درزی سے آ ج میری جنگ ہو گئی: زارا مظہر

1

مین بازار کے عین بیچوں بیچ ٹیلر ماسٹر عبدالغفور کی شاپ ہے۔ بہت موقع کی جگہ پر اور کسٹمرز بھی ٹوٹے پڑتے ہیں۔ ماسٹر صاحب تو دھڑا دھڑ کٹنگ میں مصروف ہیں۔ شیشے کے دروازے سے اندر باہر سب نظر آ رہا ہے۔ اچھی کھلی شاپ ہے مگر اس وقت کپڑوں کے ڈھیر سے اٹی ہونے کی وجہ سے تنگی کا تاثر چھوڑ رہی ہے۔ دوسرا روزہ ہے۔ اندر دو قدمچے اتر کر چار پانچ کاریگر مشینوں کے شور میں بری طرح جتے ہوئے ہیں۔ پینتالیس منٹ رہ گئے ہیں لائیٹ جانے میں سو زیادہ نمٹانے کے چکر میں ہلکان ہوئے جا رہے ہیں۔
مسز چوہان ماتھے پر گاگلز ٹکائے دروازہ کھول کر داخل ہوئیں تو کاریگروں کے کام میں لمحے بھر کو تعطل آ یا پھر سے کھٹا کھٹ شروع ہو گئی۔ ماسٹر صاحب یہ پانچ جوڑے رکھئے دسویں روزے تک مل جائیں گے نا۔ دکان کے بورڈ پر اتنا موٹا موٹا لکھوایا ہوا تو ہے کہ پہلے روزے سے کپڑے لینے کی معذرت مگر بی بی نے کہاں ماننا تھا شاپ تو پہلے ہی کپڑے کی دکان بنی جا رہی ہے ذرا تذبذب ہوا ماسٹر صاحب کو مگر کئی طرح کا لحاظ مار گیا بس ہلکی سی جی ہی نکلی۔ میری افطار پارٹیاں شروع ہو جائیں گی۔ جی۔ ماسٹر صاحب نے کپڑے سمیٹنے کو چھوٹے کی طرف کھسکا کر ڈیزائن سمجھنے کےلئے ٹیبل پہ جگہ بنائی اور پنک کلر کاجوڑا پھیلا لیا۔ اسکا نیک بوٹ شیپ، بازؤں پہ ہلکی سی پائپن۔ وہ بولنا شروع ہو گئیں۔ بلو والی پہ بین کے ساتھ فل پائپن۔ لیمن والے کا گول دامن سی گرین پہ۔۔۔۔ اور ٹی پنک پہ یوں۔۔۔۔ محترمہ جاتے جاتے دوبارہ یاد دہانی کروا رہی تھیں۔ ماسٹر عبدالغفور نے موٹی عینک کے پیچھے سے ذرا کوفت سے دیکھا۔ دماغ چاٹ گئیں محترمہ۔ ایک ٹراؤزر سل جاتا یا چار پانچ قمیضوں کی کٹنگ ہو جاتی۔ اللہ اللہ کر کے رخصت ہوئیں۔

ماسٹر صاحب نے کتر بیونت کے لیئے قینچی پکڑی کپڑا پھیلایا ہی تھا کہ خوش باش مسز غلام علی داخل ہوئیں۔ دس جوڑے انکے ہمراہ تھے۔ کبھی اجرت پہ چوں نہیں کرتی تھیں نا ہی دیر سویر کا رولا ڈالتی تھیں۔ اور کسی اور ٹیلر کے پاس جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھیں۔ ماسٹر صاحب نے خندہ پیشانی سے پھیلا ہوا کپڑا سمیٹ لیا۔ گھنٹہ ڈیڑھ اب پار ہو جانا تھا۔ جوڑے ایک ایک کر کے نکلنے لگے۔ زیادہ تر ڈیزائن ہوئے وے تھے۔ بس کٹنگ اور سلائی سے ساری تراش خراش واضح ہو جانی تھی۔ مگر انکی مین میخ سوا گھنٹہ کھا گئی۔ انکے نکلتے ہی لائٹ گل ہو گئی پوری گلی میں جنریٹر اور یو پی ایس روشن ہو گئے۔ ماسٹر صاحب کا یو پی ایس مرمت طلب تھا سو فارغ بیٹھنے کے سوا چارہ نہیں تھا۔ خیر شکر ہے 20 منٹ بعد ہی لائٹ کی واپسی ہو گئی۔ دو شرٹس کی کٹنگ نا ہو پائی تھی کہ مسز خان تپتے منہ کے ساتھ جِھلائی بوکھلائی داخل ہوئیں۔ تین جوڑے ہیں بس۔ کپڑوں پر اچھی خاصی ڈیزائننگ تھی مگر لیسوں کا پلندہ پھر بھی ساتھ تھا۔ میرون والی شرٹ پہ سائیڈ پہ ہلکی چنٹ کے ساتھ یہ لیس دیجئے گا۔ براؤن کو کشمیری امپرشن کا لُک دینا ہے سائیڈ پر پاکٹس۔ اس گرین والی پہ شو پٹی لگانی ہے۔ اور فل پائپن۔ ماسٹر صاحب لکھ لیجئے نا مسز خان تپ کر بولیں کچھ کا کچھ کر دیتے ہیں۔ نہیں بیگم صاحبہ چٹ لگا دی ہے ساتھ ڈیزائن کی۔ یہ تو ہر دفعہ کرتے ہیں مسز خان نے نخوت سے ناک سکیڑی۔ آ دھا گھنٹہ اور گل ہو گیا۔
کاریگر کپڑوں کی کٹنگ کے انتظار میں الگ لائن میں بیٹھے تھے مکمل ہو تو سلائی شروع کی جائے۔ یوں تو ماسٹر صاحب رات کو کٹنگ کرتے تھے مگر کل رات لوڈ کی وجہ سے ٹرانسفارمر کی ڈی اڑ گئی تھی اور یو پی ایس بھی ابھی واپس نہیں آ یا تھا سو کام کافی پیچھے رہ گیا تھا۔ اب یہ چار سیگریٹ پینٹس ایک ساتھ رکھ کر قینچی کے نیچے سے گزارتا ہوں یہ سب تو کام سے لگیں۔ تب ہی بیگم کا فون بجنے لگا۔ اس نے پہلو تہی کرنی چاہی مگر رات اماں جی کی طبیعت کافی خراب رہی تھی ایک دم یاد آ یا۔ خیر ہو سہی۔ اور واقعی ماں جی کی طبیعت کچھ زیادہ ہی خراب تھی۔ دوپہر میں بیوی لے گئی تھی نکڑ والے ڈاکٹر کے پاس سب ٹھیک ہی تھا اب اچانک پھر طبیعت بگڑ گئی تھی۔ اور اسکے ہاتھ پاؤں پھولے جا رہے تھے۔ نندیں پہلے ہی کہتی رہتی تھیں تم ہماری اماں کا خیال نہیں رکھتی ہو۔ سو وہ کافی ڈری سہمی رہتی تھی۔ اسے جلد آ نے کی تسلی دے کر جلدی جلدی کٹنگ کی کاریگروں کے سامنے ڈیزائن رکھے اور موٹر سائیکل کو ریس دی۔ بھاگم بھاگ اماں جی کو ہسپتال لے گیا۔ ڈاکٹر صاحب کی بیگم عبدالغفور سے ہی کپڑے سلواتی تھیں کافی مہربان بھی تھیں سو انکےحوالے سے باری جلدی آ گئی۔ دوسرے مریض خوب بھنائے مگر اس نے دھیان نہیں دیا اور گھنٹے بھر بعد دوبارہ دکان پر پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ شام بھی سر پہ تھی اس نے سوچا آ ج کے کپڑے آ ج ہی نمٹا لیئے جائیں رات کو جتنی دیر تک لائٹ رہے گی۔کاریگروں کے ساتھ کافی کام کھینچ لوں گا۔ پھر سحری کر کے سب کو بھیج دوں گا۔ اوپر والی منزل پر بیڈ تھا خود وہیں سونے کا ارادہ تھا تاکہ دس بجے تک شاپ کھل سکے۔ ورنہ جانے آ نے میں ٹائم خرچ ہو جاتا۔ کاریگر تو آ رام سے آ ئیں گے بارہ بجے کے بعد۔
دھیان اماں کی طبیعت کی طرف بھی تھا فون کر کے حال پوچھ لیا۔ بیوی نے بتایا کچھ بہتر ہیں آ نکھ لگ گئی ہے۔ چلو اطمینان ہوا۔ اب وہ آ رام سے شٹر نیچے کئے ( جو نشانی تھا کہ دکان بند ہے اور کسی ایمر جنسی کے لیئے بند بھی نہیں) کپڑوں کی کٹنگ میں مصروف ہو گیا۔ ہیں ؟ مسز چوہان کی پنک شرٹ کے ڈیزائن والی پرچی کدھر گئی ایک ایک کر کے ساتے کپڑے آ گے پیچھے کر لیئے اف وہ تو دوپٹے کے پلو میں باندھ دی تھی۔ شکر ہے مل گئی۔ ایک ایک کر کے ساری کٹائی مکمل ہو گئی۔۔ یکسوئی تھی تو کام بھی نمٹ گیا۔ کاریگروں کے تھیلے الگ الگ بنائے شلواریں اور کیپری ایک خاتون لے جاتی تھی سینے کو اسکے لئیے الگ کئیے کچھ مشکل کام اپنے ذمہ رکھے۔ پیکو والے دوپٹے الگ بارڈر والے الگ بےبی پیکو والے الگ اور پٹی والے الگ کئے چھوٹے کو دینے واسطے۔
اوپر کاریگر فل والیم میں ٹوٹی فروٹی سن رہے تھے اور آ پس میں فحش مذاق کے ساتھ ساتھ دھڑا دھڑ مشینیں بھی چلا رہے تھے۔ کافی تیزی سے کام سِمٹتا جا رہا تھا۔ اگلے آ نے والے کچھ دِنوں میں مِلی جُلی روٹین رہی لیڈیز آ تی رہیں اپنے ساتھ ساتھ ماسٹر عبدالغفور کا بھی بہت ٹائم کھوٹا کیا کسی کو واپس کیا کسی سے معذرت کی اور کچھ پوری ڈھٹائی کے ساتھ دے کر ہی گئیں۔

اب چار پیسے عید پہ اکٹھے ہاتھ آ ئیں گے وہ کام کے ساتھ ساتھ آ مدن کا حساب بھی ذہن میں رکھے ہوئے تھا۔ ایک اے سی اور لگوا لوں گا۔ بجلی کا کنکشن دونوں سائیڈ کے میٹر پہ کروا لوں گا۔ ایک جنریٹر لے ہی لوں گا بھلے شور کرتا ہے کام تو چلتا رہتا ہے نا۔ کام بہت تیزی سے ہو رہا تھا مگر جتنا ہوجاتا دُگنا اور آ جاتا۔ پتہ نہیں یہ خواتین رمضان سے پہلے کپڑے کیوں نہیں خرید لیتیں بیگم ثاقب کا بڑا سا شاپر دیکھتے ہوئے ماسٹر عبدالغفور نے سوچا۔ یا خدایا یہ خواتین ایک دن میں کتنے جوڑے کپڑے پہن لیں گی۔ مگر بس۔۔۔۔۔۔۔ اس سے آ گے مصروفیت نے سوچنے نہیں دیا۔
آ خری پانچ چھ روزے رہتے تھے مسز قریشی ساڑھی کا پلّو سنبھالتی سیدھا کسی افطار ڈنر سے چلی آ ئیں۔ بہت دفعہ مشکل وقت میں کام آ ئیں تھیں۔ ماسٹر عبدالغفور کی منجھلی بیٹی ڈاکٹر بن رہی تھی بہت لائق تھی پڑھائی میں۔ ساری معلومات مسز قریشی نے بہم پہنچائی تھیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ جب بھی کالج کے سالانہ واجبات ادا کرنے ہوتے مسز قریشی کبھی بخل سے کام نا لیتیں وہ قرض سال چھ ماہ کی اقساط میں لوٹایا جاتا۔ انکی تابعداری لازمی تھی۔ زبان کی میٹھی تھیں انکار تو ممکن ہی نہیں حالانکہ پندھرویں روزے کے بعد کام لینا بالکل بند کردیا تھا ہر طرح کے لحاظ اور مِنّت سماجت کو برطرف کرتے ہوئے۔ اور شاپ پر معذرت کی ایک نئی تختی بھی لٹکا دی تھی کہ اپنا اور کسٹمر کا وقت برباد نا ہو۔
ساڑھے گیارہ بج گئے جوڑوں کا ڈیزائن ڈسکس کرتے کرتے دو جوڑے انہوں نے ماسٹر عبدالغفور کی مرضی کی ڈیزائننگ پہ چھوڑ دیئے۔۔ ماسٹر صاحب نے اپنا دماغ کچھ خالی سا محسوس کیا کنپٹیاں دبائیں سر کو جھٹک کر گویا دماغ کو اسکی جگہ پہ بٹھایا جی حضوری کرتے کرتے زیادہ ہی بل کھا گیا تھا۔
کل سے ابا جی کہ طبیعت کافی خراب تھی منع بھی کیا تھا اس سال روزے نا رکھیں مگر وہ اللہ کے بندے پتہ نہیں اگلے سال رمضان ملے نا ملے کہہ کر اپنی دھن میں لگے رہے۔ حالانکہ کام کی زیادتی کے دوران ماسٹر عبدالغفور خود کبھی کبھی آ نکھ نا کھلنے کے سبب روزہ چھوڑ دیتا تھا۔ بیٹی کی کال پہ بھاگم بھاگ گھر پہنچا ابّا جی کا بی پی سخت لو ہوا پڑا تھا ٹوٹکوں کا ٹائم نہیں ہے ابا جلدی سے کلینک لے جائیے دادا کو۔ پھر ڈاکٹر صاحب کی مسز کا حوالہ کام آ یا اور اٹینڈنٹ جلد ہی ساتھ لے گیا ابا جی کو ڈرپ لگی اور حواس بحال ہوتے ہوتے تین گھنٹے ہوگئے۔ واپس آ یا تو چار میں سے ایک کاریگر ہاتھ چھوڑے بیٹھا تھا مشین کا پٹہ ٹوٹ گیا تھا۔ جوان کاریگر اور لونڈے سب خر مستیوں میں مصروف تھے ذمہ داری تو بس ماسٹر عبدالغفور کی تھی مارا مار پٹہ منگوایا بدلی کیا تو کام شروع ہوا۔
مسز غلام علی کا فون آ گیا ماسٹر صاحب فیروزی دوپٹے پہ پٹی لگوانی ہے۔ اور میرون پہ گوٹ۔ اورنج والی شرٹ کا دامن بیک سے لمبا اور فرنٹ سے چار انچ چھوٹا ہو اس دن تو چوکور دامن لکھوایا تھا مگر اب لگ رہا ہے کہ یہ جِدّت اورنج والے پہ خوب جچے گی۔ جی بیگم صاحبہ ٹھیک۔۔۔ ایپل گرین جوڑے کی شلوار بنا دیجئے پھر سے فیشن میں ہیں۔ یوں بھی سارے ہی ٹراؤزر بن گئے جی ٹھیک ہے۔ اور۔۔۔۔۔۔ وہ کچھ سوچتے ہوئے کہنا ہی چاہ رہی تھیں کہ ماسٹر عبدالغفور نے لڑکوں کے شور پر متوجہ ہوتے ہوئے ڈسکنٹ کر دیا اور جلدی سے فون ہی آ ف کر دیا مبادا پھر نا کال ملا لیں۔ چھوٹا جو سیگریٹ پینٹس کی سیدھی سلائیاں جما رہا تھا انگلی مشین میں دے بیٹھا اسکو ہاتھ بڑھا کر ڈیٹول کا پھوہا لگاتے مسز خان کی ساری نصیحتیں بَھک ہو گئیں۔
کرامت۔۔۔۔۔ یوں کر بیگمات کے سارے سارے جوڑے تو اب سلنے سے رہے دن بہت کم رہ گئے ہیں دو دو تین تین جوڑے نکال باقی عید کے بعد دیکھی جائے گی۔ اور دو تین نکالتے کچھ ڈیزائن والی پرچیاں ادھر ادھر ہو گئیں۔ سر جی یہ تو سب گڈ مڈ ہو رہی ہیں۔ الّو کا پٹھا اتنا سا کام نہیں ہوتا۔ اور کرامت کا منہ سرخ، نتھنے پھولنے پچکنے لگے۔ جتنا مرضی ڈانٹ لو گالی برداشت نہیں کرتا تھا مگر آ ج تو بے ساختہ نکل گئی تھی۔ پچھلے سال عین دھندے کے دنوں میں اسی گالی کی وجہ سے جواب دے کر چلا گیا تھا۔ اب اسی کو کور کرنے میں لہجے کو کافی نرم کرنا پڑا۔ لا ادھر مجھے زبانی یاد ہے۔ یہ ڈیزائن گلابی کا ہے۔ یہ پیلے کا یہ ہرے کا۔
آ خر اسی مارا ماری میں ستائسواں روزہ آ ن پہنچا کسٹمر واپسی کے لیئے فون اور ڈرائیور دوڑانے لگے۔ بیگمات خود بھی کئی کئی چکر لگا گئیں کہ مارکیٹ کا چکر لگا تھا سوچا کچھ سل گیا ہے تو اٹھا لوں۔ دماغ کے ساتھ ساتھ سِلے ہوئے جوڑے بھی با اصرار اٹھاتی رہیں۔ انکی حاصل، وصولی کا انداراج اور ڈوپٹے اورلاک پورے کرتے کافی ٹائم لگ جاتا۔ کچھ کپڑے کمپلین کے ساتھ واپس آ نے شروع ہو گئے۔ اسکا گلا ڈیپ ہے۔ اس میں سر ہی نہیں جا رہا۔ مسز غلام علی کو بڑی تپ چڑھی ہوئی تھی گول دامن کہا تھا پھر چوکور کیسے ہوگیا۔ گرین کی شلوار کیوں بنا دی۔ جب کہ تیسری دفعہ فون کر کے کہا تھا سیگریٹ پینٹ بنانی ہے۔ ماسٹر عبدالغفور کو لاکھ سر مارنے پہ یاد نہیں آ آرہا تھا کب ہدایت نامہ بدلا تھا۔ یہ اورنج جوڑا بیٹی کا تھا میرے ناپ پہ کیسے سل گیا۔۔۔۔

کرامت مسز شکور کو فون کر انکی بیٹی کی لیس ابھی تک نہیں پہنچی۔ ماسٹر عبدالغفور نئے لفڑے کا سوچ کر ہی پریشان ہوگیا۔ مسز چوہان کی پنک شرٹ کا بتایا ڈیزائن بلو شرٹ پہ بہار دکھا رہا تھا اور انکا مزاج گاگلز کی طرح ماتھے پہ رکھا تھا۔ اتنی لمبی چوڑی سلائیاں لے کر بھی یہ حال ہے آ گے پیچھے تو ٹھیک سیتے ہیں عید کے جوڑے ہمیشہ خراب کر دیتے ہیں۔ ان کی بڑبڑاہٹ ہی کم نہیں ہو رہی تھی۔ بیگم صاحبہ چھوڑ جائیے میں کور کر لوں گا۔ یہ استاد کی ساری استادیاں ہمارے اوپر ہی چلتی ہیں۔ پندرہ بیس جوڑے تو ادھیڑ بن کے ضمن میں پھر رکھ لئیے انکے آ گے نہیں بول سکتا۔ کرامت نے بغاوت سے سوچا۔ عید کی صبح سات بجے منگوا لیجئے گا۔ جی جی دکان کھلی ہو گی ایک اور کسٹمر کو تسلی دی گئی۔ بیگم فیاض کے کپڑوں والا شاپر کہیں کونے میں ہی لگا رہ گیا تھا آ ج کی واپسی تھی۔ ماسٹر عبدالغفور نے کل کی یقین دھانی کے ساتھ ماتھے کا پسینہ پونچھا۔ مگر وہ تو شائد آ ستینیں چڑھانا چاہتی تھیں۔ مسز قریشی کی نرمی اور میٹھی زبان اس دن دراز ہوئی تو اچھی خاصی گرمی دکان میں پھیل گئی۔ اور ساری خوش گوئی شاپر کے ساتھ کاؤنٹر پہ دے ماری۔ ماسٹر عبدالغفور کا لہجہ بھی نتائج سے بے پرواہ ہو کے گستاخ ہو گیا۔ بحثا بحثی کے شور میں فون کی ناگوار گھنٹی بھی شامل ہو گئی اور بس غیر حاضر دماغی کی کیفیت میں ریسیو کر لیا۔ چھوٹی والی بیٹی تھی ابا شام واپس آ تے ہوئے ہمارے جوڑے بھی لے آ ئیے گا اب تک تیار ہوں گے پریس وغیرہ کر لیں گے بجلی کا مسئلہ ہی رہتا ہے۔ بیٹی کی چہکتی ہوئی آ واز کو یاس میں بدلنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ اچھا جب گھر جاؤں گا تو پیار سے راضی کر لوں گا پچھلے سال والے پہن لیجو۔ انکے کپڑے رکھے کہاں ہیں یہ بھی یاد نہیں آ رہا تھا۔ دادی ماں کی طبیعت بگڑی ہوئی ہے دوپہر سے۔۔۔۔۔ اس نے کاٹ دیا سامنے کھڑی بیگم صاحبہ بھنائی ہوئی گھور رہی تھیں۔
بس سمجھتی ہیں زرخرید ہے۔ بڑی مشکل سے غصہ ٹھنڈا ہوا چاند رات کی واپسی کے وعدے پر۔
کرامت سوچ رہا تھا اس سال بھی عید کی نماز ہم نہیں پڑھ سکیں گے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: