ریکی ایک صحت بخش توانائی: محمد فرقان حیدر

0
  • 36
    Shares

ریکی جاپانی زبان کا لفظ ہے جو کائناتی حیاتیاتی توانائی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہم میں سے ہر شخص کے اندر اس توانائی کی طاقت موجود ہے جو پیدائش ہی سے ہمارے مادی جسم میں قدرت کی جانب سے ڈال دی جاتی ہے۔ ریکی کا شفائی طریقہ کار مادی نہیں بلکہ ایک روحانی طرزعمل ہے۔ مادی طور پر ان اثرات کا مشاہدہ کرنا مشکل ہے اس کا جائزہ لینے کے لیے اپنے جسم کے گرد موجود توانائی کے ہالے سے ہم آہنگی ضروری ہے جس کا ادراک ریکی کی باقاعدہ تربیت کے بعد حاصل ہو سکتا ہے۔بظاہر ہم اس کا مظاہرہ اسی صورت میں دیکھتے ہیں جب مریض کو تکلیف میں افاقہ ہوجاتا ہے اس طرح ریکی کے طریقہ کار کو روحانی یا وجدانی سمجھا جاتا ہے۔ ہر انسان کے ہاتھ ریکی جیسی شفا بخش توانائی کے دھارے بن سکتے ہیں۔
ریکی کا تعلق کائنات کے خالق سے براہ راست ہے۔ یہ شفا بخش توانائی ہے اور ہمارے اردگرد ہر جگہ موجود ہے۔ یہ توانائی ہر جاندار کو زندہ رکھتی ہے، قوت حیات فراہم کرتی ہے اور بیماریوں کی صورت میں شفا دیتی ہے۔ ریکی کی توانائی مرض کی علامات کو رفع کرنے کے ساتھ مرض کے اسباب کو بھی روکتی ہے۔ کوی بھی شخص جو ریکی ہیلر بننا چاہتا ہو اس کو صرف اس توانائی سے ہم آہنگ ہونے کی ضرورت ہوتی ہے اس کے بعد اس کے ہاتھوں سے بھی ریکی کا شفا بخش دھارا بہنا شروع ہو جاتا ہے۔

ریکی کی دریافت ، ترویج و فروغ کا سہرا جاپانی ماہر ڈاکٹر مکاو یسوئی کے سر مانا جاتا ہے۔ انیسویں صدی کے ابتدائی دور میں وہ کیوٹو جاپان میں ایک طبی تعلیمی ادارے کے سربراہ تھے۔ ڈاکٹر مکاو یسوئی سے ان کے شاگردوں نے سوال کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ الاسلام مریضوں کو کیسے صحت یاب کر دیا کرتے تھے اس سوال کو ڈاکٹر مکاو یسوئی نے ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا۔ دنیا حضرت عیسیٰ کی اس معجزاتی مہارت کو مانتی ہے۔ ڈاکٹر مکاو یسوئی نے اس مہارت پر گہرا تفکر کیا او ر لمبی تحقیق و ریاضت کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ شفا بخشی کے اس علم تک عام انسان کی ر سائی ممکن ہوسکتی ہے اور وہ اس پر مزید تحقیق کرتے رہے بالآخر ان کی جدو جہد رنگ لائی اور انہوں نے ریکی طریقہ علاج کی بنیاد رکھی۔ ڈاکٹر مکاو یسوئی کی تعلیمات بتاتی ہیں کہ کائنات ایک ماورائی توانائی سے بھری ہوئی ہے اس کائناتی توانائی کو کائنات کی تخلیقِ اول بھی کہا جاسکتا ہے۔ یہ کائناتی توانائی ہی دنیا میں زندگی کی ضامن ہے اور زندگی کو برقرار اور صحت یاب رکھنے کا ذریعہ ہے۔ اس ماورائی توانائی سے شفایابی کے لئے ڈاکٹرمکاو نے جو طریقہ وضع کیا وہ حضرت عیسی کے لمسی علاج سے مشابہ ہے۔ جب اس انداز سے عمل کیا گیا تو ا نہوں نے بہت اچھے نتائج کا مشاہدہ کیا۔ ڈاکٹر مکاو کے شاگرد وں نے ر یکی کو دنیا کے مختلف حصّوں میں متعارف کرایا۔ اب یہ طریقہ علاج دنیا کے مختلف حصّوں میں جانا پہچانا اور مشہور ہوچکا ہے۔

ریکی انسان کو متوازن صحت کے مقام پر لے آتی ہے۔ ریکی جسمانی ،ذہنی، جذباتی اور دماغی عناصر کے توازن کو برقرار رکھنے والی توانائی ہے۔اگر ریکی ہیلر کسی انسان، جانور یا پودے پر ہاتھ رکھ دے تو ریکی کی توانائی مستعد ہو جا تی ہے۔ ریکی ہیلر روحانی طو ر پر بیدار ہو کر توانائیوں کو محسوس کرنے لگتے ہیں تو ان توانائیوں کو حیاتیاتی قوت کی بحالی کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ایک اور سری پہلو یہ ہے کہ ریکی کی توانائی سے ہم آہنگ ہونے کے بعد جوں جوں آپ ریکی کا عمل کریں گے ریکی کی دانش خودبخو د وہ سب کچھ سکھانا شروع کردےگی جس کی آپ کو ضرورت ہوگی۔ ریکی کے ذریعے آپ ایک ایسے سفر کا آغاز کریں گے جو ممکن ہے کہ آپ کی زندگی بدل ڈالے، جب آپ دوسروں پر ریکی کا عمل کریں گے تو اس کا مفید اثر آپ پر بھی پڑے گا اور آپ کے بھی جسم جذبات اور زندگی کی شفا یابی ہوجائے گی۔
ڈاکٹر مکاو یسوئی نے ریکی کے شاگردوں کو اس توانائی کا اچھا عامل بننے کے لیے چند ہدایات بھی دی ہیں۔ یہ توانائی نہایت لطیف ہے اس کے بہتر استعمال کے لئے ضروری ہے کہ طبیعت میں ٹھہراو ہو چنانچہ غصہ قابو کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے ورنہ جسم میں کثیف گرم لہریں چلنے لگتی ہیں جس سے اس توانائی کے فطری عمل میں رکاوٹ پڑجاتی ہے۔ پریشانی او ر ناشکری انسانی جسم میں موجود توانائی کو مفلوج کر دیتی ہے یوں اس توانائی کا مفید استعمال ممکن نہیں رہتا۔ چوری ، جھوٹ ، نافرمانی اور زیادتی جیسے غیر اخلاقی امور سے انسان میں اندرونی کشمکش ہونے لگتی ہے ۔ اس سے ذہنی مرکزیت ٹوٹ جاتی ہے اس لئے ریکی کے شاگردوں کو ایسے تمام امور سے پرہیز کرنا چاہیے جو ا ن کی ذہنی صحت میں د خل در اندا ز ہو سکتے ہیں۔ تمام معالجاتی مشقوں کے دوران اللہ پر یقین پختہ ہونا چاہیے۔ یہ توانائی صرف اللہ کی مرضی کی مرہون منت ہے۔ ریکی کے شاگردوں کی نیت کا اخلاص ہی ان کو اپنی ذات میں مو جود ماورائی توانائی کے استعمال پر یقین دیتا ہے ورنہ شک و وہم ان کی صلاحیتوں کو زنگ لگا سکتا ہے۔

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: