شاہین صفت ایئر کموڈور نذیر لطیف

0

آج تیس جون کو پاک فضائیہ کے ایک مایہءناز ائیر کموڈور نذیرلطیف کی برسی ہے. زیر نظر آرٹیکل، اعظم معراج کی کتاب ” شناخت نامہ” میں بیان کردہ شاندار جنگی خدمات اور خاکہ کی تلخیص ہے. تاکہ قوم کو عزم و ہمت کے بھولے ہوئے اسباق بھی یاد کرائے جاسکیں اور اپنے بہادر جان بازوں کوخراج تحسین بھی پیش کیا جا سکے.


نذیر لطیف کو نذیر نام سے کم ہی لوگ جانتے تھے. ہر خاص و عام میں وہ بل لطیف کے نام سے معروف تھے. تئیس اکتوبر 1927 کو ایک اعلی تعلیم یافتہ مسیحی گھرانے میں جنم لیا .ان کے والد آئی لطیف نفسیات میں ڈاکٹریٹ کے حامل تھے. ایف سی کالج میں پروفیسر رہے. بل لطیف کا بچپن راولپنڈی میں گزرا. ابتدائی تعلیم کیتھڈرل اسکول میں حاصل کی. پھر1944 میں ایف سی کالج سے ایف ایس سی کیا . ہوا بازی کا شوق ابتداء سے تھا. چنانچہ فلائنگ کی تربیت حاصل کرتے ہی اورئینٹ ائیر لائین سے وابستہ ہوگئے. قیام پاکستان کے بعد 1949میں رائل پاکستان آرمی جوائن کر لی. فلائنگ میں مہارت کی بناء پر تیزی سے ترقی کے مراحل طے کرتے گئے. مزید تربیت کے لئے بیرون ملک بھی بھیجا گیا. ابتدائی مہارت فضائی کرتب دکھانے تک محدود رہی. مزید ان کی لیڈر شپ اور انتظامی صلاحیتیں کھل کر سامنے آئیں جب وہ پی اے ایف فالکن ایرو ناٹیک ٹیم کے مینجر بھی رہے. ان کی شادی 1956 میں ڈاکٹر فرانسیسکافضل الہی سے ہوئی. ایک صاحبزادی سبینا ہیں جو امریکہ میں قیام پزیر ہیں. ائیر کموڈور بل لطیف بلند اخلاق کے ماہر تھے. تمام بیسز کے ساتھی ان کی شائستہ فطرت کی گواہی دیتے ہیں. بلاشبہ امن ونوں جنگوں کے دوران بہترین فائٹر پائلٹس، بمبار پائلٹس اور کمانڈرز میں سے ایکتھے. جنگی ریکارڈ میں پہلی نمایاں ترین کامیابی کا حیرت انگیز کارنامہ حسب ذیل ہے.

جب اگست 1965میں جب جنگ کے سائے پاک وہند کی فضاؤں میں کشمیر کے تنازعے کے بعد منڈلانے لگے تو ونگ کمانڈر بل لطیف اُن دونوں ماری پور بیس پر قابل فخر 31ونگ کی قیادت کر رہے تھے طبل جنگ بجنے سے پہلے ہی جب پاک فضائیہ کی اعلی قیادت نے اپنے تمام جنگی ہوائی اڈوں پر تعینات ونگز اور اسکواڈرن کو تیاررہنے کا حکم دیا. تب ونگ کمانڈر بل لطیف نے اپنے ونگ میں شامل تمام اسکوارڈن کی تربیت مہارت بڑھانے کے لئے اپنے بمبار پائلٹ نیوی گیٹر اور فضائی عملے کی تربیت کے لئےبہترین پروگرام مر تب کئے. سونمیانی کے مقام پر رات کی نچلی پروازوں کے ذریعے بم گرانے کی مشقوں کے ذریعے اپنی فضائی سپاہ کو تیاری کروانی شروع کر دی زمینی سطح سے 100فٹ اور 500فٹ سے بم گرانے کی تربیت میں مہارت اور چابک دستی پیداکرنے کے لئےکئی راتوں تک یہ ٹریننگ پروگرام چلتا رہا. جیسے ہی ستمبر میں جنگ شروع ہوئی، اُنکو فضائی مشن میں حصہ لینے کے لئے پشاور بلا لیا گیا جہاں انہوں نے اپنی مہارت بہا دری اور قا ئدانہ صلاحیتوں کی بدولت پاکستان ایئر فورس کی فضائی برتری قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ 8ستمبر کی رات انہیں حکم ملا کہ انھیں دوB.57بمبار جہازوں کی فارمیشن کی قیادت کرتے ہوئے بھارت کے شہر انبالہ کے ائیر بیس پر حملہ کر نا ہے انبالہ ایئر بیس بھارت کا سب سے زیادہ محفوظ اور فا صلے کے اعتبا ر سے پاکستان کی سرحدوں سے سب زیادہ گہر ائی میں واقع ہونے کی وجہ سے دشمن کے زیادہ جنگی طیارے وہی سے اڑ کر مغربی پاکستان پر حملہ کرتے تھے. جب دو جہازوں کا یہ بیڑا ہندوستان میں داخل ہوا تو چار سو اندھیرا پھیلا ہو اتھا۔ مکمل بلیک آوٹ اور TOTٹا ئم یعنی (ٹائم آن ٹارگٹ)  ایک بجے تھا فضا سے زمین پر اک اندھیر ی چادر نظر آئی تھی. ونگ کمانڈر بل لطیف کے نیوی گیڑ فلا ئٹ لیفٹیننٹ مظہر تھے جو کہ نہایت مہارت سے ونگ کمانڈر بل لطیف کو گا ئیڈ کر رہے تھے۔ دوسر ے B.57 بمبار طیارے کو اسکوارڈن لیڈ ر بخاری اڑا رہے تھے اور اُسکے نیوی گیٹرکے فرائض اسکوارڈن لیڈر اونگزیب انجام دے رہے تھے۔

large-Nazir Bill Latif with a PAF Martin B-57 Canberra bomber.

طیارہ جیسے ہی آئی پوائنٹ یعنی (انیشل پو ائنٹ) جہاں سے حملہ شروع کرنا ہوتا ہے، پر پہنچا بل لطیف نے حملے سے پہلے فائنل چیک کیا نیوی گیٹر نے آخری گنتی (کاونٹ ڈاون شروع کیا) بل لطیف نے حملے کے لئے نیچے دیکھا نیچے اندھیرے کی دبیز چادر اوڑھے مکمل تاریکی میں ڈوبی فضا تھی۔ پھر اچانک آسمان روشنی سے منور ہو گیا۔ اور فضا توپوں کے گولوں اور ٹر یسر کی آوازوں سے گونج اٹھی یہاں تک کے کاک پٹ روشنی سے منور ہو گیا اوراِس خطرناک صورتِ حال جو کسی بھی لمحے طیارے کو انگا رے میں بدل سکتی تھی . پاک فضائیہ کے اِس جانباز قا ئد نے بم ریلیزکرنے کا بٹن دیا دیا اور 4000 پونڈ وزنی بم پل جھپکتے ہی جھٹکے سے فضا سے زمین پر جا ٹکرائے چارسو آگ کا کھیل جاری تھا۔ لیکن پاک فضائیہ کے شاہینوں نے خطروں کی پروا نہ کرتے ہوئے دوسرے حملے کے لئے پھر چکر کاٹا تاکہ مشن مکمل ہو اور دوسرا حملہ بھی نہایت کامیابی سے مکمل ہوا اور بل لطیف نے جیسے ہی واپسی کے لئے چکر کاٹا نیوی گیٹر نے اطلاع دی کہ اینٹی ایئر کرافٹ گن کا گولہ جہا ز کو لگ چکا ہے۔ اِس اطلاع کے ساتھ ہی بل نے اپنے بائیں جانب دیکھا تو جہا ز کے با ئیں بازوں سے دھواں اُٹھ رہاتھا اور پرسکون ہمیشہ کی طرح اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے بل نے اپنے انسٹرومنٹ پینل پر نظر دوڑائی کہ کہیں کوئی ایسا نشان جس سے آگ لگنے کا کوئی اشارہ ملتا ہو۔ لیکن خو ش قسمتی سے ایسا کچھ نہیں تھا (کیونکہ قسمت بھی بہا دروں کا ساتھ دیتی ہے) بل نے چکر کاٹا اور نیوی گیٹر سے کہا کہ فیول کا حساب کتاب کرو اور واپسی کے لیے راہنمائ کرو. اِسطرح بل نہایت مہارت سے طیارہ اڑاتے ہوئے واپس پشاور پہنچے لینڈنگ کے بعد طیارے کی انسپیکشن ہوئی تو دیکھا گیا کہ شیل طیارے کے با ئیں بازو کو چھیدتا ہوا گزرگیا تھا اور نقصان کا اندازہ کرنے کے بعد مشن کی ٹیم نے اپنے رب کا شکر ادا کیا کہ وہ خیریت سے واپس آگئے ہیں اور بل کی مہارت کی بدولت نہ صرف پاکستان ائیر فورس طیارے کے نقصان سے بچ گئی بلکہ مشن بھی مکمل اور جا مع طور پر کامیاب رہا۔ ٹنکو ظہیر، بیچ کے ساتھی اور بمبار پائلٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک فائٹر، اپنی یادیں دہراتے ہوئے کہتے ہیں: ’’موسم کے تیور بہت تیزی سے بدل چکے تھے اور جب ہم نے سنا کہ بِل کی فارمیشن فضاء میں ہے، تو رن وے پر دیکھنے کی حد ۱۰۰ گز تک گر چکی تھی۔ ہمارے لبوں پر دعائیں تھیں، کیونکہ کوئی متبادل راستہ نہیں تھا اور فارمیشن بہت آگے جاچکا تھا لہٰذا ایندھن بہت کم تھا۔ دیکھنے والوں نے دیکھاجب چار فائٹرطیاروں کی گرج غائب ہوگئی،تو ہم نے ایک فائٹر انجن کی آواز سنی، جیسے کسی نے اس ناقابلِ اعتبار موسم میں لینڈنگ کی ہو۔ خود کشی ہی واحد لفظ تھا جو اس عمل کی تشریح کرسکتا تھا، یہ صرف بِل لطیف ہی ہوسکتے تھے!‘‘یہ میرے کمانڈر، دوست اور حقیقی جنگجو تھے۔ اس دن بِل لطیف نے اپنی زندگی کا رسک لیتے ہوئے ایک فائٹر طیارے کو بچایا۔ یہ واقعہ ان ہزاروں واقعات میں سے محض ایک قسط ہے جن سے اس مثالی شخصیت کی زندگی بھری پڑی تھی” 1965ء کی جنگ کے دوران ونگ کمانڈر بل نے دشمن کی حدود میں کئی بمبار مشن کی قیادت کی اور آدم پور، پٹھان کوٹ ،سری نگر اور جودھپور کے ہوائی اڈوں پر کامیاب حملے کئے.1965 کی جنگ کا آخری مشن انہوں نے بھارت کی حدود میں دور ترین آگرہ بیس پر حملہ کیا۔ اِس بیس کی حفا ظت کے لیے انڈین ایئر فورس کے مگِ s۔ 21۔ Mig 21 طیارے اور SAMS. میزائل نصب تھے۔ لیکن بل نے اپنی مہارت کے ساتھ وطن کی محبت میں اپنی جان کی پروا نہ کرتے آگرہ پر بھی کامیاب حملہ کیا۔ ونگ کمانڈر نذیر لطیف / بل لطیف 1965ء کی جنگ میں 6، 7 اور 8 ستمبر کی رات کے خطرنا ک بمبار مشن کی قیا دت میں مہارت ، جرأت اور عزم حوصلے سے کی. انہی قائدانہ صلاحیتوں اور خدمات کے اعتراف میں انہیں ستارہءجرأت سے نوازا گیا. 1971جنگ انہوں نے انڈین آرمی کی یلغار کو کھوکھر ا پارسیکٹر پر حیدر آباد کی طرف بڑھنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کیا. دشمن کے کئی ٹینکوں ، ٹرکو ں اور اسلحہ بارود لا نے والی ٹرینوں کو تباہ اور دن کی روشنی میں کئی بمبارمشن کئے. بقول اُنکے ساتھی ائیر کموڈر سجاد حیدر کے 1971کی جنگ میں ایئر کموڈررینک کے وہ واحد افسر تھے جنہوں نے اِس عملی جنگ میں حصّہ لیا ہو .

large-Wing crews in front of a B-57, with leader Bill Latif in centre

بل لطیف واقعی ایک عظیم ٖفضائی جنگجو، ماہر پائلٹ اور جرأت مند کمانڈر تھے جو اپنے ساتھیوں میں ہر دل عزیز اور قابل احترام گردانے جاتے تھے. اِنکے شاندار کیریئر کا اختیا م 1972کو ہوا. ریٹائرمنٹ کے بعد وہ اردن چلے گئے جہاں وہ اٹھارہ برس تک رہے. بالآخر تیس جون 2011 کو یہ شاہین صفت درخشاں ستارہ غروب ہو گیا. اگلے روز یکم جولائی کو اسلام آباد کے مسیحی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا. مرحوم کی وفات پر رفیق کار ایئر کموڈور (ریٹائرڈ) سجاد حیدر کے تاثرات؛ ” میں ان حقیقی ہیروز میں سے ایک ایسے ہیرو کی کہانی بیان کرنا چاہوں گا، جس نے اپنی وراثت میں پاک فضائیہ کے نیلے لباس میں ملبوس جانبازوں کے لئے ایک ایسی روایت چھوڑی ہے جس میں وہ جنگ کے دنوں میں ایک نڈر جنگجو اور امن کے دنوں میں ایک پیشہ ور ماہر کے طور پر مشہور ہے۔ ایئر کموڈور نذیر (بِل) لطیف، روح کی عکاسی کرتی ہوئی چمکتی آنکھوں اوربہت بڑے، سخی دل کے مالک تھے۔ میں آج بھی انھیں اپنے تصور میں یونیفارم میں ملبوس کھڑے ہوئے دیکھ سکتا ہوں؛ دائیں چھاتی کی جیب پر ان کا خصوصی پائلٹ کا سنہرا ونگ اور سینے پر بائیں جانب امتیازی تمغوں کی قطار میں اعلیٰ ترین شخصی شجاعت کا اعزاز.”

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: