خواہشات اور ضروریات: حمزہ حنیف

0

آزادی کتنا خوب صورت لفظ ہے۔ یہ دلفریب خیال دل کو کتنا لبھاتا ہے. یہ کہ آپ بغیر کسی کے دباؤ کے اپنی مرضی سے اپنی زندگی بسر کر سکیں. مکمل آزادی کے ساتھ. مگر غور کریں تو انسان خود اپنی آزادی سلب کرانے کے انتظامات کرتا ہے۔ ایسا خواہشات کے ہاتھوں ہوتا ہے اور خاص طور پہ ان خواہشات کے ہاتھوں جن کو پورا کرنے کے لئے دوسروں کا سہارا لینا پڑے۔ کسی سیانے کا قول ہے کہ ” اپنی ضروریات پہ دھیان دو اور خواہشات کو کم کرو. ضرورت تو فقیر کی بھی پوری ہوتی ہے اور خواہشات بادشاہوں کی بھی ادھوری رہ جاتی ہیں۔ خواہشات اور ناامیدی کے درمیان تعلق سیدھا سادا ہے. جسیے جیسے خواہشات بڑھتی جائیں گی ویسے ویسے اس بات کا امکان بڑھتا جائے گا کہ آپ بعض خواہشات پوری نہ ہونے پہ ناامید ہوں گے۔ لوگ خواہشات کے ہاتھوں مجبور ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی زمانے کی دوڑ میں تیز بھاگنے لگتے ہیں۔ وہ اور لوگوں کی دیکھا دیکھی بڑے گھر کی، چمکدار گاڑی کی خواہش کرتے ہیں، اور اس دوڑ کی کوئی حد نہیں رہتی ہے۔

یہ بات یقینا ہر شخص کے اختیار میں ہے کہ وہ مادی اشیا کے حصول کی اندھا دھند دوڑ میں بھاگنے سے انکار کر دے۔ وہ صاف کہہ دے کہ ‘میں چل تو رہا ہوں مگر دوڑ میں شامل نہیں ہوں۔’ اور شاید یہی انسان کی جیت ہے کہ وہ ایسے کام نہ کرے جو محض دنیا والوں کو دکھانے کے لیے ہوں اور کسی سے مقابلے پہ کئے جائیں۔ بلکہ انسان وہ کام کرے جو وہ واقعی کرنا چاہتا ہے، بغیر زمانے کے انعام و اکرام اور لعن طعن کی پرواہ کئے. آزادی کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی زندگی آپ کے اختیار میں ہو۔ اور اکثر لوگ شعور کی ایک منزل پہ پہنچ کر دنیا والوں کی طرف سے تھوپی گئی خواہشات سے کنارہ کشی کرتے ہیں۔ میرا شمار بھی ان فقیروں میں کیا جا سکتا ہے جنہوں نے خواہشات کا راستہ بہت پہلے ترک کردیا ہے۔ خواہشات کو ایک طرف رکھ دیا جائے تو پھر انسان کی ضروریات بچتی ہیں۔ ایسی ضروریات جن کے بغیر زندگی کا تصور ممکن ہی نہیں ہے۔ ہوا، پانی، غذا، تن ڈھانپنے کے لئے کپڑے، اور سر چھپانے کے لیے ٹھکانہ ہو. نئے دور کی دنیا میں انسان کی بیشتر ضروریات بھی دوسروں سے پوری ہوتی ہیں۔ ایک دفعہ پھر ہم اپنی آزادی سلب کرانے کا انتظام کرتے ہیں۔ اس ضمن میں غذا کی مثال لیں۔ جدید دنیا میں اکثر لوگ اس مرکزی نظام کا حصہ ہیں جس میں ان کی غذا ان سے بہت دور اگائی جاتی ہے۔

ہم اس کسان کو جانتے بھی نہیں جو ہماری خوراک اگاتا ہے۔ ہماری یہ بہت بڑی ضرورت اس پیچیدہ نظام کے توسط سے پوری ہوتی ہے جس کا مرکزی پہیہ پیسہ ہے۔ ہم کام کرتے ہیں، پیسہ کماتے ہیں اور اس پیسے سے اپنی ضرورت کی چیزیں حاصل کرتے ہیں۔ لیکن سوچئے کہ اگر کسی وجہ سے پیسے کا نظام یک دم بیٹھ جائے تو کیا ہو؟ جنگ اور آفت کے زمانے میں ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ یہ بھی بہت دفعہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ہل کرنسی نوٹوں کی قیمت کسی بھی چھپے ہوئے کاغذ جتنی رہ گئی تھی. یہ بہت خطرناک صورتحال ہے کہ ہم اپنی ایک بہت اہم ضرورت پوری کرنے کے لئے ایسے پیچیدہ نظام کا سہارا لیں جس کا بھٹا کسی بھی وقت محض ذرا سی دیر میں بیٹھ سکتا ہے۔ یہ چیلنج ہر کمیونٹی کے سامنے ہے کہ جہاں خوراک اگتی ہو وہ جگہ اس کمیونٹی کے قریب ہو. اور اس جگہ پہ اس کمیونٹی کا اختیار ہو۔ خوراک کے معاملے میں اختیار ہونے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ اسے اطمینان ہو کہ وہ جو خوراک استعمال کر رہا ہے اس میں ایسی مضر صحت اشیا شامل نہیں ہیں جو طویل دورانیے میں اس کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ کیونکہ پیسے کے نظام میں جہاں انسان ایک چابی والے کھلونے کی طرح ہے اور چابی لالچ کا جذبہ ہے، اس بات کا عین امکان ہے کہ لالچ سے مجبور ہو کر خوراک اگانے والا زیادہ سے زیادہ پیداوار جلد سے جلد حاصل کرنے کے لیے ایسے اقدامات کرے جن سے یا تو ماحولیاتی مسائل جنم لیں یا خوراک کی معیار متاثر ہو۔ صنعتی انقلاب کے بعد دیہات سے شہروں کی طرف نقل مکانی موجودہ دور کا اہم عنصر ہے مگر اس نقل مکانی سے بہت سی خرابیوں نے جنم لیا ہے۔ خوراک اگانے اور خوراک کھانے والے میں دوری بھی ایسی ہی ایک خرابی ہے۔ ہم جنوبی ایشیاءمیں ایسے مستقبل کا خواب دیکھتے ہیں جہاں لوگ چھوٹی آبادیوں میں رہتے ہوں اور ہر آبادی اپنی بنیادی ضروریات یعنی پانی، خوراک، اور بجلی کا انتظام خود اپنے طور پہ کر سکیں.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: