریعہ تھا۔۔۔ اور میری آنکھوں کو اس منظر نما سے۔ نیچے دریا پیٹھ کے بل بہہ رہا تھا اور سر اٹھا اٹھا کر اپنے شکم کے اوپر تنے اس پل پر رواں مسافروں کو دیکھنے میںمیرا ہم زیارت تھا۔

 عین اس وقت جب ہم دونوں لے تالی، دے تالی کرتے، منظر نما پر اپنے توانا قہقہوں کا رعب جماتے جوانوں کو تحسین گو آنکھوں سے دیکھ رہے تھے، ایک تیس بتیس سالہ آدمی اپنی آنکھوں میں راکھ لیے پُل اور دریا کے درمیان بنی حفاظتی باڑ پر چڑھ کر اپنی آنکھوں کا روشنی سے راکھ تک کا سفر بیان کرنے لگا۔ ٹھہرے ہوئے لوگ متوجہ ہوئے۔ ٹہلنے والے ٹھہر گئے۔ سبک رفتار آہستہ ہو گئے۔

 ’’میرا نام ’جیرمی‘ ہے۔ میں نے اس ملک کی ایک بہترین یونیورسٹی سے شاعری کی تخلیق کاری میں ماسٹرز کیا ہے۔ میدانِ تخلیق میں آیا تو میرے خیال روشن تھے۔ لکھنے کو ورق مانگتا تواُجلی جبینیں ملتیں،لفظ مانگتا تو آسمان سے تارے اتر آتے۔۔۔اجالا میری تخلیق کا متن ہوا کرتا تھا اور کرنیں حاشیہ۔ پھر ایک دن میری آنکھوں نے نیویارک کے ٹا ئمز اسکوئر پروہ حسنِ مجسم دیکھا جو اُس دن سے پہلے تک محض شعراء کے شاہکاروں میں نظم تھا۔ وہ اِک سراپا کہ جس کے گالوں میں رنگ تھا، بالوں میں خوشبو، آنکھوں میں باتیں، ہونٹوں میں رس اور جبیں پہ نورتھا۔اس کے ہونٹ ہلتے توکائنات کے کان بر سرِ سماعت ہو جاتے، ہاتھ ہلتے تو ہوا کے ذرے لمس لُوٹنے آجاتے۔ قدم اٹھتے تو دِل کالین بُننے لگتے۔۔۔ مجھے محبت ہو گئی اوریوں میری تحریر کی فصلِ بہار کا آغاز ہو گیا۔ اب میں اپنی پلکوں کو آنسوئوں اور رنگوں سے بنی روشنائی میں ڈبو کر دھوپ پر پھیرتا تو دھنک لکھ لیتا۔۔۔ مگرمجھے معلوم نہ تھا کہ میری پرواز کی راہ میں ایک طوفانی رات گھات لگائے بیٹھی تھی۔ وہ رات۔۔۔‘‘

 اُس نے ایک لمبی سانس لی۔ اپنے اردگرد کھڑے لوگوں پر ایک نظر دوڑائی اور اپنی کتھا میں سے اُس رات کے تذکرے کو حذف کر کے کہا:

 ’’اُس رات میرا خیال بُجھ گیا۔ وضاحت مت مانگیے گا کیوں کہ بارنم کے اکیس ہاتھیوں کو اٹھا لینے والا یہ پُل میرے غم کا بوجھ نہیں اٹھا پائے گا۔بس اتنا سمجھ لیجیے کہ میرے قلم کی قاتل معاش نہ تھی، حوا تھی۔ من کے بوجھ کو من میں سنبھالے آج میں اس دریا میں کود جائوں گا۔ اپنی ہار کو ان پانیوں میں دفن کر وں گا۔ خود سوزی کر لوں گا۔۔۔‘‘

 اس کے ان آخری جملوں پر دریا نے اُچھال کو خبردار کیاجب کہ اپریل نے اپنی ہوا کو دریا اور پل کے بیچ ہی تھام لیا۔لوگوں میں سے کچھ نے منہ سے نکلتی چیخ پہ ہاتھ رکھا، کچھ نے سیل فون نکال کر پولیس کو بلایا اور کچھ اس شخص کو برے وقت کی بے ثباتی یاد دلانے لگے، آنے والی صبح کی روشنی کا واسطہ دینے لگے، کرئہ زمیں پر بھٹکتی’ سنگل‘ حوائوں کی تعداد گوگل کر کے بتانے لگے۔

اسی اثنا میں تئیس چوبیس برس کی ایک ہنستی مسکراتی دوشیزہ مجمے کو چیرتی ہوئی آگے آئی، بھاگ کر خودکشی کے لیے تیار جیرمی کی طرف گئی، قریب پہنچ کر اس کی طرف پیٹھ کی، اپنا سمارٹ فون ہوا میں بلند کیا ، ہونٹ آگے کیے اور ایک سیلفی بنا لی۔۔۔پھر خود سوزصاحب کی طرف مڑکر دیکھے بغیر آہستہ آہستہ چلتی ہوئی آئی، ایک لمحے کو میرے پاس رکی اور اس سیلفی کو فیس بک پر پوسٹ کر کے لکھا:

Selfie with the suicide dude 😉

معلوم نہیں کیوں اب مجھے خود سوز سے زیادہ خود ساز میں دلچسپی ہونے لگی ۔

’’کیا میں آپ کا نام جان سکتا ہوں؟‘‘ میں نے آہستہ سے پوچھا۔

’’سلویا۔۔۔‘‘ اس نے بے نیازی سے کہا اور چل دی۔

اکیسویں صدی کا سولہواں اپریل اس قدر بے ساختگی سے ہنسا کہ ہوا اس کے قابو سے نکل کر جیرمی کے سینے پر آلگی اور وہ اچھال کی قوت کو اپنے سینے کے بوجھ تلے روندتا ہوا دریا کی تہہ میں اترگیا۔

۔۔۔()۔۔۔

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: