آداب مغلظات: لالہ صحرائی

0
  • 2
    Shares

دنیا میں طاقتور ترین ہتھیار وہ شائستہ جملہ ہے جس سے آپ کسی کو اپنے حق میں متاثر کر سکتے ہیں اور گالی اس کا ایکس۔ٹو ورژن ہے جو متاثر نہیں کرتا بلکہ متاثرین پیدا کرتا ہے جو آپ کے حق میں نہیں رہتے۔
غلام ہمدانی مصحفی صاحب دشنام طراز اور دشنام علیہ یعنی گالی دینے اور گالی کھانے والے کی کیفیات یوں بیان کرتے ہیں۔

اس نے گالی دی مجھے، ہو کے عتاب آلودہ
اور میں سادہ اسے لطفِ زبانی سمجھا

کسی شریف آدمی کو اچانک گالی سے واسطہ پڑ جائے تو اس کی کیفیت وہی ہو جاتی ہے جو مصحفی صاحب نے بیان کی اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ آداب معاشرت کے بعد آداب مغلظات پر بھی ایک کتاب لکھی جانی چاھئے جس میں گالیاں کھانے کے عادی لوگوں کی گالی اور شریف آدمی کو دی جانے والی گالی میں رکھ رکھاؤ اور ادب آداب کے الگ الگ طریقے وضع ہو جانے چاہئیں کیونکہ کتابی دنیا میں ہمیں ایک تہذیب یافتہ قوم کہا جاتا ہے اور اسی کے پیش نظر ہم اہل ادب بھی کہلاتے ہیں لہذا ہر کام کے آداب مقرر ہونے چاہئیں اور انہیں ملحوظ خاطر رکھنا بھی اپنا قومی فرض سمجھنا چاہئے۔
یہ آداب معاشرت کا ہی اثر ہے کہ واردات عشق میں وارفتگی کے تحت فریقین کے درمیان اچانک کچھ انہونا ہو جائے تو سنبھلنے کے بعد طرفین کے قلب و نظر کی کیفیت بقول شاعر کچھ یوں ہو جاتی ہے کہ:

بے ادب بوسے نے میرے اس قدر جھومر کیا
لعل لب کو تیرے کچھ فرصت نہ تھی دشنام کی

آداب مباشرت ٹائپ کتاب پڑھنے کے بعد بندہ خود کو کافی مہذب سمجھنے لگتا ہے اور پکا ارادہ کر لیتا ہے کہ موقع آنے پر ادب آداب کو ضرور ملحوظ خاطر رکھے گا لیکن یہ موقع ہمیشہ اتنی جلدی میں آتا ہے کہ ادب آداب کی جگہ یلغار لے لیتی ہے، شنید ہے کہ آداب مغلظات طے ہونے کے بعد بھی وہی صورتحال پیش آئے گی کیونکہ وقت دشنام بھی انسان پر اچانک ہی وارد ہوتا ہے اور گرج برس کے اپنے پیچھے ماحول میں پھیلے لمحوں کا تکدر چھوڑ کے چلا جاتا ہے۔
آداب مغلظات کی کتاب کا کوئی فائدہ ہو نہ ہو کم ازکم مورخ یہ تو لکھے گا کہ یہ قوم اہل ادب میں سے تھی یہاں تک کہ ان کے ہاں دشنام طرازی کے بھی آداب مقرر تھے اور کچھ ہو نہ ہو، دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے کے مصداق، دل کو یک گونہ تسلی تو رہے گی کہ ہم نے ابھی تک ادب کا پلو نہیں چھوڑا خواہ وہ صرف کتاب کی حد تک ہی سہی رکھا ہوا تو ہے، اس خوش خیالی کو جرأت بخش قلندر صاحب نے اپنے الفاظ میں یوں قلمبند کیا ہے کہ:

لبِ خیال سے اس لب کا جو لیا بوسہ
تو منہ ہی منہ میں عجب طرح کا مزا آیا
گالی کے آداب مقرر کرنے سے پہلے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ گالی کے محرکات کیا ہیں، لوگ آخر گالی کی زبان میں ہی بات کرنا کیوں چاہتے ہیں یا بات کرتے کرتے گالم گلوچ کی نہج پر کیوں پہنچ جاتے ہیں، یہ صرف سوشل میڈیا کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ ہر بیٹھک میں، تفریح میں، ھنسی مزاق اور خاص طور پر جھگڑوں میں گالی کا استعمال ہر طبقے میں عام پایا جاتا ہے، شائد ہی کوئی ایسا بندہ ہو جو گالی دینے یا بھگتنے سے بچا ہوا ہو۔
گالی کا جواز تلاش کرنا آسان کام نہیں خصوصاً جبکہ ہر بندہ یہ بات جانتا ہے کہ اس گھٹیا کام سے انسانوں کے باہمی تعلقات بنتے نہیں بلکہ بہر صورت بگڑتے ہی ہیں لیکن یہ سادہ سی بات جانتے ہوئے بھی لوگ آخر گالی ہی کیوں دینا چاہتے ہیں یہ بات اس سوال کو مشکل بنا دیتی ہے۔
جواب کی تلاش یہ بتاتی ہے کہ اس مرض کی کئی صورتیں ہیں جن میں لوگ گالی کو بطور عادت ثانیہ اپنا لیتے ہیں، پہلی وجہ کا باعث گھریلو ماحول بنتا ہے، بیشتر لوگ اپنے والدین سے گالی دینا سیکھتے ہیں، ان کا بچپن گالیاں کھاتے ہوئے یا دوسروں کو گالیاں پڑتے دیکھتے ہوئے گزرا ہوتا ہے، دیکھا دیکھی یہ بھی اپنے سے چھوٹوں کو گالیاں دینا شروع کرتے ہیں اور یہیں سے انہیں عادت پڑ جاتی ہے یعنی وقت کے ساتھ ساتھ گالیاں دینا ان کیلئے کوئی خاص بری بات کی بجائے ایک معمول کی کاروائی قرار پاتی ہے۔
گالی دینے کی عادت بہت سادگی کے ساتھ شروع ہوتی ہے، سب سے پہلے یہ پانی کی گہرائی ناپتی ہے کہ سامنے والے کس قدر بوجھ برداشت کر سکتے ہیں لیکن کچھ کامیاب تجربات کے بعد یہ خطرناک حد تک انسان کی عادت ثانیہ اور دوسروں کو رگڑنے کا ٹول بن جاتی ہے۔
اپنے تجربے کی بنیاد پر دشنام طراز کو یہ بھی پتا ہوتا ہے کہ جب گالیاں پڑ رہی ہوں اور بندہ بے یارومددگار ہو تو وہ کس قدر تکلیف دہ ماحول میں ہوتا ہے لہذا جب دوسروں کو انتقاماً تکلیف پہنچانا مقصود ہو تو وہی خوفناک ماحول پیدا کرنے کیلئے یہ کسی کو گالیاں دے دیا کرتے ہیں تا کہ اگلے کیلئے ویسا ہی ماحول بنا دیں جیسا خود کبھی بھگتا ہوتا ہے۔
بچپن سے گالیاں کھانے والے اکثر افراد بڑے ہو کر اسی خوفناکی سے بچنے کیلئے گالیاں کھانے کی بجائے گالیاں دینے والے بننا زیادہ پسند کرتے ہیں تاکہ دوسروں کے رحم و کرم پر رہنے کی بجائے اپنا سکہ جمایا جائے، وقت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں رکھی جائے اور اپنی تقدیر کا خود مالک بنا جائے۔
دوسرا اہم پہلو ذہنی صحت سے متعلق ہے ایسے لوگوں میں عموماً تین ذہنی بیماریاں یا پرسونیلٹی ڈس آرڈرز پائے جاتے ہیں جو انسان کو دشنام طرازی پر مائل کرتے ہیں۔
پہلا نارسسٹک پرسونیلٹی ڈس آرڈر یا خود پسندی ہے، یہ ایک ایسا مرض ہے جس میں انسان دوسروں سے صرف اپنی مدح سرائی سننے کا شوقین رہتا ہے، اسی مقصد کیلئے لوگ اپنی بات منوانے اور لوگوں کو اپنا تابع فرمان رکھنے کیلئے دشنام طرازی کا سہارا لیتے ہیں۔
دوسرا مرض اینٹی۔ سوشل یا سوشیوپیتھ پرسونیلٹی ڈس آرڈر ہے، اس مرض میں مبتلا افراد دیگر لوگوں کے حقوق اور سماجی رویوں کو نہیں مانتے، یہ جھوٹ بولنے، قانون توڑنے، حفاظتی بند توڑنے اور تندخوئی پر مائل رہتے ہیں، اگریسیو رہنا انہیں اچھا لگتا ہے اور اس مقصد کیلئے پہلا ہتھیار گالی کو ہی چنتے ہیں۔
اس سلسلے کا تیسرا مرض سائیکوپیتھ ڈس آرڈر ہے جس کا مریض قریب قریب پیرانائیڈ اور غصیلا ہوتا ہے، جب یہ خالی پن کا شکار ہوں تو دوسروں کو گالی دیتے ہیں یا خود کو بھی کوئی ضرر پہنچا سکتے ہیں۔
گالیاں دینے والے افراد کی نفسیات اور وجوہات مختلف ہیں لیکن چند ایک چیزیں ان سب میں کامن ہوتی ہیں مثلاً گالیاں دینے والے افراد عموماً یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے بیک گراؤنڈ اور نسلی اعتبار سے دوسروں پر فوقیت رکھتے ہیں لہذا وہ گالی دینے کا بھی حق رکھتے ہیں، حسد بھی ایک معقول وجہ ہے جس کی بنا پر گالیاں دی جاتی ہیں، بعض لوگوں میں اپنی ذات پر اعتماد کی کمی ہوتی ہے اسلئے وہ ماحول کیساتھ اپنے آپ کو بیلنس کرنے کیلئے بھی گالی دیتے ہیں۔
جذباتی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ دوسروں سے ممتاز ہیں لہذا تمام لوگ بشمول ان کے ہاتھوں گالیاں کھانے والوں کو چاہئے کہ وہی سوچیں، سمجھیں اور مانیں جو وہ چاہتے ہیں، یہ جذبہ انہیں اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ وہ حکم چلانے، ماحول پر اپنا کنٹرول رکھنے اور اپنی من چاہی بات منوانے کیلئے گالی کا آزادانہ استعمال کر سکتے ہیں۔
ہائیپر سینسٹو لوگ جن کی قوت برداشت کم اور حساسیت زیادہ ھو وہ بھی گالی کا سہارا لئے بغیر نہیں رہ سکتے، بعض جذباتی قسم کے لوگ جان بوجھ کر گالی دیتے ہیں اور اپنی گالی کی وجہ بھی دشنام علیہ کو ہی گردانتے ہیں کہ وہ اگر ایسا نہ کرتا تو میں گالی نہ دیتا، گالی دینے کی وجوہات میں یہ اپنا رول کم اور گالی کھانے والے کا رول زیادہ شمار کرتے ہیں۔
اندرونی کمزوریوں، جذباتیت، ہائیپر ٹینشن اور نشہ آور اشیاء کے استعمال کی وجہ سے کوئی اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ سکتا اور گالی سے اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے، کسی قسم کے نشے سے گالیاں دینے کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا لیکن اس حالت میں نشئی افراد قادرالکلام نہیں رہ سکتے لہذا کمیونیکشن پاور کی کمی کو گالی سے سہارا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
غلیظ زبان صرف اپنے اندر کا بوجھ ہلکا کرنے کیلئے بولی جاتی ہے تاکہ غصہ، غبار اور فرسٹریشن نکل جائے، اس طرح سے یہ عناصر ایک انسان سے تو نکل جاتے ہیں لیکن آس پاس کے سننے والوں کیلئے ماحول کو مکدر کر جاتے ہیں، گالیاں دینے والے کے جذبات یک رخے ہوتے ہیں جو باہر نکلنے کیلئے تڑپتے ہیں لیکن باہر آتے ہی مر جاتے ہیں، بندہ یہ سمجھ کے خوش ہوجاتا ہے کہ اس نے گالی دیکر دوسروں کو تکلیف دی، وہ اسے خوشی کی بات تو سمجھتا ہے لیکن اپنے اندر کی ٹوٹ پھوٹ سے آگاہ نہیں ہوتا اگر اسے آگاہ کیا جائے تو ماننے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔
جو لوگ ذہنی امراض سے پاک ہیں اور انہیں کبھی ماضی میں بھی گالیاں نہ پڑیں ہوں ان میں بھی گالی کا رجحان پایا جا سکتا ہے جس کی بنیادی وجہ ان میں لاابالی پن، غیرذمہ دارانہ رویہ اور تکبر جیسی چیزیں کا موجود ہونا ہے، ان کے نزدیک دوسرے لوگ محض ان کی خاطر مدارت کیلئے پیدا ہوئے ہیں اس کے علاوہ ان کی زندگیوں کا کوئی خاص مقصد نہیں لہذا یہ اپنی طاقت کے اظہار کیلئے انہیں گالی دینا واجب سمجھتے ہیں۔
گالی صرف غصے کے اظہار کیلئے ہی نہیں دی جاتی بلکہ تفریحی مقاصد اور گلے شکوے کیلئے بھی دوستوں کے درمیان عام استعمال ہوتی ہے، بطور شکوہ عادل منصوری صاحب نے یہ خوبصورت مضمون باندھا ہے کہ:

ہم کو گالی کے لیے بھی لب ہلا سکتے نہیں
غیر کو بوسہ دیا تو منہ سے دکھلا کر دیا

دوستوں کی مجلس ہو، سوشل میڈیا یا فلم ہو، مغلظ زبان ہر جگہ استعمال ہوتی ہے، سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ اب یہ زبان فلموں میں بھی عام پائی جاتی ہے، فلمسازوں نے پیسے کھرے کرنے کیلئے دشنام پسندوں کی خاطر یہ مرحلہ بھی اب سر کر لیا ہے۔
سائیکالوجی میں دشنام طرازی کو مارکٹائی کے ہم پلہ ہی قرار دیا گیا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ گالی کو سائیکوجیکل ایبیوز کہتے ہیں اور مارکٹائی کو فزیکل ایبیوز کہا جاتا ہے لیکن جنس کے اعتبار سے ان دونوں کو ایک ہی پلڑے میں رکھا جاتا ہے، الٹے نام سے بلانا، الٹے نام رکھنا، انسلٹ کرنے والے جملے بولنا، ڈرانا دھمکانا، دوسروں کیلئے صنفی، نسلی اور مذہبی امتیاز روا رکھنا، کیرئیر، رویے، اعتقاد اور علاقائی تعصب کی بنا پر کسی کا مزاق اڑانا، یہاں تک کہ کسی کو سماجی سرگرمیوں کے حلقے سے باہر کر دینا بھی سائیکالوجیکل ایبیوز میں شمار کیا جاتا ہے۔
دشنام طرازی یا سائیکالوجیکل ایبیوزز نہ صرف بااعتماد رشتوں کو ناکارہ بنا دیتی ہیں بلکہ عام دوستی کے رشتوں کو بھی تباہ کرتی ہیں یہاں تک کہ انسان کا اپنے ساتھ تعلق بھی مسخ ہونے لگتا ہے اور انسان بعض معاملات میں خود کو بھی گالیاں دے ڈالتا ہے، اس سلسلے میں ذوالفقار عادل صاحب کہتے ہیں کہ:

اپنے آپ کو گالی دے کر، گھور رہا ہوں تالے کو
الماری میں بھول گیا ہوں پھر چابی الماری کی

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: