(11) کابینہ مشن اور مولانا ابوالکلام آزاد حصہ دوم

0

گذشتہ سے پیوستہ:

یہ ہے مولانا آزاد کا وہ بیان جو انہوں نے کابینہ مشن پلان کے ناکام ہونے کے 12سال بعد”آٓزادیِؑ ہند”میں درج کیا۔ اس سارے بیان سے یہ بات تو پوری طرح عیاں ہے کہ مولانا آزاد ذاتی طور پر اس پلان کے حق میں تھے۔ وہ اسے فرقہ وارانہ مسئلے کا بہترین حل گردانتے تھے۔ مگر اس میں دو باتیں ایسی ہیں جو تاریخی طور پر غلط ہیں۔ پہلی یہ کہ قائد اعظم اور مسلم لیگ نے کسی دباؤ یا مجبوری میں یہ پلان منظور کیا تھا اس کی کوئی تاریخی شہادت نہیں ہے۔ پلان کے شائع ہونے کے فوراً بعد اگرچہ ہندو پریس ان کا مضحکہ اڑا رہا تھا اور ان پر طنز کر رہا تھا کہ برطانیہ نے پاکستان کا مطالبہ ہمیشہ کے لیے دفن کر دیاہے۔

قائدِ اعظم کا پہلا ردِ عمل ہی مثبت تھا۔ اور پھر 6جون مسلم لیگ کی کونسل نے بغیر کسی توضیح کے اسے منظور کر لیا تھا۔ در اصل قائدِ اعظم ہمیشہ سے فرقہ وارانہ مسئلے کو گفت و شنید سے حل کرنے کے متمنی تھے۔ وہ متحدہ ہندوستان میں رہنے کو تیار تھے بشرطیکہ کانگریس مسلمانوں کے حقوق کی قانونی یقین دہانی کرا دے۔ کابینہ مشن پلان نہ صرف یہ ضمانت دیتا تھا بلکہ اس میں یہ بھی تھاکہ دس سال بعد اگر کوئی صوبہ یا گروپ علٰیحدہ ہونا چاہے تو اسے اختیار تھا۔ قائدِ اعظم یہ تجربہ کرنے کو تیار تھے۔ اگر اکثریت کا رویہ مثبت رہتا تو مسلمان آگے بھی اسی انتظام کو اختیار کیے رہتے۔ اگر نہیں تو دس سال بعد تو پاکستان بن ہی جانا تھا بلکہ ایک نہیں دوپاکستان۔ جیسا کہا گیا تھا کہ پلان میں پاکستان کے جراثیم موجود ہیں۔ لہٰذا یہ کوئی ذبردستی یا مجبوری نہ تھی بلکہ قائدِ اعظم اور لیگ کا ہمیشہ کی طرح کا مصالحانہ رویہ تھا جبکہ کانگریس نے کبھی مصالحت کا رویہ اپنایا ہی نہیں تھا۔

دوسری بات یہ کہ بقول مولانا آزاد یہ نہرو کا بیان تھا جس نے پلان کو سبو تاژ کر دیا وہ نہ صرف تاریخ کے ساتھ مذاق ہے بلکہ حقائق کا منہ چڑانا ہے۔ کانگریس نے 16 مئی کو پلان کے شائع ہونے سے لے کر 7جولائی کو مجلسِ عاملہ کی منظور کی ہوئی قرارداد کی توثیق تک، کبھی بھی پلان کو اس کی سپرٹ کے ساتھ قبول نہیں کیا تھا۔ کانگریس کی قراردادیں، کانگریسی لیڈروں کے بیانات یہاں تک کہ خود مولانا آزاد کے خطوط اور کانگریس کمیٹی میں ان کے بیانات ہمیشہ اگر مگر اور توضیحات سے پُر ہوتے تھے۔ ہو سکتا ہے”آزادیِؑ ہند” میں ان کے بیان کردہ موقف کے مطابق مولانا آزاد ذاتی طور پر کابینہ مشن پلان کے حق میں ہوں مگر جب وہ بطور صدرِ کانگریس بولتے تھے تو انہی تشریحات کا سہارا لیتے تھے جو عموماً دوسرے کانگریسی لیڈر اختیار کرتے تھے۔ کابینہ مشن پلان کی سپرٹ صوبوں کی گروپنگ اور مرکز کے پاس صرف تین شعبوں یعنی خارجہ، دفاع اور مواصلات میں پنہاں تھی جبکہ تمام کانگریسی لیڈروں بشمول مولانا آزاد کی تقریریں اور بیانات انہی امور کی من مانی توجیہات پر مشتمل ہوتے تھے۔ اگر چہ “آزادی ہند” میں مولانا آزاد نے خود تسلیم کیا کہ اس سلسلے میں قائدِ اعظم کی توضیح درست تھی۔

انہوں نے فرمایا۔”سب سے بڑا اختلاف کابینہ مشن پلان کی ان دفعات کی تعبیر سے متعلق تھا جن میں گروپنگ سکیم دی گئی تھی۔ مسٹر جناح کا خیال تھا کہ قانون ساز اسمبلی کو پلان کا ڈھانچہ بدلنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ گروپنگ پلان کا لازمی حصہ تھی اور اس سلسلے میں کوئی تبدیلی سمجھوتے کی بنیاد کو بدل کر رکھ دے گی۔ خود پلان میں یہ بات موجود تھی کہ تمام گروپ جب آئین بنا لیں گے، اس کے بعد کوئی صوبہ چاہے تو اپنے گروپ سے الگ ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس آسام کے کانگریسی لیڈروں کا خیال تھا کہ کوئی صوبہ شروع ہی سے الگ رہ سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں مسٹر جناح کا کہنا تھا کہ صوبے پہلے گروپ میں شامل ہوں، پھر وہ چاہیں تو الگ ہو سکتے ہیں۔ آسام کے کانگریسی لیڈروں کے مطابق یہ صوبے اپنی شروعات علٰیحدہ کر سکتے تھے پھر وہ چاہتے تو گروپ میں شامل ہو سکتے تھے۔ کابینہ مشن کا کہنا تھا اس نقطے پر لیگ کی تعبیر درست تھی۔ آسام کے کانگریسی لیڈروں کو اس سے اتفاق نہیں تھا اور گاندھی جی نے بھی آسام کے لیڈروں کی حمایت شروع کر دی۔ دیانت داری کا تقاضا یہ تھا کہ میں تسلیم کر لوں کہ اس نقطے پر مسٹر جناح کا موقف درست تھا۔ انصاف اور مصلحت، دونوں کا تقاضا یہ تھا کہ کانگریسی کو کسی پس وپیش کے بغیر پلان منظور کر لینا چاہئے تھا۔”

افسوس یہی مصلحت اور انصاف ہی تو نہیں تھا کانگریس میں۔ اگرچہ مولانا آزاد کی دیانت دارانہ رائے تھی کہ مسٹر جناح کا موقف درست تھا مگر 16مئی کو کابینہ مشن پلان کے شائع ہونے سے لے کر مسلم لیگ کے 27جولائی کو اسے نامنظور کرنے تک کانگریس اور کانگریسی لیڈروں بشمول مولانا آزاد نے ہمیشہ اس کی من مانی توضیح کی اور اسے اپنے معنیٰ پہنائے۔ ذیل میں میں تاریخ وار کانگریسی لیڈروں،کانگریسی کمیٹی کی قراردادوں اور خود مولانا آزاد کے بیانات اور خطوط کے اقتباس درج کر رہا ہوں جس سے یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ کانگریس نے کبھی بھی کابینہ مشن پلان من و عن قبول نہیں کیا تھا۔

1- 13اپریل کو مولانا آزاد نے ارکانِ وفد اور وائسرائے سے ملاقات کی۔ وہاں اپنی تجاویز پیش کرنے کے بعد کہا یہ تو بحیثیت صدرِ کانگریس،کانگریس کا موقف تھا۔ اب میں اپنی ذاتی حیثیت سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ یعنی مولانا کو بحیثیت صدرِ کانگریس مسلمانوں کا کیس پیش کرنے کی آزادی نہ تھی۔

2- کابینہ مشن نے کانگریس، مسلم لیگ، سکھوں، اچھوتوں اور بعض لبرل راہنمائوں سے ملاقاتوں کے بعد 8 اپریل کو ایک مسودہ مرتب کیا جس میں دو حل تجویز کیے گئے تھے۔ حل (الف) کے مطابق یونین گورنمنٹ ہو گی جس کے نیچے تین حصے ہونے چاہئیں۔ ایک ہندو اکثریت کا، ایک مسلم اکثریت کا اور تیسرا ریاستوں کا۔ یونین گورنمنٹ کے پاس دفاع، خارجہ اور مواصلات کے شعبے ہوں۔ یونین گورنمنٹ میں تینوں حصوں کے برابر نمائندے رکھئے گئے۔ ہر گروپ کے نمائندے اپنے اپنے گروپ کا آئین بنائیں۔ پھر مل کر گرینڈ اسمبلی کا آئین بنائیں اور اگرینڈ اسمبلی کو گروپس کی اسمبلیوں کے فیصلے میں مداخلت کا اختیار نہ ہو۔ حل (ب) میں بتایا گیا کہ برطانوی ہند کو ہندوستان اور پاکستان میں اس طرح تقسیم کیا جائے صرف مسلم اکثریت کے اضلاع پاکستان کو دیئے جائیں۔ پنجاب اور بنگال تقسیم ہوں اور آسام سے صرف ضلع سہلٹ پاکستان کو دیا جائے۔ ساتھ یہ بھی بتا دیا گیا کہ ایسا پاکستان دفاعی، معاشی اور اقتصادی لحاظ سے ناقابلِ عمل ہو گا۔ لہٰذا عملاً کانگریس اور مسلم لیگ کو حل (الف) پر ہی گفتگو کے لیے لانا تھا۔ دونوں قیادتوں سے وفد نے رابطے کیے اور 25دسمبر کی ملاقات میں قائدِ اعظم حل (الف) کے لیے کانگریس سے بات چیت کے لیے مان گئے۔ 26اپریل کو ارکانِ مشن نے مولانا آزاد سے ملاقات کی۔ انتقالِ اقتدار پیپرز جلد 7اور وی پی مینن کے مطابق مولانا آزاد نے کہا کہ “میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کو تین سطحی حل پر راضی کر سکتا ہوں۔ انہوں نے کہا میرے خیال میں ورکنگ کمیٹی کو ایسے وفاق کے لیے راضی کر سکتا ہوں جو دو حصوں پر منقسم ہو اور ہر حصہ اختیاری شعبوں میں اپنے لیے قانون بنا سکتا ہو۔” لیکن جب 27اپریل کو وفد نے لیگ اور کانگریس کو سکیم (الف) کے مطابق تین سطحی حل کے لیے مذاکرات کے دعوت نامے جاری کیے تو مولانا آزاد نے جواب میں لکھا “کانگریس نے کبھی بھی برطانوی ہند کو مسلم اکثریت اور ہندو اکثریت کے صوبوں میں تقسیم کیے جانے کو تسلیم نہیں کیا۔” یعنی دوسرے دن ہی مولانا آزاد اپنی بات سے ہٹ گئے۔ لگتا ہے ارکانِ وفد سے مولانا نے جو کچھ کہا وہ ان کی ذاتی حیثیت تھی۔ اور اب وہ کانگریس کے صدر کی حیثیت سے بول رہے تھے۔

28اپریل کو مشن نے مولانا کو جواب دیا کہ دعوت نامے میں جو تجویز دی گئی ہے وہ محض تصفیے کی بنیاد پر ہے لازمی شرط نہیں ہے۔ اس کے جواب میں مولانا آزاد نے پھر وہی بات کی کہ ہم وفاق کے اندر صوبوں کے گروپ وہ بھی مذہبی بنیادوں پر بنانے کو انتہائی غلط سمجھتے ہیں۔” وہی میں (مولانا آزاد ) اور ہم(کانگریس)۔

3- 5مئی سے شملہ میں ارکانِ وفد اور وائسرائے کی مسلم لیگ اور کانگریس کے نمائندوں سے ملاقات ہوئی۔ اس بات چیت کا محور وہی حل (الف) تھا۔ صبح و شام کے اجلاس میں وفاق میں اسمبلی، اس کے ارکان کی تعداد اور ایگزیکٹو اوراس کے ارکان کی تعداد بارے بات چیت ہوتی رہی۔ اس دوران کانگریسی نمائندوں جس میں خود مولانا آزاد بھی تھے، تین سطحی حل پر کوئی اعتراض نہ کیا اور نہ ہی گروپنگ پر بات کی۔ مگر 6مئی کو وفدکے نام مولانا آزاد کا خط پہنچا۔ یہ خط انتقالِ اقتدار پیپرز جلد 7میں موجود ہے جس میں مولانا آزاد نے لکھا۔

“میں واضح کرنا دینا چاہتا ہوں کہ ہم صوبوں کے گروپ یا وفاق کے حصوں کی سطح پر قانون ساز ادارے یا ایگزیکٹو کی بھر پور مخالفت کرتے ہیں۔ ہم مجلسِ قانون ساز یا ایگزیکٹو میں گروپوں اور فرقوں کے درمیان برابری کو بھی قبول نہیں کرتے۔”

4- ان حالات میں جب بات گروپس پر رک گئی تو وائسرائے اور ارکانِ وفد نے گاندھی سے ملنے کا فیصلہ کیا۔ 6مئی کو ہی وہ گاندھی سے ملے اور گاندھی کا یہ جواب سن کر سب مایوس ہو گئے کہ “یہ سکیم تو پاکستان سے بھی بدتر ہے۔”

5- 8مئی کو وفد کی جانب سے گروپنگ سکیم کا تحریری خط دونوں پارٹیوں لیگ اور کانگریس کو ارسال کیا گیا۔ جس کا خلاصہ یہ تھا کہ “وفاق کی قانون ساز اسمبلی اور ایک حکومت ہو گی جس کے پاس خارجہ، دفاع، مواصلات اور بنیادی حقوق کے شعبے ہوں گے۔ باقی شعبے صوبوں کے پاس ہوں گے۔ صوبے گروپ بنا سکیں گے اور ہر گروپ کی اپنی ایگزیکٹو اور اسمبلی ہو گی۔ وفاق کی اسمبلی اور حکومت میں ارکان کی تعداد مسلم اکثریتی اور ہندو اکثریتی صوبوں سے برابری کی بنیاد پر لی جائے گی۔ ہر گروپ یا صوبے کو دس سال بعد اور پھر ہر دس سال بعد آئین میں تبدیلی پر نظر ثانی کا حق ہو گا۔ جب آئین بن جائے گا تو پھر صوبوں کو گروپ بدلنے کا اختیار ہو گا۔” اس کے جواب میں مولانا آزاد کا خط 9مئی کو مشن کو موصول ہوا جس میں انہوں نے لکھا۔ “ہم صوبوں کے گروپوں کو منظور نہیں کرتے اور ایگزیکٹو اور آئین ساز اسمبلی میں برابری کے بھی سخت خلاف ہیں۔ فرقہ وارانہ مسئلہ میں رضا مندی کے لیے ثالثی کا طریقہ ہونا چاہیے۔ اسی طرح مرکز کے پاس تین شعبوں کے علاوہ کسٹمز اور کرنسی بھی ہو۔”

6- 16مئی کو کابینہ مشن پلان شائع ہوا۔ جس پر پہلا ردّ عمل گاندھی کا آیا۔ انہوں نے 17مئی کو اپنے اخبار پریجن میں کہا۔ “اگرچہ مشن نے کوشش کی مگر وہ تصفیے میں ناکام ہو گیا۔ انہوں نے جو پلان دیا ہے وہ آئین ساز ادارے کو قابلِ قبول ہوں گی۔ یہ ادارہ ان سفارشات میں ترمیم، تنسیخ یا اصلاح کرنے کا مجاز ہو گا۔ اگر اس پر پابندیاں لگائی گئیں تو اس کی آزادانہ حیثیت متاثر ہو گی۔ مرکز کو حاصل شعبوں میں تبدیلی اسمبلی میں موجود ہندو یا مسلم ارکان کی اکثریت کی مرضی سے ہو سکے گی۔ یہی حال گروپنگ کا ہے۔ صوبے گروپ میں شامل ہونے یا اسے رد کرنے میں آزاد ہوں گے۔ اور کسی صوبے کو اس کی مرضی کے خلاف کسی گروپ میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔” مولانا آزاد “آزادیِؑ ہند”میں فرماتے ہیں کہ پہلے پہل آسام کے کانگریسی لیڈروں نے گروپنگ سے انکارکیا پھر گاندھی بھی ان کے ساتھ مل گئے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کابینہ مشن پلان کے شائع ہونے کے دوسرے دن ہی وہ گروپنگ کے مخالف تھے۔

7- 20مئی کو مولانا آزاد نے کابینہ مشن پلان کے متعلق بطور صدرِ کانگریس اپنا ردِ عمل خط میں ظاہر کیا۔ انہوں نے لکھا کہ “آٓئین ساز اسمبلی آئین بنانے میں خود مختار بھی ہو گی اور ہر بیرونی اثر سے آزاد بھی۔ اسمبلی جس مسئلے پر چاہے گی غور کرے گی اور اپنی مرضی سے فیصلہ دے گی۔ اتنا ہو سکتا ہے کہ فرقہ وارانہ مسئلہ میں ہر دو فرقوں کے ارکان کی اکثریت فیصلہ دے گی۔ یعنی کوئی گروپنگ نہیں۔

8- 26مئی کو گاندھی کا ایک مضمون ان کے اخبار ہریجن میں چھپا۔ اس کی ایڈوانس کاپی وفد کو 20مئی کو مل چکی تھی۔ اس میں پلان کے متعلق انہوں نے لکھا۔ “یہ اپیل اور مشورہ ہے۔ کوئی جبر نہیں۔ صوبائی اسمبلیاں اور ارکان چاہیں تو مرکزی اسمبلی کے ارکان منتخب کریں چاہیں تو نہ کریں۔ اسمبلی کوئی اور صورت بھی وضع کرسکتی ہے۔ قانونی طور پر اس میں کچھ لازمی نہیں۔” گروپنگ کے متعلق انہوں نے لکھا۔ “سکھ محب وطن پنجابی ہیں وہ کسی ایسے گروپ میں اپنی مرضی کے خلاف کیسے جائیں گے جو سندھ، سرحد اور بلوچستان پر مشتمل ہو۔ پھر سرحد کس طرح اپنی مرضی کے خلاف پنجاب کے ساتھ گروپ بنائے گا۔ آسام کیسے اپنی مرضی کے خلاف بنگال کے ساتھ گروپ بنائے گا۔ ہر گروپ کا کوئی بھی صوبہ چاہے تو اس گروپ میں شامل ہو چاہے تو نہ ہو۔” اوپر دیئے گئے مولانا آزاد کے خط اور گاندھی کے مضمون کا لبِ لباب ایک ہی ہے۔ یعنی مولانا کی اپنی کوئی راۓ نہیں تھی جو گاندھی نے کہا مولانا اس پر صرف مہرِتصدیق ثبت کر دیتے تھے۔

9- 24مئی کو کانگریس کی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا اور کابینہ مشن پلان کے متعلق قرارداد پاس ہوئی۔ اس میں کہا گیا۔ “ورکنگ کمیٹی پلان کی سفارشات سے متفق نہیں۔ اس کے خیال میں آئین ساز اسمبلی خود مختار ہو گی اور جب چاہے ترمیم و تبدیلی کر سکے گی۔ صرف فرقہ وارانہ مسئلے پر دونوں فرقوں کی اکثریت کی رائے درکار ہوگی۔ صوبے جس طرح گروپوں میں رکھے گئے ہیں یہ ایک طرح کا جبر ہے۔ وہ پہلے ہی اجلاس میں فیصلہ کر سکیں گے کہ وہ موجودہ گروپ میں رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔” کمیٹی کی اس قرارداد، مولانا آزاد کے 20مئی کے خط اور گاندھی کے 26مئی کے ہریجن کے مضمون میں کچھ بھی فرق نہیں۔ لگتا ہے ان سب کے پیچھے گاندھی کا ہی ذہن کام کر رہا تھا۔

25مئی کو وفد اور وائسرائے نے کانگریس ورکنگ کمیٹی کی قرارداد کی تردید کر دی اور کہا۔ “یہ سکیم پوری کی پوری اپنی حیثیت رکھتی ہے۔ صوبوں کو جن گروپس میں رکھا گیا ہے وہ شروع میں اس سے نہیں نکل سکتے۔ اس طرح آئین ساز اسمبلی اس میں کوئی تبدیلی دونوں پارٹیوں کی مشاورت سے ہی کر سکے گی۔”

10- 10جون کو مولانا آزاد اور نہرو اکٹھے ارکانِ وفد اور وائسرائے سے ملے۔ اس ملاقات کا احوال انتقالِ اقتدار پیپرز7میں درج ہے۔ اس ملاقات کے دوران نہرو نے کہا۔ “عبوری حکومت کے اثرات آئین ساز اسمبلی پر پڑیں گے۔ کانگریس چاہے گی مضبوط مرکز ہو۔ وہ گروپ سسٹم ختم کر دے گی۔ جنا ح کی کوئی حیثیت نہیں۔ لیگ اور کانگریس آئین ساز اسمبلی کے متعلق متضاد رائے کی حامل ہیں۔” یعنی اقتدار مل جائے پھر سب کچھ ہندو اکثریت کی منشاء کے مطابق ہو گا۔

11- 14جون کو مولانا آزاد نے عبوری حکومت کے ارکان کی تعداد کے متعلق وائسرائے کو خط لکھا۔ جس میں ایک بار پھر گروپنگ کے اصول کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اور تاثر دیا گیا کہ کانگریس کے لیے کابینہ مشن پلان ناقابلِ قبول ہے۔

12- 23جون کو وائسرائے کے معاون ایبل نے گاندھی کی معاون راجکماری امرت کور کو مولانا آزاد کا ایک خط دکھایا جو مولانا نے کانگریس ورکنگ کمیٹی کے علم میں لائے بغیر وائسرائے کو لکھا تھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب مشن کانگریس اور لیگ کے درمیان عبوری حکومت کے ارکان بارے بات چیت کر رہا تھا۔ مسلم لیگ چاہتی تھی عبوری حکومت میں کانگریس اپنے کوٹے سے کوئی مسلمان نامزد نہیں کرے گی۔ یہ سب گاندھی کے سوانخ نگار پیارے لال نے اپنی کتاب میں لکھا ہے۔ جبکہ اس خط کے متعلق نہرو کے پرسنل سیکرٹری ایم او متھائی نے اپنی کتاب “نہرو کے زمانے کی یادیں” میں لکھا ہے۔” راجکماری امرت کور یہ خط لے کر گاندھی کے پاس آگئی اور گاندھی نے یہ خط اپنی لکھنے کی میز پر رکھ دیا۔ اسی دوران مولانا آزاد گاندھی سے ملنے آئے۔ گاندھی نے جب مولانا آزاد سے کسی ایسے خط کا پوچھا تو مولانا آزاد صاف مکر گئے۔” شاید مولانا آزاد چاہتے ہوں کہ کسی طرح کانگریس اور لیگ میں سمجھوتہ ہو جائے۔ مگر جب بات ظاہر ہو گئی تو انہیں عافیت اسی میں نظرآئی کہ انکار کر دیں۔ یہ کوئی جرم نہیں تھا وہ چاہتے تو صاف کہہ دیتے ہاں میں نے لکھا ہے۔ مگر یہی لگتا ہے کہ کانگریسی قیادت کے سامنے بولتے ہوئے ان کے پَر جلتے تھے۔

13- 25جون کو کانگریس کی ورکنگ کمیٹی نے 24مئی کی مجوزہ متنازعہ تشریحات والی قرارداد کی منظوری دے دی۔ جس میں وہ گروپنگ اورآئین ساز اسمبلی پر اعتراضات کر چکی تھی۔ اس قراردار میں پھر کہا گیا۔ “کانگریس کے لیے یہ پلان اس نصب العین کے خلاف ہے جس کے لیے وہ آزادی کی خواہاں رہی۔ مرکزی اختیار کو محدود کیا جانا اور گروپ بندی بڑے نقائص ہیں۔ یہ سرحد، آسام کے صوبوں اور سکھوں کے ساتھ نا انصافی ہو گی۔ اگر اس منصوبے کو کلیت میں دیکھا جائے تو مرکزی اختیارات میں توسیع سے اسے بہتر کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا کانگریس آئین ساز اسمبلی میں ایک آزاد،متحدہ اور جمہوری ہندوستان کا آئین بنانے کے لیے شرکت کرے گی۔” یعنی دھاک کے تین پات۔ نہ گروپنگ، نہ تین شعبوں پر مشتمل وفاق۔ ہر توضیح اپنے مقصد کی۔

14- 25جون کی قرارداد کے ساتھ مولانا نے بطور صدر کانگریس ایک خط بھی وائسرائے کو بھیجا جس میں انہوں نے لکھا۔ “قانون ساز ادارہ اور اس کے کام کے طریقۂ کار سے متعلق مجلسِ عاملہ نے 24مئی کو اپنی قرارداد کی منظوری دی تھی۔ پھر اس کے متعلق مشن کے ساتھ میری اور میرے ساتھیوں کی گفتگو اور خط و کتابت ہوتی رہی۔ جس میں ہم نے اپنے مطابق ان تجاویز کے نقائص واضح کیے تھے۔ ہم نے بعض شقوں پر اپنی توجیہ بھی دی۔ لہٰذا اپنے خیالات پر کاربند رہتے ہوئے ہم ان تجاویز کو منظور کرتے ہیں اور اپنے نصب العین کے حصول کے لیے اس پر عمل درآمد کے لیے تیار ہیں۔”

یعنی مانا بھی اور کچھ بھی نہ مانا۔ مشن پلان اس کی پوری سپرٹ کے ساتھ منظور نہیں بلکہ اپنی توجیہات کے ساتھ۔ یہ خط بینر جی اور بوس کی مرتب کردہ اور 1946ء میں شائع شدہ کتاب “کابینہ مشن ہندوستان میں” میں دیکھا جا سکتا ہے۔

 

۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔

اس تحریر کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا تیسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا چوتھا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا پانچواں حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا چھٹا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا ساتواں حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا آٹھواں حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر نواں حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر دسواں حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: