ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا ۔ ۔ ۔ محمود فیاضؔ

0

 کل احمد پور شرقیہ میں سینکڑوں لوگ جلے ہوئے کوئلوں میں تبدیل ہو گئے۔ تو دل میں درد کی لہر اٹھی۔ فوراً دل میں ایک ہی خیال آیا، اور دوسرا کوئی آتا بھی کیسے؟ وہ خیال تھا کہ ایک بہتے ٹینکر سے مٹی میں ملے پیٹرول کو جو چلوؤں سے اپنے برتن میں ڈالتا ہوگا اسکے دن رات کس قدر مشکل ہونگے کہ اسکو بہتا پیٹرول بھی اپنی جان پر خطرے سے غنیمت لگا۔ دل کی ہوک درد سے سوا ہوئی اور اپنی ٹیسیں اپنے دوستوں سے شئیر کرنے کو فیس بک پر نگاہ گی۔

وہاں مگر اور ہی منظر تھا۔ دو سو سوختہ لاشوں کا دکھ اپنی جگہ۔ مگر وہ سینکڑوں جملے ٹینکر کے ہزاروں لیٹروں سے زیادہ آگ بھڑکا گئے۔ جان ابھی تک انہی شعلوں میں گھری ہے اور نکلنے کو کوئی راستہ بھی نہیں۔ وہ جملے جو میرے دوست، میرے ہم نشین اپنی عقل و دانش کے سارے بھار کے ساتھ ان سوختہ جسموں پر کفن کی صورت پھینک رہے تھے۔

کسی نے ان عورتوں اور بچوں کو، جو سو پچاس کی بچت، اور اسکے نتیجے میں شام کو ایک فالتو روٹی کی خاطر آتش نمرود میں کود پڑے تھے، لالچی گدھوں سے سے تشبیہ دی جو ٹینکر کے مالک کے بہہ چکے تیل پر ہاتھ صاف کر رہے تھے اور اخلاقیات کے سارے فرلانگ پار کر کے ڈاکہ زنی میں مصروف تھے۔ کسی دوسرے نے موٹر سائیکل میں تیل بھر کر ایک دن کے پیٹرول کے پیسے بچانے کے چکر میں اپنی جان کی ٹینکی خالی کروا دینے والے خاکستر جسم کو جاہل سے بھی برا جانا، کہ ٹینکر پر اتنا بڑا خطرہ لکھا اسکو نظر نہیں آیا۔ کسی نے مردہ تنوں پر اپنے علم کی بارش کرتے ہوئے انکی ہوس کو موضوع سخن بنایا۔ اور دور کی کوڑی لاتے ہوئے بتایا کہ جن کے پاس موٹر سائیکل ہو وہ غریب نہیں ہوتے مگر انکی ہوس پھر بھی نہیں جاتی۔ کوئی کسی گاڑی والے کو ٹینکی میں مفت پیٹرول بھرواتے دیکھ کر باقی سب کو بھی عیاش امیروں میں شامل کیے ہوئے تھا۔ یہ کیسے عیاش امیر تھے کہ جن کے جسم ریڑھیوں پر ادھ ننگے جھلسے پڑے تھے مگر انکے لواحقین جو ارب پتی نہ سہی کروڑوں رکھتے ہونگے، میلے کچیلے کپڑوں میں ریڑھیوں کے گرد رو رہے تھے؟

سچ بات تو یہ ہے کہ ایسے ہر واقعے کے بعد اپنے آپ پر آنے والی شرم دگنا ہو جاتی ہے۔ اپنے ساتھیوں پر نظر پڑتی ہے تو اپنے احوال کی وجہ بھی معلوم ہو جاتی ہے۔ ہمارے جاہل تو خیر جاہل تھے ہی، ایسے واقعات میں ہمارے عاقل جو سلوک اپنی لاشوں کے ساتھ کر رہے تھے، مجھے گھن آ رہی تھی کہ ہم ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہیں؟ ہماری عقل کی زبانیں کس قدر لمبی ہیں کہ ہم لاشوں کے لالچ دھونڈ لیتے ہیں، مگر ہماری عقل کی آنکھیں ، ہمارے شعور کی نظر ہمیں انسان کی مجبوری اور بھوک کو نہیں دکھا پاتیں۔

میری قوم کو بھی اخلاقیات کا سبق کس جگہ یاد اتا ہے۔ قبر کی سل پر کھڑے ہو کر۔ جب شیطان بھی چند لمحے کو ایک طرف ہو جاتا ہوگا۔ مگر آئیے آپ ہی کی اخلاقیات کی نظر سے بھی دیکھ لیتے ہیں۔

کسی نے ٹینکر سے بہہ کر کھیتوں میں جا چکے تیل کو چوری قراد دیا۔ میرا سوال ان سے ہے کہ تمہارے گھر کی نالی کے باہر لپ لپ کر کے گندہ پانی پینے والا کتا بھی تمہارا چور ہوگا؟ جو مال بہہ کر ضائع ہو گیا، جو تمہارے ہاتھ نہین آنے والا، وہ کسی گھٹیا درجے کے جانور کے منہ میں دو بوند بن کر اتر گیا تو تمہارے اخلاق کی کونسی شق ٹوٹ گئی؟ اگر ایسا ہے تو جاؤ جا کر سیوریج سے سبزی اگانے والے سے اپنے فضلے کا حساب بھی مانگ لو۔

ٹیکس چوری اور کھیتوں میں گرے تیل کی چوری کو ایک سمجھنے والے دانشورو، ہماری نسلوں کی بربادی کی کلید ہے تمہارا یہ موازنہ۔ کھیتوں میں گر پڑا اناج پر تو گاؤں کے کئی کمی کمین پل جاتے ہیں، بغیر چوری کا طعنہ سہے؟ کس قدر اندھے ہو کر تم نے یہ دو باتیں ایک ساتھ لکھی ہیں۔ روز قیامت کچھ سوختہ ہاتھ تمہارے گریبانوں کو نہ جھنجھوڑیں، یہ ممکن نہیں۔

موٹر سائکل رکھنے والوں کو امیر سمجھنے والو، کبھی پیٹرول پمپوں سے تمہارا گذر ہوا ہے؟ جہاں روز کی دیہاڑی لگانے والا شام کو ریزگاری گن کر کہتا ہے دو سو کا ڈال دو۔ پھر زرا توقف سے کہتا ہے، چلو ڈیڑھ سو کا ہی کر دو۔ اس کے زہن میں پچاس روپے کی کوئی میٹھی چیز آ جاتی ہوگی، جو شائد اسکی چار سالہ بیٹی نے آتے ہوئے فرمائش کی ہوگی۔ ویسا ہی کوئی بندہ گرتے پیٹرول میں کیوں نہ کودے گا کہ پورے ڈیڑھ سو ہی بچ جائیں تو وہ اپنی گڑیا کے لیے اور مٹھائی ہی لے جائے۔ اس کی یہ ہوس تمہاری دانشوری کے بے رحم قلم سے کہیں مقدس ہے۔

وہ بدمعاش لڑکے جو لاہور کی سڑکوں پر ون ویلیاں کرتے پھرتے ہیں، اگرچہ ان میں سے بھی کئی سفید پوشوں کی اولاد ہوتے ہیں اور مانگے تانگے سے اپنی کھٹارہ موٹر سائیکل کا انجن رواں رکھتے ہیں۔ احمد پور شرقیہ کے کھیتوں میں پیٹرول “چنتے” وہ لڑکے تو اپنی موٹر سائیکل کو سڑک کنارے لٹا کر گھر پہنچا کرتے تھے۔ ان کی چند لیٹر پیٹرول کی ہوس کو تمہاری اخلاقیات کی کلاس سے موازنہ کروں تو لعنت کا لفظ میرے پاؤں پڑ جاتا ہے کہ ان پر ضائع مت کرنا۔

ہاں وہ جاہل تھے کہ پیٹرول کی ہلاکت خیزی نہیں جانتے تھے۔ مگر اس جہالت کا زمہ دار کون ہے؟ صدیوں سے پھیلی جبر کی چادر، جو جاگیر داروں وڈیروں سے روپ بدل کر سیاسی خون آشام درندوں میں بدل گئی ہے، جو انکو ڈھورڈنگر رکھنے پر ہی مصر ہے کہ انکے ووٹوں کی گنتی اسی طرح پوری رہتی ہے۔

ہاں وہ لالچی بھی تھے۔ دو لیٹر پیٹرول کے لالچی۔ جو زمین پر گر کر کچھ دیر میں جذب ہو جانے والا تھا۔ مگر یہ لالچ انکی سخت جان روز و شب میں اک رات کی تھوڑی سی آسودگی سے زیادہ نہیں تھا۔ اس سے زیادہ کا تو تم اپنے ہمسائے کا نیٹ چوری کر کے استعمال کر جاتے ہو۔

اے اس قوم کے بے حس، مردہ اور بے غیرت دانشورو! ابھی کچھ دن گذرے تم کرکٹ میچ دیکھنے کے لیے کوڈ مانگتے پھرتے تھے۔ کوئی اچھی کتاب تم لوگوں کو پی ڈی ایف کے لنک میں چاہیے۔ دنیا کا کوئی بھی پروگرام تم کریک کر کے بغیر ادائیکی کیے استعمال کرتے ہو، اور تم میں سے کوئی بھی اخلاقیات کی الٹی نہیں کرتا، مگر احمد پور شرقیہ کی سوختہ لاشوں میں تمہیں لالچ ابل ابل کر نظر آتا ہے۔ تفو بر تو ای چرخ گردون تفو!

میں جانتا ہوں کہ جواب میں تمہارے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوگا مگر مجھے اسکی کوئی پرواہ بھی نہیں ہے کہ میں نے تمہاری اصلیت دیکھ لی ہے۔ میرا دل مر چکا ہے۔ میں جان گیا ہوں کہ میں ایک ایسے گروہ کا فرد ہوں جہاں ہر دوسرا انسان صرف اپنی انگلی کے درد کو چیختا ہے، دوسرے کی کٹتی شہہ رگ اسکو ڈھکوسلا لگتی ہے۔ یا اپنی دانشوری چمکانے کی دکان۔

تم جو ایک کھیت میں جل بجھی ہڈیوں پر اخلاقیات کی الٹیاں کرتے ہو، کبھی جان ہی نہیں سکتے کہ انسانیت کے اصل دکھ کیا ہیں۔ تم صرف کتابوں اور مسئلوں میں جیتے ہو۔ ان مسئلوں سے باہر تم ایک خود غرض روبوٹ کی زندگی جیتے ہو جو تعلقات بناتا ہے، آمدنی کے ذرائع پیدا کرتا ہے، اور لوٹنے والوں سے کمیشن لیتا ہے۔ چاہے وہ چینل کی تنخواہ کی شکل میں ہو یا کسی یونیورسٹی میں لیکچر کی شکل میں۔

مجھے افسوس ہے کہ زندگی مجھے دنیا کی باقی کچھ قوموں کے پیچ لے گئی۔ جہاں میں نے کچھ اور ہی حال دیکھ لیا۔ مجھے افسوس ہے کہ وہ حال اس سے کہیں مختلف ہے جس میں ہم زندہ (در گور) ہیں۔

مجھے عرب میں رہنے کا اتفاق ہوا، جو کہ میرے نزدیک ظالم ترین آقا ہیں۔ اپنے قبیلے کے سوا کسی دوسرے کو انسان ہی نہیں سمجھتے۔ اجنبیوں کے لیے وہ ظلم و جبر کی تصویر ہیں۔ مگر میں نے دیکھا ہے۔ ان کے ناہنجار نئی نسل کے لڑکے جب سڑکوں پر گاڑیاں دوڑاتے دوڑاتے حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں تو وہ بھاگے بھاگے چلے جاتے ہیں۔ زخمیوں کے سر اپنے سفید کرتوں کی گود میں رکھ لیتے ہیں۔ بھاگ بھاگ کر پانی لاتے اور پلاتے ہیں۔ ایمبیولینس کو بلاتے ہیں۔ مگر مجال ہے ان میں سے کوئی ان زخمی لڑکوں کو ڈانٹ بھی دے، اس مشکل وقت میں انکو اخلاقیات کا سبق دینا شروع کر دے۔ یا ان کے ماں باپ کو بلا کر اپنی علمیت کی الٹیاں کرنا شروع کر دے۔

مجھے کافروں کے دیسوں میں جانے اور رہنے کا موقع ملا۔ جو اپنے حال میں مست رہتے ہیں۔ جو بقول تم لوگوں کے ہی اپنے ماں باپ کو بھی نہیں پہچانتے۔ اخلاقی لحاظ سے جو تمہارے نزدیک حرامی النسل ہوتے ہیں کہ وہ تمہاری منظوری سے اس دنیا میں نہیں آتے۔ مگر میں نے دیکھا ہے کہ وہاں کوئی جب اپنی جہالت یا لا علمی سے حادثے کا شکار ہو جاتا ہے تو اسکے رنگ و نسل کو جانچے بغیر۔ اسکا پاسپورٹ چیک کیے بغیر اسکو ہسپتال پہنچایا جاتا ہے۔ ہسپتال والے اکثر جانتے ہیں کہ داخل ہونے والے مریض غیر قانونی رہائیشی ہے، مگر وہ نہ تو اخلاقیات کے ہیضے کا شکار ہوتے ہیں اور نہ ہی اسکو شرمندہ کرتے ہیں۔ وہ اسکو دوا دیتے ہیں، پٹی کرتے ہیں اورانسانی مسکراہٹ کے ساتھ رخصت کرتے ہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے ٹی وی اسکرینوں نے لندن میں انہی بے شرموں کو اپنے اوپر حملہ آوور دہشتگرد کو سی پی آر دے کر اسکی جان بچانے کی آخری کوشش کرتے دیکھا۔ 

جس طرح ہم نے ان سوختہ جانوں کے ساتھ کیا ہے، وہ کسی بھی مہذب معاشرے میں نہیں ہوتا۔ ہم نے انکی نسلوں، انکی نیتوں، انکی تربیت، انکے خاندان، انکی مالی حیثیت، ان کی لاشوں، کسی کو نہیں چھوڑا۔ ہم نے ہر وہ بات کی ہے جو کوئی ہمارے بارے میں کرے تو کڑواہٹ ہماری قبروں تک جائے۔ مگر ؎ بلھےشاہ اسیں مرنا ناہیں گور پیا کوئی ہور ۔ ۔ ۔ مرنے والے کوئی اور تھے تو اخلاق اخلاق کھیلنے کا مزہ ہی کچھ اور تھا۔ بھوک کسی اور کی ہو تو صبر کا درس دینے کا سواد ہی الگ ہے۔

جس طرح سے ہم اخلاقیات کے مدارج طے کرتے جا رہے ہیں، کوئی دن جاتا ہے کہ ہمارے تدفین اس طرح ہوا کرے گی۔ کوئی ہمارے سرہانے کہا کرے گا، بڑا بے غیرت تھا، ساری زندگی بہن کو گھر بٹھائے رکھا۔ کوئی نہیں بولے گا کہ غربت اور جہیز کی وجہ سے وہ بہن کی ڈولی نہ اٹھا سکا۔ پھر کوئی بولے گا، انتہائی لالچی تھا ساری پینشن بھی لیکر اڑا گیا، کوئی نہیں بولے گا کہ اسکی بیماری پر اہل محلہ نے آنکھیں پھیر لیں تھیں، اور ریاست کا تو خیر ذکر ہی کہیں نہیں ہوگا۔

آپ کو لگا کہ میں کچھ زیادہ کہہ رہا ہوں، ایسے کیسے ہو سکتا ہے؟ میرے بھائیو ابھی کل ہی تو یہ کیا ہے آپ نے۔ جنازوں پر کھڑے ہو کر انکی مجبوریاں جانے بغیر اپنے اخلاقیات کے سارے لیکچر دیے ہیں۔ کل آپ کی (اور میری بھی) لاشوں پر بھی ایسی ہی باتیں ہونگی۔ ہاں ہاں حق سچ تو بولنا چاہیے ناں۔ چاہے کسی کی قبر پر کھڑے ہو کر ہی سہی، چاہے کسی کے کفن پر ہی سہی۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: