پاکستانی لبرلز کی دو رنگی: مجاہد حسین خٹک

0

مغربی ممالک میں رہنے والے پاکستانیوں میں ایک گروہ ایسا ہے جو اپنے موجودہ ملک کے سیاست دانوں کی معمولی غلطی معاف کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ ان کا چھوٹا سا سکینڈل بھی سامنے آ جائے تو پوسٹر اٹھا کر احتجاج کے لئے باہر نکل آتے ہیں۔ لیکن پاکستانی حدود میں داخل ہوتے ہی ان کی سوچ میں ماہیت قلب واقع ہو جاتی ہے۔ حکمرانوں کی کرپشن کے قصے ان کی اخلاقی حس کے لئے لوریوں کا کام کرتی ہیں اور چند لمحوں میں ہی ضمیر گہری نیند سو جاتا ہے۔ اگر مغربی ملک کے حکمران پانامہ سکینڈل میں ملوث ہوتے تو ان کا غیظ و غضب دیکھنے لائق ہوتا۔ ایک ایک لفظ سے طیش کے جھاگ اڑ رہے ہوتے اورایک ایک سطر غصے کے عالم میں اچھل رہی ہوتی۔ لیکن چونکہ معاملہ پاکستانی عوام کا ہے اس لئے یہاں تمام اصول اور سب آدرش ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔ امریکہ اور یورپ میں ایک بدعنوان حکمران قابل قبول اس لئے نہیں ہے کہ عوامی ٹیکس کے معاملے میں اس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن پاکستان میں ایسا حکمران بہت پراسرار طریقے سے نہ صرف قبول کر لیا جاتا ہے بلکہ اس کے حق میں ایسے مضامین لکھے جاتے ہیں جیسے وہ شخص ہمارے ٹیکسوں کا بہت بڑا امین ثابت ہو گا۔ امریکی عدالتیں الگور کی واضح فتح کے باوجود اگر بش کو کامیاب قرار دیتی ہیں تو مغربی تہذیب کی تعریفیں سن سن کر ہمارے کان پک جاتے ہیں۔ اس معاشرے کی عظمت کے گن گائے جاتے ہیں جہاں جیتے ہوئے فریق نے عدالت کے احترام میں شکست تسلیم کر لی اور اقتدار سے ہاتھ دھونا قبول کر لیا۔ لیکن اگر پاکستان کے حکمران ہر سول ادارے کو اپنا مطیع بنا لیں اور اپنے خلاف تحقیقات کے تمام رستے بند کر دیں اور جب عدالت مجبور ہو کر ایک جے آئی ٹی بنائے تو عدلیہ کے خلاف تضحیک اور الزامات کی ایک بوچھاڑ شروع ہو جاتی ہے۔ جو شخص پورے سوا سال میں اپنے فلیٹس کی خریداری کا ایک بھی ثبوت پیش نہیں کر سکا اس کے حق میں لمبے لمبے کالم لکھے جاتے ہیں۔ ان لوگوں کے ضمیر کی یہ دورنگی دیکھ کر افسوس بھی ہوتا ہے اور غصہ بھی آتا ہے۔ ان کی تحریروں سے پاکستانی عوام کے لئے حقارت کا اظہار ہوتا ہے۔

ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے افریقہ کے جنگلوں میں رہنے والے کسی جاہل قبیلے کا ذکر ہو رہا ہو۔  ڈان اخبار میں عرفان حسین کا مضمون پڑھ لیں آپ کو لبرل ازم کے اس دیوتا کی منافقت پوری طرح سمجھ آ جائے گی۔

About Author

مجاہد حسین خٹک کو سچائی کی تلاش بیقرار رکھتی ہے۔ تاریخ اور سماجی علوم میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اعتدال کا تعلق رویوں سے ہے، فکر کی دنیا میں اہمیت صرف تخلیقیت کی ہے۔ اسی لئے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مختلف موضوعات کا جائزہ لیتے ہوئے سوچ کے نئے زاوئیے تلاش کئے جائیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: