پاکستانی مسیحی: جج، صحافی اور شہید بھی

0

مصنف: اعظم معراج

سیاہ فام امریکی ناول نگارالف ایلی سن نے کہا تھا کہ ’’مجھے آزادی تب ملے گی جب میں یہ میں جان لوں گا کہ میں کون ہوں۔” اعظم معراج پچھلے بیس سال سے یہ کہہ اور لکھ رہے ہیں کہ ’’ہمیں شناخت تب ملے گی،جب ہم جان لیں گے کہ ہم کون ہیں اور ہمیں اس دھرتی اور سماج سے کیا نسبت ہے؟‘‘ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دوسروں کو یہ بتانے کے لئے کہ ہم کون ہیں ہمیں پہلے اپنے آپ کو جاننا ضروری ہے۔ شناخت نامہ اپنے آپ کو جاننے کی اسی کھوج کی کڑی ہے۔ آیئے اب ہم آتے ہیں،شناخت نامہ کے مختصر تعارف کی طرف۔۔ شناخت نامہ اعظم معراج کی ا کتاب ہے جس میں انہوں نے اپنے تئیں،پاکستانی مسیحی نوجوانوں کے ایک سماجی مسئلے کی وجوہات اور اس کے سدباب کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلے کی پہلی کتاب ’’دھرتی جائے کیوں پرائے میں‘‘ وہ اس اہم سماجی مسئلے یعنی مسیحی نوجوانوں کی اپنے معاشرے سے بیگانگی کی وجوہات کھوجتے اور یہ قابل فخر نقطہ بیان کرتے نظر آتے ہیں کہ پاکستانی مسیحی کا اس دھرتی سے ناطہ ازل سے ہے۔

Martin Samuel Burke- Among the founding fathers of foreign policy and atomic policy

Justice-Alvin-Robert-Cornelius

شناخت نامہ میں انہوں نے اس مسئلے کے حل کے لئے اپنی بیس سالہ تحقیق کو دلچسپ انداز میں اس بیانیہ کی تکرار کے ساتھ تحریر کیا ہے کہ مسیحی نوجوانوں کو یہ چھ نکاتی سبق رٹانا ہے کہ تم اس دھرتی کے بیٹے ہو۔ آزادی ءسندھ و ہند (برصغیر) قیام میں اور، تعمیر و دفاع پاکستان میں تمہارے اجداد کا قابل فخر کردار ہے۔ لہٰذا اس دھرتی اور معاشرے کو اپناؤ اور اس میں ترقی کرو۔
اس کتاب کے پہلے باب میں وہ پاکستانی مسیحی فرد کی دھرتی سے نسبت بیان کرتے ہوئے اس خطے کی پانچ ہزار سالہ تاریخ کے حوالے دیتے ہیں اور نوجوانوں کو دھرتی سے نسبت کے فخر کی اہمیت بہ زبان پروین شاکر بیان کرتے ہوئے، یہ نقطہء سمجھانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں کہ دھرتی سے نسبت سے بڑا کوئی فخر نہیں ہوتا۔
بخت سے کوئی شکایت نہ افلاک سے ہے
یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے
دوسرے باب ‘آزادیء سندھ وہند’ میں مسیحیوں کے کردار کو اجاگر کرنے کے لئے انہوں نے تاریخ سے رلیا رام برادرز اور الفریڈ پرشاد جیسے آزادی کے متوالوں کے شخصی خاکے کتاب میں ڈالے ہیں اور ساتھ ہی نمک بنانے کی تحریک، سائمن کمیشن کا بائیکاٹ، نہرو رپورٹ کو مسترد کرنا، جیسے تاریخی واقعات میں مسیحیوں کے کردار کو اجاگر کیا ہے۔

مسیحی نوجوانوں کو یہ سبق رٹانا ہے کہ تم اس دھرتی کے بیٹے ہو۔ قیام میں اور،تعمیر و دفاع پاکستان میں تمہارے اجداد کا قابل فخر کردار ہے۔ لہٰذا اس دھرتی اور معاشرے کو اپناؤ اور اس میں ترقی کرو۔

اس کتاب کے تیسرے باب میں’ قیام پاکستان میں مسیحیوں کے کردار ‘پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ جس کے لئے، انہوں نے یوم نجات چوہدری رحمت علی سے جوشوا فضل دین صاحب کا مکالمہ قرار داد پاکستان میں مسیحیوں کی شمولیت، باؤنڈری کمیشن میں مسیحیوں کے شاندار کردار اور23جون1947ء میں مسیحیوں کا پنجاب کی تقسیم کے خلاف ووٹ دینا،جیسے اہم واقعات کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایس پی سنگھا، سی ای گبن، ہیڈ ماسٹر فضل الٰہی، جوشوا فضل الدین کے مکمل خاکے تحریر کئے ہیں۔
اس کے علاوہ اس باب میں انہوں نے پاکستانی مسیحیوں کے محسنوں یعنی اس خطے میں مسیحت پھیلانے والے مسیحت کے بانیوں کا بھی مختصر ذکر کیا ہے۔ اس ضمن میں پادری آئی ڈی شہباز کا شخصی خاکہ منفرد انداز میں لکھا گیا ہے۔

I D Shahbaz- Translator of zaboor from urdu to punjabi. A great translator, composer and poet.

Air CDR Nazir Latif- SJ TBT. The great and legendary war hero of Pakistan Air Force in 1965 and 1971 war.

چوتھے باب’ تعمیر پاکستان میں مسیحیوں کے کردار ‘میں انہوں نے ایک متوازن معاشرے کی تشکیل میں حصہ لینے والے ہر شعبے مثلا شعبہء تعلیم، شعبہء صحت، شعبہء صفائی غرض یہ کہ ہر شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والے، جیسے عدلیہ میں سے چیف جسٹس کرنیلیس انتظامیہ میں سمیوئیل مارٹن برق، سابق آئی جی دلشاد نجم الدین، عاشر عظیم، ذیشان لبھا مسیح، پروفیسر سلامت اختر، فادر عنایت برنارڈ، رولینڈ ڈیسوزا، نذیر فقیر، کولن ڈیوڈ، وائس متھائس، موہنی حمید، آئرن پروین، ایڈوکیٹ عمانویل ظفر، گلوکار سلیم رضا و دیگر کئی شخصیات کے تفصیلی شخصی خاکوں اور منفرد انداز سے تعمیر پاکستان میں ان کے کردار کو بیان کیا ہے۔ اور تو اور انہوں نے شعبہءصفائی کو بھی ایسے اجاگر کیا ہے کہ اس شعبہ سے منسلک افراد اور معاشرہ بھی اس پیشے کو وجہ ءندامت کی بجائے ایک پیشہ سمجھا جائے۔ کیونکہ پاکستانی مسیحیوں کی اکثریت کی زیادہ تر توانائی اس تگ و دو میں ضائع ہو جاتی ہے کہ ہمارا اس پیشے سے منسلک افراد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لئے انہوں نے پاکستانی مسیحیوں کے اس نازک مسئلے پر بڑی چابک دستی سے نشتر زنی کی ہے اور معاشرے کو یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ کسی کے جائز روزگار کو اس سے پیشے سے منسلک افراد کے لئے گالی بنا دینا بیمار معاشروں کی نشانی ہوتی ہے اور ایسے معاشروں میں کام کرنے والا کمی کمین اور استحصالی ٹولہ اشرافیہ کہلاتا ہے اور پھر معاشرتی رویوں کے ایسے تضادات سے ہی معاشرے اتنے مکروہ اور بھیانک ہو جاتے ہیں کہ ایسے معاشرے کا سامنا کرنے کے ڈر سے لوگ اپنی ماں، بہن اور بیٹوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ اس پیشے کے ارتقائی سفر اور شعبہء صفائی کے پیشے کو اس معاشرے نے جس طرح اس پیشے سے منسلک افراد کے لئے گالی بنا دیا ہے اس کے بارے میں انہوں نے سیر حاصل بحث کی ہے کہ کیسے یہ پیشہ ہزاروں سال پہلے غاصب لٹیروں نے ان دھرتی واسیوں کے مقدر میں لکھ دیا اور کس طرح آج بھی ہم اپنے معاشرتی رویوں سے اس پیشے سے منسلک افراد کی روحوں پر چرکے لگاتے ہیں اور یہ دھرتی کے بیٹے اس تمام شدید رویوں کے باوجود اپنے اس کام کو محنت اور ایمان داری سے انجام دے کر معاشرے کو صاف ستھرا بنا رہے ہیں۔ جسے ہم نام نہاد سفید پوش اور ہماری اشرافیہ، اپنے افکار اور اعمال سے پستیوں میں دھکیل رہی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے کئی جگہ اپنی کتاب ’’ دھرتی جائے کیوں پرائے‘‘ سے اقتباس شامل کئے ہیں۔ جو کہ بنیادی طور پر انہی معاشرتی رویوں کا احاطہ کرتی ہے۔ نیز اس کتاب میں انہوں نے ان

Mervyn Middlecoat- is a WG CDR saheed. He is the only saheed of PAF who has been twice awarded sitara-e-jurat. 

 اوصاف پر مبنی معاشرے کے قیام کے لئے جان دینے والے سیاسی شہداء کا بھی ذکر کیا ہے۔ اعظم معراج نے پاکستانی مسیحیوں کی سیاسی تاریخ کا بھی تفیصلی احاطہ کیا ہے اور اب تک کہ مسیحیوں پر تھوپے گئے انتخابی نظاموں کا جائزہ لے کر غیرمسلم پاکستانیوں کی سیاسی بقاء کا فارمولا بھی پیش کیا ہے۔

اس کتاب کے پانچویں باب’ دفاع پاکستان’ میں مسیحیوں کا کردار جو کہ کتاب کے پچاس فیصد حصے پر مشتمل ہے جس میں قیام پاکستان کے وقت افواج پاکستان کے لئے اپنی خدمات پیش کرنے والے مسیحی افسران سے شروع کرکے ان70 سالوں میں افواج پاکستان کے تینوں شعبوں میں، مسیحیوں کی خدمات اور کارہائے نمایاں انجام دینے والے افواج پاکستان کے مسیحیوں کا مکمل جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے علاوہ اس باب میں انہوں نے نشان حیدر حاصل کرنے والے گیارہ جانباز پاکستانیوں کے مختصر تعارف کے ساتھ  70مسیحی شہداء کی فہرست اور 16مسیحی شہداء کی مکمل ایمان افروز داستانوں کو بیان کیا ہے۔ جن میں دو دفعہ ستارہء جرات لینے والے پاکستان ایئرفورس کے واحد شہید مارون لیسلے مڈل کوٹ سرفہرست ہیں۔ اس کے بعد افواج پاکستان میں اب تک پانچ دو اسٹار جرنیلوں یعنی میجر جنرل یا اس کے مساوی عہدوں پر پہنچنے والے افسران کے مکمل پیشہ وارانہ خاکے ہیں۔ مزید افواج پاکستان میں اب تک ایک ستارے والے جنرل یعنی بریگیڈئر یا اس کے مساوی عہدوں پر پہنچنے والے 22 افسران میں سے16 کے مکمل شخصی و پیشہ وارانہ خاکوں کے علاوہ7 ستارہ ءجرات، 3 تمغہءجرات، 9 ستارہء بسالت، 9 تمغہ ءبسالت و دفاع پاکستان میں کارہائے نمایاں انجام دینے والے کئی افسران کے خاکوں کے ساتھ ساتھ جنگ1971ء میں دفاع پاکستان کے لئے لاہور، قصور اور سیالکوٹ سیکٹر پر تعینات18یونٹوں میں سے9یونٹوں کی کمان کرنے والے مسیحی افسران میں سے کئی کے مکمل خاکے اور ان کے ساتھی کے نام سے 11نشان حیدر حاصل کرنے والے 5جانبازوں کے شانہ بشانہ لڑنے والے 4 مسیحی افسران کا تفصیلی ذکر ہے اس کے علاوہ انہوں نے تاریخ کے اوراق میں سے تینوں مسلح افواج کی اکیڈمیوں میں مختلف ادوار میں اعزازی شمشیر حاصل کرنے والے افسران کے خاکے بھی بڑی تگ و دو کے ساتھ حاصل کرکے شامل کئے ہیں۔

Justice-Alvin-Robert-Cornelius

SP Singha- Was with Quaid-e-azam in Pakistan movement

کتاب کے آخری باب میں انہوں نے جہاں نوجوانوں کو اپنے معاشرے کو اپنانے اور اس میں ترقی کرنے کی طرف راغب کیا ہے وہاں اپنے آپ اور اپنی مذہبی،سیاسی،سماجی قیادت کو بھی اپنے مسیحی نوجوان کی اس معاشرتی بیگانگی کا ذمہ دار ٹھرایا ہے اور مسیحی کمیونٹی کے مذہبی سیاسی اور سماجی راہنماؤں کو اس بات کی ترغیب دی ہے کہ وہ اس معاشرے میں درپیش سماجی ترقی میں حائل رکاوٹوں کو اجاگر ضرور کریں۔ لیکن ان مسائل کو اجاگر کرنے کو اپنی کمیونٹی کا مستقل بیانیہ نہ بنا لیں، بلکہ درپیش مسائل کے ساتھ ساتھ اس معاشرے میں دستیاب اپنی توانائیوں کا صحیح اندازہ لگا کر ان رکاوٹوں کو عبور کرنے کی تدابیرکریں کیونکہ کمزوریوں اور توانائیوں کو مد نظر رکھ کر متعین کئے گئے اہداف ایسی ہی حکمت عملی سے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ یہی قدم ساتھ ہی ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لئے اس معاشرے میں ہر طرح کی ترقی کی نئی راہیں ہموار کرسکتا ہے۔ المختصر شناخت نامہ دلچسپ انداز میں لکھی گئی ایک ایسی تحقیقی و تاریخی کتاب ہے، جو کہ نہ صرف پاکستانی مسیحی کی دھرتی سے نسبت اجاگر کرے گی بلکہ آزادی۶ سندھ وہند قیام پاکستان، تعمیرپاکستان میں ان کے اجداد کے پاکستانی معاشرے میں قابل فخر کردار کے ذریعے ان کی شاندار شناخت کا تعین کرکے ان کی موجودہ اور آنے والی نسلوں کو ایک نئی فکری تحریک دے کر ان کے لئے ان کے آبا ءکی سرزمین پر فکری، شعوری، تعلیمی، معاشی، علمی، معاشرتی، تہذیبی و سیاسی ترقی کی نئی راہیں ہموار کرے گی۔
مصنف نے انتھک محنت، لگن اور جنون سے یہ کتاب مرتب کی ہے :
اب جس کے جی میں آئے، وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کے—– سِر عام رکھ دیا

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: