رکشہ: عامر راہداری

0

آج ہم آپ کا تعارف جس مخلوق سے کرانے جارہے ہیں اسے رکشہ کہتے ہیں اس جانور کی تین .ٹانگیں اور ایک عجیب و غریب سا جسم ہوتا ہے جسے نہ گول کہا جاسکتا ہے نہ چوکور اور نہ ہی کوئی ایسا ریاضیاتی فارمولہ بنا ہے جو اس کی شکل کو ڈیفائن کرسکے. رکشہ پہلے نیلے رنگ کا ہوتا تها پهر سبز ہوگیا اور آج کل پیلے رنگوں میں ملتا ہے اور اگر یونہی ارتقاء کرتا رہا تو ایک دن سات رنگوں میں بهی دستیاب ہوگا. انشاءاللہ
رکشے دو قسم کے ہوتے ہیں ایک چنگچی اور دوسرا آٹو رکشہ، آٹو رکشے میں چار جبکہ چنگچی میں چھ سواریوں کو ذلیل کرنے کی جگہ ہوتی ہے. چنگچی رکشہ، آٹو رکشے سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس میں آپ ذلیل ہونے کے ساتھ ساتھ خوار ہونے کے بهی مزے لے سکتے ہیں. رکشوں کی ہوسکتا ہے باقی دنیا میں بهی کوئی نسل پائی جاتی ہو لیکن انڈیا اور پاکستان میں ان کی بدترین نسلیں پائی جاتی ہیں. پاکستان کے کسی شہر میں بهی چلے جائیں گهٹیا لوگ اور رکشے آپ کو جگہ جگہ نظر آئیں گے.
رکشے میں کرایہ اور دهکے بہت لگتے ہیں خدانخواستہ اگر کوئی جلد باز قسم کی حاملہ عورت رکشے میں بیٹھ جائے تو یہ اسے ہسپتال تک پہنچنے کی مہلت نہیں دیتے، وہیں چَٹ ڈلیوری پَٹ “مہمان” والا سسٹم ہوجاتا ہے، بلکہ بعض اوقات تو مَردوں کو بهی ماں بننے کے خدشات لاحق ہوجاتے ہیں. کاپی پینسل اٹهائیں اور میری بات لکھ کر رکھ لیں کہ رکشے کی سواری کے بعد اگر آپ آئینہ دیکهیں تو آپ قسم اٹهانے کے لیے تیار ہوجائیں گے کہ یہ آپ کا چہرہ نہیں ہے .
شوہر حضرات میری بات کو سیکنڈ کریں گے کہ بیوی اور رکشے کی آواز میں چنداں فرق نہیں ہوتا دونوں کسی بهی وقت آپ کا تراہ نکال سکتی ہیں. اسی لیے تو کہتے ہیں کہ خاموش بیوی اور رُکا ہوا رکشہ دنیا کی چند خوبصورت ترین چیزوں میں سے ایک ہیں. رکشے میں گانوں وانوں کا سسٹم بهی لگایا جاتا ہے تاکہ آپ رکشے کی آواز فِیل نہ کر پائیں حالانکہ رکشے کی سواری میں بندہ فِیلنگ لیس ہوجاتا ہے، اور اتنا فِیلنگ لیس ہوجاتا ہے کہ اگر آپ کے سامنے کترینہ کیف بهی بیٹهی ہو تو آپ کترینہ کیف سے بے خبر صرف یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ “میں کیوں ہوں”
رکشہ ڈرائیور اور وزیراعظم میں کوئی فرق نہیں ہوتا یہ کسی بهی وقت آپ کو انکار کرسکتے ہیں اور آپ ان کا کچھ بهی نہیں بگاڑ سکتے، رکشہ ڈرائیور ضد میں بالکل رکشہ ڈرائیوروں جیسے ہوتے ہیں، ان کا موڈ ہو تو یہ آپ کو دس روپے میں پورا شہر گُهما دیں اور موڈ نہ ہو تو ہزار روپے میں بهی رکشے میں پاوں نہ رکهنے دیں. ایک تحقیق کے مطابق ڈیڑھ لاکھ کے رکشے کے پیچهے پچیس روپے والا جوتا لٹکانے سے رکشے کی رَکشا ہوتی ہے
واللہ اعلم بالصواب

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: