سانحہءاحمد پور شرقیہ اور قومی نفسیات

0

اگرچہ میں نے فیس بک پر کسی بھی سیاسی یا سماجی موضوع پر کچھ نہ لکھنے کا ارادہ کر لیا تھا لیکن احمد پور شرقیہ کے دل دوز سانحے پر فیس بک پر جاری گفتگو دیکھ کر رہا نہیں گیا۔ میری دانست میں اس المناک سانحے کی وجہ انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی قومی مزاج ہے. قومی مزاج کن عوامل کی بنا پر ترتیب پاتا ھے اس پر ایک طویل گفتگو درکار ھوگی۔ مختصر الفاظ میں اتنا کہا جاسکتا ھے کہ کسی بھی قوم کی اشرافیہ کا مزاج ھی وہ بنیادی خمیر ھوتا ھے جس سے عوام کا مجموعی مزاج تشکیل پاتا ھے۔ جس معاشرے میں مالی بدعنوانی میں ملوث افراد حکومت کا حصہ ھوں، غریبوں کی زمینوں پر سرکاری اداروں کی ملی بھگت سے قبضہ کرکے ارب پتی بن جانے والے افراد صاحبانِ عزت شمار ھوتے ھوں اور لوٹ کی رقم کا ایک حقیر سا حصہ فلاحی کاموں پر خرچ کرکے اہل سخا میں بھی گنے جاتے ھوں۔ وہاں ایک عام آدمی کے ذہن میں نیکی، بدی اور اخلاقیات کے اصولوں کا درھم برھم ھوجانا کوئی انہونی بات نہیں۔ آپ اس کو حرص کہہ لیں، لالچ کہہ لیں یا کوئی اور نام دے دیں، کیا یہ واقعات ھم اپنی روزمرہ زندگی میں رونما ھوتے ھوئے نہیں دیکھتے؟ کیا ھم نہیں دیکھتے کہ شادی کی دعوتوں میں کھانا شروع ھونے کے وقت کس طرح کی ھڑبونگ مچتی ھے؟ کیا ھم ٹی وی پر انعامی مقابلوں میں شریک افراد کی انعام حاصل کرنے کے لالچ میں کیسی کیسی تضحیک اٹھاتے اور اسے ھنس ھنس کر برداشت کرتے ھوئے نہیں دیکھتے؟ انسان جبلی طور پر حریص واقع ھوا ہے۔ ( اور (یہ تو تم جانتے ہی ہو کہ) حرص لوگوں کی سرشت میں ہے، سورہ النساء) ۔

مذھب کی صحیح عملی تفسیر اور انسانوں کی درست سمت میں معاشرتی تربیت افراد میں پائی جانے والی حیوانی جبلتوں کو آپے سے باھر ھونے سے روکتی ہے لیکن یہ عمل صرف اسی صورت میں مثبت نتائج کا حامل ھوتا ھے جب مذھب کی تفسیر کرنے والے علماء اور معاشرتی اقدار کی تربیت فراہمکرنے والے افراد دیانت داری سے اپنے فرائض انجام دیں. ماں کی آغوش کے بعد انسان کی پہلی تربیت گاہ وہ مدرسہ یا اسکول ھوتا ھے جہاں سے وہ بنیادی تعلیم حاصل کرتا ھے، اب آپ دیکھ لیں کہ ھمارے بیشتر مدارس میں کس نوع کی اخلاقی تربیت دی جاتی ہے اور اسکولوں میں کس طرح اساتذہ اپنے فرائض ادا کرتے ہیں، کیا اسکول میں تعلیم دینے کی بجائے ٹیوشن لینے پر اصرار اساتذہ کی حریصانہ طبیعت کا آئینہ دار نہیں؟ اب مجھے یہ بھاشن نہ سنایئے گا کہ تنخواھوں کی کمی کی وجہ سے اساتذہ ایسا کرنے پر مجبور ھوتے ہیں. اگر اس دلیل کو درست مان لیا جائے تو سرکاری اہل کاروں اور پولیس کی جانب سے رشوت لینے کے حق میں بھی یہی دلیل پیش کی جاسکتی ہے۔ ایسے اداروں میں جہاں معاوضہ کم ملتا ہو. ملازمت اختیار کرنا فرد کا ذاتی فیصلہ ہوتا ہے. اس کو اختیار حاصل ہوتا ھے کہ ملازمت اختیار کرے یا نہ کرے، کم معاوضہ کسی فرد کو بد عنوانی کا لائسینس فراھم نہیں کرتا ہے. دیارِ مغرب میں ایک بڑی تعداد میں کم معاوضہ پانے والے افراد ایک سے زیادہ ملازمتیں کرکے اپنی آمدنی بڑھاتے ہیں نہ کہ کم معاوضہ کو بہانہ بنا کر بدعنوانیوں کے مرتکب ھوتے ہیں، اگرچہ یہاں کا انسان بھی حرص و ھوس کی اس جبلت سے کلی طور پر آزاد نہیں، نیو یارک میں 1977 کے اقتصادی بحران کے دنوں میں بجلی چلے جانے کے بعد پورے شہر میں برپا ھونے والی لوٹ مار تاریخ کا حصہ ہے۔ بدقسمتی سے ھمارے ملک کا معاشی اور معاشرتی نظام اپنی ابتداء سے ہی ناانصافی اور دو عملی پر مبنی رہا ہے. حکمران چاھے وہ جمہوری طور پر اقتدار میں آئے ھوں یا فوجی طاقت سے، ملکی وسائل کو بےدردی سے لوٹنے کا سلسلہ مسلسل جاری رھا، آمریت کی شکل میں کیا کیا تماشے ہوئے اس کو تو چھوڑ ہی دیجئے. جمہوری طور پر منتخب ھونے والوں نے کیا کیا گل کھلائے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، چاھے وہ سرے محل ہو یا لندن کے فلیٹس، غیر ملکی سودوں سے حاصل کیا جانے والا کمیشن ھو یا ناجایز طور پر حاصل کی جانے والی سرکاری مراعات، آپ کا کیا خیال ھے کہ ملک کے بالا دست طبقے کی یہ اعلانیہ لوٹ کھسوٹ عوام الناس کے دل میں ایک احساسِ محرومی کے ساتھ ساتھ، دولت کے باآسانی حصول کے لئے غیراخلاقی ذرائع اختیار کرنے کے خلاف ان کی طبعی مزاحمت ( جو دینی تعلیمات اورنیک والدین کی تربیت کا نتیجہ تھی) کو کمزور نہیں کرتی رھی ہے؟ جب وہ کھلی آنکھوں سے اپنے معاشرے میں یہ مناظر دیکھ رھے ھوں کہ دولت چاھے وہ کسی بھی طریقے سے حاصل کی گئی ھو ایک فرد کو نہ صرف اختیار عطا کر رھی ھے بلکہ اسکی عزت و آبرو میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ھو رہھی تو دینی تعلیمات اور والدین کی تربیت کا بند کب تک طمع کے منہ زور طوفان کو روک سکتا ھے اور جبکہ قران کے مطابق حرص اس کی سرشت میں شامل ھو؟ بہت خشک گفتگو ھوگئی ھے، اخر میں ایک دلچسپ سچا واقعہ سن لیجئے.. ایک، نامور ادیب، شاعر اور متعدد سرکاری عہدوں کا طولِ قامت رکھنے والے نیویارک تشریف لائے تو ان کو لینے کے لئے ائیرپورٹ پر موجود میرے ایک دوست نے دیکھا کہ موصوف معذوروں کو سہولت فراہم کرنے والی وہیل چیئر پر براجمان چلے آرھے ہیں جسے ایک شخص دھکیل رھا ھے۔ میرے دوست نے موصوف سے پوچھا کہ خیریت تو ھے آپ وہیل چیئر پہ؟ موصوف نے ھنس کے فرمایا ’’میں تو بھلا چنگا ھوں، مفت کی سہولت ھے تو کیوں نہ فائدہ اٹھایئے۔ تیل کا ٹرک الٹنے کے بعد وہاں پہنچنے والے دراصل اسی قومی مزاج اور نفسیات کا آئینہ تھے، ہم جو اس وقت بڑھ چڑھ کر باتیں کر رھے ہیں، اگر جائے وقوعہ پر ھوتے تو شائد وہی کچھ کررھے ھوتے جو ان سوختہ تن افراد نے کیا، باقی رھا سوال اس بات کا کہ ان لوگوں کو اس بات کا خوف نہیں تھا کہ پٹرول کا ٹینک کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ھے تو یاد رھے کہ ہم ایک ایسی قوم کا حصہ ھیں جس کے کاسہء سر میں بھی شائد عقل نہیں جذبات ہی کلبلاتے ہیں، 65 کی جنگ میں سڑکوں پر نکل کر اسمان سے برستے ھوئے بموں کا نظارہ ہماری تفریح اور کئی بار لٹ جانے کے باوجود لٹیروں کو اپنے کاندھوں پہ سوار کرکے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانا ہمارا مشغلہ ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: