میں کون ہوں اے ہم نفسو؟ ہم ہوئے پنڈی کے باسی: احمد اقبال کی آپ بیتی 5

0
  • 2
    Shares

سینئر لکھاری اور دانشور جناب احمد اقبال کی زیر طبع خود نوشت سے اقتباس۔ گذشتہ سے پیوستہ۔


میں کون ہوں اے ہم نفسو? ملزم احمد اقبال حاضر ہو!

ہم ہوئے پنڈی کے باسی — پانچواں حصہ

 چوبرجی کے پیچھے راج گڑھ  والے مکان کا کرایہ بھی دس روپے تھا۔ اس کا پتا  مجھے یاد ہے لیکن میں انتہائی کوشش کے باوجود اس کو  پھر تلاش نہ کر سکا۔ نمبر 2 کرامت اسٹریٹ مسلم پارک راج گڈھ۔نیچے مالک مکان چوہری سراج دین رہتا تھا جس کے  ایک دوسرے سے متصل تین گھر یا 6 مکان تھے۔ دو کمرے اور سامنے کھلا ٹیرس۔ وہ لاہور کارپوریشن کا ممبر تھا جو دوسری بار  انتخاب لڑا تو ہار گیا حالانکہ خرچ اس نے بہت کیا تھا۔ اس کی پگڑی  کا  طرہ کلف سے سیدھا کھڑا رہتا  تھا ۔ نیچے اس کا سر بالکل صاف تھا۔ اس کی دو بیویاں ایک ساتھ رہتی تھیں۔ پرانی کی بیٹی زرینہ  کی شادی  ہونے والی تھی دوسری جوان اور چٹک مٹک والی  سرخی پاوڈر سے خوب بنی سنوری رہتی تھی لیکن دونو کی لڑائی مجھے کوئی یاد نہیں۔ یہ بھی غور طلب بات ہے کہ اس وقت لاہور کارپوریشن کا ممبر ہماری طرح  دو کمروں کے گھر میں رہتا تھا، ۔۔ سولہ سترہ  سال  کی زرینہ عجیب لڑکی تھی دسمبر جنوری کی سخت سردی میں وہ اسکی ماں اور میں  بستر پر  ایک لحاف میں ٹانگیں پھیلائے باتیں کرتے رہتے تھے اس نے مجھے خاصی پنجابی سکھادی تھی ۔ وہ لحاف میں بار بار میرے پیروں کو  دباکری کہتی تھی “ہائے اکبال ۔۔ تیرے پیر تو یخ ہورہے ہیں۔ ٹھہر میں تیرے لیے سبز چائے بناتی ہوں۔ الائچی والی”،   ہے۔۔ یہ   سچ ہے۔۔ میرے پیر آج بھی  سردی میں کبھی  گرم نہیں ہوئے ۔اس نے  ایک رات  مجھے نیچے بلایا اور چپکے سے بیٹھک میں لے گئی۔

“ایک  چیز دکھاتی ہوں تجھے” اس نے دروازہ بند کرکے سرگوشی میں  کہا” کسی کو بتانا نہیں” پھر دیوار کی ایک الماری کے پٹ کھول کے اس نے کپڑے میں لپٹی  کوئی چیز نکالی اور گلی کی طرف والی کھڑکی کے سامنے رکھ کے کھولی جدھر سے کچھ روشنی آ رہی تھی ۔ یہ ایک کاسہء سر تھا۔ کھوپڑی اور آنکھون کے دو سوراخ،میں نے دہشت زدہ ہو کے ایک چیخ ماری۔ وہ گھبرا گئی میرے منہ پر ہاتھ رکھ کے اس نے مجھے  یوں دبوچ لیا  کہ میں اس کے نرم گرم جسم کا حصہ بن گیا’ہائے پاگل نہ ہو تو۔۔ڈرپوک۔۔کسی نے سن لیا پھر۔۔”

میں نے کہا” یہ ،،یہ تو کھوپڑی ہے۔۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے زرینہ باجی”

وہ ہنسنے لگی”اوے باجی کے باجا جی۔۔ یہ تو بے جان ہے۔ بندہ کب کا مرگیا۔ ہندو تھا ۔ ابا نے اپنے ہاتھ سے مارا تھا” اس نے گردن پر چھری چلانے کا ایکشن دیا۔

“مگر  کیوں۔۔ اور چوہدری صاحب کو سزا نہیں ہوئی۔۔ بند کرو اسے واپس۔۔” میں واقعی کانپ رہا تھا

اس نے ہنستے ہوئے پوٹلی باندھی” اوئے پاگلا،، سزا کیسی۔۔ وہ مسلمانوں کو جو مار رہے تھے۔۔ پتا ہے  اکبال،، یہ جو  ساتھ والے گھر میں دکان ہے نا ہماری۔۔ اس میں  رہتا تھا ۔موچی تھا  سندر لال۔۔یہ جو درزی ہے نا آج۔۔ بعد میں آیا”

اس دن کے بعد میں نیچے  بیٹھک   کے سامنے  سے دوڑ کر گذرنے لگالیکن ایک  رات نہ جانے کیوں میں نے کہا” زرینہ باجی۔۔ وہ چیز دیکھنی ہے۔۔”

اس نے حیرانی سے مجھے دیکھا” کون سی چیز باجا جی۔۔ اچھا وہ۔۔سندر لال دی سری۔۔ چل۔۔ ڈرے گا تو نہیں نا”

‘نہیں” میں نے وعدہ کیا لیکن  جب اچانک زرینہ نے کھوپڑی مییری طرف بڑھائی تو میری گھگی بندھ گئی اور  زرینہ گھبرا گئی۔اس نے کھوپڑی ایک طرف رکھی اور مجھے لے کر  صوفے جیسے کاوچ پر بیٹھ گئی

” ہائے میں مرگئ۔۔۔کیا ہوگیا ہے تجھے بالے۔۔ اتنی سردی میں پسینہ اور کانپ کیسے رہا ہے۔۔بالے کچھ مرد بن۔۔بارہ سال کا ہوگیا ہے تو’اس نے دوپٹے سے ماتھے کا پسینہ صاف کیا۔۔ میں خفیف ہو کے اٹھ بیٹھا لیکن اس نے ماں کو بتا دیا کہ “مٹروا” کتنا بہادر ہے

پناہ گیر تو  مہاجروں کو کہتے تھے لیکن حقارت سے نہیں۔ مٹروا ہی واحد لفظ تھا جو مہاجرون کے لیے کچھ لوگوں نے    مذاق میں استعمال کیا۔ساتھ والے گھر میں نیچے  جس دکان میں سندرلال موچی کی جگہ ایک  سفید سر والا درزی آیا تھا وہ  واقعی متعصب تھا۔ وہ مجھے مخاطب کرکے  ایک  فحش شعر سناتا تھا جو مجھے  نہ جانے کیوں اب تک یاد ہے حالانکہ وہ میں نے کسی اور سے کہیں نہیں سنا

ہندوستانی بڑے حرامی سو سو عیشیں کرتے ہیں

دو پیسے کا تیل لگا  کے    اپنی مونچھیں ملتے  ہیں

گھر سے چٹھی آئی ہے کہ بچے بھوکے مرتے ہیں

اوئے بچے ماں کی۔۔۔میں جائیں ہم تو عیشیں کرتے ہیں۔

ایک بار اس نے پوچھا ” اوئے تم بھی نواب ہو؟ سنا ہے تمہارا تین میل لمبا باغ تھا ۔۔۔پودینے کا۔۔ چھ انچ چوڑا”

ابا کی ایک پریشانی باقی تھی۔  بیاور میں ان کی واحد سوتیلی  بڑی بہن تھی جس کو وہ سگی ماں کی طرح چاہتے تھے اور چونکہ وہ شادی کے صرف 6 ماہ بعد بیوہ ہوگئی تھی تو اس کی خبر گیری کو اپنی ذمے داری سمجھتے تھے ان کےیتیم  بیٹے کی تعلیم اور شادی تک سب  ابا نے کیا۔ انکی بھارت سے کوئی خبر نہیں مل رہی تھی۔خط و کتابت بند تھی اور فون صرف امرا   ہی لگوا سکتے تھے۔ دہلی اور لاہور سے دونو طرف جانے والوں کے عزیز و اقارب کے لیے  ریڈیو سےپیغامات نشر ہوتے تھے لیکن ایک تو اس کا وقت مقرر تھا، شاید صبح شام ایک ایک گھنٹہ۔۔ لیکن سب سے بڑی بات یہ کہ ہمارے گھر میں ریڈیو بھی 1954 میں آیا تھا ورنہ ابا اس سے لگے بیٹھے رہتے۔ پھر بھی جب  انڈیا سے کسی مہاجر ٹرین کے آنے کی خبر ملتی تھی وہ ہمیں ساتھ لے کر اسٹیشن جاتے تھے اور وہان پڑے مہاجروں   سے پوچھتے پھرتے تھے کی بیاور سے کوئی آیا ہے؟ نہ جانے کتنا عرصہ یہ سلسلہ چلا۔ ابا کو یقین تھا کہ وہ پاکستان ضرور آیئں گے،، اس یقین کا معجزہ بھی میں نے دیکھا جب ایک دن اچانک انہوں نے آپا  کو  فیملی کے ساتھ دیکھ لیا۔ نہ پوچھیں بچھڑے ہوئے جو ایک دوسرے کی زندگی سے بھی مایوس تھے کیسے ٹوٹ کے ملے اور کیسے لپٹ کر روئے۔بھانجے نے کوشش کرکے شاہ عالمی میں ہی  ایک سہ منزلہ  تکونے پلاٹ پر بنا چھوٹا سا گھر الاٹ کرالیا اس کے دونو طرف گلی تھی۔  جولائی میں  سیلاب آیا تو نشیبی علاقے میں ہونے کی وجہ سے راج گڈھ میں  پانی  6 فٹ تک  کھڑا تھا اور کرشن نگر میں تو  گراونڈ فلور ڈوب گئے تھے۔ہمارے مالک مکان کی فیملی  اوپر آ گئی۔ہم تانگے میں بیٹھ کے شاہ عالمی   گئے تو اس کے پہیے پانی  میں ڈوبے ہوئے تھے۔ایک ہفتے بعد پانی اتر گیا تو ہم بھی لوٹ ائے۔  صرف تین ماہ بعد  پھوپی کو  پھیپڑوں کاکینسر ہوا۔ ہم  شاہ عالمی ان کے پاس  روز جاتے تھے۔ان کی آخری رات مجھے یاد ہے۔ وہ تیسری منزل پر بنے کمرے میں تھیں  اور صبح جب فجر کی اذان ہوئی تو ابا روتے روتے کہہ رہے تھے” آپا کلمہ پڑھو۔۔آپا کلمہ پڑھو” میں نے موت پہلے دیکھی نہیں تھی۔ آج بھی میرے ذہن میں ایک جسم آتا ہے جو فرش پر سفید کفن میں سیدھا ساکت پڑا تھا۔ ایک  نقش یہ ہے کہ چھوٹے سے مکان کا زینہ بہت تنگ تھا۔ اس سیدھے جسم کو ہاتھوں پر اٹھا کے نیچے  لے جایا  گیاتھا۔

  ایک عید آئی تو  ہم نماز کے لیے بادشاہی مسجد گئے، جلدی جانے سے اندر صحن میں جگہ ملی ورنہ بعد میں مزار اقبال کے آس پاس  رنجیت سنگھ کی مڑھی تک  خلقت پٹی پڑی تھی۔ وہاں قائد اعظم بھی تھے لیکن وہ بہت آگے ہوں گے، نماز کے بعد بڑی ہڑبونگ مچی۔ نہ جانے کس نے مینار کے اوپر سےاشتہار گرائے، لوگ  لوٹنے دوڑے۔اس میں بہت لوگ کچلے گئے۔ مرنے والوں کی تعداد  اس وقت کے اخباروں  نے دی ہوگی۔ ابا ہم دو بھایئؤں کو سمیٹے  دیوار سے لگے  کھڑے رہے جب تک رستہ صاف نہ ہوا۔ ایک اور موقعہ پر ابا ہمیں یونیورسٹی گراونڈ لے گئے جہاں قائد اعظم  تقریر کرنے آئے تھے لیکن شاعر  مزاج ابا کی بھی منیر نیازی والی کیفیت تھی کہ۔۔ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں۔۔ جب  ہم پہنچے تو ان کی کار جارہی تھی اور لوگوں کا ایک جم غفیر دیوانہ وار پیچھے بھاگ رہا تھا۔۔ اسی زمانے میں مال پر  بھنگیوں کی توپ عرف زمزمہ پر لیاقت علی خان کی تقریر سننے گئے تو یہی ہوا۔ سامنے سے راستہ نہ ملا تو کہیں پیچھے سے پنجاب یونیورسٹی میں داخل ہوئے اور سامنے کی طرف کسی مینار پر چڑھے۔ تب تک تقریر ختم ہوچکی تھی اور مجمع منتشر ہورہا تھا۔۔ ان کی شہادت  جس جلسے میں ہوئ۔ وہاں بھی  دیر ہوگئی تھی۔۔ لیکن یہ بہت بعد کا واقعہ ہے

راجگڈھ کے گھر سے وابستہ دہ یادوں کے نقش بہت گہرے ہیں۔ قائد اعظم کی وفات کی خبر ملی تو غم و اندوہ کے ساتھ ایک  حوصلہ شکن مایوسی کا ماحول تھا۔ کہ اب کیا ہوگا؟میں نے ابا اور 17 سال بعد بھانجے وحید خاں کو ٹیرس میں آمنے سامنے بیٹھ کر بھوں بھوں  روتے اور ایک دوسرے کی دلجوئی کرتے دیکھا۔حقیقت یہ ہے کہ اس وقت میں  نئے ملک کے  وجود کی حقیقت سے بھی آشنا نہ تھا تو  اس کے سیاسی مستقبل  کو خاک سمجھتا۔ اب تو ایک بات بطور لطیفہ کہی جاتی ہے کہ بچہ پیدا ہوتا ہے تو پوچھتا ہے کہ ملک میں کس کی حکومت ہے؟ اور جواب  سے پہلے یہ بھی بتادیتا ہے کہ وہ حزب اختلاف میں ہے چند ماہ بعد ہی گاندھی کا قتل ہوا ۔ آج میں کہوں کہ وہ پاکستان کی حمایت پر مارا گیا تھا تو  فیس بک پر تاریخ    میں سند رکھنے کے  دعویدار اور سیاست کے خود ساختہ ماہرین مجھے اتفاق رائے سے “جعلی شہرت پسند لبرل اور انٹلیکچول” تو خیر بنایئں گے ممکن ہے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار مجھ پر بھارتی ایجنٹ کا لیبل لگادیں۔ تاہم حقایق کی تحریرجو وقت کے اوراق پر ثبت ہوئے مٹائی نہیں جا سکتی۔ گاندھی نے اس مطالبے پر بھوک ہڑتال کی تھی کہ بھارت سرکاری خزانے سے پاکستان کا جو حصہ ادا کرنے میں تاخیرکر رہا ہے وہ فورا” دیا جائے۔ حکومت ہند مجبور ہوگئی اور انتہا پسند ہندو گاندھی سے بد ظن ہوگئے، نتھو رام گاڈسے اور اس کے بھائی نے مل کر گاندھی کو اس کے آشرم میں سب کے  سامنے گولی ماردی ۔ اسے پھانسی اور بھائی کو عمر قید ہوئی لیکن اس کا رد عمل پاکستان میں سوگ کا تھا۔ لاہور کا مجھے علم ہے کہ  سارے بازار بند تھے اور میں خود ڈنڈے اٹھائے بچوں کے ایک جلوس میں شامل تھا جو  نعرے لگا رہا تھا “یہ دکان بند کرو” اورمحلے کی دکانیں بند کرانے میں کامیاب رہا تھا

——————————–

   زرینہ کی شادی میں  20 دن باقی تھے جب ابا کو راولپنڈی کے لیے پوسٹنگ آرڈر مل گئے اداس تو وہ رہنے لگی تھی۔۔ میری جدائی کے غم میں نہیں۔۔ اس  کا ہونے والا شوہر زیادہ عمر کا اور گوجر تھا اور اسے یقین تھا کہ اس سے زیادہ پیار وہ اپنی بھینس اوربھینس جیسی ماں سے کرتا ہے۔۔میں نے ایک بار مذاق میں کہا کہ تم بھی ایک دن بھینس ہی بن جاوگی۔ تو وہ متفکر ہوکے خود کو آئینے میں دیکھتی رہی تھی۔۔۔”سچ بالے؟” اپنی عمر کی لڑکیوں کی طرح  وہ ایسی ہی رہنا چاہتی تھی ۔۔ نازک  اندام دلکش اور چلبلی ۔ میں نے اسے پھر نہیں دیکھا۔ اگر مکان مل جاتا تو شاید اس کا سراغ بھی مل جاتا۔میں دیکھتا کہ  چھ بچوں کی ماں بننے کے بعد وہ بھینس  بنی یا نہیں۔ ماں تو اس کی دبلی پتلی تھی   13فروری 1949کی ایک ٹھٹرتی  آدھی رات تھی جب خیبر میل   ہمیں  ڈھائی بجے  پلیٹ فارم پر اتارکے شوں شوں کرتے کالے انجن کے پیچھے  پشاور کی طرف نکل گئی۔ خیبر میل آج بھی دونو طرف سے اسی وقت راولپنڈی پہنچتی ہے۔ ڈیڑھ موسم سرما لاہور میں بھی گزارا تھا لیکن اس باقی آدھے کی بے رحمی کا تصور بھی نہ کیا تھا، دھند آلود یخ بستہ شب میں جلتی روشنیاں بھی  کانپتی  نظر آتی تھیں ۔ ہم تو باقاعدہ لرز رہے تھے۔ ہڈیوں میں اترتی سردی کا کچھ مداوا اسٹال کی چائے کی گرمی سے کرنا چاہا۔چائے تو حلق سے اترتے اترتے شربت ہوگئ۔ تاخیر کا نقصان یہ ہوا کہ جو چند مسافر اترے تھے انہیں لے کر تانگے بھی گئے ۔کسی قلی نے کہا کہ اب صبح سے پہلے سواری نہیں ملے گی۔ پلیٹ فارم پر اجنبی شہر کی ویران سفاکی کے سوا کچھ نہ رہا۔ ایک دیوار کے ساتھ کمبل  میں روپوشی اختیار کی اور   قریب ہوکے بیٹھے بیٹھے رات کاٹ دی۔ کسی گھوڑے کی ٹاپوں پر ابا نے باہر جاکے  سودا کیا اور ہم نے ٹنچ بھاٹہ کی منزل   کا سفر شروع کیا تو  فضا مین اذانون کی بازگشت لرزاں تھی ۔  یہ 70 سال پہلے کی پنڈی  تھی ہر طرف ویرانی  کاراج تھا سناٹے میں  سرمئی کہر  جمی ہوئی تھی اور  سڑک پر نمی نے برف کی پپڑی سی پھیلا دی تھی۔ درخت ہنوز خوابیدہ نطر آتے تھے اور خزاں رسیدہ درختوں کے ننگے وجود دنیا کے گرم و سرد کے احساس سے  بے نیاز ملنگ لگتے تھے

 (ایک بات بہت آگے کی لیکن خیال سے جڑی ہوئی۔۔ شاید دسمبر 1980میں صبح دم شالیمار سے کراچی کا سفر درپیش تھا۔ روزنامہ “مشرق”کے آرٹ ایڈیٹر شہریار مرزا  کےحسن انتظام سے  تھڑد کلاس کے دو مسافروں میرے اور برادر نسبتی  غفران کے لیے فرسٹ کلاس ویٹنگ روم میں شب بسری کا اعزاز حاصل ہوا لیکن وہاں بد حال صوفوں پر خوشحال چوہے دشمن ہوگئے کہ یہ غیرمستحق یہاں کیسے سو سکتے ہیں۔انہون نے وہ دھما چوکڑی کی کہ  ایک صوفے کی ٹوٹی ٹانگ کو  اپنے دفاع میں استعمال کرتے رہے۔ پھر سردی ایسی کہ ایک کمبل کو خاطر میں نہ لائے۔ اچانک باہر سے ڈھول اور گھنگرو کی آواز آئی۔  دیکھا تو  ایک ننگ دھڑنگ جھاڑ جھنکاڑ داڑھی والا فقیر ناچ رہا ہے اور فارغ قلی اور اسٹال والے حلقہ بنائے تماشا دیکھ رہے ہیں ڈھول بجانے والا اس  ملنگ کے ساتھ تھا، ہم بھی حلقہ میں شامل ہوگئے تو غفران نے میرے کان میں کہا”بھائی جان جی۔۔لوگ مجھ پر ہنسیں گے کہ یہ آدمی کیسے ہل رہا ہے” وہ سردی سے لرز رہا تھا۔۔ کیا احساس ہی سب کچھ ہے؟ میں نے سوچا تھا۔یہ سوال آج بھی جواب طلب ہے)

 لوٹ کے  13 فوری 1949 کی صبح۔۔۔  شاہی سواری جب ٹنچ  بھاٹہ کی منزل مقصود پر پہنچی تو بنارس خان کی ٹال بہ آسانی مل گئی۔ وہ ہمارا مالک مکان تھا۔  وہاں کوئی نہ تھا ہم ایک چارپائی پر بیٹھے تھے کہ کسی فرشتہء غیب نے  مشکوک جان کے  سبب پوچھا، بتایا تو وہی خضر راہ  ہوگیا ، ٹین کا بکس اور رسی میں بندھا بستر اٹھا کے آگے آگے  چل پرا کہ   میں اس کے گھر پہنچا دیتا ہوں۔ ۔ شٹل کاک برقعے  میں سردی سے کانپتی اماں ہم دو بچے اور بابوجی پیچھے پیچھے۔یہ اسباب اٹھا کے  چلنا ان کے بس کی بات کہاں تھی وہ آج بھی چھ سات فٹ چوڑی گلی ہے جس میں سے موٹر سایئکل بھی گزرے تو سامنے سے آنے والے کو ایک دیوار سے لگنا پڑتا ہے۔۔دو سو گز بعد گلی بائیں گھومی اور  پچاس گز بعد دائیں۔ پھر بنارس کا مکان آگیا۔ ابا نے اس اجنبی  محسن کا شکریہ ادا کیا۔ بنارس خاں ہمیں چند قدم دور خالی مکان میں لے گیا جو آبادی کا آخری تھا اس کے بعد کھیت تھے۔دس روپے ماہانہ کرائے کے اس گھر میں پیچھے دو کمرے تھے پھر صحن اور تیسرا کمرہ جو بیٹھک بنا، ایک جانب پانی نکالنے کے لیے کنواں تھا بجلی اس علاقے میں ہی نہ تھی۔نیک دل مالک مکان نے  گرم چائے اور پراٹھے کا ناشتا بھیجا اور پھر دوپہر کا کھانا بھی۔۔  یہ اس دور کے آداب تھے۔اس گھر اس گلی اور محلے نے پنڈی کو میرے لیے بیاور جیسا بنا دیا جو میرے ابا  کی جنم بھومی تھا۔۔ سیکھی یہیں مرے دل کافر نے بندگی۔۔ رب کریم ہے تو تری رہگذر میں ہے۔  سب کچھ بدل گیا ہے سوائے ٹنچ بھاٹہ کے لیے میرے جذبات کے۔ وہ گنجان آباد اور نیلام گھر والے طارق عزیز کے مطابق ایشیا کا سب سے بڑا بازار بن گیا ہے۔۔ لیکن گلی تو  وہی ہے۔۔ چھ سات فٹ چوڑی۔ وہ زیادہ خستہ حال گھر اسی جگہ ہے گو اس کے آگے  دور دور تک ٰ آبادی ہے اور کھیت میلوں تک نہیں

(یہاں میں پھر وقت میں ایک زقند لگا کے بہت آگے جانے پر خود کو مجبور پاتا ہوں۔ جب سن تھا 2005۔۔۔ لیکن تاریخ یہی تھی۔۔ 13 فروری۔۔ نصف صدی سے  زیادہ کے بعد۔۔ اور میں  40 سال بعد پنڈی لوٹا تھا۔پنڈی نے مجھے بلالیا تھا کھینچ لیا تھا کہ بس جہاں گردی  بہت ہوچکی۔ لیکن بیسویں کی جگہ اکیسویں صدی  لے چکی تھی۔۔میں  چھے بیٹے بیٹیوں کے فرض سے سبکدوش ہوچکا تھا۔ بےنظیر ایر پورٹ پر جہاز سے اترا تو بیٹا مجھے کار میں اپنے گھر لے گیا جو ایک نئی پوش آبادی میں تھا،، وہاں میں نےکئی مسترد کرنے کے بعد اپنے لیے ویسا ہی جدید تعمیر ولا گھر منتخب کیا اور  اس میں نیا فرنیچر ڈالا پھربیگم کو اطلاع دی۔وہ سب پرانا اسباب ٹھکانے لگا چکی تھی۔ پھر بھی الیکٹرانکس  کار اور دیگر ر اشیا کے لیے ایک  40 فٹ کا کنٹینر لیا گیا جو  دو تین دن  بعدایک یخ بستہ رات  کے دوبجے ننےئ گھر کے دروازہ پر آن رکا ۔اس روز ہی  بیگم نے  بے نظیر ایرپورٹ سے اپنے نئے گھر کے سامنے ہیٹر والی کار سے نیچے قدم رکھا  تو کہا” اف اتنی سردی ہوتی ہے پنڈی میں”۔۔۔درجہ حرارت تھا منفی 4 اور تاریخ۔۔وہی 13 فروری۔۔  جب میری ماں شٹل کاک برقعے والی ماں ٹنچ بھاٹہ کے مکان میں اتری تھی تو اس نے بھی یہی کہا تھا۔۔۔ آخر یہ کیا تھا؟ اتفاق یا قدرت کی طرف سے پیغام کہ بول اے بندے۔۔ تو اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلائے گا؟ فرش سے عرش تک کیا تو خود اٹھا؟ جا دیکھ ٹنچ بھاٹہ کے اس مکان کو جو ابھی  کھڑاہے)

(جاری ہے) ۔۔۔۔

مضمون کا پچھلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: