باپ: کڑی دھوپ کا گھنیرا سایا — زارا مظہر

0

وہ جا چکا ہے مگر اسکا پھول سا لہجہ

یہیں کہیں مہکتا سنائی دیتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

آ ج یومِ والد ہے۔ جن کے والد، والدین زندہ ہیں وہ بہت خوش ہیں انکو یاد کر رہے ہیں درازئ عمر کی دعا دے رہے ہیں اور انکے ساتھ اپنی تصاویر لگا کر مغرور ہوئے جا رہے ہیں۔ مگر کچھ تہی داماں بھی ہیں جن کا احساسِ محرومی آ ج سِوا ہو گیا ہے۔ ان ہی بیچاروں میں میرا بھی شمار ہے۔ میں نے سوچا بابا جان تو آ نے سے رہے۔ میں انکے لئیے کچھ لِکھوں اور اپنی وال کو پُر کر لوں۔ یہ تحریر ان سب محروموں کے لیئے ہے جو اپنی وجۂ وجود کھو چکے ہیں۔
بہت تذکرہ ہوتا ہے خواتین پر مظالم کا اور سب سے بڑھ کر ماں کے حقوق کا۔ اس ضمن میں بہت سی احادیث ہم سب کو یاد ہیں اور شائد ہم تن کے چمڑے کی جوتیاں پہنا دیں تو بھی یہ حق ادا نا کر پائیں۔ مگر یہاں ماں اور باپ کے حقوق و فرائض کی جنگ نہیں ہے نا ہی تقابلی جائزہ مراد ہے۔ وجۂ تحریر یہ ہے کہ ماؤں کی عظمت کے گُن گاتے اور حقوق کی بجا آ وری کرتے کرتے ہم باپ کو بالکل فراموش کر چکے ہیں۔ جو سراسر قربانی کا دوسرا نام ہے۔ ماں کو قربانی تب دینا پڑتی ہے جب شوہر کے سائے سے محروم ہو جاتی ہے۔ مگر باپ تو وہ ہستی ہے جو سال کے تین سو پینسٹھ دن کڑی دھوپ اور سرد گرم جھیلتا ہے۔ تاکہ ساری فیملی کو سایہ اور آ سانیاں فراہم کرے۔ وہ چاہتے ہوئے بھی آرام نہیں کر سکتا۔ وہ جتنے بھی بڑے عہدے پر ہو اسکی اپنی تنخواہ اسکے اوپر سب سے کم خرچ ہوتی ہے۔ بچے عیش کرتے ہیں بیویاں دو اور دو پانچ کرتی ہیں۔ ہزاروں کی شاپنگ کھڑے کھڑے کر ڈالتی ہیں۔ میک اپ کی چھوٹی چھوٹی اشیاء ، کپڑوں اور برانڈڈ جوتے آ نکھیں بند کر کے خریدتی جاتی ہیں۔ ایک کی جگہ چار پیک کروا لیتی ہیں کہ اب مل رہا ہے فلاں آ نے والے فنگشن میں کام آ ئے گا یا فلاں جوڑے کے ساتھ میچ ہو رہا ہے لے لیا۔ اور اپنی دور اندیشی کی داد بھی اسی بکرے سے چاہ رہی ہوتی ہیں جس کی گردن پہ چُھری دھری ہوتی ہے۔

میں نے باپ کو ہمیشہ سراسر قربان ہوتے دیکھا۔ ہر بچے کو اسکی پسند کی چیزیں دلوانا۔ ایک ایک چیز کے لیئے دکانوں ، مارکیٹوں میں پیشانی پہ بل لائے بغیر گھمانا باپ ہی کا خاصہ ہے۔ تہوار یا فنگشن سر پہ ہو تو ماؤں کی فکر بس اتنی ہے کہ اف گرمی میں روزے میں شاپنگ کرنا ہے۔ بچوں کو پسند کے جوتے کپڑے دلوانے ہیں۔ گویا لمٹ کا اور شِدت کا انداذہ ہے۔ مگر باپ کو فکر ہے سب کچھ مہیا کرنے کی بغیر واویلا کئے۔ اخراجات کا بھی اندازہ نہیں کتنے اٹھیں گے۔ گھر میں تخمینہ لگایا تھا ہزاروں سے کام چل جائے گا۔ بات لاکھوں تک جا پہنچی مگر وہ سب خندہ پیشانی سے برداشت کئے جاتے ہیں۔ اور دل سے کرتے ہیں۔ بادل ناخواستہ نہیں کرتے۔ اور جو کام دل سے کیا جائے اس کے اجر کا شمار ممکن نہیں . ماں بچوں اور اپنی ساری شاپنگ سے فراغت کے بعد پوچھے گی اپنے لیئے کچھ پسند کیا تو عموماً باپ کا جواب ہوگا نہیں یار پچھلے سال جو کرتہ شلوار لیا تھا یونہی رکھا ہے سینڈل بھی ویسے کے ویسے ہی پڑے ہیں کام چل جائے گا اب بہت دیر ہو چکی ہے گھر چلتے ہیں۔
کسی مزدور کو مزدوری کرتے دیکھا ہے۔ جو ایک باپ ہے پریشان حلیہ ہے۔ بھوک پیاس اور نفیس پوشاک سے بے پرواہ ہے۔ دھوپ ، ٹھنڈ ، بارش ، آ ندھی سارے موسموں سے لاپرواہ ہے۔ چوک میں کھڑے مزدوروں کی منڈی میں اسکی ساری توجہ اس طرف مبذول ہے جہاں ٹھیکے دار گاڑی کا دروازہ کھول کر اترا ہے تاکہ آ ج کے دہاڑی داروں کی چُنائی کر سکے۔ اسے شکل سے تگڑے اور ہٹے کٹے چاک چوبند مزدور چاہیئں۔ جن کو کام مل گیا وہ خوشی خوشی آ ج کی ضرورتیں پوری ہونے کے خیال سے چل پڑے ہیں۔ اگرچہ دُر دُر پِھٹ پِھٹ اور گھٹیا طرزِ تخاطب ہمراہ ہے۔ مفلول الحال کو تو کوئی مزدوری بھی نہیں دیتا۔ کس قدر مشکل ہے۔ ایک باپ کے لیئے یہ سب۔ اسکے ماتھے کے ہر ہر بل پہ بچوں کی ضرورتیں لکیروں کی صورت پھیلی ہوئی ہیں۔ کھردرے ہاتھوں کی چنڈیوں میں بہت سی دعائیں رقم ہیں۔ اور وہ انکی مستجابی کے لئیے کوشاں ہے۔
معاشرے کے ہر طبقے میں عائلی زندگی کی تقسیم کچھ اس طرح سے ہے کہ زیادہ تر بوجھ باپ کو اٹھانا پڑتا ہے۔ ایک کلاس اور دیکھئے۔
باپ کو صبح آ فس کے لیئے نکلنے سے پہلے بچوں کو اسکول چھوڑنا ہے۔ رات کو چھوٹے والے کے کان میں درد اور اسکی ریں ریں نے سونے نہیں دیا۔ مگر بچوں کو اسکول چھوڑتے ہوئے آ فس پہنچنا ہے۔ جو ایک دوسرے سے شرقاً غرباً ہیں۔ باس نے کل کچھ ایکسٹرا ڈیوٹی بھی لگا دی تھی اختتامی میٹنگ میں۔ لنچ بریک میں بچوں کو پِک کرنا ہے۔ راستے میں رک کر اونگھتے بچوں کی ریفریشمنٹ کے لیئے کچھ لینا ہے۔ جبکہ اسی طبقے کی ماں گھر میں نہائی دھوئی ، صاف ستھری ، نک سک سے درست اے سی کی ٹھنڈک میں کھانا شربت تیار کیئے بیٹھی ہے۔ کھانے پینے سے فارغ ہو کر آ نکھیں مندھی جا رہی ہیں ماں اور بچے لیٹ جائیں گے۔ جبکہ باپ کو ابھی لمبی ڈرائیو کر کے دوبارہ آ فس پہنچنا ہے۔ بہتیرے ادھورے کام ٹیبل پر منتظر ہیں جو آ ج کے آ ج ہی نمٹانے ہیں۔ دو چار لقمے جلدی جلدی زہر مار کئیے۔ راستے کا ٹریفک جام ذہن میں ہے ٹائم سے آ فس پہنچنا ہے۔ اگر لیٹ ہوگیا کسی جیم میں پھنس گیا تو آ فس ورک ادھورا رہ جائے گا۔ جسکا لازمی بوجھ اگلے دن پہ جا پڑے گا۔ مگر یاد آ یا کل بل جمع کروانے کی آ خری تاریخ ہے۔ ۔ ماں کمرے کی خنکی میں بچوں کو تھپک رہی ہے۔ ۔
اوپر نیچے کے دو بچے ہوں یا جُڑواں قصور وار باپ ہے۔ ایسے بچوں کی بہت سی عادات مماثل ہوتی ہیں ایک روتا ہے تو دوسرا بھی لازمی روئے گا ایک جاگا ہے تو دوسرا بھی لازمی جاگے گا۔ ایک کو بھوک لگی ہے تو دوسرے کو بھی لازماً فیڈر چاہیئے کبھی کسی نے سوچا کہ اس دوسرے کو راتوں کو اٹھ اٹھ کر کون سنبھالتا ہے۔ ہاں اگر کہیں جائنٹ فیملی سسٹم ہے تو باپ کو کچھ آ رام مل جاتا ہے۔ مگر افسوس کہ یہ سسٹم بھی اب خواتین کی ہٹ دھرمی کے باعث رفتہ رفتہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔
باپ ہی ہیں جو بچپن سے بچے کو زمانے میں پنپنے کے انداز سکھاتے ہیں۔ ہر جگہ ساتھ لے جاتےہیں۔ یوں خود بخود بچے کی تربیت ہو جاتی ہے۔ جو آ ئیندہ زندگی اور معاشرے میں کار آ مد فرد بننے کی وجہ ہوتی ہے ۔ باپ کے سائے میں بچے بڑے کھلنڈرے ہوتے ہیں ۔ اپنا بچپن جیتے ہیں ۔ بیٹیوں کے چنچل قہقہے اور بیٹوں کی شرارتیں باپ کے سائے میں بڑی سنہری اور جاندار ہوتی ہیں ۔ باپ کا سایہ اتنا گھنیرا اتنا شاداب اور پرسکون ہوتا ہے کہ بہت سی خرابیاں اور مشکلات جنم لینے سے پہلے ختم ہو جاتی ہیں ۔ کسی آ نکھ میں جرات نہیں ہوتی کہ بات کرے ۔ مگر یتیمی میں لوگ منہ بھر کر بھی بات کرنے سے نہیں چوکتے ۔ ہر جوان یتیم لڑکی کے چاچے مامے اور محلے کے مرد باپ سے بڑھ کر فکر میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اس وقت کہاں جا رہی ہے کیوں جا رہی ہے ۔ کہاں سے آ رہی ہے کیوں آ رہی ہے ۔ معصوم بچی حیران ہے کہ تمام ضروری کام باپ گھر بیٹھے انجام دے دیتا تھا یا ساتھ لے جاتا تھا ۔ اب کام کو نپٹائے یا سوالوں کو۔

آ پ نے اکثر دیکھا ہوگا مس انڈرسٹینڈنگ کے سلسلے میں خواتین کی جائے پناہ میکہ ہوتا ہے ۔ مگر میکے والوں کا رویہ دیکھ کر خود ہی واپسی کی راہ لیتی ہیں کہ میکے والوں کو بیٹی کو کھلانا اتنا مشکل نہیں ہوتا ہاں مگر دو چار بچے خار بن کر کھٹکتے ہیں ۔ انکی ضروریات پل پل گنوائی جاتی ہیں ۔ ساتھ ہی خاندان برادری کی سوالیہ نظروں سے پہلوتہی مشکل ہوئی جاتی ہے ۔ چھوٹی بہن کے لیئے آ نے والے رشتے ماں کے خیال میں اسی لیئے واپس ہونے لگتے ہیں ۔ بہت احتیاط کے باوجود ٹشو پیپر کا رول منّے نے کھول کر ضائع کر دیا گلاس توڑ دیا ۔ بھابھی کی خمشگیں نظریں ۔ تو عورت کو خیال آ تا ہے کہ باپ کے گھر میں بچے یہ سب روٹین میں کررہے تھے اور وہ سب خندہ پیشانی سے برداشت کرتا ہے بلکہ بچوں کی شرارتوں سے حظ اٹھاتا ہے ۔ عورت اور بچے بڑے دھڑلے سے رہتے ہیں ۔
یہ ایک معاشرتی المیہ ہے کہ باپ مر جائے تو چاچے مامے بچے پال ہی لیتے ہیں ۔ ماں مر جائے تو کوئی قریب بھی نہیں آ تا ۔ مرد بہت سے ناگفتہ بہ حالات کا شکار ہو جاتا ہے ۔ حیران ہو ہو کر دیکھتا ہے یا خدایا بچے کس کے حوالے کیئے جائیں روزی روٹی کا بندوبست کرے یا گھر بیٹھ کر بچوں کی رکھوالی کرے ۔ خدا ترسی میں ماؤں کو صدقہ خیرات مل جاتا ہے ۔ مگرباپ کو صدقہ خیرات میں گھر کوئی نہیں سنبھا ل کر دیتا ۔
میں ایک ماں ہوں تو ماؤں کی قربانی کی حقیقت آ شنا بھی ہوں ۔ خدا نے ہمارے قدموں کے نیچے جنت رکھ کر ہمیں سرفرازی عطا فرمائی ہے ۔ مگر اس جنت کا دروازہ تو باپ ہی کو بتایا ہے۔ گویا ہمارے بابِ رحمت وجنت ہمارے باپ ہی ہیں جہاں سے گزرے بغیر ہم جنت میں داخل نہیں ہو سکتے۔
جن کے باپ زندہ ہیں ان سب کو بہت مبارک۔ اللہ انکے حقوق کی ادائیگی کی توفیق دے آ مین۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: