تہذیبی کشمکش: عبدالروف

0

  عہدِ حاضر کا مسلمان اپنے آپ کو تاریخ کے بڑے پُر پیچ دوراہے پر سرگرداں پاتا ہے. مزید یہ اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہے کہ، اسے “مطلوبہ منزل” کا راہی بننے میں دشواری ہورہی ہے. ایک طرف دورِ جدید کی فتنہ سامانیاں، تو دوسرے ہاتھ اس کا بے مایاں تہذیبی سرمایہ، کہ جن کے مابین انتخاب اس کا امتحان بنتا جارہا ہے۔ مسلم روایت جن “تہذیبی خصوصیات” سے کشید ہوتی ہے، ان پر اصرار کئے بغیر مسلم وجود اپنی بقاء کا سامان بہرحال پیدا نہیں کرسکتا۔ ،اور اس کے ساتھ ساتھ “مشترکہ انسانی میراث” کی طرف غفلت وحقارت بھری نظر بھی دنیائے جدید میں اس کی حیثیت کو کمتر سطح پر لا کھڑا کرے گی۔ اب یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ، تجدید کے نام پر تہذیبی مسلّمات کی موڈیفکیشن کا عمل بایں طور شروع کیا جائے کہ، عصرِ حاضر نے کچھ ایسی عقلیات اور معیارات ترتیب دیئے ہیں کہ؛ ان سانچوں میں نہ آنے والا کتنا ہی مصدقہ اور متواتر کیوں نا ہو، قابلِ تشکیک ٹھہرا دیا جائے۔ پھر یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ مسلمان اپنے اصول و مبادیات کے انطباقی پہلو سے اس قدر نابلد ہوجائے کہ اسے عہدِ جدید کے مظاہر کی توجیہہ اور اختیار ایسی صلاحیت سے دستبردار ہونا پڑے۔ ہر نظریاتی اور فکری قوت ایک “خیرِ اعلی” کا تصور ضرور رکھتی ہے، جو الٹی میٹ اور مطلق ہوتا ہے. چنانچہ جب یہی تصوّر جب نفسیاتی اور سماجی سطح پر انٹر ایکٹ کر رہا ہوتا ہے تو محض وہم و خیال نہیں بلکہ واقعاتی و منطقی ہوجاتا ہے۔ یہیں پر آکر مسلم ذہن کا حقیقی امتحان شروع ہوتا ہے کہ، وہ لمحہء موجود کے اپسٹیم کا نہ صرف کامل ادراک رکھ کر، بلکہ اس پر حاوی ہوکر بلند ترین اخلاقی معیار کے ساتھ اپنے دینی تجربے کو ارادی اور اقداری حیثیت میں منوا کر دکھا دے. گویا یوں کہا جائے کہ، وحی جو ڈیٹا فراہم کر رہی ہے اسے زمان و مکان کے شفٹ پر ایسی اطلاقی غذا فراہم کرے، جو نفس و آفاق ہر دو سطح پر “صفتِ بندگی” کو آشکار کردے۔ اس ڈسکورس پر سماجی تشکیل کا عمل “دعوت” کی اساس پر جہاں داخلی ترغیب بنے گا، وہیں اپنی ساخت کو برقرار رکھنے کے لئے “فقہ و قانون” کے مشمولات بھی ترتیب دے گا، اور اس کے لئے ایک مسلمان کا علم و اخلاق کے دستیاب معیارات فتح پانا بہر حال ناگزیر ہے۔

مسلم ذہن کا حقیقی امتحان یہ ہے کہ، وہ لمحہء موجود کے اپسٹیم کا نہ صرف کامل ادراک رکھ کر، بلکہ اس پر حاوی ہوکر بلند ترین اخلاقی معیار کے ساتھ اپنے دینی تجربے کو ارادی اور اقداری حیثیت میں منوا کر دکھا دے. گویا یوں کہا جائے کہ، وحی جو ڈیٹا فراہم کر رہی ہے اسے زمان و مکان کے شفٹ پر ایسی اطلاقی غذا فراہم کرے، جو نفس و آفاق ہر دو سطح پر “صفتِ بندگی” کو آشکار کردے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: