انگریزی روزنامہ ڈان : کچھ حقائق — اکمل شہزاد گھمن

2

میڈیا میں جاری حالیہ روف کلاسرہ اور ڈان کے مناقشہ کے تناظرمیں معروف صحافی جناب اکمل شہزاد گھمن کی مشہور کتاب “میڈیا منڈی” سے انگریزی روزنامہ ڈان سے متعلق مضمون جناب گھمن کے شکریہ کے ساتھ دانش کے قارئین کے لئے شایع کیا جارہا ہے۔ ادارہ کا مصنف کی رائے سے اتفاق ضروری نہیں۔


خبریت، معروضیت، پرنٹنگ اور پیش کش کے اعتبار سے ’’ڈان‘‘ نہ صرف انگریزی، بل کہ مجموعی طور پر پاکستانی صحافت میں ایک معیاری، مستند اور معتبر حیثیت کا حامل روزنامہ تصور کیا جاتا ہے۔
جس طرح اردو صحافت میں ’’روزنامہ جنگ‘‘ کا کوئی مقابلہ نہیں، اسی طرح انگریزی صحافت میں ’’ڈان‘‘ کا کوئی مدِمقابل نہیں۔ ڈان گروپ کے زیرِ اہتمام انگریزی میگزین ’’ہیرالڈ‘‘ (Herald)، سپائڈر (Spider)اور ’ ارورا‘ (Aurora) شایع ہوتے ہیں۔
ہیرالڈ میگزین کا انگریزی پڑھنے والے قارئین کے لیے وہی درجہ ہے جو اردو قارئین کے لیے ’’اخبارِ جہاں‘‘ کا ہے۔ یہ کرنٹ افئیرز پر مبنی رسالہ ہے اور ایک وسیع حلقہ قارئین رکھتا ہے۔ یہ ماہنامہ 1969ء سے چھپ رہا ہے۔ شیری رحمان بھی اس جریدے کی ایڈیٹر رہ چکی ہیں۔
سپائیڈر پاکستان میں چھپنے والا اپنی نوعیت کا واحد رسالہ ہے جو انٹر نیٹ اور انفرمیشن ٹیکنالوجی کے حوالے سے قارئین کو معلومات بہم پہنچاتا ہے۔ یہ جریدہ دسمبر 1998ء سے شایع ہو رہا ہے اور ہر ماہ 35000 کے لگ بھگ چھپتا ہے۔
’ارورا‘ جولائی 1998ء سے اشاعت پذیر ہے۔ یہ دوماہی رسالہ ایڈورٹائزنگ، مارکیٹنگ اور میڈیا جیسے ایشوز کا احاطہ کرتا ہے۔
ڈان میڈیا گروپ کے زیر اہتمام ایک انگریزی ریڈیو چینل City FM 89 کے نام سے ملک کے چار بڑے شہروں میں اپنی نشریات 2008ء سے جاری رکھے ہوئے ہے، جب کہ ڈان نیوز کے نام سے ایک ٹی وی چینل بھی جولائی 2007ء سے میدان میں ہے۔ اردو ویب سائٹ کے علاوہ ڈان گروپ کا یہ واحد پراجیکٹ ہے، جومئی 2010ء میں مجبوراً اردو زبان میں منتقل کرنا پڑا۔
dawn.com کے نام سے ڈان گروپ کی بھرپور ویب سائٹ بھی موجود ہے، جس پر ادارے کی تمام پبلیکیشنز کی تفصیل اور تعارف کے علاوہ ڈان اخبار بھی پڑھا جاسکتا ہے علاوہ ازیں تازہ ترین خبریں، فیچر اور دیگر مواد انگریزی کے علاوہ اردو میں پڑھنے کی سہولت بھی موجود ہے۔ مواد کے اعتبار سے قارئین کے لیے اس روزنامے میں بہت تنوع ہے۔
ڈان میں شامل کالم ایک مستند حوالہ سمجھے جاتے ہیں۔ مرحوم ارد شیر کائوس جی اور شفقت تنویر مرزا بھی ڈان میں سال ہا سال مستقل لکھتے رہے۔ مایہ ناز افسانہ نگار انتظار حُسین بھی ہفتہ وار کالم، جب کہ ممتاز مؤرّخ اور دانش ور ڈاکٹر مبارک علی بھی گاہے بہ گاہے لکھتے رہتے ہیں۔
ڈان مستقلاً مختلف انٹر نیشنل رسائل و جرائد اور روزناموں جیسے انڈیپنڈنٹ، گارڈین، لاس اینجلس ٹائمز اور دی واشنگٹن پوسٹ میں چھپنے والے مختلف مضامین اور آرٹیکلز کو اپنی اشاعت کا حصہ بناتا رہتا ہے، جس سے قاری عالمی تناظر سے آگاہی پا سکتا ہے۔
اخبار ہذا، ہفتہ بھر مختلف دلچسپیوں کے حامل قارئین کے لیے ایڈیشن اور میگزین شایع کرتا ہے، جب کہ اتوار کے روز ڈان اشتہارات کی منڈی بنا ہوتا ہے۔بلا مبالغہ اس حوالے سے بھی اس کا کسی دوسرے انگریزی روزنامے سے کوئی مقابلہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عام دنوں میں تقریباً 26 صفحات پہ چھپنے والا ’ڈان‘ اتوار کو دو گنا سے زائد صفحات کا حامل ہوتا ہے۔

ڈان گروپ ہارون اور سہگل فیملی کی مشترکہ ملکیت ہے۔ اور اس کی تمام پبلیکیشنز، پاکستان ہیرلڈ پبلیکیشنز لمیٹڈ کے زیرِ اہتمام شایع ہوتی ہیں۔ 2008ء میں ملٹی میڈیا کی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد ادارے نے ’’ڈان میڈیا گروپ‘‘ کا تجارتی نام اپنا لیا۔ گروپ کے موجودہ سربراہ حمید ہارون ہیں۔
ہارون خاندان کی تحریکِ پاکستان کے حوالے سے بہت خدمات ہیں اور قیامِ پاکستان کے بعد اس خاندان کے اثر رسوخ میں مزید اضافہ ہوا اور مختلف ادوار میں ہارون فیملی کے افراد مختلف اعلیٰ حکومتی عہدوں پر خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں۔
ہارون خاندان کے، محمود اے ہارون نے 17 سال کی عمر میں قائد اعظم کے اے ڈی سی کے طور پر کام کرنے کا اعزاز حاصل کیا اور بعد ازاں وہ سندھ کے گورنر بھی رہے۔ جب کہ اُن کے بھائی یوسف ہارون کو برصغیر کے کم عمر ترین میئر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ وہ آسٹریلیا میں پاکستانی ہائی کمشنر کے طور پر بھی فرائض ادا کرتے رہے۔ یوسف اور محمودہارون کے والد سر عبداللہ ہارون 1942ء میں وفات پا گئے۔ قبل ازیں وہ اپنا گھر حصولِ پاکستان کے مقصد کی خاطر وقف کر چکے تھے۔ڈان گروپ کے موجودہ سربراہ حمید ہارون تین مرتبہ اے پی این ایس کے صدر رہ چکے ہیں۔ جب کہ ان کے بڑے بھائی حُسین ہارون پیپلز پارٹی کے گزشتہ دورِ حکومت میں پاکستان کے مستقل مندوب کی حیثیت سے اقوام متحدہ میں متعین رہے۔
انگریزی ہفت روزہ ’’ڈان‘‘ مسلم لیگ کے ترجمان کے طور پر قائدِاعظم محمد علی جناح نے 26 اکتوبر 1941ء کو شروع کیا، مگر اُنھیں پوری طرح احساس تھا کہ مسلمانوں کے پاس ایک اعلیٰ درجے کا انگریزی روزنامہ ہونا چاہیے۔ لہٰذا قائدِاعظم نے اس سلسلے میں منصوبہ بندی شروع کر دی اور اس حوالے سے ابوالحسن اصفہانی سے بھی تبادلۂ خیال اور خط کتابت کرتے رہے۔حسن اصفہانی کلکتہ سے شام کا انگریزی اخبار ’’سٹار آف انڈیا‘‘ شایع کرتے تھے۔قائداعظم کا خیال تھا کہ ’’سٹار آف انڈیا‘‘ کو دہلی سے بہ طور روزنامہ جاری کر دیا جائے جب کہ اصفہانی اس حق میں نہیں تھے۔ بعد ازاں قائدِاعظم بھی قائل ہو گئے ،لہٰذ ا ہفت روزہ ڈان کو ہی روزنامہ کے طور پر شایع کرنے کا فیصلہ ہوا۔ قائدِاعظم کی خواہش پر ’’سٹار آف انڈیا‘‘ کے مدیر پوتھن جوزف کو روزنامہ ڈان کا ایڈیٹر مقرر کیا گیا۔ بہ قول حسن اصفہانی :’’پوتھن جوزف انگریزی میں بہت مہارت رکھتے تھے، انھیں قدیم و جدید بائبل دونوں سے گہری واقفیت تھی اور غیر پادریوں میں بہت کم لوگ ایسے تھے جو انگریزی زبان میں اس کے برابر واقفیت رکھتے ہوں۔ وہ شامی عیسائی تھے اور مالا بار کے رہنے والے تھے۔ شراب کے شوقین تھے اور جب خوب چڑھا لیتے تھے تو شاہکار لکھ ڈالتے تھے، لیکن وہ اس جوش اور جذبے سے لکھتے تھے کہ جیسے کوئی کٹر مسلمان ملّتِ اسلامیہ کے موقف کی تائید و حمایت کر رہا ہو۔‘‘(قائداعظم میری نظر میں ،اصفہانی)
’’پوتھن جوزف وہ کمال کے صحافی تھے، جنھوں نے برصغیرکے چار بڑے انگریزی اخبارات ’ہندوستان ٹائمز، ’انڈین ایکسپریس‘، ’ڈان‘ اور ’دکن ہیرلڈ‘کی بہ طور ایڈیٹر بنیاد رکھی۔ وہ اپنا استعفیٰ ہر وقت جیب میں رکھتے تھے۔ اپنے طویل صحافتی کیریئر میں وہ تقریباً20اخبارات کے ایڈیٹر رہے۔ وہ جس بھی اخبار سے منسلک ہوئے اسے کامیابی کی راہ پر ڈالا اور خود کسی اگلے اخبار کو سنبھالنے چل نکلے۔‘‘ Fettered Freedom by Zamir Niazi, P-116))
ڈان بہ طور روزنامہ 12 اکتوبر1942ء کو قائدِاعظم نے لطیفی پریس دہلی سے شایع کروایا۔ غالباً وہ عید کا روز تھا۔ ڈان کامیابی سے اپنے مقاصد کے حصول کی طرف گامزن تھا۔ مارچ 1945ء میں ’’پٹنے کے سر سلطان احمد کی تحریص پر پوتھن جوزف نے ’ڈان‘ کی ادارت چھوڑدی‘‘ ’’کیوں کہ مالی فائدے کی خاطر اصول قربان کر دینے میں انھیں ذرا بھی تامل نہ ہوتا تھا۔‘‘ ’’سر سلطان وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے رُکن تھے اور جن کے سپرد نشر و اشاعت کا قلمدان تھا۔‘‘
قائدِاعظم نے اس صورتِ حال میں حسن اصفہانی کو تار بھیجا اور سٹیٹسمین کلکتہ کے ایڈیٹر آرتھر مور سے ڈان کی ادارت سنبھالنے کے لیے معاملات طے کرنے کا کہا، مگر ’آرتھر مور‘ نے بسیار عمری کے باعث معذرت کر لی تاہم اُنھوں نے الطاف حسین کا نام تجویز کیا۔ حسن اصفہانی نے قائدِ اعظم کو آگاہ کیا کہ ’’الطاف حسین انگریزی میں نہایت ماہر ہیں، وہ کلکتہ یونیورسٹی میں انگریزی کے پروفیسر رہ چکے ہیں۔ اور اس وقت حکومتِ بنگال کی وزارتِ تعلیم میں ایک عہدے پر مامور ہیں اور میں انھیں 1933ء سے جانتا ہوں۔‘‘
الطاف حسین نے قومی مفاد کے پیشِ نظر اپنی سرکاری نوکری تیاگ کر 1944 ء میں ’’ڈان‘‘ کی ادارت سنبھال لی۔(1965ء میں ایوب خاں کی کابینہ میں وزیر بننے تک وہ ’’ڈان‘‘ کے مدیر رہے) قبل ازیں وہ مختلف انگریزی اخبارات میں فرضی ناموں سے مسلمانوں کے حقوق کے حوالے سے مضامین اور کالم لکھتے رہے تھے۔ اُن کی زیر ِادارت ’’ڈان‘‘ مزید پھلا پھولا،اگرچہ پہلے ہی شمالی ہندوستان اور ملحقہ علاقوں میں اپنا وسیع حلقہ قارئین بنا چُکا تھا۔
تقسیم کے دنوں میں فتنہ پردازوں نے ڈان کے دفتر اور پریس کو نذرِ آتش کر دیا، لہٰذا بالکل نئے سرے سے 15 اگست 1947؁ٗء کو ’’ڈان‘‘ نے کراچی سے اپنی اشاعت شروع کی۔ اصفہانی بیان کرتے ہیں ’’ڈان‘‘ معمولی اُجرت پر ایک نسبتاً بوسیدہ و فرسودہ مطبع (ہیرلڈ پریس) میں چھپ رہا تھا، جس کے مالک ہارون خاندان کے لوگ تھے۔ یہ پریس نیپئر روڈ پر واقع تھا۔ڈان کی ویب سائٹ پر دعویٰ کیا گیا ہے یوسف ہارون ’’ہیرلڈ‘‘ کے نام سے ہی اپنا انگریزی روزنامہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، مگر قائدِاعظم کے کہنے پر انھوں نے ’’ڈان‘‘ اپنے پریس سے چھاپنا شروع کر دیا۔اس کے تین حصے دار: قائدِاعظم، راجہ صاحب محمود آباد اور اصفہانی برادران تھے۔ امریکا میں پاکستانی مشن کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے روانگی سے ایک روز قبل 31 اگست 1947ء کی رات قائدِاعظم نے اپنے گھر کھانے پر حسن اصفہانی کو کہا ’’یقینا آپ لوگوں کو کوئی اعتراض نہ ہو گا کہ ڈان کو ایک قومی ٹرسٹ کی شکل دے دی جائے، میں خود تو ڈان کو ایک مسلم قومی ٹرسٹ میں تبدیل کر کے بہت خوش ہوں گا۔‘‘ جب اصفہانی نے اثبات میں جواب دیا تو قائدِاعظم نے کہا کہ’’اچھا تو آج سے یہ ایک قومی ٹرسٹ ہے، یہ قوم کے نام ایک تحفہ ہے۔‘‘
’ڈان‘ کے اس وقت کے پبلشر شمس الحسن اس حوالے سے رقمطراز ہیں:
’’1946ء کے اختتام پر جب ’ڈان‘ اور’ منشور‘ دونوں مالی استحکام حاصل کر چکے تھے، قائد نے ایک دستاویز کے ذریعے، جسے رجسٹرار کے سامنے 19نومبر، 1946ء کو مہر کیا گیا، ایک خیراتی ٹرسٹ قائم کر کے دونوں اخباروں کی ملکیت اس کو منتقل کر دی۔ اس دستاویز میں قائد نے اعلان کیا کہ ایک لاکھ ستاون ہزار کا چندہ جمع ہوا ہے۔۔۔‘‘
( ’پابند سلاسل‘ از ضمیر نیازی، صفحہ 45)
حسن اصفہانی اپنی کتاب ’’قائداعظم میری نظر میں‘‘ لکھتے ہیں کہ مارچ 1950ء میں مجھے اس خبر نے چونکا دیا کہ ڈان نے اپنی اشاعت ختم کر دی ہے اور اس کی جگہ ہیرلڈ وجود میں آ گیا ہے۔‘‘ نام کی تبدیلی کی وجہ 19 مارچ کی اشاعت میں بیان کی گئی تھی۔‘‘
اس صورت حال کو جاننے کے لیے اصفہانی نے محترمہ فاطمہ جناح(جو ڈان کی ٹرسٹی بھی تھیں) کو ایک خط 29مارچ 1950ء کو لکھا:
’’پاکستان ہیرلڈ لمیٹڈ نے اپنی 19 مارچ 1950ء کی اشاعت میں صفحہ 7 پر بہت جلی حروف میں یہ اعلان کیا ہے کہ: ’’ڈان کراچی کے مالک اور شایع کرنے والے میسرز پاکستان ہیرلڈ… کی اطلاع کے لیے بذریعہ ہذا اعلان کرتے ہیں…‘‘
’’اگر آپ از راہِ عنایت مجھے یہ بتا سکیں کہ ڈان ’’پاکستان ہیرلڈ لمیٹڈ کراچی‘‘ کی ملکیت کیسے بن گیا؟‘‘
اصفہانی کے سوال کا جواب محترمہ فاطمہ جناح کے اُس بیان سے ملتا ہے، جو 12 اپریل 1950ء کو ہیرلڈ میں چھپا۔ حسن اصفہانی نے اس بیان کا خلاصہ بھی اپنی کتاب میں شامل کیا ہے اور صورتِ حال کی مزید وضاحت بھی کی ہے:
’’آج صبح مجھے یہ معلوم ہو کر افسوس بھی ہوا اور اطمینان بھی کہ ڈان نکلنا بند ہو گیا ہے۔ افسوس اس بات کا کہ وہ اخبار جس کی بنیاد قائداعظم نے ڈالی تھی اور جس نے مسلمانوں کی خواہشوں اور اُمنگوں کے ایک سچے آئینے اور ان کے حقوق کے ایک بے باک حامی کی حیثیت سے جنگ ِ آزادی اور معرکۂ پاکستان میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا، نو سال کی زندگی کے بعد ختم ہوگیا اور اطمینان اس خیال سے کہ ڈان کے بند ہو جانے سے یہ بات بالکل صاف ہو گئی کہ یہ اخبار قوم کی ملکیت ہے اور یہ وہم جو بعض لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو گیا تھا، دور ہو گیا کہ ڈان چند افراد کے قبضے میں ہے۔ سندھ چیف کورٹ میں ایک درخواست اس مضمون کی دی گئی ،چوں کہ قائداعظم نے جو تنہا ٹرسٹی تھے، اپنا کوئی جانشین نامزد نہیں کیا، جس کے لیے ٹرسٹ کی دستاویز میں گنجایش رکھی گئی تھی، لہٰذا متولّی مقرر کر دیے جائیں، اس درخواست پر تقریباً سال بھر تک کوئی کاروائی نہ ہو سکی اور کوئی دو ہفتے پہلے فیصلے کا اعلان ہوا ہے۔

مصنف

جب میں لاہور میں تھی تو میں نے ڈان میں ایک اعلان اس مضمون کا پڑھا تھا کہ اس وقف کو جو ڈان ٹرسٹ کہلاتا ہے کراچی کے اخبار ڈان میں کوئی حق ملکیت حاصل نہیں ہے، میں اس کی پُر زور الفاظ میں تردید کرتی ہوں، ڈان ہمیشہ اس ٹرسٹ کی ملکیت رہا ہے۔
جس غیر رسمی طریقے اور جذبے سے ڈان کی اشاعت کو معطل کر دیا گیا ہے، وہ ان لوگوں کے شایان شان نہیں ہے، جو قائداعظم کے پیرو ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ہیرلڈ کے شایع کرنے والوں کے لیے باعزت طریقہ یہ تھا کہ وہ ٹرسٹیوں سے جو قائدِ اعظم کے جانشین ہیں بات کرتے اور ڈان ان کے سپرد کر دیتے۔ ان کے موجودہ فعل سے یہ صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ وہ ڈان کو گلا گھونٹ کر اسے نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں۔
افق پر بادلوں کی سیاہی چھا رہی ہے۔ اب یہ عوام کے ہاتھ میں ہے کہ وہ کوشش کریں کہ یہ بادل جلد چھٹ جائیں اور ڈان ایک مرتبہ پھر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ نمودار ہوجائے، قومی دولت کی عوام سے بڑھ کر اور کوئی حفاظت نہیں کر سکتا۔ ڈان ایک قومی اثاثہ ہے، جو انھیں قائد اعظم نے عطا کیا تھا اور مجھے پورا اعتماد ہے کہ وہ سب مل کر کھڑے ہو جائیں گے تاکہ اس ورثے کو اُس انجام سے بچا لیں جو اس کے لیے سوچا گیا ہے۔‘‘
3؍اپریل کو الطاف حسین نے اس بیان کا جواب اپنے اداریے میں دیا، لیکن ان کے جواب میں کوئی جان نہ تھی۔ مجھے بتایا گیا کہ اس بیان اور اس کے جواب سے لوگوں میں شور مچ گیا اور جذبات اس حد تک بر انگیختہ ہو گئے کہ ڈان کے ایڈیٹر اور اشاعت کنندگان کو ایک پریشان کن اور نازک صورت حال کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ 4؍اپریل کو ہیرلڈ اسی سرعت سے مر گیا، جس سے یہ تین روز پیشتر پیدا ہوا تھا اور اسی دن ڈان کی لاش کو قبر سے نکال کر اسے ازسرِنو زندہ کر دیا گیا، چناں چہ زندہ شدہ ڈان کے پہلے صفحے پر ایک سرخ چوکھٹے کے اندر یہ اعلان بھی بہت نمایاں طور پر چھاپا گیا۔
’’ڈان زندہ باد‘‘
لوگ ڈان چاہتے ہیں، میں انھیں ان کا ڈان واپس دیتا ہوں۔ مجھ سے زیادہ مسرت آج کسی اور کو نہ ہوگی۔ نام کو تبدیل کرنے کے اسباب کی وضاحت کی جاچکی ہے۔ یہ ایسی باتیں ہیں، جنھیں متعلقہ بااختیار لوگ سوچ کر آپس میں کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں۔
اس اثنا میں ڈان پھر طلوع ہو گیا۔ خدا کرے کہ یہ لوگوں کے دلوں سے بھی ظلمت کو اسی طرح دور کر دے، جس طرح میرے دل سے کی ہے۔
ڈان کبھی مرا نہیں تھا، یہ مرنے کے لیے پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔ یہ نہیں مرے گا۔‘‘(6)
اس صورت حال کی مزید وضاحت ضمیر نیازی نے اپنی کتاب میں یوں کی ہے۔
’’راتوں رات ’ڈان‘ کا نام پاکستان ہیرلڈ میں تبدیل کر دیا گیا۔ مس فاطمہ جناح اور ہارون خاندان کے درمیان ’ڈان‘ کی ملکیت کے تنازع کے باعث ایک بپھرے ہوئے ہجوم نے جنوبی نیپئر روڈ (موجودہ الطاف حسین روڈ) پر واقع ڈان کے پرانے دفاتر کے سامنے پُرزور احتجاج کیا۔ جب کہ ہاکرز نے اس نئے نام والے اخبار کو تقسیم کرنے سے انکار کر دیا۔ شام کو ایک احتجاجی میٹنگ کراچی میں منعقد ہوئی، جہاں اخبار کے بائیکاٹ کی قرارداد بھی منظور کی گئی۔ خوش قسمتی سے اگلے دن اخبار ’ڈان‘ کے نام سے ہی چھاپا گیا۔‘‘(The Press Under Siege by Zamir Niazi P-17)
مرزا ابوالحسن اصفہانی تو یہی سمجھتے رہے کہ ’’ڈان ایک قومی روزنامہ تھا اور اب بھی ہے، جسے اس کے تین حصے داروں نے قوم کے نام ہبہ کر دیا ہے اور تمام اخلاقی حقوق کی رو سے وہ قوم کی ملکیت ہے نہ کہ کسی فرد یا کمپنی کی۔‘‘ مگر ’’ڈان‘‘ سے ’’ہیرلڈ‘‘ اور ’’ڈان‘‘ کی آنکھ مچولی میں ہارون خاندان نے ’’ڈان‘‘ پر کمال صفائی سے ہاتھ صاف کر لیے۔ ہارون خاندان نے ایسا کیا تو کیوں؟ ’’ڈان‘‘ جیسے اعلیٰ پائے کے اخبار میں اس حوالے سے بھی ایک سٹوری چھپنی چاہیے تا کہ حقائق عوام تک پہنچ سکیں اور ایک صحت مند بحث کا آغاز ہو سکے۔

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. عثمان سہیل on

    اس اہم صحافتی مسئلہ پر گھمن صاحب نے نازک صورتحال میں سرچ لائٹ ڈال کر ایک قومی خدمت سرانجام دی ہے۔ امید کرتے ہیں ڈان اخبار کی ملکیت کا تنازعہ ایک دفعہ پھر لائم لائٹ میں آئے اور حق داروں کو حق ملے۔

  2. syed jafar Abbas on

    ڈان اخبار جیسا معیاری اخبار پاکستان کی شان اور پہچان ہے۔ اس میں لکھنے والے قابل ترین لوگ ہیں۔ ڈان انگلش میں پاکستان کے علاوہ دوسرے ملکوں کے صحافیوں کے مضامین اور تبصرے شائع ہوتے ہیں۔ فالحال پاکستان بھر میں اس پائے کا کوئ اخبار نہیں ہے۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: