سانحہ احمد پور شرقیہ کا ذمہ دار کون؟ میاں ارشد فاروق

0

ایک بار کسی نے مجھ سے پوچھا کہ جب کوی شخص قتل ہو جاتا ہے تو دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ چند یوم تک معاشرہ مقتول کے ساتھ ہمدردی کرتا ہے لیکن کچھ عرصہ گزرنے پر یہ ہمدرددی مقتول سے قاتل کی طرف منتقل ہونا شروع ہو جاتی ہے، معاشرے کے طاقتور لوگ اسکی معافی کیلیے تاویلات گھڑنا شروع کر دیتے ہیں اور بہت ڈھٹائی سے سفارشیں کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اسکی کیا وجہ ہے؟ مجھے آج تک اسکا کوئی معقول جواب نہیں مل سکا ۔ دراصل یہ سوال قانون کا یا نظام عدل کا نہیں بلکہ سماجیات کا ہے ۔ ہمارا معاشرہ مرحوم کیلیے بعد از وفات مدارج کی بلندی اور اسکی بخشش کیلیے مقامی ملاں کی امداد پر زیادہ یقین رکھتا ہے اور جو ظلم مرحوم کے ساتھ ہوا ہوتا ہے اسکے عدل کیلیے کوی عملی کاوش کرنے پر کم ہی ماییل معلوم ہوتا ہے۔
پاکستان کا قانون برطانوی سامراجی دور کی ہلکی پھلکی کاسمیٹیک سرجری کے بعد نافذالعمل ہے۔ برطانیہ نے اپنے اقتدار کو قایم رکھنے کیلیے خصوصا  1857کی جنگ آزادی کے واقعہ کے بعد پورے بر صغیر میں دو نظام بہت عمدگی سے رایج کیے تھے ان میں سے ایک نمبرداری نطام تھا اور دوسرا نظام مخبریات تھا جو مقامی پولیس کی معاونت کیلیے قایم تھا ۔ بعض مواقع پر یہ  دونوں نظام کسی ایک ہی شخصیت میں حلول بھی کر جاتے تھے ۔ قانون میں نمبردار کی زمہ داریاں اور مخبر کیلیے یہ رعایت موجود تھی کہ اسکی شناخت کو پوشیدہ رکھنے کیلیے عدالت بھی پولیس ملازم کو مجبور نہیں کر سکتی تھی کہ وہ مخبر کا نام یا شناخت بتاے ۔ نمبر دار، چوکیدار، منشی ، محرر، اور مخبر وہ مہرے تھے جس سے مجسٹریٹ اپنے اپنے علاقوں میں لا اینڈ آرڈر کو برقرار رکھتے تھے اور مجسٹریٹی نظام وہ بنیادی ستون تھا جس پر برطانوی اقتدار اپنیء پوری آب و تاب سے قایم دایم تھا۔ اس ساری کامیابی کی روح دو عناصر میں تھی۔ نظام اطلاعات اور ذمہ داری کا اصول۔
انفارمیشن ایج کے شروع ہونے سے کم از کم دو سو سال قبل برطانیہ اور یورپ کا معا شرہ معلومات کی اہمیت سے آگاہ تھا اور معلومات کے حصول، ترتیب تخصیص اور تقسیم کا ایک ناقابل شکست سسٹم ایجاد کر چکا تھا ۔ برطانوی مشن شروع ہونے سے قبل اس مشن سے متعلقہ معلومات ایک مربوط طور پر موجود ہوتی تھیں اور آبجیکٹو مکلمل طور پر ڈیفاین ہو چکے ہوتے تھے۔ برطانیہ نے پوری دنیا پر اقتدار معلومات میں سبقت کی وجہ سے حاصل کیا تھا ورنہ لارڈ کلاییو کے پاس فوج تو بنگال کے مقابلے میں دو سواں حصہ بھی نہیں تھی۔
برطانوی مجسٹریٹی نظام کی اصل قوت اسکا ذمہ داری کا اصول تھا ۔ یورپ برطانیہ کی طرح کا مجسٹریٹی نظام نہیں بنا سکا جس کی وجہ ذمہ داری کے اصول کا عدم استعمال تھا۔ یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ برطانوی راج میں آئل ٹینکر پھٹ جاتا اور اسکی ذمہ داری کسی پر نہ ڈالی جاتی۔ ہر ناکامی کا ذمہ دار تلاش کیا جاتا تھا اور جس طرح کامیابی کی صورت میں تمغے ، خطابات اور خلعتیں عطا ہوتی تھیں عین اسی طرح ناکامی کی صورت میں اے سی آر میں نیگیٹو ریمارک شامل کیا جاتا تاکہ تمغات کی طرح وہ بھی افسر کی قبر تک اسکے ساتھ  رہے ۔ واقعہ خواہ آسمانی ہو یا زمینی اس سے نپٹنے کیلیے مجسٹریٹ کو اپنے مہروں سمیت ہر وقت مستعد رہنا ہوتا تھا ۔ آج کے دور میں بھی ذمہ داری کے تعین کیلیے عالمی ادارے لاکھوں ڈالر خرچ کرکے اپنے ایس او پیز بنواتے ہیں ۔ آپ ذمہ داری کے اصول کو کسی بھی تنظیم یا ادارے میں نافذ کر لیجیے اسکی استعداد کیی گنا بڑھ جاتی ہے اور لاسز کم ہو جاتے ہیں ۔ لیکن اسکے لیے ذمہ داری کا تعین کرنے کیلیے بہت سا کام کرنا پڑتا ہے۔

اب آیے واقعہ احمد پور شرقیہ کی طرف۔ میں نے کئی افراد سے اس واقعے کے ذمہ دار کے بارے میں پوچھا جس کے جواب مہمل اور غیر واضح ملے۔ پھر میں نے ایک واضح پوسٹ لکھی جس میں باقاعدہ طور پر اشارہ دیا کہ ان افراد میں سے آپ کس کو ذمہ دار سمجھتے ہیں ۔ میں نے پوسٹ میں پوچھا ۔۔۔۔
احمد پور شرقیہ کے واقعہ کی ایف آی آر کس کس کے خلاف درج ہونی چاہیے اور کس وجہ سے؟
1 ڈرائیور جو سوتے ہوے گاڑی چلا رہا تھا۔
2 ایس ایچ او جو موقع پر پہنچ کر روڈ بلاک کروانے کی ذمہ داری سے غفلت کا مرتکب ہوا۔
3 علاقہ مجسٹریٹ جس کو صورتحال کا پتہ تب لگا جب ڈیڑھ سو لوگ بھونے گیے او ر وہ اپنے دفتر میں بیٹھا اپنی انا مضبوط کرتا رہا۔
4 قریبی گاوں کا نمبردار جس نے صورتحال کی اطلاع اتھارٹیز کو کرنے میں غفلت کا ارتکاب کیا۔
اس پر جو ردعمل آیا اسے ملا جلا بھی نہیں کہا جا سکتا بلکہ زیادہ افراد کی راے یہی تھی کہ جو لوگ جل گیے وہ خود ہی اسکے ذمہ دار تھے۔ ایک آدھ کمنٹ اس سگریٹ پینے والے احمق کی شان میں بھی تھا جو دھواں کھینچنے کی طلب پر قابو نہ پا سکا اور سارے ملک کی خوشی غارت کر کے رکھ دی۔ کچھ افراد کا ماننا تھا کہ جب اجتماعی غلطی ہو تو سبھی بے گناہ ہوتے ہیں اور چونکہ کسی نے ارادتاََ انکو نہیں جلایا اس لیے کسی کو بھی  مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا ۔ ایک پر جوش وکیل صاحب نے خادم اعلی کے ہیلی کاپٹر بھیجنے کے عمل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جسے سمجھنے سے میری عقل بالکل قاصر رہی۔ زیادہ افراد اس خیال سے متاثر معلوم ہوے کہ سسٹم نے لوگوں کو امیر نہیں بنایا اسلیے لوگ ایسی حرکتیں کرتے ہیں یہ ریزن بھی میری سمجھ سے اتنی ہی بلند ہے جتنا آسمان ہمارے سر سے  ۔ سسٹم پر تنقید کسی بھی انکوایری کو غتربود کرنے کیلیے کافی ہوتی ہے اس سے ہم کسی کنکریٹ نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے اور معاملہ الجھا ہی رہتا ہے ۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں افسران میں سسٹم ایکسپرٹ کم ہیں اور جو ہیں انکو بے بنیاد الزامات عاید کر کے غیر فعال کر دیا جاتا ہے ۔

میں نے ڈاکٹر علی ساجد سے پوچھا تو انہوں نے ایک بہت شاندار بات کی ۔
انہوں نے کہا آپ محض اداروں کو اسکا ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے کیونکہ ادارے سوسایٹی کے تعاون کے بغیر کچھ نہیں ہوتے ۔ ہمارے اداروں اور سوسایٹی کے درمیان خلیج ہے جسے پاٹنے کی اشد ضرورت ہے، لوگ معلومات دینا تو کجا، زخمیوں کو ابتدای طبی امداد پہنچانے سے بھی گھبراتے ہیں کیونکہ وہ کسی قانونی پیچیدگی میں نہیں پڑنا چاہتے ۔ اس خلا کو بھرنے کیلیے تین چیزوں کی ضرورت ہے ، سوسایٹی میں ایسی لیڈرشپ پیدا کی جاے جو ادارتی تعاون کیلیے PROACTIVE ہو۔ سرکاری اداروں میں ایسے تربیتی پروگرام کرواے جایں جن سے افسران پبلک سے زیادہ دوستانہ تعاون حاصل کرنے میں کامیاب ہوں اور ان قوانین کو REVIEW کیا جاے جنکی وجہ سے لوگ سرکاری اداروں کو اطلاعات پہنچانے سے گھبراتے ہیں۔

مجھے یاد آیا کہ سردار صدیق ڈوگرنے ایک دفعہ کہا تھا کہ قانون ایک مکمل دایرے کی مانند ہوتا ہے، ہر قسم کے خلا سے پاک اور ہر قسم کی صورت سے نپٹنے کا اہل لیکن آپ کی قانون کے بارے میں سمجھ کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔ یہی سوچ کر قانون دیکھا تو معلوم ہوا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 45 مقامی نمبردار، چوکیدار، منشی، زمیندار اور قاصد کو پابند کرتی ہے کہ وہ اپنے علاقہ میں ہونے والی ہر ایسی خبر جس کا تعلق لوگوں کی جان و مال کی سیکورٹی سے ہو کو فورا قریبی مجسٹریٹ  یا جسٹس آف پیس کو مطلع کرے گا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ اطلاع 15 پر کال کے ذریعے کر دی گیی ہو تو اس صورت میں یہ ذمہ داری کس پر شفٹ ہو گی ؟

آخری بات غفلت کی باعث نقصان کا دفاع فوجداری قانون میں تو ہے لیکن انتظامی قانون میں نہیں لہذا میری راے میں اس واقعے کی انکوایری کر کے انتظامی غفلت کے مرتکب افراد کو مناسب سزا دی جانی چاہیے جس کا قانون موجود ہے۔

(نوٹ مضمون کی تحریر اور اشاعت کے درمیان اس واقعے کی انکوایری کا حکم صادر ہو چکا ہے۔)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: