کرکٹ میچ اور دعا کا کردار: مجاہد حسین

0

دعا کے معاملے پر پاکستان اور انڈیا کے میچ سے پہلے ہی بحث شروع ہو گئی تھی۔ اس حوالے سے اپنا نکتہ نظر پیش کرنا چاہتا ہوں, آج سے دو سال پہلے مجھے چند ماہ اسلام آباد رہنے کا اتفاق ہوا۔ ایک شام فٹ پاتھ پر واک کرتے ہوئے ایک رینگنے والے کیڑے کو دیکھا جو آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا۔ اس کے رستے میں کچھ اینٹیں پڑی تھیں جن کے پیچھے ایک چھپکلی بیٹھی کیڑے مکوڑوں کو اپنی غذا بنا رہی تھی۔ اب وہ حقیر سا کیڑا یہ جانے بغیر اپنے سفر پر گامزن تھا کہ آگے موت اس کا انتظار کر رہی ہے۔ مجھے خیال آیا کہ یہ مخلوق اپنے مستقبل سے لاعلم ہے جبکہ میں اس کے آنے والے وقت کے تمام امکانات دیکھ سکتا ہوں۔ اس خیال نے سوچوں کے ایک طویل سلسلے کو جنم دیا لیکن سب سے اہم بات یہ تھی کہ اللہ کی ایک مخلوق اس کی دوسری مخلوق کے فوری مستقبل سے آگاہ تھی۔
اب تصور کریں کہ جس خدا نے یہ پوری کائنات تخلیق کی ہے اس کا علم اوراس کے اختیارات کسقدر لامحدود ہوں گے۔ دعا کا معاملہ بھی درحقیقت اس کے اختیارات کا معاملہ ہے۔ آپ کسی بھی پہلو سے اس پر غور کریں، بات اس کے اختیارات پر جا پہنچے گی۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ جو طبقہ خدا کو نہیں مانتا، وہ دعا کی اس بحث سے خودبخود خارج ہو جاتا ہے۔ اگر ایک شخص یہ تسلیم ہی نہیں کرتا کہ اس کائنات کو تخلیق کرنے اور اسے چلانے والی کوئی ہستی موجود ہے تو پھراس کے لئے دعا ایک غیرمنطقی سا تہذیبی مظہر رہ جاتا ہے۔ چنانچہ اس پوسٹ کے مخاطب وہ دوست ہیں جو خدا کو اس کے تمام اختیارات سمیت مانتے ہیں۔ البتہ دعا کے معاملے پر شاید ابہام کا شکار ہیں۔
بنیادی بحث اس نکتے پر تھی کہ جیتنے کے لئے محنت ضروری ہے یا دعا۔ بظاہر اس سوال کا مرکز انسان کو بنایا گیا ہے تاہم غور کرنے پر اس کا حقیقی تعلق خدا کے اختیارات سے ہے۔ کیا خدا اس بات پر قادر ہے کہ وہ ایک گروہ کی محنت اس لئے رد کر دے کہ دوسرے گروہ کے کسی فرد کی دعا اسے پسند آ گئی تھی؟ بطور مسلمان اگر ہم اس کا یہ اختیار تسلیم نہیں کرتے تو اللہ پر ایمان لانا یا نہ لانا برابر ہو جاتا ہے۔ اگر اس کائنات کو اس کے فطرتی اور عمرانی اصولوں سمیت تخلیق کر کے خدا اس سے یکسر لاتعلق ہو جاتا ہے تو پھرانسانی زندگی میں مذہب کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
اس سے جڑا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اگرچہ اللہ کا قانون یہی ہے کہ محنت کرنے والوں کو کامیابی ملتی ہے تاہم وہ اپنے قوانین کا پابند نہیں ہے۔ وہ جب چاہے تمام قوانین رد کر کے اپنی مرضی کا فیصلہ صادر کر دے۔ یہ بات بھی ایک مسلمان کے لئے تسلیم کرنا ضروری ہے۔ اسے مانے بغیر مذہب رسومات کا بے معنی انبار رہ جاتا ہے۔
ایک اعتراض یہ اٹھایا گیا ہے کہ اگر کل کا میچ پاکستان دعاؤں کی وجہ سے جیتا ہے تو پچھلے میچ میں یہ گریہ و زاری کس لئے کام نہ کر سکی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ ہماری دعائیں قبول کرنے کا پابند نہیں ہے۔ ہم ہر وقت دعائیں مانگتے رہتے ہیں لیکن یہ اختیار تو خدا کے پاس ہے کہ کس دعا کو قبول کرتا ہے اور کسے رد کرتا ہے۔ اگر خالق دعائیں قبول کرنے کا پابند ہو جائے تو پھر دعائیں احکامات کا درجہ اختیار کر لیں گی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ مخلوق اپنے خالق کو حکم دینے لگے۔
آپ دعا اور محنت کے معاملے پر جسقدر بھی غور کریں بات خدا کے اختیارات پر جا ٹھہرے گی۔ یا آپ خدا کو اس کے لامحدود اختیارات سمیت مان لیں یا پھر اسے سرے سے تسلیم ہی نہ کریں۔ ایک ایسے بے اختیار خدا کو ماننا جو اس کائنات کو بنا تو بیٹھا ہے لیکن اب اس پر اختیار نہیں رکھتا، کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔
خالق کائنات کے اختیارات کی اس بحث کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ وہ تمام انسانوں کا رب ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ صرف مسلمانوں کی ہی دعائیں قبول کرتا ہے تو یہ بھی اس کے اختیارات پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔ اگر اسے کسی ہندو، کسی یہودی، کسی عیسائی کی دعا پسند آ جائے تو وہ اسے قبول کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

About Author

مجاہد حسین خٹک کو سچائی کی تلاش بیقرار رکھتی ہے۔ تاریخ اور سماجی علوم میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اعتدال کا تعلق رویوں سے ہے، فکر کی دنیا میں اہمیت صرف تخلیقیت کی ہے۔ اسی لئے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مختلف موضوعات کا جائزہ لیتے ہوئے سوچ کے نئے زاوئیے تلاش کئے جائیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: