ابن خلدون اور فلسفہ تاریخ: عمار خان ناصر

0

ابن خلدون کو ہم فلسفہ تاریخ کے بانی کے طور پر جانتے ہیں۔ انسانی تاریخ، علم سیاست اور علم معیشت کی تفہیم کے ضمن میں اس نامور مفکر نے جو نتائج فکر پیش کیے، اس کے کئی اہم پہلو ہیں اور متعدد زاویوں سے ان پر گفتگو ہو سکتی ہے۔ اس نشست میں، ہم دو تین بنیادی نکات کےحوالے سے گفتگو کریں گے۔

ان میں ایک بات تو یہ ہے کہ ابن خلدون نے اپنے مقدمہ کی بالکل ابتدا میں تاریخی واقعات کو جانچنے کے جو معیارات قائم کیے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ محدثانہ معیار پر روایت کو جانچنے کے ساتھ ساتھ اس روایت یا واقعہ کے متن کو کچھ عقلی اور تاریخی معیارات پر بھی جانچنے کی ضرورت ہے۔اگر واقعہ عقلاً اور عادة ممکن نہیں تو راویوں کی جرح و تعدیل کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس اصول کے تحت ایک تو ابن خلدون نے بہت سی تاریخی روایات کو پرکھا ہے، لیکن اس کے ساتھ انہوں نے کچھ ایسی روایات پر بھی نقد کیا ہے اور سوالات اٹھائے ہیں جو احادیث کی کتابوں میں مستند ذرائع سے روایت ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک روایت حضرت آدم علیہ السلام کے قد کے بارے میں ہے کہ ان کے قد کی لمبائی ساٹھ ذراع تھی، پھر آہستہ آہستہ نسل آدم کا قد کم ہوتا گیا اور اب تک کم ہوتا آ رہا ہے۔ یہ روایت محدثین کے معیار کے اعتبار سے بالکل صحیح ہے، اور صحیح بخاری میں آئی ہے۔ تاہم ابن خلدون نے اس پر یہ سوال اٹھایا ہے کہ ہمارے پاس جو تاریخی ریکارڈ موجود ہے جو کئی ہزار سال پہلے تک کا ہے، اس میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ قدیم دور میں انسانوں کا قد اس قدر لمبا ہوا کرتا تھا۔

اسی طرح ظہور مہدی کی روایات پر انہوں نے سوالات اٹھائے۔ انہوں نے ان روایات پر محدثانہ اسلوب میں بھی نقد کیا ہے، لیکن ان کا اصل نقد تاریخی اعتبار سے ہے۔ مثلاً ان کا کہنا ہے کہ اس دور میں جبکہ قریش کی سیاسی عصبیت ختم ہو چکی ہے، کوئی ایک شخص آ کر کیسے اپنے شخصی بل بوتے پر ان کے اقتدار کو دوبارہ قائم کر دے گا؟ یہ تاریخ اور سیاست کے اساسی قواعد کے خلاف ہے۔ اسی طرح غالباً ابن خلدون نے یہ بھی محسوس کیا کہ جس دور میں یہ روایات زیادہ مشہور ہوئی ہیں، اس وقت کچھ سیاسی عوامل تھے اور کچھ گروہوں کی سیاسی ضرورت تھی جو اس طرح کے تصور کا محرک بنی۔ اس ماحول کے زیر اثر یہ روایتیں بنائی گئیں یا ان کی نسبت کی گئی۔ بہرحال یہ ابن خلدون کے تنقیدی منہج کا اہم نکتہ ہے کہ انھوں نے روایات کو پرکھنے کا جو درایتی معیار قائم کیا، وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محدثانہ ذرائع سے آنے والی روایات پر نقد کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں جو مذہبی ذہن کے لیے ایک حساس معاملہ بن جاتا ہے۔

دوسرا پہلو ان کا مشہور نظریہ عصبیت ہے، کہ سیاسی طاقتیں کیسے اقتدار حاصل کرتی ہیں، کیسے ان کا اقتدار قائم رہتا ہے اور کیسے اور کب وہ زوال کا شکار ہوتا ہے۔ اس کے لیے انہوں نے عصبیت کی تھیوری پیش کی۔ اس تصور کو اسلامی تاریخ پر جب ابن خلدون نے منطبق کیا ہے تو کئی اہم تاریخی تغیرات کی تعبیر میں دوسرے مورخین سے ان کی رائے کافی مختلف ہو گئی ہے۔ مثلاً وہ روایات جو قریش کی حکمرانی کے بارے میں آئی ہیں، ان کی روشنی میں کافی عرصہ تک یہ مذہبی اور کلامی بحث چلتی رہی ہے کہ مذہبی طور پر قریش ہی خلافت کے حق دار ہیں، ان کے علاوہ کوئی دوسرا گروہ اصولاً‌ اس منصب پر فائز نہیں ہو سکتا۔ کئی صدیوں تک یہ بات ایک مذہبی تصور کے طور پر مقبول رہی۔ لیکن ابن خلدون نے اس کے بارے میں یہ کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اپنے بعد اقتدار اور حکومت کی بات قریش کے لیے خاص ہونے کی بات فرمائی تو یہ کوئی مذہبی ہدایت نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے وہی عصبیت کا سیاسی اصول کام کر رہا تھا۔

ابن خلدون لکھتے ہیں کہ قریش کو قبائل مضر میں غالب حیثیت حاصل تھی اور عرب کے سارے قبائل ان کی اس حیثیت کا اعتراف کرتے تھے۔ چنانچہ اگر قریش کے علاوہ اقتدار کسی کے سپرد کیا جاتا تو یقینی طور پر اہل عرب ان کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرتے اور قریش کے علاوہ مضر کے دوسرے قبائل انھیں اپنی اطاعت پر مجبور نہ کر سکتے۔ یوں اجتماعیت ختم ہو جاتی، حالانکہ شریعت مسلمانوں میں اتفاق اور وحدت پیدا کرنا چاہتی تھی۔ اس کے برعکس اقتدار قریش کے سپرد کیے جانے کی صورت میں وہ لوگوں کو اپنی اطاعت پر آمادہ کر سکتے اور اپنے سامنے جھکا سکتے تھے، اس لیے ان کے مقابلے میں کسی کے اختلاف کا بھی خدشہ نہیں تھا۔ گویا اقتدار کے لیے قریشی ہونے کی شرط اس بنیاد پر عائد کی گئی کہ وہ مضبوط عصبیت کے مالک تھے تاکہ ان کے ذریعے سے ملت کو مجتمع اور قوت کو متحد رکھا جا سکے۔ قریش کے متحد ہونے سے مضر کے سارے قبائل متحد ہو جاتے اور ان کے سامنے تمام اہل عرب جھک جاتے اور پھر اہل عجم بھی احکام دین کے تابع ہو جاتے جیسا کہ اسلامی فتوحات کے زمانے میں ہوا اور اس کے بعد اموی اور عباسی خلافت کے زمانے میں یہ صورت حال برقرار رہی، تا آنکہ رفتہ رفتہ عرب عصبیت کمزور ہوتی گئی اور خلافت کا معاملہ کمزور پڑ گیا۔ ابن خلدون کہتے ہیں کہ شریعت کی نظر میں اصل اصول کی حیثیت ’’عصبیت’’ کو حاصل ہے جو ہمیشہ کے لیے ہے اور اس کی روشنی میں جس زمانے میں جس گروہ کو بھی عصبیت حاصل ہو جائے، وہی حکومت واقتدار کا حق دار ہوگا۔


ابن خلدون کا موقف ہے کہ خلافت و ملوکیت میں کوئی جوہری فرق نہیں ہے۔ وہ اس کو غیر اہم اور ظاہری فرق سمجھتے ہیں۔


اسی طرح ابن خلدون نے ایک عنوان یہ قائم کیا ہے “انتقال الخلافة الی الملک” کہ کیسے خلافت ملوکیت میں تبدیل ہوئی۔ یہ بھی ہماری تاریخ کی ایک بڑی اہم بحث ہے۔ عموماً اہل سنت اور خصوصاً اہل شیعہ کی یہ رائے ہے کہ ملوکیت کی طرف اس کو منتقل کرنے کا عمل امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں شروع ہوا، اور یہ عمل ٹھیک نہیں تھا، بلکہ ایک ’’انحراف’’ کی حیثیت رکھتا تھا۔ پھر اس کی مختلف توجیہات کی جاتی ہیں۔ یہاں بھی ابن خلدون اس واقعے کو مختلف انداز سے دیکھتے ہیں اور عصبیت کے نظریے کو بنیاد بناتے ہوئے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس عمل کی Justification بھی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر امیر معاویہ خاندان امیہ سے باہر اقتدار کو منتقل کرنے کی کوشش کرتے تو اسے اموی عصبیت قبول نہ کرتی اور امت دوبارہ تشتت وافتراق کا شکار ہو جاتی۔ ابن خلدون کا موقف اس حوالے سے بھی کافی مختلف ہے کہ خلافت و ملوکیت میں کوئی بہت جوہری فرق ہے۔ ابن خلدون کے نزدیک ان میں کوئی جوہری فرق نہیں ہے۔ وہ اس کو غیر اہم اور ظاہری فرق سمجھتے ہیں۔

تیسرا پہلو ان کا نظریہ عروج و زوال ہے جو ایک حوالے سے نظریہ عصبیت ہی کی توسیع ہے۔ ابن خلدون کا خیال ہے کہ جب تک کسی گروہ کو مطلوبہ عصبیت حاصل رہتی ہے، اس وقت تک اس کا عروج قائم رہتا ہے اور جب یہ عصبیت کمزور اور ڈھیلی پڑنا شروع ہو جاتی ہے تو اس کے اقتدار کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔یہ بحث ایک بڑے اہم تاریخی سوال کی شکل اختیار کر لیتی ہے کہ قوموں کے عروج و زوال کا قانون کیا ہے؟ ابن خلدون کے زمانے میں بحیثیت مجموعی پوری امت مسلمہ زوال کا شکار نہیں ہوئی تھی۔اس لیے ان کے ہاں یہ بحث تو ملتی ہے کہ اسلامی ممالک کے اندر کیسے مختلف خاندان اور گروہ عروج حاصل کر رہے ہیں اور کچھ دوسرے گروہ زوال کا شکار ہو رہے ہیں، کچھ اقتدار میں آ رہے ہیں اور کچھ اقتدار سے ہٹائے جا رہے ہیں، لیکن بحیثیت مجموری پوری امت مسلمہ کے عروج و زوال پر کیا اصول لاگو ہوتے ہیں، یہ بحث نہیں ملتی۔ تاہم ابن خلدون نے اپنے تناظر میں جو اصولی بحثیں کی ہیں، وہ اصولی طور پر یہاں بھی لاگو ہوتی ہیں۔ مثلاً یہ کہ کسی بھی قوم کو اقتدار ہمیشہ کے لیے نہیں ملتا، ہر قوم ایک خاص وقت کے لیے ہی اقتدار میں آتی ہے۔ پھر ایک دوسری قوم اٹھتی ہے اور اس کو ہٹا کر اقتدار میں آ جاتی ہے، اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ ابن خلدون کے دور میں شاید اس کے آثار نہیں تھے کہ وہ اس اصول کو بحیثیت امت مسلمانوں پر لاگو کر کے دکھا سکتے۔ تاہم بعد میں آنے والے مفکرین نے اس اصول کو مسلمان امت پر منطبق کر کے ان کے عروج و زوال کی تعبیر کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس اعتبار سے ابن خلدون کے ساتھ کچھ اور مفکرین مثلاً شاہ ولی اللہ کو ملا کر اس سوال پر غوروفکر اور گفتگو کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ان مفکرین کو یہ موقع ملا ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو عروج کے بعد زوال کے مرحلے سے بھی ہم کنار ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابن خلدون کے بعض دیگر عمرانی افکار کا بھی شاہ ولی اللہ کے عمرانی افکار کے ساتھ تقابل کرنے کی ضرورت ہے۔ شاہ ولی اللہ بھی ہماری تاریخ کے بہت اہم مفکرہیں اور انسانی اجتماعیات کو دیکھنے کی بڑی عمدہ اپروچ رکھتے ہیں۔ ان دونوں مفکرین کے مابین کچھ اتفاقات بھی پائے جاتے ہیں اور اختلافات بھی۔ ان دونوں کے تقابلی مطالعہ کرنے سے تاریخ اور عمرانیات کے بہت اہم پہلو واضح ہو سکتے ہیں۔

 

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: