حادثہ سے بڑا سانحہ یہ ہوا

0

عید کا دن میں نے فیس بک پر دانشوری جھاڑنے کے بجائے سانحہ احمد پور کے متاثرین کے ساتھ گزارنے کا فیصلہ کیا۔۔۔اس دوران کئی دلدوز واقعات دیکھنے کو ملے، حوصلے اور قدرت کے کئی معجزات دیکھے جس سے ایک دن کا قیام دو دن تک طویل کرنے پر مجبور ہوگیا۔۔۔ان دنوں میں جہاں خدا کی عظمت کا احساس مزید گہرا ہوگیا وہیں میں یہ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ اس حادثہ کی وجہ آئل ٹینکر نہیں بلکہ یہ ہماری جہالت اور فطری حریصانہ طبیعت کا تصادم تھا۔۔۔پورے ملک سے نامور سیاسی و سماجی شخصیات نے احمد پور کا رخ کیا، چشم فلک نے دیکھا کے آٹھ گاڑیوں کے پروٹوکول میں آئے راہنماؤں نے متاثرین کے ساتھ فوٹو سیشن کیا،میڈیا کو بیانات دیے اور یہ جا وہ جا۔۔چاہے اسے پبلسٹی سٹنٹ کہا جائے یا الیکشن مہم لیکن سانحہ کے فوری ردعمل کے طور پر میاں نواز شریف کا دورہ لندن ملتوی کر کے متاثرین کے ساتھ عید گزارنا ایک قابل تحسین قدم تھا۔۔۔اس ضمن میں ریسکیو اور دیگر سکیورٹی اداروں کی خدمات کو خراج تحسین پیش نہ کرنا بھی ناانصافی ہوگی جنہوں نے اپنی عید کی خوشیاں قربان کر کے متاثرین کا ساتھ دیا۔۔۔اس دوران سب سے زیادہ چاندی نیوز چینلز کی ہوئی اور مختلف چینلز کے رپورٹرز نے کوریج کی آڑ میں لواحقین کے پاس پہنچ کر انہیں مزید ذہنی اذیت میں مبتلا کیے رکھا۔۔۔ایک خاتون کے دو بچے اس حادثے میں کھو گئے جن کے متعلق کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی۔۔۔وہ خاتون صدمے کی حالت میں بالکل گم صم تھی ، شاید اس کے آنسو ختم ہوچکے تھے۔۔۔ایک مشہور چینل کا نیوز رپورٹر اس کے پاس آیا اور کہا کہ جب کیمرہ آن ہو تو آپ نے دھاڑیں مار تے ہوئے اپنے بچوں کے بارے بتانا ہے ، اس طرح انہیں فوراً ڈھونڈ لیا جائے گا۔۔۔ ایک قابل غور بات جو دیکھنے کو ملی وہ یہ تھی کہ اس حادثہ کے بعد ناکافی سہولیات کی وجہ سے عوام میں احساس محرومی کااثر مزید گہرا ہوچکا ہے۔۔کئی لوگوں نے واضح الفاظ میں علحیدہ صوبہ کے قیام کو ناگزیر قرار دیتے ہوئےاسے تمام زیادتیوں کی وجہ قرار دیا۔۔۔اس وقت پنجاب میں کئی تحریکیں چل رہی ہیں ۔ کوئی صوبہ جنوبی پنجاب کا حامی ہے تو کوئی پنجاب کے مقابلہ میں سرائیکستان کا ڈھول پیٹ رہا ہے۔۔۔۔کوئی بہاول پور کو صوبہ بحال کرنے کی بات کرتا ہے تو کسی نے صوبہ ملتان کی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنارکھی ہے۔۔۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر سقوط ڈھاکہ جیسے سانحات کا سدباب کرنا ہے تو ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس کا قیام ضروری ہے۔۔۔اقتدار کے بھوکوں نے پنجاب کو آبادی کا ہجوم بنا کر دیگر صوبوں میں اس پروپیگنڈہ کو فروغ دیا ہے کہ پنجاب ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈال رہا ہے۔۔۔جلد یا بدیر جنوبی پنجاب میں مزید صوبوں کا قیام ہونا یقینی ہے لیکن یہ بہت تکلیف دہ ہے کہ ان ستر سالوں میں ان علاقوں کے نام نہاد سیاسی و سماجی ٹھیکیداروں نے صوبہ کے حصول کا مسئلہ نہیں اٹھایا۔۔۔ سانحہ بہاول پور کے موقع پر وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت تمام بڑی سیاسی پارٹیوں کے راہنماؤں کی بہاول پور آمد کے موقع پر نئے صوبہ کے قیام کا مطالبہ موثر انداز میں پیش کرنے کابڑا موقع تھا ۔۔۔ حادثہ کی وجہ سے لوہا گرم تھا صرف چوٹ لگانے کی دیر تھی اوروفاق کے پاس پانچ سو متاثر خاندانوں اور دیگر لاکھوں لوگوں کے مطالبہ کو ٹالنے کا کوئی جواز نہ بن پاتا۔۔۔لیکن شاہ کی وفاداری یہاں بھی آڑے آئی اور جو ا س خطہ کے مائی باپ مانے جاتے ہیں وہ اپنے داتاؤں کے پیچھے صرف دم ہلاتے رہ گئے۔۔۔مجھے حیرت ہوتی ہے ستر سالوں سے عوام صوبہ کے حصول کے لیے سیاسی قائدین کے منتظر ہیں۔۔اس بات سے بے خبر کے عوامی طاقت کسی بھی بڑی سیاسی طاقت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتی ہے۔۔۔لیکن اس طاقت کو مثبت راہنمائی کی ضرورت ہے جو سیاسی وڈیروں کی صورت میں نہیں بلکہ عام آدمی کی صورت میں ہی میسر آسکتی ہے۔۔دنیا میں جتنی بھی بڑی تحریکیں کامیاب ہوئیں ان کی قیادت انہی میں سے کسی عام شخص نے کی۔درحقیقت ایسی تحریک ہی تاریخ ساز شخصیت کو جنم دیتی ہے لیکن اس کے لیے ہمیں روایتی شخصیت پرستی کے بتوں کو توڑنا ہوگا۔۔۔۔میں اپنی آنے والی نسلوں کو ضرور بتاؤں گا کہ صوبہ کے حصول کا سب سے بہترین موقع مفاد پرستوں نے گنوا دیا۔۔۔۔!! تحریر کی دم: شام ساڑھے سات بجے کے لگ بھگ احمد پور شرقیہ سے واپس بہاول پور آتے ہوئے دیکھا کہ تقریباً ڈیڑھ سو لوگوں پر مشتمل ہجوم جائے حادثہ پر باقیات کے ساتھ سیلفیاں بنانے میں مصروف تھے۔۔۔!!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: