کھیل کو کھیل ہی رہنے دیں: طاہر علی خان

0

پاکستان نے ہندوستان کو ایک انتہائی یک طرفہ مقابلے میں ہراکر آئی سی سی چیمپین ٹرافی کرکٹ ٹورنامنٹ جیت لیا ہے۔
پاکستان کے تمام کھلاڑیوں باالخصوص نوجوان کھلاڑیوں فخر زمان حسن علی وغیرہ نے بہترین کھیل پیش کیا۔ پاکستان کی جیت پر ہم اس لیے بھی خوش ہیں کہ یہ ہمارا ملک ہے لیکن ہماری طرح بہت سے غیر ملکی کرکٹ شائقین اور کمنٹیٹرز بھی پاکستان کی تعرہف کر رہے ہیں اس لیے کہ پاکستان نے بہترین اور قابل تعریف کھیل پیش کیا۔ 2۔

یہی کھیلوں کا بنیادی فلسفہ ہے اس کو کھیل سمجھا جائے اس سے لطف اندوز ہوا جائے اور اچھا کھیل پیش کرنے والوں کی تعریف اور حوصلہ افزا ئی کی جائے چاہے یہ اچھی کارکردگی ہماری ٹیم کے خلاف ہی کیوں نہ ہو. یہ سعادت مگر صرف برطانیہ کے شائقین کے حصے میں ہی آتی ہے کہ وہ اچھے کھیل کی داد دیتے ہیں اور کھلاڑی کے لباس کو نہیں دیکھتے. تاہم پاکستان اور بھارت کو روایتی حریف قرار دے کرانکے درمیان کھیلوں کے مقابلوں کو بدقسمتی سے دو ملکوں کی لڑائی بنا دیا جا تا ہے. کھیل سے سیاست اور مذہب کو علیٰحدہ رکھا جانا چاہیے تاہم بدقسمتی سے بھارت نے کھیل میں سیاست اور سیاست میں کھیل کو دکھیلتے ہوئے پاکستان سے کھیلنے سے انکار کردیا اور یوں پاکستان اور بھارت میں کروڑوں کرکٹ شائقین کو کرکٹ سے لطف اندوز ہونے سے محروم کر دیا اور کھیل کی بنیاد پر انتہاپسندانہ رویے کو فروغ دیا. جبکہ ھندوستان اور پاکستان کے عام شائقین مذہب کو بھی اس میں گھسیٹ لا ئے ہیں افسوس ہم نے کرکٹ کو بھی نفرت کا ذریعہ بنا دیا ہے. کھیل اب کھیل نہیں رہا یہ جنگ بن گیا ہے. میڈیا اور کرکٹ پر سرمایہ کاری کرنے والوں کے مالی مفادات کی وجہ سے اب ایک منظم انداز میں کرکٹ کو کھیل سے بڑھا کر قومی غیرت کا ایک پاسبان بنا دیا گیا ہے. اگر میڈیا اور ان کے سرمایہ کار اس کی بنیاد پر انتقام اور نفرت کو بڑھاوا نہ دیں تو لوگ پاگل بن کر یوں نہ کرکٹ سے متعلقہ چیزیں خریدیں اور نہ گراونڈز کو آباد رکھیں بدقسمتی ہے کہ ہم کھیل سے صبر و برداشت, قربانی, قوانین کی پابندی اور سپورٹس مین سپرٹ کی بجائے منفی چیزیں ہی سیکھ اور پھیلا رہے ہیں یہ بھی ایک کم بدقسمتی نہیں ہے کہ کرکٹ سے سیاست کی طرف آنے والے رہنما بھی ردعمل, نفرت, ہیجان اور قانون شکنی کے علمبردار اور پہچان بن چکے ہیں اور اسکی بنیاد پر یاوہ گوئی کو ملک وقوم کی خدمت اور قومی غیرت کا تقاضا سمجھنے لگے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ کھیل کو کھیل ہی رہنے دیا جائے اسی میں ہی ہمارے معاشرے کا بھی بھلا ہے اور امن و محبت کے انتظار میں سرگرداں دنیا کا بھی

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: