شب قدر: ڈاکٹر رئیس صمدانی

0
  • 16
    Shares

ﷲ تبارک و تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبریل علیہ السلام پہلی مرتبہ غارِ حرا میں نبی حضرت محمد ﷺ کے پاس وحی لے کر آئے وہ رات رمضان المبار ک کی ایک رات تھی جس کو شبِ قدر کہا گیا۔ یعنی رسول اﷲ ﷺ پر قرآن کے نزول کا سلسلہ اسی شبِ قدر والی رات سے شروع ہوا، یہی نہیں بلکہ اسی رات میں سورۂ عَلَق کی ابتدائی پانچ آیات بھی نازل ہوئیں۔ قرآن مجید کی سورۂ دُخان میں اس رات کو ’مبارک رات‘کہا گیا ہے۔ آیت 3 ’اِنَّااَنزَّلْنٰہُ فِیْ لَیْلَتہٍ مُّبٰرَکَتہٍ،’ ہم نے اسے ایک برکت والی رات میں نازل کیا ہے‘۔ سورۂ بَقَرہ آیت185شَھْرُ رَمَضَّانَ الذِیْٓ اُنْزِلَ فِیہِ الْقُرْاَنُ’ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا‘۔ ان کے علاوہ کلام مجید کی سورۃ القدر میں پروردگار نے اس رات کی اہمیت اور فضیلت کو بہت واضح طور پر بیان کردیا ہے۔ ترجمہ ’’ہم نے (قرآن) کو شبِ قدر میں نازل کیا ہے اور تم کیا جانوکہ شب قدر کیا ہے؟ شبِ قدر ہزارمہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ فرشتے اور رُوح (الامینؐ) اپنے رب کے اِزن سے ہر حکم لے کر اُترتے ہیں۔ یہ رات سلامتی و رحمت ہے طُلوعِ فجر تک‘‘۔ قرآن مجید فرقان حمید ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ پر واقعات اور حالات کے مطابق وقتاً فوقتاً 23سال کے دوران حضرت جبریل علیہ السلام، اﷲ کے حکم سے آپﷺ پر نازل ہوتا رہا۔ اﷲ تبارک و تعالیٰ نے اس کام کی ابتدا شبِ قدر کی رات سے کی اور پھر وقت اور حالت کے مطابق جو حکم جس وقت دینا مقصود ہوا دیا جاتا رہا اور اس طویل عرصے میں کلام مجید آنحضرت محمد ﷺ پر نازل کیا گیا۔اس مبارک رات کی فضیلت اور اہمیت ابتداِ نزول قرآن ہی بہت ہے ، جس نبی پر یہ نازل کیا گیا وہ فضلیت کا حامل ہے، اﷲ تعالیٰ نے شب قدر کی عظمت و اہمیت کی چار خصوصیات بتائی ہیں۔ ان میں نزولِ قرآن، نزولِ ملائکہ، تین ہزار مہینوں سے افضل رات اور مکمل شب سلامتی و رحمت ہی رحمت۔ ان چار خصوصیات کے علاوہ بھی یہ رات کئی خصو صیات کی حامل ہے ان میں حضرت آدم علیہ السلام کا مادہ اس رات میں جمع ہونا شروع ہوا، یہی وہ رات ہے جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا گیا، یہی وہ رات ہے جس میں جنت کو خوبصورت بنانے کے لیے درخت لگائے گئے، یہی وہ رات ہے جس میں اﷲ نے بنی اسرئیل کی توبہ قبول فرمائی، اس رات آسمانوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور بندوں کی توبہ قبول ہوتی ہے۔ شب قدر دو لفظوں ’شب‘ اور’ قدر‘ کامجموعہ ہے، شب کے معنی رات کے ہیں جب کہ قدر کے معنیٰ تقدیر یا قدر کے ہیں۔ گویا قدر والی رات، اہمیت والی رات، عزت والی رات، بزرگی والی رات، توقیر والی رات، مرتبے والی رات ۔ یہ وہ رات ہے جس میں اﷲ تعالیٰ تقدیر کے فیصلے نافذ کرنے کے لیے فرشتوں کے سپرد کردیتا ہے۔ جیسا کہ سورۂ دُخان کی آیت5 میں کہا گیا کہ ’’اُس رات میں ہر معاملے کا حکیمانہ فیصلہ صادر کریا جاتا ہے‘‘۔ اسی سورۂ میں کہا گیا کہ ’’شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہترہے‘‘۔ رمضان المبارک کی کون سی رات شب قدر کی رات ہے؟ علماء کی غالب اکثریت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رمضان المبارک کی آخری دس راتوں میں سے کوئی ایک طاق رات شبِ قدر کی رات ہے، ان میں سے بھی اکثر نے ستائیسویں شب کو مبارک و محترم رات کہا ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اﷲ ﷺ نے لیلتہ القدر کے بارے میں کہ ’’وہ ستائیسویں یا انتیسویں رات ہے‘‘۔ اس حوالے سے متعدد احادیث بیان کی گئیں ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ شب قدر رمضان کی آخری دس راتوں میں سے کوئی ایک طاق رات شبِ قدر کی رات ہے۔ حضرت عبد اﷲ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا ’اُسے رمضان کی آخری دس راتوں میں تلاش کرو، جب کہ مہینہ ختم ہونے میں نو دن باقی ہوں، یا سات دن باقی یا پانچ دن باقی ، یا تین دن ، یا آخری رات۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ آپﷺنے فرمایا کہ ’’تمہارے اوپر ایک مہینہ آیا ہے جس میں ایک رات ہزار مہینوں سے افضل ہے جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا ، گویا ساری ہی خیر سے محروم رہ گیا‘‘۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا ’’یٰاَ یَّھَاالَّذِیْنَ اٰ مَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِیَّا مُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِْینَ مِنْ قَّبْلِکُمْ تَتَّقُوْن (سورۃ البقرہ ، آیت ۱۸۳)، تر جمہ ’’ اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلی امتوں پر بھی فرض کیے گئے تھے تاکہ تمہارے اندر تقویٰ اور پرہیز گاری پیدا ہو‘‘۔اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ روزہ ہمارے اندر تقویٰ اور پرہیز گاری پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ ساتھ ہی فرمایا گیا ’ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْ ن ‘یعنی اس کا مقصد یہ ہے کہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔اس ماہ مبارک کی ایک اور اہمیت اور فضیلت ’لیلتہ القدر‘ ہے ۔ اس ماہ کا آخری عشرہ اور اس عشرے کی طاق راتیں یعنی اکیس29,27,25.23,21 ہیں۔ لیلتہ القدر اکثر و بیشتر انہی طاق راتوں میں ہوتی ہیں۔ رسول اﷲ ﷺ ان طاق راتوں میں زیادہ عبادت کا اہتمام کیاکرتے ، مجاہدہ کرتے اور مشقت کیا کرتے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیا کرتے۔ صحیح بخاری کی حدیث ہے ، فرمایا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ شب قدر کو تلاش کرو رمضان کی آخری دس راتوں میں سے طاق راتوں میں‘۔سنن ابن ماجہ کی حدیث جسے معارف الحدیث میں بھی نقل کیا گیا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲ ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے بتائیے کہ اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کون سی رات شب قدر ہے تو میں اس رات اﷲ سے کیا عرض کروں اور کیا دعا مانگوں؟ آپ ﷺ نے عرض کیا : ’اَ للّٰھُمَّ اِ نَّکَ عَفُوّ‘‘کَرِ یْمً تُحِبآُ الْعَفْو فَاعْفُ عَنِّیْ‘‘ ترجمہ ’’اے میرے رب! تو بہت معاف کرنے والا اور بڑا ہی کرم فرما ہے اور معاف کردینا تجھے پسند ہے ‘‘۔ پس تو میری خطائیں معاف فرمادے‘‘۔ ہمیں چاہیے کہ شبِ قدر خاص طور پر ستائیسویں شب کی فیوض و برکات کو ہر گز ہرگز اپنے ہاتھ سے نہ جانے دیں، نہیں معلوم ہمیں آیندہ زندگی میں یہ سعادت نصیب ہو گئی بھی یا نہیں۔ شب قدر میں اﷲ کے حضور سجدہ ریز ہوکر ، صدق دل سے اپنے لیے، اپنے والدین کے لیے، اپنے عزیز رشتہ داروں کے لیے، دوستوں اور جاننے والوں کے لیے، جو لوگ اس دنیا سے رخصت ہوچکے ان کی مغفرت کے لیے، اپنے شہر کے لیے اور اپنے ملک کی سلامتی کی دعا کریں۔ اﷲ معاف کرنے والا اور بے حساب دینے والا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: