داستان گو — قسط نمبر 7 — ادریس آزاد

0
  • 8
    Shares

تختِ جمشید اب دوبارہ آباد تھا۔ یہ الگ بات تھی کہ اِس پراب جامِ جَم والا جمشید نہیں بلکہ بیسویں اور اکیسویں صدی کی دو مغنیائیں براجمان تھیں۔قدیم انسانوں کی عظمت و ہیبت کا یہ نمائندہ آج بھی اُتنا ہی بلندوبالا اور وسیع و عریض تھا۔ تختِ جمشید کے سامنے تقریب کے حاضرین گاؤ تکیے لگائے، بیٹھے آپس میں گپیں ماررہے تھے۔ یہ سارا علاقہ ایک مانومینٹ تھا۔550 تا 330 قبل مسیح کے عرصہ میں تختِ جمشید، ایرانی بادشاہوں کی ایک نسل ’’ہخامنشیوں‘‘ کا سرمائی پایۂ تخت تھا۔ تاریخ میں اِس شہر کو ’’پرسی پولس‘‘ بھی کہا جاتاتھا۔330 قبل مسیح میں سکندرِ اعظم نے ’’دارا سوم‘‘ کو شکست دے کر اس شہر کو آگ لگا دی تھی جس کی وجہ سے یہاں اب بھی جلے ہوئے کھنڈرات تھے۔تختِ جمشید اتنا بڑا تھا کہ اس کی نشست پرداریوشِ اعظم کے دور کےمحل ’’قصر ِتاچارہ‘‘ کے کھنڈرات اب بھی موجود تھے۔ قصرِ اَباتانہ کے کھنڈرات بھی تخت کی نشست پر ہی تھے۔ آج کی تقریب تخت کی نشست کے سامنے کے کنارے پر منعقد ہورہی تھی۔ سٹیج پر جو لوگ بیٹھے تھے اُن کے عقب میں دونوں عظیم محلّات کے کھنڈرات آج بھی ا پنے رعب اور طمطراق کا مظاہرہ کررہے تھے۔قدیم محلات میں یوں تو روزانہ ہی چراغاں ہوتا تھا لیکن آج بطور خاص پورا تختِ جمشید پوری طرح روشن تھا۔
سٹیج پر ایک دبیز قالین بچھا تھا جس پر چاروں طرف بہت سے لوگ گاؤ تکیے لگائے حاضرین کے سامنے بیٹھے تھے۔ ابھی تقریب شروع ہونے میں کچھ وقت باقی تھا۔ سٹیج پر دائیں طرف دو تکیوں کے ساتھ ٹیک لگائے وہ دونوں مغنّیائیں بیٹھی آپس میں باتیں کررہی تھیں۔ یہ دونوں جوان العمر خواتین تھی۔ جو’’ بِنادم ‘‘ برادری کی انسان تھیں یعنی جنہیں دوبارہ اُٹھایا گیا تھا۔ یہ دونوں مغنیائیں اپنے وقت کے ایک ملک پاکستان میں ہوگزری تھیں۔ایک مغنیہ نہایت زرق برق لباس میں ملبوس تھی جبکہ دوسری نے بہت سادہ کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ زرق برق لباس والی مغنیہ نے سادہ لباس والی مغنیہ سے مخاطب ہوکر کہا، ’’باجی! میں آپ کی دیوانی تھی۔آپ کی ہرغزل، ہر گیت مجھے زبانی یاد تھا۔ میں نے اپنی داستان تو آپ کو سنائی ہے نا۔ میں تو ایک طوائف تھی اور صرف اپنے گاہکوں کے لیے گاتی اور ناچتی تھی لیکن آپ تو پوری دنیا میں مشہور تھیں۔میں آپ کی غزلیں گاتی تھی زیادہ تر اور ایک وہ گیت‘‘
زرق برق لباس والی مغنیہ نے ’’وہ گیت‘‘ کہہ کر سادہ لباس والی مغنیہ کی نظروں میں تجسس تلاش کرنے کی کوشش کی تو سادہ لباس والی مغنیہ مسکرا دی اور کہنے لگی،
’’پگلی تم مجھے پہلے بتاچکی ہو۔تم مجھے تقریباً ساری باتیں بتا چکی ہو۔ بس صرف یہ نہیں بتایا کہ تمہاری موت کیسے واقع ہوئی تھی؟‘‘
سادہ لباس والی مغنیہ نے پھر وہی سوال کردیا جو وہ زرق برق لباس والی مغنیہ سے کئی دن سے کرتی آرہی تھی۔ زرق برق لباس والی مغنیہ نے پھر وہی بات کی،
’’نہیں باجی! آپ کو مجھ سے نفرت ہوجائے گی۔ مجھے ڈر لگتاہے‘‘
’’نفرت ہوجائے گی؟ کیا مطلب؟ یہاں کوئی کسی سے نفرت نہیں کرتا پگلی‘‘
زرق برق لباس والی مغنیہ سوچ میں پڑگئی۔ اس نے سرجھکا لیا۔ کچھ دیر یونہی بیٹھی رہی اور پھر گویا ہمّت کرکے کہنے لگی،
’’باجی! میری موت ایڈز سے ہوئی تھی۔ میں طوائفہ تھی نا تو مجھے ایڈز ہوگیا‘‘
یہ سن کر سادہ لباس والی مغنیہ کے منہ سے بے ساختہ نکلا،
’’اوہ! ‘‘
لیکن ساتھ ہی سادہ لباس والی مغنیہ نے اِس ڈر سے کہ زرق برق لباس والی مغنیہ اِس ’’اوہ‘‘ سے بھی غمزدہ نہ ہوجائے، فوراکہنا شروع کردیا،
’’کوئی ایڈز سے مرگیا یا قوم اور وطن کے لیے شہید ہوگیا، آج یہاں سب برابر ہیں۔ اگر کسی بات کی اہمیت ہے تو فقط اِس بات کی کہ آپ کا پرسنٹیج کیا ہے۔ تم میری بہن ہو۔ ہم دونوں خوش قسمت ہیں کہ ہم اب دوبارہ زمین پر ہیں اور اپنے لوگوں میں ہیں‘‘
اتنا کہہ کر سادہ لباس والی مغنیہ چند ثانیے کے لیے خاموش ہوئی۔ اس دوران وہ بڑی پیار بھری نظروں سے زرق برق لباس والی مغنیہ کی آنکھوں میں جھانکتی رہی۔ ساتھ ہی وہ کچھ سوچ رہی تھی۔ معاً اُس نےسوال کیا،
’’سونیا! یہ بتاؤ! تمہارا نام کس نے لیا؟ مطلب یہاں کے اِدارہ ’’ولسما‘‘ کو کس نے کہا ہوگا کہ تمہیں جگایاجائے؟ کیونکہ تمہیں پتہ ہے نا؟ یہاں کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی کا نام لیتاہے۔ پھراس کے بعد ڈی این اے چیک ہوتاہے اورپھر پرسنٹیج اور پر جگا دیا جاتاہے۔تمہارا نام کس نے لیا تھا؟‘‘
یہ بات سنتے ہی زرق برق لباس والی مغنیہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔اُس نے ایک ہلکی سی سسکی کے ساتھ صرف اتنا کہا،
’’میرے بھائی نے‘‘
’’بھائی نے؟ تو پھر اِس میں رونے والی کیا بات ہے؟‘‘
’’باجی! میرا بھائی گندگی کے ڈھیر پر مَرا تھا۔ سترہ گھنٹے تک لاش کے نزدیک کوئی نہ گیا تھا۔ وہ ہیروئن پیتا تھا۔ہیروئن کی لَت لگنے سے پہلے پہلے میرا بھائی شہزادہ تھا باجی! شہزادہ۔ یوں سرخ وسفید،مونچھوں والا جوان کہ دیکھ کر رشک آتا تھا۔ اس نے اپنا سب کچھ پوڈر کے لیے تباہ کردیا تھا۔ نوکری، بیوی، مکان، ابّا کی ساری کمائی، سب کچھ پوڈر پینے میں خرچ کردیا۔ پھر وہ گلی گلی میں رُل گیا۔ وہ سارا دن گندگی کے ڈھیروں سے چیزیں ڈھونڈتا اور پھر انہیں بیچ کر اپنے لیے ہیروئن کی پُڑیا خریدتا۔ آخری سالوں میں وہ اپنے آپ کو نشے کا اِنجکشن بھی لگانے لگ گیا تھا۔ اور دسمبر کی ایک یخ بستہ رات میں وہ گندگی کے ایک ڈھیر پرمرگیا۔ اگلے دن سہ پہر تک اُس کی لاش کو کسی نے نہ اُٹھایا۔ آج میں حیران ہوتی ہوں۔ جب میری آنکھ کھلی تو وہ میرے سامنے تھا۔وہی سرخ و سفید میرا شہزادہ بھائی اور ہنس رہا تھا۔ میں حیران ہوتی ہوں کہ سِڈرہ کمیونٹی کے لوگوں نے نہ صرف اُسے جگا دیا بلکہ اس کا پرسنٹیج بھی ساٹھ کے قریب ہونے کی وجہ سے وہ جحمان کے سیّاروں سے بچ گیا۔ اب وہ ایک سیّارے ’’آرمانول‘‘ پر ہوتاہے۔ میں جب چاہوں اس سے مل سکتی ہوں۔ باجی! اُس سے جب پوچھا گیا کہ وہ کسی کو بیدارکرنا چاہتاہے تو اُس نے میرا نام لیا تھا۔ اس لیے مجھے جگا دیا گیا‘‘
اچانک تختِ جمشید کے سامنے قالینوں پر بیٹھے لوگ کھڑے ہونے لگے۔ دونوں مغنیائیں بات کرتے کرتے رُک گئیں۔ لوگ ایسے اُٹھ رہے تھے جیسے کسی کا استقبال کررہے ہوں۔ کوئی آرہا تھا شاید۔ساتھ ہی لوگوں کی آپس میں باتیں کرنے کی آوازیں بھی قدریں بلند ہوگئیں۔ اب قالین پر کھڑے لوگوں نے درمیان سے راستہ چھوڑدیا۔ جہاں سے راستہ چھوڑا گیا۔وہاں نہ جانے کیسے لیکن روشنی کی مقدار آہستہ آہستہ تیز ہوتی چلی گئی۔ شاید کوئی مہمان آرہا تھا۔ لوگوں نے اُسی کے لیے راستہ بنا دیا تھا۔یہ دیکھ کر سٹیج پر بیٹھے لوگ بھی مارے تجسس کے اُٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ کوئی زیادہ خاص مہمان آرہا تھا شاید۔ لوگوں کی آوازوں اورقدرے بلند بھنبھناہٹ سے تو یہی معلوم ہوتاتھا۔ سٹیج پر موجود تمام معزز مہمان اب نہایت تجسس سے اُس راستے کی طرف دیکھ رہے تھے جہاں سے گزر کر کوئی آنے والا تھا۔
پھر پہلے مقسور لڑکیوں کی ایک قطار نمودار ہوئی۔یہ نہایت ہی حسین دوشیزائیں تھی۔ دونوں مغنیائیں اِن مقسور لڑکیوں کا حسن دیکھ کر دنگ رہ گئی۔ لڑکیوں نےہاتھوں میں پھولوں کی ٹوکریاں اُٹھا رکھی تھی اور قالین پر بنے اس راستے پر پتیاں نچھاور کرتی چلی جارہی تھی۔ معاً دونوںمغنیاؤں کی نظر پڑی تو وہ یہ دیکھ کر دنگ رہی گئیں کہ وہ بہت سے بچے تھے۔ بہت سے بچے، جو لوگوں کے بیچوں بیچ بنے راستے پر چلتے ہوئے سٹیج کی طرف آرہے تھے۔کچھ بچوں نے ایک جیسی یونیفارمز پہن رکھی تھیں جبکہ باقی بچے نہایت قیمتی لباسوں میں ملبوس تھے۔ لڑکیوں نے سفید فراکیں پہنی ہوئی تھیں جن پر بڑے بڑے رنگین پھول بنے ہوئے تھے۔سب بچے خوب گورے چٹے تھے۔
یکایک، میزبان کی آواز بلند ہوئی۔ یہ آج کی تقریب کا میزبان تھا۔ ایک قدرے پختہ عمر کا مرد، سٹیج پر رکھے پوڈیم کو تھامے آنے والے مہمان بچوں کے بارے میں بتانے لگا،
’’حاضرین ِ کرام! ہمارے درمیان اِس وقت کچھ ننھے فرشتے موجود ہیں۔ یہ بچے جن کا اِ س وقت استقبال کیا جارہا ہے یہاں مطالعاتی دورے پر آئے ہوئے ہیں۔ گزشتہ کئی دن سے باغ میں مقیم ننھے طلبہ و طالبات کی یہ جماعت ہیومین ورژن ون کے بچوں پر مشتمل ہے اور ہماری تقریب کی وجہ سے ان لوگوں نے یہاں آنا اور تقریب میں شامل ہونا ازخود بھی پسند کیا ہے۔ان میں سے جن 132 بچوں کو آپ یونیفارمز میں دیکھ رہے ہیں، یہ 2014 میں دورانِ تعلیم، اپنے سکول کے اندر ہی شہید کردیے گئے تھے۔ باقی بچوں میں کچھ وہ بچے ہیں جو ڈرون طیّاروں کے حملوں میں مارے گئے۔ کچھ بچے چند دیگر صدیوں سے بھی ہیں، جن کی ترتیب کچھ یوں ہے کہ ………… ‘‘
اور پھر پروگرام کا میزبان مزید بچوں کا تعارف کروانے لگا لیکن اب مغنیائیں اُس کی مزید بات نہ سُن پاررہی تھیں۔ کیونکہ دونوں پاکستانی خواتین کے لیے یہ بات ہی خاصی چونکا دینے والی تھی کہ اُن کے سامنے وہی شہید بچے اتنے شان و شوکت کے ساتھ کھڑے تھے، جنہیں اپنے وقت میں دہشت گردوں اور زیادہ شدید وائیلنس والے لوگوں نے اِتنی بے دردی سے بھُون ڈالا تھا۔
دونوں مغنیاؤں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ سٹیج سیکریٹری ابھی تک بول رہا تھا۔ دونوں مغنیاؤں کی توجہ دوبارہ اُس وقت سٹیج سیکریٹری کی جانب مبذول ہوئی جب اُس نے اچانک کہنا شروع کیا،
’’لیجیے! حاضرین کرام! اب وقت ہے نغمہ سننے کا۔ ہماری آج کی تقریب ………… ‘‘
میزبان دونوں مغنیاؤں میں سادہ لباس والی مغنیہ کا نام نہایت اعزازواکرام کے ساتھ پکار رہا تا۔مجمع نے اتنی زور سے تالیاں بجائیں کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ بچے سامنے کی قطاروں میں سب سے آگے بیٹھ گئے۔ سادہ لباس والی مغنیہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی، آگے بڑھی۔ ایک طرف سازندے نیم دائروی قطار میں قالین پر دھرے ایک اور قالین کے قدرے چھوٹے ٹکڑے پر بیٹھے تھے۔ مغنیہ اُن کے درمیان پہنچ کر رُک گئی۔ اس نے سامنے موجود مجمع کو ہاتھ ہِلایا تو پھر ایک بار تالیوں اور سیٹیوں کا شور بلند ہوا۔ اب مغنیہ قالین پر بیٹھ گئی۔کچھ ہی دیر وہ سازندوں کو ہاتھ کے اِشاروں سے کوئی تیکنیکی معاملات سمجھاتی رہی اور پھر اس نے عادت کے مطابق گلا کھنکھار کر کہا،
’’آج جو غزل میں پیش کرنے جارہی ہوں۔ یہ آج کے ہمارے خاص الخاص مہمانوں، یعنی اِن معصوم فرشتوں کے نام ہے‘‘
اتنا کہہ کر مغنیہ نے گانا شروع کردیا۔ جونہی مغنیہ نے گانا شروع کیا مجمع پر یکخت سکوت چھا گیا۔ آواز تھی کہ کوئی جنّت کی کوئل بول رہی تھی۔ مغنیہ کی آواز چاروں طرف سے پھوٹنے لگی۔ یوں لگتا تھا کہ پتہ پتہ مغنیہ کی آواز نشر کرنے لگ گیا ہے۔ اس نے جب غزل کا مطلع گایا،
’’اے جذبۂ دِل گر میں چاہوں ہرچیز مقابل آجائے
منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آجائے‘‘
شعر ختم ہونے کی دیر تھی کہ ماحو ل تالیوں اور واہ واہ کی آوازوں سے گونج اُٹھا۔مغنیہ نے اَنترہ اُٹھایا،
’’اے رہبرِ کامل چلنے کو تیار تو ہوں پر یاد رہے
اس وقت مجھے بھٹکا دینا، جب سامنے منزل آجائے‘‘
مغنیہ گاتی جارہی تھی اور سیّارۂ زمین تھا کہ اپنے وجود پر فخر کرتا چلا جارہا تھا۔ مغنیہ کی لےَ کے ساتھ ساتھ عجب قسم کی بھینی بھینی خوشبو سے لبریز ہوا چلنے لگی۔ یہ رات کی رانی سے بھی کہیں بڑھ کر مسحور کُن خوشبو تھی۔ یوں لگتا تھا کہ مغنیہ کی لَے نے درختوں کو بھی جھومنے پر مجبور کردیا تھا۔
************
آج دانش اور اُس کی بیوی ایلس، سیّارہ ’’پائرہ‘‘ کی طرف روانہ تھے۔ وہ اس وقت کلاسیکی طرز کی ایک گاڑی جس میں آج تک نیئوکلیئر انجنز چلتے تھے میں، شیشے کے ایک میز پر آمنے سامنے بیٹھے کوئی مشروب پی رہے تھے۔اُنہوں نےخود اپنی مرضی سے اِسی گاڑی میں سفر کرنا پسند کیا تھا۔ یہاں سے پائرہ کا سفر ساڑھے تین گھنٹے کا تھا۔ دانش اور ایلس، دونوں کے چہرے پر شدید پریشانی کے آثار تھے اور وہ تیز تیز لہجے میں آپس میں کسی مسئلے پر بحث کررہے تھے۔ایلس نے یکایک پیچھے کرسی کی پشت کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے کہا،
’’بس پھر ٹھیک ہے۔اگر یہ بات ہے تو ہم دونوں کو بھی ’انیتا‘ کے ساتھ ہی نکل جانا چاہیے۔ اب ہمارا یہاں رہنا ٹھیک نہیں دانش‘‘
لیکن دانش اُس کی رائے سے متفق نہ دکھائی دیتا۔ دانش نے کچھ دیر سوچتی ہوئی نظروں سے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
’’مجھے تو کوئی فرق نہیں نظرآتا۔ یہاں ہو یا وہاں، اگر ہم میں وائلنس ہے تو پھر ہمیں مرنے کے بعد جحمان کے سیّاروں پر جانے سے کوئی نہیں بچاسکتا‘‘
دانش کی بات سے ایلس پھر چِڑ گئی،
’’دانش ! تم بات کو سمجھ کیوں نہیں رہے۔ دیکھو! لاجک پر غور کرو! اچھا پہلے مجھے یہ بتاؤ! یہ لوگ جب کسی کا وائیلنس ختم کرنے کے لیے اُس کی تربیت کرنا چاہتے ہیں تو اسے کہاں رکھتےہیں؟‘‘
دانش کو کچھ سمجھ نہ آئی کہ وہ کیا کہنا چاہتی ہے، پھر بھی اُس نے جواب دیا،
’’جحمان کے سیّاروں پر‘‘
تب ایلس نے پورے جوش سے کہنا شروع کیا،
’’دیکھو! جحمان کے سیّاروں پر اُن لوگوں کی تربیت کیوں جلدی ممکن ہوجاتی ہے؟ کیونکہ وہاں زندگی تلخ ہے۔ اگر ہم یہاں رہ کر اپنا وائیلنس لیول کم کرنا چاہیں گے تو بہت مشکل بلکہ ناممکن ہوگا۔ ہم اِس جنت نما دنیا میں اِن لوگوں کے ساتھ رہتے رہینگے۔ اور یہ لوگ بھی بطور مہمان ہماری خوب خاطر مدارت کرتے رہینگے۔ لیکن جب ہم مرینگے تو ہمارا وائیلنس لیول وہیں کا وہیں ہوگا کیونکہ ہم نے تلخ زندگی نہ دیکھی ہوگی۔ لیکن اگر ہم زمین پر چلے جائینگے تو وہاں ہمیں تلخ زندگی کا سامنا کرنا ہوگا۔ اب تو ہم جانتے ہیں کہ زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اب ہم خود بھی ہر کام پر اپنے وائیلنس کم کرنے کے مِشن کو اوّل ترجیح دینگے۔ اور جب مرینگے تو ہمارا پرسنٹیج ساٹھ سے اُوپر ہوگا‘‘
دانش اور ایلس اتنی بحث کیوں کررہے تھے؟ یا یہ دونوں یوں اچانک ’’پائرہ‘‘ کیوں جارہے تھے؟ پائرہ تو وہ سیّارہ تھا جہاں بچوں کے لیے تربیت کا سامان تھا۔ جہاں بچے اپنے والدین کے ساتھ رہتے تھے اور ہرطرح کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔خاص طور پر ایسی تعلیم جو اُن کے ڈی این اے میں موجود تحفظِ خویش یعنی غصے کے جینز کو ختم کیے بغیر اُن میں وائیلنس یعنی ’’شَر‘‘ کو کبھی بیدار نہ ہونے دے۔ایسے بچوں کے سیّارے پر دانش اور ایلس کو اچانک کیوں جانا پڑگیا تھا؟
دراصل آج صبح ہی دانش اور ایلس پر ایک بم پھُوٹا تھا۔ واقعہ یوں تھا کہ،
آج صبح جب وہ مہمان خانے میں بیدار ہوئے تو میسج بورڈ پر ان کے لیے ایک پیغام موجود تھا۔ لکھاتھا،
’’خوبصورت جوڑے کی خدمت میں تسلیمات! بیدار ہونے پر رابطہ فرمائیں۔ نائتلون، ‘‘
اور پھر وہ دونوں جب نائتلون سے ملے تو بجائے خوش ہونے کے دانش اور ایلس کے پیروں تلے سے زمین سِرک گئی۔ دانش اور ایلس کو دیکھتے ہی نائتلون نے کہا تھا،
’’بہت مبارک ہو! دانش ! اور ایلس! آپ دونوں ایک خوبصورت بیٹی کے والدین ہیں؟‘‘
دانش اور ایلس کو لگا کہ نائتلون اُن کے ساتھ مذاق کررہا ہے۔ وہ دونوں بُری طرح گھبراکر ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔
’’بیٹی؟‘‘
دونوں کے منہ سے ایک ساتھ نکلا۔نائتلون اُن کے چہرے پر پریشانی دیکھ کر ہنس دیا،
’’دانش! ایلس! آپ دونوں پریشان ہوگئے۔ یہ پریشانی کی بات ہے یا خوشی کہ آپ ایک بچی کے والدین ہیں؟ ‘‘
یہ سن کر ایلس نے قدرے چیختے ہوئے کہا،
’’لیکن یہ کیسے ہوسکتاہے؟ ہم دونوں کی تو کبھی بھی اولاد ہی نہیں ہوئی‘‘
اب نائتلون نے یکلخت ہنسنا بند کردیا۔ وہ کچھ دیر خاموشی سے دونوں کی طرف دیکھتارہا۔ پھرکہنے لگا،
’’چالیس دن کی بچی تھی۔ ماں کے پیٹ میں تھی۔ ٹھیک ٹھاک، زندہ سلامت۔ آپ دونوں کو آپ کے ایک افسر ’’پروفسر آبرے‘‘ نے بہت سختی سے حکم دیا تھا کہ بچہ گِرا دیں۔ ناسا نے آپ کے جوڑے اِس لیے بنائے تھے کہ آپ لوگ خلا کے لمبے سفر میں اُداس نہ رہیں۔ آپ دونوں کی شادی، مِشن پر روانگی سے کئی ماہ پہلے ہوگئی تھی۔ پھر آپ دونوں سے بے احتیاطی ہوئی اور جب چالیس دن کی بچی پیٹ میں تھی تو ایلس نے ا،َبارشن کروایاتھا۔آپ کو یہ بات تو ضرور یاد ہوگی۔ آپ کے وقت کے مطابق تو ابھی اِس بات کو چار سال اور کچھ ماہ گزرے ہیں۔ یہ وہی بچی ہے‘‘
دانش اور ایلس ہکا بکّا رہ گئے۔ اُن کے مُنہ کھلے، آنکھیں پھٹی، رنگ زرد اور چہروں سے ہوائیاں اُڑ رہی تھیں۔ ماحول میں یکدم سنّاٹا چھا گیا۔ کافی دیر تک کسی نے کوئی بات نہ کی۔ بس دانش اور ایلس تھے کہ گویا پَتھر کے بن گئے۔نائتلون کو حیرت ہورہی تھی کہ آخر یہ لوگ اس قدر ڈر کیوں گئے ہیں؟ آخر اِن لوگوں کو یہ سُن کر خوشی کیوں نہیں ہوئی کہ ان کی معصوم بچی، جو بِن کھِلا پھول تھی اور بِن کھلے ہی مرجھا گئی تھی، دوبارہ زندہ کردی گئی۔ وہ اعلیٰ صلاحیتوں کامالک ہیومین ورژن ٹُو ہونے کے باوجود اپنے آپ کو حیران ہونے سے نہ روک سکا۔آخر اس نے پھر کہا،
’’ دیکھیے! ہم کبھی کسی بچے کا ڈی این اے مٹی میں نہیں رُلنے دیتے۔ پوری سڈرہ کمیونٹی میں سب سے مقدس ہستیاں چھوٹے بچوں کو سمجھا جاتاہے۔کسی کواُٹھایا جائے یہ نہ اُٹھاجائے، یہ سوال صرف بَڑوں کے معاملے میں پیدا ہوتاہے۔ بچے تمام کے تمام اُٹھادیے گئے ہیں۔ آج پوری کاسموپولیٹن سوسائٹی میں ہر بچے، بچی کو جگا دیا گیا ہے۔ ہاں! صرف وہ بچے جن کی یاداشت واپس لانے میں ہم ناکام رہے، انہیں نہیں جگایا جاسکا۔لیکن اِس اُمید پر کہ کبھی نہ کبھی سائنس ترقی کریگی، ہم نے ان کے ڈی این اے سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں‘‘
اچانک ایلس پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔دانش بُری طرح گھبراگیا۔ نائتلون بھی سٹپٹا گیا۔ وہ تصور بھی نہ کرسکتا تھا کہ کوئی انسان اِس طرح پھُوٹ پھوٹ کر روسکتاہے۔ نائتلون حیرت بھری نظروں سے ایلس کو دیکھنے لگا۔ اُسے کچھ سمجھ نہ آرہی تھی کہ وہ اِس معاملے کو کیسے سُلجھائے۔ معاً اُسے ایک خیال آیا اور اُس نے کہا،
’’مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اکیسویں صدی میں انسان کن معیارات پر جیتے تھے۔ غالباً مائمل بھی اس بات سے واقف نہیں ہیں۔ ورنہ وہ مجھے ضرور منع کردیتیں کہ یہ پیغام آپ تک نہ پہنچایا جائے۔ آپ لوگ پریشان نہ ہوں۔ آپ جیسے کہیں گے، ویسے ہی کیا جائیگا‘‘
لیکن ایلس کا رونا نہ رُکا۔ دانش نے نائتلون کی بات سُنی تو اور پریشان ہوگیا۔ وہ ایلس کو دلاسہ دینے کی کوشش کرنے لگا۔ جب دانش ایلس کو دلاسے والےالفاظ بول رہا تھا تو نائتلون ششدر ہوکر اُن دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ اُس کی سمجھ میں یہ کیفیات بالکل بھی نہیں آرہی تھیں۔ اس نے دِل میں سوچا’’ ہیومین ورژن ٹو ‘‘ کا نالج کتنا محدود ہے۔ اتنی چھوٹی سی بات اور ایسی معمولی سی کیفیات تک ہم نہیں سمجھ سکتے۔ اسی اثنأ میں ایلس کےحلق سے ایک چیخ بلند ہوئی،
’’ہائے میری بچی!‘‘
اور تب جاکر نائتلون کو سمجھ آئی کہ ایلس پریشانی کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی بچی کی محبت میں رورہی تھی۔ ایلس ذرا سنبھلی تو دانش نے نائتلون سے کہا کہ وہ اپنی بچی سے ملنا چاہتے ہیں۔ یہ سن کر نائتلون بہت خوش ہوا۔ اُس نے فوری طور پر ’’پائرہ‘‘ کے بارے میں بتانا شروع کردیا۔
یہی وجہ تھی کہ اب دانش اور ایلس، پائرہ جارہے تھے۔ اپنی بیٹی سے ملنے۔ انہوں نے نائتلون سے اپنی بیٹی کا نام پوچھا تو نائتلون نے مُسکراتے ہوئے بتایا،
’’چڑیا‘‘
’’چڑیا؟‘‘
ایلس نے چونک کر دہرایا اور پھر کھلکھلا کر ہنس دی۔
اب دوران ِ سفر دونوں میاں بیوی اس بات پر پریشان تھے کہ پیٹ کے بچے کو ضائع کروانا یقیناً پرسنٹیج پر اثر انداز ہوگا اور وہ کسی قیمت پر ساٹھ پرسینٹ سے اُوپر پرسنٹیج حاصل نہ کرپائینگے، کیونکہ انہوں نے قتل کیا تھا۔ اگر یہ قتل نہ ہوتا تو سڈرہ کمیونٹی کبھی بھی اس بچی کو دوبارہ پیدا نہ کرتی۔ اسی پریشانی کی وجہ سے وہ دنوں جھگڑرہے تھے اور ایلس کا مؤقف تھا کہ ’’انیتا‘‘ کے ساتھ ہی واپس لوٹ جاناچاہیے۔واپس، اپنی اکیسویں صدی میں۔
****************
جحمان کے چھتیس سیّارے بھی ایک سے بڑھ ایک نمونہ تھے۔ یہ الفا سینٹوری کے دُور دراز حصے میں یکے بعد دیگرے چھتیس مختلف سیّارے تھے۔ ان میں سے ہر ایک سیّارہ، سیّارہ زمین سے کم ازکم دس گنا بڑا تھا۔نہ جانے کیوں، پوری کاسموپولیٹن سوسائٹی میں آخری سیّارے کو سیّارہ نمبر دوسوبیالیس کہا جاتاتھا۔ حالانکہ اِس سیّارے کے کئی نام تھے، جیسا کہ کاغذات میں اس کا نام ’’سُویل‘‘ لکھا جاتا تھا۔
اسی طرح سیّارہ نمبر دوسواکتالیس پر ’’سُویل‘‘ سے کم مشکلات تھیں لیکن پھر بھی بہت زیادہ تھیں۔یہاں سویل کی طرح لوگوں کو حکومت کی طرف سے معدنیات نکالنے اور پگھلانے کا کام نہیں سونپا جاتاتھا بلکہ یہاں کے لوگوں کو ’’مِٹی کی مشقت‘‘ کے طریقہ پر تربیت دی جاتی تھی۔یہ ایک خودکار طریقہ تھا۔لوگ مِٹی کی ملکیت کے خبط میں مبتلا ہوجاتے تھےکیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ جو کوئی جتنی زیادہ مٹی پر قبضہ جمالیگا وہ اتنی ہی زیادہ آرام دہ زندگی گزارسکے گا۔لوگ مٹی میں رہتے، مٹی کھاتے، مٹی پیٹوں میں بھرلیتے۔اُن کے ایسا سوچنے کی ایک وجہ ہوتی تھی۔ وہ مِٹی میں سڈرہ کمیونٹی کی طرف سے بھیجے گئے چھوٹے چھوٹے دانے دبا تےتو مٹی تنکا تنکا کرکے بہت سی کھانے کی چیزیں انہیں واپس کردیتی تھی۔لوگ مٹی کے لیے آپس میں لڑبھڑتے۔ایک دوسرے کو قتل کردیتے۔ جو کوئی مرجاتاسڈرہ کمیونٹی کی انتظامیہ اسے وہاں سے ہٹا دیتی اور دوبارہ زندہ کرکےباقی ماندہ تربیت کے لیے کسی اور سیّارے پر منتقل کردیا کرتی تھی تاکہ پچھلوں پر یہ راز نہ کھل سکے کہ انسان اصل میں لازوال ہے۔
جوں جوں جحمان کے سیّاروں کا درجہ اُوپر کو اُٹھتا چلا جاتا۔ ان کےلیے سہولیات اور علم بڑھتا جاتا اور اُن پر آہستہ آہستہ راز کھلتے چلے جاتے۔سیّارہ نمبر دو سوچالیس پر اِس سے بھی کم مشکلات تھیں۔ ایسی ہی تدریج اور ایسی ہی ترتیب سے جحمان کے سارے چھتیس سیّاروں کا نظام چلتاتھا۔ یعنی نمبروار مشکلات کم ہوتی چلی جاتی تھیں۔ جوں جوں سیّارے درجے میں نیچے سے اُوپر آتے جاتے، مشکلات کم ہوتی جاتی تھیں۔ایسے ہی تھے جحمان کے سارے سیّارے۔اِن سیّاروں پر ’’پُرش‘‘ آتے لیکن وہ اپنی پہچان چھپا کررکھتے۔ وہ بھی اِن مفلوک الحال، زیرتربیت انسانوں کا سا حلیہ اختیار کرکے رہتے۔
سیّارہ نمبر دوسو پندرہ تک سب انسانوں کو اِس راز سے بے خبر رکھا گیا تھا کہ اب دنیا میں موت نامی کسی شئے کا وجود نہیں رہا۔ البتہ سیّارہ نمبردوسو چودہ، دوسوتیرہ، دوسوبارہ،دوسو گیارہ، دوسودس، دوسونو، دوسو آٹھ، دوسوسات اور دوسوچھ کے لوگ یہ راز جانتے تھے کہ وہ اصل میں دوبارہ زندہ کیے گئے ہیں اور یہاں اُنہیں تربیت کے لیے لایا گیا ہے۔ سب سے کم مشکلات والا سیّارہ، سیّارہ ’’ آرمانول ‘‘تھا۔’’ آرمانول‘‘ جہاں ڈارون اور ایما نے، جبرالٹ پر وارد ہونے سے پہلے ساڑھے تین سو سال گزارے تھے ایک لحاظ سے مشکل زندگی والا سیّارہ تھا ہی نہیں۔ یہاں مشکل تھی تو بس اتنی سی کہ لوگ اپنی پہلی زندگی کے بعض کاموں اور کارناموں پر ازسرِ نو غور کرنے کے لیے آزاد چھوڑ دیے گئے تھے۔ انہیں کھانے پینے، رہنے سہنے کی ہرسہولت میسر ہوتی لیکن ان کے ذمہ سڈرہ کمیونٹی کی جانب سے، باقاعدہ انہیں بتا کر ایک ہی کام سونپ دیا جاتا تھا کہ وہ لوگ اپنی پہلی زندگی میں کیے گئے کاموں اور کارناموں پر غوروفکر کریں۔چونکہ ایسے لوگوں کو معلوم ہوتا تھا کہ سڈرہ کمیونٹی کیا ہےا ور اس میں اور بھی سیّارے ہیں جہاں بہت اعلیٰ سطح کی آسائشیں اور بے پناہ عزت و تکریم ہے تو ایسی خبریں سن کر اُن لوگوں کے دِلوں میں حسرتیں جاگ جاتیں۔ ساتھ ہی انہیں پتہ ہوتا کہ اُن کا کام ہے اپنے ’’کیے‘‘ پر غور کرنا۔
جب ڈارون اور ایما یہاں رہ رہے تھے تو انہوں نے اپنے کاموں پر بار بار غور کیا۔پہلے پہل تو انہیں اپنے کسی بھی کام میں کوئی نقص نظر نہ آیا۔ لیکن آہستہ آہستہ ڈارون پر کھلنے لگا کہ اُس نے اپنی تحقیق سے جو نتائج اخذ کیے تھے وہ بالآخر دو عظیم جنگوں کا باعث کیوں بن گئے تھے؟ یقیناً اُس کے نتائج میں کوئی کمی رہ گئی تھی۔ پھر ساڑھے تین سو سال تک اس بات پر غور کرنے کے بعد اب وہ اچھی طرح سے جانتا تھا کہ اگر اس نے تمکن فی الارض کا نتیجہ اخذ نہ کیا ہوتا تو ’’نسلی بنیادوں‘‘ پر انسانوں میں اتنی بڑی جنگیں کبھی نہ ہوتیں۔سیّارہ آرمانول پر موجود ’’مددگارپارمش‘‘ ڈارون اور ایما کی ہرطرح سے مدد کیا کرتے تھے۔ آرمانول کا تمام عرصہ ڈارون اکثر کسی نہ کسی پرانے پارمش کے پاس نظر آتا تھا۔ وہ ہر ہر سوال کا جواب چاہتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اُن دنوں تاریخ کامطالعہ سب سے زیادہ کیا کرتا تھا۔
سیّارہ آرمانول کے دنوں کی بات ہے، ایک دن ڈارون گھر آیا تو وہ بہت اُداس تھا۔ ایما کے پوچھے بغیر اس نے خود بتانا شروع کردیا،
’’ ایما! تمہیں پتہ ہے؟ آج سے پندرہ سوسال پہلے، یعنی اکیسویں صدی کے آواخر میں سائنسدان ’’ ٹرانس جینک ریسرچ ‘‘کے عروج پر پہنچ گئے تھے۔ اس دَور میں نہایت عجیب و غریب تجربے کیے گئے۔ انسان طاقت کے حصول کے لیے پاگل ہوگئے تھے۔ جانوروں کے ڈین این اے سے مختلف خصلتیں لے کر انسانوں میں ڈالی جارہی تھیں اور بغیر کسی اخلاقی ضابطے کے نئی نئی مخلوقات پیدا کی جارہی تھیں۔ایسے انسانوں کو سائنسدان ’’ہیومین اینیمل کائمرا‘‘ کہتے جبکہ انسانوں کو ’’ٹرانس ہیومینز‘‘ کہا جاتا تھا۔اِن نئی نئی مخلوقات نے سیّارۂ زمین کا نظام درہم برہم کرکے رکھ دیا۔ قریب تھا کہ سیّارہ زمین تباہ و برباد ہوجاتا، جب انہیں ٹرانس ہیومینز میں سے ہی کچھ لوگ ایسے پیدا ہوگئے جو صرف جسمانی خصلتوں میں اعلیٰ نہیں تھے بلکہ انسانیت کے لیے اُن کے دِل میں درد تھا۔ انہی لوگوں نے سڈرہ کمیونٹی کی بنیاد رکھی۔ میرے دِل میں آج کمیونٹی کے لیے بے پناہ عزت پیدا ہوگئی ہے۔ میں اِن لوگوں کے کو سلام پیش کرتاہوں‘‘
بس پھر کیا تھا، کچھ ہی دن بعد سڈرہ کمیونٹی کے خودکار نظام یعنی ’’عادّین‘‘ کے نظام کو خود بخود پتہ چل گیا کہ اب ایما اور ڈارون اِس قابل ہوچکے ہیں کہ اُنہیں سیّارہ آرمانول سے بلا کر جبرالٹ پر رکھا جائے۔
مائمل کے ساتھ ڈارون کی پہلی ملاقات اُس وقت ہوئی جب ڈارون اور ایما کو سیّارہ جبرالٹ پر لایا گیا۔ تب سے وہ دونوں میاں بیوی یہیں مقیم تھے۔ ڈارون اب تاریخ کے ساتھ ساتھ اپنے پرانے شوق یعنی زندگی اور اُس کی ماہیت پر غوروفکر میں پھر سے ملوث ہوگیا۔اب تو ایما بھی اس کے ساتھ برابر کام کرواتی تھی۔مائمل اب ڈارون کی بہت اچھی دوست تھی۔ وہ کبھی کبھار ڈارون سے ملنے آتی یا ڈارون اور ایما کواپنے پاس بلوالیا کرتی تھی۔ ڈارون اپنی موجودہ زندگی سے بے پناہ خوش تھا۔ اُسے وہ سب کچھ مل چکا تھا جو اُس کی تمنّا تھی۔
گزشتہ دنوں ڈارون سے ملنے، سینئر طلبہ کی ایک ٹیم آئی اور انہوں نے ڈارون سے بے شمار سوالات کیے۔ وہ بڑے جوش و خروش سے ایک ایک کے سوال کا جواب دیتا رہا۔ آخر ایک طالب علم نے ڈارون سے پوچھا،
’’رُوح کیا چیز ہے؟ آپ نے زندگی کا اتنا مطالعہ کیا کہ آپ کی معلومات سُن کر حیرت ہوتی ہے۔ آپ کو تو ضرور علم ہوگا کہ رُوح کسے کہتے ہیں، کیونکہ رُوح زندگی کی اساس ہے نا؟ آپ جانتے ہیں کہ سڈرہ کمیونٹی تو ڈی این اے کو استعمال کرسکتی ہے۔ ڈی این اے تو ایک لینگوئج ہے، ایک کوڈ ہے۔ سیل میں موجود زندگی جسے ہم پروٹوپلازم کہتے ہیں، پیدا کرنا تو سڈرہ کمیونٹی کے سائنسدانوں کے لیے کبھی بھی ممکن نہیں ہوسکا۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ رُوح سیل میں موجود ہوتی ہے۔ لیکن رُوح کیا ہوتی ہے۔ یہ سوال ہے مسٹر ڈارون؟ اور آپ سے یہ سوال میں نے اس لیے کیا کہ آپ نے تمام عمر زندگی کا مطالعہ کیا ہے۔ نہایت گہرا مطالعہ‘‘
اتنا کہہ نوجوان خاموش ہوگیا۔ طلبہ کی پوری ٹیم اب ڈارون کی طرف دیکھ رہی تھی۔ ڈارون نے ہنستے ہوئے جواب دیا،
’’آپ نے خود تو نام لیا رُوح کا ابھی یعنی پروٹوپلازم۔ مجھ سے پوچھیں گے تو میں یہی بتاسکونگا۔ آپ ایک سبز شاخ کو درخت سے کاٹ کر پھینک دیں۔جب تک وہ سبز رہیگی، تب تک دوبارہ لگائی جاسکتی ہے اور درخت دوبارہ پیدا ہوسکتاہے کیونکہ اُس میں پروٹوپلازم موجود رہتاہے۔ جونہی اس میں سے پروٹوپلازم نکل جائیگا تو گویا اس کی رُوح نکل جائے گی۔ اب وہ شاخ نہیں رہیگی۔ اب وہ لکڑی بن جائے گی۔ آپ پوری کاسمو پولیٹن سوسائٹی میں ایک جاندار بھی ایسا نہیں بتا سکتے جو پروٹوپلاز کے بغیر زندہ رہ سکتاہو۔ تو پھر رُوح کیا ہوئی؟ یہی پروٹوپلازم نا؟ جو اصل میں ہم نے ہزاروں بار مادی شکل میں دیکھا ہوا ہے‘‘

—جاری ہے۔—

پہلی قسط اور ناول کا تعارف اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

دوسری قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

تیسری قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

چوتھی قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں 
پانچویں قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں
چھٹی قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: