وہم کی کیا دوا کرے کوئی

0

“ہائے اللہ آج کون آریا ہے ”
” کیا ہوا اماں۔ کیسے پتہ کوئی آریا ہے؟”
“ارے یہ کم بخت آنکھ صبح سے پھڑک رئی ہے”
“اماں پچھلی بار تو تمہاری آنکھ پھڑکنے پر بڑے ماموں اللہ میاں کے ہاں نکل لئے تھے”
“ارے وہ تو بائیں پھڑک رئی تھی ناں وس دن۔۔آج دائیں پھڑک رئی ہے۔ ”
” تو اماں۔۔ اس سے کیا ہوگا”
“ارے دائیں آنکھ پھرتی ہے تو کوئی مہمان گھر آتا ہے۔مجھے لگے ہے آج بڑی آپا آنےوالی ہیں حیدرآباد سے”
“تو اماں یہ بھی تو بری خبر ہے، یاد ہے پچھلی بار”
“چل ہٹ بدبخت۔ خبردار جو کوئی برا شگون منہ سے نکالا”

“اور یہ تو کیا بیٹھا ہوا کرسی پر پیر ہلائے جارہا ہے”
“اماں، اس سے کیا ہوتا ہے”
“جاہل آدمی، اس سے برکت اٹھ جاتی ہے گھر سے”

“اری آو سکینہ، چل کھیل بند کر،ہٹ جا وہاں پیپل کے نیچے سے”
“اماں ابھی تو ہم نے شروع کیا ہے کھیلنا”
“اری نصیبوں جلی۔ شام کے وقت پیپل اور بیری کے نیچے نہیں کھڑے ہوتے۔ بد ارواح آویں ہیں “

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” ابے رک جا یار ایک منٹ” وشانت چلتے چلتے رک گیا۔ُ
وِشانت آگرے کا رہنے والا ہے۔ پہلے یہ میرے ساتھ کام کرتا تھا۔ آج کل بے کار تھا۔ مجھے کسی نہ بتایا کہ ایک کمپنی میں جگہ خالی ہے۔ میں اسے وہیں لے جارہا تھا۔ وہاں میرے ایک دوست سے ملوانا تھا۔
” کیا ہوگیا یار؟”
“آج رہنے دے، کسی اور دن چلیں گے”
“کیوں یار۔ پھر پتہ نہیں کام بنے یا نہ بنے”
“کام آج بھی نہیں بننے والا”
“وہ کیوں” میری آواز میں حیرت تھی۔
‘یار تو نے دیکھا نہیں، نکڑ پر وہ کالی بلی راستہ کاٹ گئی تھی”
“تو؟؟؟”
“بس یار، میری ماتا جی کہتی ہیں کہ کالی بلی راستہ کاٹ لے تو یہ ‘ ابھ، شگون ہوتا ہے۔ “
“واہ یار، کالی بلی دیکھ کر تو رک جاتا ہے، اور تو نے بتایا تھا کہ آگرے میں موٹر سائیکل چلاتے ہوئے تو کبھی لال بتی پر نہیں رکتا۔”
“تو؟ کیا کہنا چاہتا ہے تو”
“یار میں سوچ رہا ہوں لال بتی کی جگہ کالی بلی کھڑی کردو تو تیرے بھائی بند ضرور رک جائیں گے۔ ”
“اڑا لے مذاق! ابے یہ بڑے بوڑھوں کا صدیوں کا تجربہ ہوتا ہے۔ تجھے کیا پتہ”
اور بڑے بوڑھوں کو کیا کہیں، ذرا اس دن کی بات سن لیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اندر جیت سنگھ میرا بےتکلف ساتھی ہے۔ اسے ہم دیسیوں کی توہم پرستی، قدامت پرستی اور روایت پرستی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ وہ اپنےبآپ کو جدید خیالات کا پرچارک سمجھتا ہے۔ اس کی کسی بات پر خوش ہو کر میں ماشاء اللہ کہتے کہتے رک گیا۔
“touch wood”
میں نے قریب پڑے ہوئے لکڑی کے پگی باکس (گلک) کو چھوا۔
“تو بھی ان بکواس باتوں پروشواس رکھتا ہے۔ میں نے تو سنا ہے تم لوگ ایسی باتوں کو نہیں مانتے”
“وہ تو ٹھیک ہے یار، لیکن بندہ رسک کیوں لے، لکڑی چھونے سے کیا جاتا ہے”
اندر نے ایک طویل قہقہہ لگایا۔
“ابے یار ہم سکھ بدنام ہیں، تم پٹھان بھی کم نہیں ” اندر بہت مزے میں نظر آتا تھا۔
“آو آئے رہنے دے۔ ہم پٹھانوں کے تمہاری طرح بارہ نہیں بجتے’
“یہ سب لوگوں نے اڑا رکھی ہے۔ کوئی بارہ شارا نہیں بجتے۔ تو نے کبھی میرے بارہ بجتے دیکھے ہیں” یہ کہتے ہوئے اندر نے جھٹکے سے بریک لگائے۔ گاڑی رک گئی۔
“کیا ہوگیا۔ گاڑی کیوں روک دی؟’ میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ یکایک اندر جیت کو کیا ہوگیا۔
‘تو نے ٹائم دیکھا؟ ” اندر نے گھڑی کی طرف اشارہ کیا۔
میں نے گھڑی پر سرسری سی نظر ڈالی۔ُ
“کیا ہوا ٹائم کو؟ ‘ میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔
“اؤے، بارہ بجے ہیں ”
“تے فیر؟ تو تو کہتا ہے کہ تیرے بارہ نہیں بجتے”
“نہیں بجتے، لیکن پھر بھی بندہ رسک کیوں لے”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکھ ہو، ہندو ہو، عیسائی ہو یا ہم اہل ایمان، یقین کیجئے اس بارے میں ہم سب کے بارہ بجے ہوتے ہیں۔ غیر مرئی اور نادیدہ قوتوں کا خوف۔ ہر بات پر یقین، ہر وہم اور شگون پر ایمان، اور اگر ایمان نہیں تو صرف اس پر جس کے ہاتھ میں زمین اور آسمان کی ہر چیز ہے اور جس کی قدرت کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا۔
میں بحرین میں ایک بین الاقوامی پنج ستارہ ہوٹل میں ملازم تھا۔ مجھے بہت عرصے بعد احساس ہوا کہ وہاں دوسو بارہ، تین سو بارہ اور چارسو بارہ کے بعد دوسو چودہ، تین سو چودہ اور چار سو چودہ کمرہ نمبر ہیں۔ دوسو تیرہ، تین سوتیرہ اور چار سو تیرہ کمرہ نمبر کا وجود ہی نہیں۔
اور ایک دن باہر زوردار بارش ہورہی تھی۔ دفتر سے نکلتے ہوئے میں چھتری کھولنے ہی لگاتھا کہ میرے گورے مینیجر نے جھپٹ کر آدھ کھلی چھتری میرے ہاتھ سے چھین لی۔
“چھتری کبھی گھر کے اندر نہیں کھولنی چاہئیے” اس نے ملامت کی۔ ” اندر چھتری کھولنا مصیبت لاتا ہے”
اور اسی گورے نے اس دن مجھے کھینچ کر اس سیڑھی کے نیچے سے گذرنے سےروک دیا تھا جو دفتر کی دیوار کے ساتھ لگی تھی جس پر چڑھ کر دیوار پر رنگ کرنے والے مزدور کھانے کے لئے گئے ہوئے تھے۔
“کبھی سیڑھی کے نیچے سے نہیں گذرنا چاہئیے”
“واہ تم لوگ بھی ایسی باتوں کو مانتے ہو” میں نے چوٹ کی۔
“ہم نہیں مانتے لیکن، رسک کیوں لیا جائے؟”

سکھ کہاں نہیں ہوتے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“لگتا ہے اس بار بونس ملے گا” رابرٹ ہتھیلی کھجاتے ہوئے بولا۔ُ
“تمہیں کیسے پتہ، کوئی اناؤنسمنٹ تو نہیں ہوا’
“میری ہتھیلی میں کھجلی ہورہی ہے اور مجھے یقین ہے کہ مجھے کہیں سے پیسے ضرور ملیں گے۔
“یار میرے تو پیسے کٹ گئے تھے پچھلی بار جب میرے بھی ہاتھ میں کھجلی ہورہی تھی”
“وہ تمہارے بائیں ہاتھ میں کھجلی ہوئی ہوگی’ دائیں میں ہو تو پیسے ملتے ہیں۔
میں نے فیصلہ کیا کہ آئندہ دائیں ہاتھ کو گندا رکھا کروں گا۔ چانس لینے میں کیا ہے۔ ہاں بائیں کو ہمیشہ صاف رکھوں گا۔ بندہ رسک کیوں لے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“لائٹر ہے کسی کے پاس” ٹونی نے ہم دونوں کی طرف سگریٹ بڑھاتے ہوئے پوچھ.
“اوہ یس۔ میک نے میری اور ٹونی کی سگریٹ جلا کر لائٹر بجھا دیا، پھر دوبارہ جلا کر اپنی سگریٹ جلائی۔
“یہ کیوں” میں حیران تھا۔
“کہتے ہیں کہ ایک ماچس یا ایک شعلے سے تین سگریٹ نہیں جلانی چاہئیں۔ تمہیں ورلڈ وار کا وہ قصہ تو پتہ ہوگا جب مورچے میں بیٹھے فوجی نے اندھیرے میں تیسرے ساتھی کی سگریٹ جلائی تو ایک گولی نے اس کا کام تمام کردیا۔”
“یار یہ سیدھی سی بات ہے، تیسری سگریٹ تک پہنچے ہر دشمن کو شعلہ نظر آگیا ہوگا۔ اب تو ایسا کوئی خطرہ نہیں”
“وہ تو ٹھیک ہے، لیکن ایک اور بار لائٹر جلانے میں کیا حرج ہے۔ بندہ رسک کیوں لے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یہ میں نے تمہارے لئے تمہارے نام کے پہلے حرف کا رومال لیا ہے۔ بہت اچھی کوالٹی کا ہے” میں نے جے کو کراچی سے اس کے لئے لایا ہوا تحفہ دیا۔
“تھینکس۔ لیکن آئی ایم سوری، میں اسے نہیں لے سکتا، ”
‘کیوں کیا تم رومال استعمال نہیں کرتے۔”
“کرتا ہوں لیکن ہم لوگوں میں اسے برا شگون سمجھا جاتا ہے۔ پچھلی بار ہمارے ایک رشتہ دار کو کسی نے رومال تحفے میں دیا۔ وہ ائیر انڈیا کی اس فلائٹ سے آرہا تھا جس کا کریش ہوگیا۔ یہ رومال کا تحفہ بہت منحوس ہوتا ہے”
‘یا ر ‘ جے۔ جب تم چھٹی جاؤ تو رومال یہیں چھوڑ جانا، ویسی بھی تمہاری جیب میں پڑا رومال جہاز میں کوئی فنی خرابی نہیں پیدا کرے گا”
“مذاق مت اڑاؤ۔ میرے سامنے ایک بات ہوچکی ہے۔ اب جانتے ہوئے بندہ رسک کیوں لے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ میرا ساؤتھ انڈین پڑوسی اناسوامی ہے، اس کی بیوی اپنی بیٹی کو نہلا دھلا کر تیار کرتی ہے، اس کے بال سنوار کر کلپ لگاتی ہے، بچی کو پیار سے دیکھنے سے پہلے کاجل کی ڈبیا میں چھنگلی ڈبو کر اپنی بیٹی کی پیشانی پر یہ بڑا سا نشان ثبت کرتی ہے، اس کی بچی کا رنگ پختہ سیاہ ہے۔ کاجل کا نشان اس میں چھپ جاتا ہے۔ یہ نظر بٹو کہلاتا ہے۔
اور یہ خان صاحب ہیں جو کرائے کی بس چلاتے ہیں۔ خان صاحب پنج وقتہ نمازی ہیں، خدا پر پختہ ایمان ہے، توہمات کو حرام جانتے ہیں۔
خان صاحب نے اگلے اور پچھلے بمپر سے نیچے سیاہ پرانے لٹکا رکھے ہیں۔ یہ نظر بد سے بچنے کے لئے ہیں۔ خان ان باتوں پر یقین نہیں رکھتا۔ لیکن پراندے لٹکانے سے کیا جاتا ہے۔ بندہ رسک کیوں لے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور یہ بھی میرا ہندوستانی، گجراتی پڑوسی، جیش شاہ ہے۔ یہ لفٹ میں مجھ سے کچھ نظریں چرا رہا ہے۔ نظریں بھی نہیں بلکہ شاپر چھپا رہا ہے جسے وہ ہاتھ میں لئے ہوئے ہے۔ ہم دونوں پارکنگ والے فلور پر لفٹ سے باہر نکلتے ہیں۔ جیش تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھتا ہے۔ وہ رات ہی شو روم سے نئی گاڑی لایا ہے۔ میں اسے مبارکباد دیتا ہوں اور دو ایک رسمی جملوں کے بعد اپنی گاڑی کی طرف بڑھ جاتا ہوں۔ کار اسٹارٹ کرتے ہوئے میری نظر جیش کی کار کی جانب پڑتی ہے جہاں وہ کار کے اگلے حصے کی جانب جھکا ہوا کچھ کررہا ہے،
اوہو۔ اس کے ہاتھ میں ناریل ہے جسے وہ کار کے بمپر سے ٹکرا رہا ہے۔ دو ایک ضربوں میں ناریل چٹخ گیا۔ جیش اب اس کا پانی پورے بمپر پر ڈال رہا ہے اور منہ ہی منہ میں کچھ بدبدا رہا ہے۔
میں نے کسی فلم میں بھی شاید یہ منظر دیکھا تھا۔ یہاں انشورنس کئے بغیر آپ گاڑی شو روم سے نہیں نکلو آسکتے۔ جیش شاید آسمانی طاقتوں سے اپنی گاڑی کی ری انشورنس کروا رہا تھا۔
دو تین درہم کے ناریل کا تو خرچ ہے، بندہ رسک کیوں لے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور یہ بازار ہے۔ سندھی ہندو دکاندار، دکان کھولنے سے پہلے دروازے پر لیموں اور مرچوں کی لڑی لٹکا رہا ہے، ساتھ ہی کچھ اشلوک بھی جپ رہا ہے۔ یہ پاپی آتماؤں اور اشبھ گھڑی سے بچنے کی انشورنس پالیسی ہے۔
اور یہ کوئی ایسی عجیب بات بھی نہیں۔ ہمارے خان صاحب بھی تو اپنی بس کے آگے پیچھے پراندے لٹکاتےبہیں۔ چار چھ لیموں اور مرچوں کا خرچ ہی کتنا ہے۔ بندہ رسک کیوں لے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ارے بھابی یہ کھیر تو لیں”
“نہیں بہن کھیر میں نہیں کھاؤں گی۔ ”
“ارے کیوں، کیا ڈائٹنگ کررہی ہیں”
“ایسی بات نہیں۔ بس آج کھیر نہیں لوں گی۔ تم نے مچھلی کھلائی تھی ناں”
“جی بھابی”
“اد رکھو مچھلی کے بعد کبھی دودھ کی بنی چیز نہیں کھانی چاہئیے۔ برص کے داغ ابھر آتے ہیں جسم پر”

دودھ پر یاد آیا کہ بچپن میں گوالے کے ہاں سے دودھ لاتے ہوئے رستے میں ایک بڑی بی نے جھاڑ پلائی تھی “اے ہے لڑکے! کھلے آسمان کے نیچے دودھ اور کھانے کی سفید چیز کو ہمیشہ ڈھانپنا چاہئیے۔ پلید روحیں گھس جاتی ہیں دودھ میں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم مسجد سے باہر آرہے ہیں۔ محمد اوزین ( حسین) میرا الجزائری ساتھی ساری اوندھی پڑی چپلوں کو سیدھا کررہا ہے۔
یہ وہی اوزین ہے جو الیکٹریکل انجینئر ہے اور مجھے اس نے علم حدیث کے بارے میں بہت سی معلومات دیں۔ میری حیرانگی پر اس نے بتایا کہ اکثر عرب ملکوں میں دینی تعلیم یونیورسٹی کے درجے تک دی جاتی ہے۔ اوزین بہت روشن خیال ہے لیکن ایک دن کافی روم میں غلطی سے میرے ہاتھ سے کافی اس کے کپڑوں پر گر گئی تو وہ پریشان ہوگیا،
پریشان وہ اس لئے نہیں ہوا کہ اس کی پتلون پر داغ پڑگیا تھا۔ اصل فکر اس بات کی تھی کہ یہ اچھا شگون نہیں ہوتا۔
نماز کے بعد وہ جائےنماز کا کونا پلٹ دیتا ہے، میں نے وجہ پوچھی تو پتہ چلا کہ خالی جائےنماز پر شیطان نماز پڑھتا ہے۔
“شیطان نماز پڑھتا ہے!!؟؟” اس بات پر تو اللہ میاں کو خوش ہونا چاہئیے۔
بہرحال اماں بی ہوں، خان صاحب ہوں، ٹونی ہو یا جیش شاہ۔ یا محمد اوزین الجزائری ہو۔
۔۔ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بارات چلی گئی، مہمان رخصت ہوئے، چند ایک قریبی عزیز جو شادی سے پہلے سے ہی گھر میں ہیں، ان کی موجودگی میں ‘سلامی’ کے لفافے کھولے جارہے ہیں۔

“لکھو! سعید ماموں ایک سو اکیس روپے”
ظفر چچا، اکاون روپے،
خالد صاحب، پچھلی گلی والے، گیارہ روپے
شفیع کے ماموں، اکیس روپے۔
ایں یہ کیا ! صرف تیس روپے، ایک روپیہ کہاں گیا۔ دیکھو لفافے کے اندر کہیں مڑا تڑا ہوگا۔ کیا کہا نہیں ہے۔ واہ بھئی کمال ہے۔ گئے وقتوں میں کبھی کسی نے ایک روپے کے بغیر سلامی نہیں دی۔
“کیوں خالہ؟ ایک روپے سے کیا ہوتا ہے”
“بس اسے اچھا نہیں سمجھا جاتا”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کتا انگڑائی لے رہا ہے، اس کے سامنے سے مت گذروں۔ جسم پر کتے کے سے دھبے آجائیں گے۔ ”
“رات کے وقت ناخن نہیں کاٹتے، گھر سے برکت اٹھ جاتی ہے”
“رات کو جھاڑو نہیں دیتے”
‘رات کو سیٹی نہیں بجاتے”
“دن کو کہانی نہیں سناتے، مسافر راستہ بھول جاتا ہے ( نجانے کون سا مسافر؟)
‘یہ نعل دروازے پر لگآلو، برکت ہوگی”
“یہ شیشے کی نیلی آنکھ بھی اندر کی جانب دروازے پر چپکا دو، گھر کو بری نظر نہیں لگتی”
“اے ہئے، یہ کیا بد شگونی ہے، میاں سفر کو نکل رہے ہیں اور تم عین وقت پر چھینک رہی ہو۔ میاں میرے خیال میں ایک دن ٹھہر جاؤ، یہ اچھا شگون نہیں ہے”

“ہائے اماں، میں مرگئی!!”
“اری کیا ہوا” کیوں بولائے دے رہی ہے؟”
“اماں میرے سر پر چھپکلی گر گئی تھی۔ وہ دیکھو، بھاگ رہی ہے ”
“اے یہ تو اچھی بات ہے، اب تیرے نصیب کھلیں گے”

کانچ کا برتن ٹوٹ جانا، ٹوٹا آئینہ دیکھنا، برے خواب آتے ہوں تو تکیہ کے نیچے چھری رکھنا، کوے کی بیٹ سر پر گرے تو خوش بختی کی بات ہے، سات کا ہندسہ ” لکی’ ہوتا ہے اور تیرہ منحوس۔ جمعرات کی جھڑی ہے،اب ھفتہ بھر برسے گی۔
یہ اور ایسی بے حساب باتیں، سعد اور نحس اثرات، ٹوٹکے، اور نجانے کیا کیا۔ میں اور آپ نہ صرف بچپن سے سنتے آئے ہیں بلکہ سنتے رہتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ دنیا کا نظام اتنا نازک ہے، کہ آنکھ کے پھڑکنے، بلی کے راستہ کاٹنے اور ہاتھ میں کھجلی ہونے سے ایسا کچھ ہوجاتا ہے کہ کیا بتائیں۔
یہ یقیناً کوئی اور ہی طاقت ہے جو یہ سب کچھ کرتی ہے۔ ہم نے ان غیر مرئی طاقتوں کی بالادستی تسلیم کرلی ہے۔ ہم سب کہیں نہ کہیں یہ مانتے ہیں کہ ضرور کوئی اور ہستی ہے جو یہ کچھ کرتی ہے۔

مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے۔

اوروں کو تو کیا کہوں، میرا اپنے ایمان کا حال اس شخص جیسا ہے جو کسی اونچی پہاڑی سے نیچے، گہری کھائی کی طرف لڑھکتا جارہا تھا کہ اس کے ہاتھ میں ایک کمزور سی جھاڑی آگئی، کچھ دیر کے لئے اس کا پھسلنا بند ہوگیا تو اس نے آواز لگائی، ” ارے کوئی ہے جو مجھے بچائے”
جوابا” ایک آواز گونجی ” ہاں میں ہوں جو تمہیں بچا سکتا ہوں”
اس شخص نے پوچھا تم کون ہو
جواب آیا میں تمہارا خدا ہوں۔ میری بات مانو گے تو بچ جاؤگے۔
‘ مجھے کیا کرنا ہوگا’ اس شخص کی امید بھری آواز آئی۔
‘ جس جھاڑی کو تم نے پکڑا ہوا ہے، اسے چھوڑ دو”
کچھ دیر سکوت رہا۔۔۔پھر آواز آئی

” کوئی اور ہے؟؟”

ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ کون ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، جو زندہ، ہمیشہ قائم رہنے والا ہے، جسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ آسمانوں اور زمینوں کی ہر چیز اسی کی ہے، کون ہے بھلا جو اس کی اجازت کے بغیر اس سے سفارش کرسکے، جو کچھ لوگو ں کے روبرو ہے، اور جو کچھ پیچھے ہے، وہ سب جانتا ہے۔ اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز پر دسترس حاصل نہیں کرسکتے، ہاں جس قدر وہ چاہتا ہے، اس کی کرسی نے آسمان اور زمین کو گھیرے میں لے رکھا ہے، اور اسے ان کی حفاظت دشوار نہیں، اور وہ بڑا بلند وبالا اور صاحب عظمت ہے ( البقرہ۔۲۵۵)

دعوی تو ہم بھی اسی کو ماننے کا کرتے ہیں۔
کیا کمال کے لوگ ہیں ہم بھی!!

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: