صحافیوں کی کردار کشی اور صحافیوں کا کردار – – – محمود فیاض

0

پچھلے کچھ دنوں سے میں نے اپنی وال پر ایک سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس میں میں پاکستان کے نمائندہ اخبارات کے جغادری صحافیوں کے کالموں کا ہلکا پھلکا تجزیہ کرتا ہوں۔ بہت علمی و تحقیقی گہرائی میں جائے بغیر میں اپنے دوستوں کے سامنے صرف یہ بات لے کر آتا ہوں کہ مذکور صحافی نے صحافت کے کس اصول کی دھجیاں اڑائی ہیں۔ بظاہر معمولی اور دانشورانہ سا رنگ لیے ہوئے اکثر کالم اپنے اندر ایک جہان معانی رکھتے ہیں۔ عام قاری کے جذبات کو انتہائی مہارت سے اپنے طے کردہ راستے کی طرف موڑتے ہوئے یہ کالم کسی بھی طرح سے قابل دست اندازئ پولیس تو نہیں ہو سکتے، مگر صحافت اور ابلاغ عامہ کو ایک خاص سطح تک پڑھنے والے، اور اس شعبے میں درک رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ یہ “ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ” والا معاملہ ہے۔

آئیے اس پرذرا تفصیل سے بات کرتے ہیں۔
صحافت میں ایک ٹرم استعمال ہوتی ہے کونوٹیشن، اردو میں پوشیدہ مطلب کہہ لیجیے۔ کوئی بھی تحریر، تصویر یا ویڈیو ایک معانی تو وہ دیتی ہے جو ہمیں سامنے نظر آ رہا ہوتا ہے۔ مگر اسی تحریر، تصویر یا ویڈیو کا ایک معانی ہوتا ہے جو چھپا ہوا ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر معاملے میں ایسا ہو، مگر صحافت اور مارکیٹنگ میں یہ ٹیکنیک بہت استعمال ہوتی ہے۔ صحافت میں یہ تب استعمال کی جاتی ہے جب آزادئ اظہار کا ماحول نہ ہو اور آپ کو اپنی بات زرا ڈھکے چھپے انداز میں کہنا پڑے۔ ہمارے ہاں مارشل لا کے ادوار میں خصوصاً ادیب اور صحافی حضرات نے اس ٹیکنیک کا سہارا لیا۔

آج کل جبر کا دور تو نہیں بلکہ میڈیا کو جتنی آزادی اس وقت حاصل ہے پہلے کبھی نہیں رہی، البتہ کچھ صحافیوں کو اپنی بات کہنے میں پھر بھی مشکل پیش آ رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جو بات کہنا چاہتے ہیں وہ ببانگ دہل کہیں گے تو انکی ساکھ متاثر ہوگی۔ تو وہ بات کو اس طرح لپیٹ کر بیان کرتے ہیں کہ بظاہر یہ لگتا ہے کہ وہ حق سچ کی بات کر رہے ہیں، اور کسی آسمانی آدرش کی تشریح کر رہے ہیں جبکہ حقیقت میں انکا مقصد کچھ اور ہوتا ہے۔ اور وہی پوشیدہ مقصد انکا ایجنڈا ہوتا ہے۔

آئیے اس کی مثال بھی لے لیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں اس وقت ایک تاریخی مقدمہ چل رہا ہے۔ اس میں ایک ایسے خاندان کی کرپشن زیر غور ہے جو تین دہائیوں سے ملکی وسائل پر نگران رہا۔ اس مقدمے کی اہمیت اس لحاظ سے اور بڑھ جاتی ہے کہ اس وقت کی حکومت بھی اس خاندان کی ہے۔ ایسے میں کئی ایسے صحافی ہیں جو بوجوہ ملزم خاندان کی حمائت کرنے کے درپے ہیں اور وہ اسی کو آزادی صحافت کے برابر قرار دیتے ہیں۔ مگر مشکل تب پڑتی ہے جب وہ کھل کر یہ نہیں کہہ سکتے کہ اگر وزیر اعظم کے خاندان نے کرپشن کی بھی ہے تو کوئی بات نہیں انکو محفوظ راستہ دیا جانا چاہیے۔ اسکی بجائے وہ کونوٹیشن والی ٹیکنیک اپناتے ہیں۔ کوئی وزیر اعظم کو سقراط کے ساتھ ملاتا ہے کہ جس نے سچ بولنے کی سزا پائی تھی۔ اور کوئی انکو بھٹو کے ساتھ ملاتا ہے کہ بھٹو صاحب نے ایک غلط عدالتی فیصلے سے سزا پائی تھی۔ اس طرح کرنے سے پڑھنے والے کے دل میں بالواسطہ وزیر اعظم کے لیے ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور عدلیہ کے خلاف نفرت پیدا ہوتی ہے کہ ہمارا ایک اور منتخب وزیر اعظم غلط مقدمے میں پھنسا دیا گیا ہے۔ اور لکھنے والا صحافی بھی توہین عدالت سے بچتے ہوئے اپنا ایجنڈا پورا کر لیتا ہے۔ وہ اس خدمت کے عوض کیا حاصل کرتا ہے یہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔

اسی طرح سے ایک اور صاحب وزیر اعظم کے صاحبزادے کو کافکا کے ایک ناول کے مظلوم ہیرو سے ملاتے ہیں۔ جس کا کیا کونوٹیشن بنتا ہے یہ میں آپ کی ذہانت پر چھوڑتا ہوں۔

یہ ایک دو مثالیں عرض کرنے کا مقصد یہ تھا کہ آپ کونوٹیشن اور اسکا استعمال سمجھ سکیں جو ہمارے وہ صحافی حضرات کر رہے ہیں جو دن کو رات ثابت کرنے کی اپنی بھر پور کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ جس وقت پوری دنیا میں کرپٹ سیاسی خاندانوں کی لسٹیں چھپ رہی ہیں اور ہر ایسے سیاسی لیڈر کے خلاف اس کے ملک میں کارروائی ہو رہی ہے یہ نابغے ہمیں سمجھانے کی کوشش میں مصروف ہیں کہ ایسی کسی کرپشن زدہ خاندان کی حفاظت ہی کسی جمہوریت کا اولین فرض ہوتی ہے۔ اور یہ کہ اگر ہم نے ایسے کرپشن کے کیسوں کو مقدس گائے قرار نہ دیا تو ہمارا ملک ایسے خطرات میں گھر جائے گا جس کا ہم تصور بھی نہین کر سکتے۔

اب مسئلہ کیا ہے؟ کیا ماضی میں ایسے صحافی نہیں تھے؟ کیا وہ حکومتی، سیاسی، یا غیر سیاسی مجرموں کی حمائت نہیں کیا کرتے تھے اور اسکے بدلے میں مالی و دنیاوی وسائل سے اپنی دنیا نہیں سنوارتے تھے؟ جی بالکل ایسا ہی ہوتا تھا مگر تب ایک ایکٹو سوشل میڈیا دستیاب نہیں تھا۔ جس کے ذریعے عوام تصویر کا دوسرا رخ نہ دیکھ سکیں۔ تب اتنی بیدار بلکہ بے چین نوجوان نسل بھی نہیں تھی جو آپ کی ہر ہر ادا کو جانچ سکے۔ اب معاملہ مختلف ہے۔ اب آپ کو سچ بولنا پڑے گا یا پھر جھوٹ کا ساتھ دینے پر عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

جو صحافی حضرات یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ اپنے پڑھنے والوں کو جیسے چاہے بیوقوف بنا سکتے ہیں اور دن کو رات یا رات کو دن ثابت کر سکتے ہیں، انکو اب اپنی اداؤں پر غور کرنا ہوگا۔ موجودہ حالات اور موجودہ دنیا جہاں سیاستدانوں کی چالبازیوں کے لیے چھوٹی پڑ چکی ہے وہیں وہ کسی دوسرے شعبے کے افراد کے لیے بھی بے ایمانی کے راستے محدود کر چکی ہے۔ سوشل میڈیا، اسمارٹ فون، اور معلومات کے ایک انگلی کی جنبش پر موجودگی نے شعبدہ بازوں کو مزید ہوشیار ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس لیے جو صحافی حضرات 1970 والے حربے لیکر موجودہ نسل کو الو بنانے چلے ہیں وہ خود اسی پرندے کے برخوردار ثابت ہورہے ہیں۔

صحافیوں کی کردار کشی کا ایک سلسلہ ان قوتوں کی طرف سے شروع ہے جن کو انکی ایمانداری سے تکلیف ہے۔ مگر صحافیوں کی کردار کشی کا دوسرا سلسلہ سوشل میڈیا پر عوام سے بھی شروع ہے۔ یہ ان صحافیوں کے خلاف عوام کی نفرت کا اظہار ہے جو عوام کو ایک بے وقوف گائے سمجھے بیٹھے ہیں اور کرپشن کو سعادت ثابت کرنے کے چکر میں ہیں۔ عوام ظاہر ہے خود تو ایسا کرنے سے بوجوہ معذور ہیں مگر انکا طریقہ ذرا مختلف ہے۔ وہ ایسے ہر صحافی کی کردار کشی پر یا تو خاموشی اختیار کر لیتے ہیں یا خود بھی بڑھ چڑھ کر اسکی تائید کرتے ہیں کہ ایسوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے۔

ایسے صحافیوں کو جو عوامی نفرت کے تحت کردار کشی کا سامنا کر رہے ہیں، میرا مشورہ یہ ہوگا کہ اگر آپ کو اس کردار کشی پر اعتراض ہے تو براہ کرم اپنے کردار کو بہتر کیجیے۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: