سندھی اخبارات کے ادارتی خیالات

0
  • وفاقی اور صوبائی بجٹ پر سندھی اخبارات کے خیالات
  • این ایف سے ایوارڈ کے بغیر بجٹ پیش کرنا آئین سے انحرافی ہے
  • کسانوں کے حقوق سے انکار اور حکمرانوں کا خوشحالی کا دعوہٰ
  • غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گذارنے والی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے
  • الیکشنی بجٹ اور اٹھنے والی کئی سوال
  • یہ بجٹ عوام کے لئے نہیں
  • بیروزگاروں کے لئے کوئی خوشخبری نہیں

وفاقی اور صوبائی بجٹ پر سندھی اخبارات کے خیالات

وفاقی اور صوبائی بجٹ پر روزنامہ کاوش نے لکھا ہے کہ 2003 سے 2008 تک کہ زندہ لاش بنے ہوئے نامکمل منصوبوں کو اس بجٹ میں شامل کیا گیا ہےجو 9 سال گذرنے کے باوجود مکمل نہیں ہو سکے ہیں اور نئے مالی سال 2017-18 کی ترقیاتی اسکیموں میں شامل کر دیا گیا ہے۔

مثال کہ طور پہ محکمہ ذراعت کی طرف سے ٹھٹہ میں جانوروں اور کپاس کا تحقیقی مرکز(2012)، محکمہ ثقات و سیاحت کی طرف سے خیرپور اور سکھر میں آرکیالاجیکل میوزیم کا قیام (2003)، میٹھا رام ہاسٹل کراچی کی بحالی کی اسکیم (2010)، 460 پرائمری اسکولوں کو مڈل اسکول کے طور پر اپگریٹ کرنے کی اسکیم اور 450 اسکولوں کی مرمت اور مڈل اسکولوں میں کمپیوٹر کی تعلیم کو متعارف کرانے والی اسکیم (2008)، سندھ میں 45 ہائیر سیکنڈری اسکولوں کی تعمیر نو والی اسکیم، سندھ میں 53 سنگل سیکشن ہائی اسکول قائم کرنےوالی اسکیم، 230 مڈل اسکولوں کو ہائی اسکول بنانے کی اسکیم اور 115 ہائی اسکولوں کو ہائیر سیکنڈری اسکولوں کے طور پہ اپگریڈ کی اسکیم 2008 میں دی گئیں تھی لیکن 9 سال گذرنے کے باجود مکمل نہیں ہو سکیں اور اب انہیں نئی بجٹ میں شامل کیا گیا ہے۔اسی طرح صحت کے شعبہ میں لیاقت یونیورسٹی حیدرآباداسپتال میں 50 بستروں والی آئی سی یو او پی ڈی قائم کرنے والی اسکیم 2012 میں دی گئی تھی۔ شہید بینطیر آباد ضلعے میں بینظیر انسٹیٹیوٹ آف یورالاجی اور ٹرانسپلانٹیشن والی اسکیم 2010 میں دئی گئی تھیں جو ابھی تک مکمل نہیں ہوسکیں۔کراچی میں ادویات کی ٹیسٹنگ والی لیباریٹری کی تعمیر نو والی اسکیم 2010 میں دی گئی تھی اسے بھی نئی بجٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ اب انہی اسکیموں کو مکمل کرنے کےلئے دوبارہ کروڑوں روپیوں کے اخراجات رکھے گئے ہیں اور گذشتہ 9 سال میں پیپلز پارٹی کے دور اقتدار میں ترقیاتی بجٹ میں رکھے گئے مجموعی طور پر1154 ارب روپئے ترقیاتی اسکیموں کے لئے رکھے گئے تھے جن میں سے 391 ارب روپئے خرچ نہیں کیے گئے۔خرچ ہونے والے 763 ارب روپئے کہاں خرچ ہوئے وہ نظر نہیں آتا کیوں کہ اس دورانیہ میں جاری اسکیمیں بھی مکمل نہیں ہو سکیں اور اب ان پر دوبارہ خرچ کیا جا رہا ہے۔اس لئے سندھ کی ترقی بڑی متاثر ہوئی ہے۔ صوبہ سندھ کی 60 فیصد بجٹ فقط 5 شہروں کراچی، حیدرآباد ، لاڑکانہ، خیرپور اور نواب شاہ پہ خرچ ہوئی ہے جبکہ صوبہ سندھ کے مزید 20 اضلاع کے باشندے دوسرے درجے کے شہری بنے ہوئے ہیں۔ تھرپارکر کی مختلف اسکیموں پر 35 ارب روپئے خرچ کیے گئے لیکن وہ تھر کے لوگوں کی قسمت تبدیل نہیں کر سکے اور یہی حال تھانہ بولا خان، جوہی اور کوہستانی علاقے کا ہے جو تھر کی طرح بدحال ہے۔

 

پ پ کے 9 سال اقتدار کے دور میں سندھ کا ترقیاتی بجٹ پرمندرجہ ذیل ٹیبل میں دیکھا جا سکتا  ہے۔

مالی سال

مختص رقم

جاری کردہ رقم

خرچ کی گئی رقم

لیپس کی ہوئی رقم

فیصد

 

 

  • این ایف سی ایوارڈ کے بغیر بجٹ پیش کرنا آئین سے انحرافی ہے

روزنامہ جیجل کراچی نے اپنے ادارتی نوٹ میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے اس بیان کے وفاقی حکومت این ایف سی ایوارڈ دینے کے بغیر پیش کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے سندھ حکومت این ایف سی ایوارڈ، پانی کے تقسیم، بجلی اور گئس کی لوڈ شیڈنگ سمیت وفاق سے متعلقہ تمام معاملات کو مشترکہ مفادات کی کائونسل میں زیر بحث لانے چاہیے تھے لیکن سندھ حکومت اپنا مضبوط مقدمہ پیش کرنے اور منظور کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ فقط وفاق کی زیادتیوں کا میڈیا کے سامنے تذکرہ کرنا پوائنٹ اسکورنگ ہو سکتی ہے۔

 

کسانوں کے حقوق سے انکار اور حکمرانوں کا خوشحالی کا دعویٰ

روزنامہ سندھ ایکسپریس نے 28 مئی 2017 کے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ موجودہ نواز لیگ کی حکومت نے 4 سال سے ترقی اور عوام دوستی کے دعوے کیے ہیں۔ بجٹ کے دن پارلیمنٹ کے سامنے سینکڑوں کسانوں نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرکے حکومت کے ان دعووں کو کھوکھلا ثابت کردیا ہے۔یہ کونسی کسان دوستی ہے کہ ایک طرف بجٹ پیش کی جارہی ہے اور دوسری طرف کسانوں پر لاٹھی چارج کی جارہی ہے یہ کس کی خدمت ہورہی ہے۔ اس سے حکومت کے ذرعی شعبہ کی طرف سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے کہ پانی کی کمی، بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ایک لاکھ ایکڑ زمین پر ابھی تک کپاس کی فصل کی بویائی نہیں ہوسکی ہے جبکہ کپاس ملک کی معیشت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اسی طرح زرعی مشینری پر ٹیکس ختم نہ کرنا اور ٹیوب ویل کی بجلی سستی نہ کرنا اور کسانوں پر تشدد کرناحکومت کی کسان دوستی کا اس سے اندازہ ہوتا ہے۔

 

  • غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گذارنے والی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

روزنامہ کاوش نے اپنے 27 مئی 2017 کے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ اکیس ارب ڈالروں تک ذرعی مبادلہ کے ذخائر ہونے کے باوجود غربت میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ نہ ہمارے قرضے ختم ہوتے ہیں بلکہ قرضے لے کر ہم اپنے پرانے قرضوں کے ادائیگی کر رہے ہیں جبکہ عام آدمی غربت کی وجہ سے جسم اور روح کے رشتے کو بھی برقرار نہیں رکھ سکتا۔ اس صورتحال میں ترقی اور خوشحالی حکمرانوں کی تو ہو رہی ہے لیکن غریب لوگوں کی زندگی بجلی، پانی اور روزگار کے بغیر کیا ہوگی اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے۔فقط ایک ہزار روپے مزدو کی تنخواہ بڑھا نے سے کچھ نہیں ہوتا۔اور غربت کے نیچے زندگی گذارنے والی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 

الیکشنی بجٹ اور اٹھنے والے کئی سوال

روزنامہ مہران حیدرآباد نے اپنے 27 مئی 2017 کے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ یہ بجٹ الیکشنی بجٹ پیش کی گئی ہے اور غریبوں کے لئے اس بجٹ میں کچھ نہیں رکھا گیا ہے اور اس بجٹ میں جو تجاویز پیش کی گئی ہیں ان میں سے اکثر کا تعلق عوام کے ان حلقوں کو خوش کرنے سے ہے جو الیکشن کے موقعے پر حکمران جماعت کےلئے نہایت مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ پرانی اخبار نے لکھا ہے کہ بجٹ کے موقعے پر مہنگائی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اور بجلی کے بلوں میں ٹی وی فیس بھی وصول کی جاتی ہے یہاں تک کہ مساجد میں استعمال ہونے والی بجلی کے بلوں میں بھی ریڈیو، ٹی وی کے لائسنس والی فیس شامل ہوتی ہے اور۔ سیلز ٹیکس کے نام پر ٹیکس کے اوپر ٹیکس لگائی جا رہی ہے۔ اس طرح کے کئ سوالات ہیں جو بجٹ میں لوگ پوچھ رہے ہیں۔

 

یہ بجٹ عوام کے لئے نہیں

روزنامہ کاوش نے اپنے 27 مئی 2017 کے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ کھربوں روپئے کی بجٹ میں عوام کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ اسلام آباد میں آبادگاروں کے احتجاج پر تشدد کرنے سے کس کسان پیکج پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔ یہ بجٹ ہاتھی کے دانتوں کی طرح ہےجو دکھانے میں کچھ اور کھانے کے لئے اور ہوتے ہیں۔ اخبار کے مطابق یہ بجٹ عوام دوست غریب دوست، ذراعت دوست نہیں ہے۔ بلکہ ہمیشہ کی طرح اعداد شمار کا گورکھ دھندہ ہے اور عوام کو بیوقوف بنانے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

 

بیروزگاروں کے لئے کوئی خوشخبری نہیں

روزنامہ عبرت نے 28 مئی 2017 کے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ ہر سال ملازموں کے تنخواہوں میں اضافہ کیا جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی عام استعمال ہونے والی اشیاء کی قیمتوں میں دوگنہ اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس دفعہ بھی دس فیصد اضافہ ہونے کے باوجود مہنگائی اب سے شروع ہوگئی ہے۔ اس بجٹ میں سی پیک کے آنے کے باوجود روزگار کی اسکیموں کا کوئی سلسلہ نظر نہیں آتا اس کے علاوہ توانائی کا بحران بڑھ رہا ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لئے 121 ارب روپئے مختص کرنے کی بات تو قابل تعریف ہے اس سے 68 لاکھ مستحق لوگوں کو کوئی روزگار تو نہیں ملے گا فقط یہ ایک خیرات کا نمونہ ہے۔ اسی طرح 118 ارب روپئے 300 یونٹ ماہانہ بجلی استعمال کرنے والوں کو سبسڈیز طور پر دیئے جائیں گے۔ اس سے بہتر یہ ہوتا کہ جنرلی بجلی کے فی یونٹ نرخ نامےپر کمی کی جاتی اور 20 ارب روپئے لیپ ٹاپ اسکیم میں رکھنے کے بجائے غریب اور یتیم بے سہارا بچوں کو چائلڈ لیبر سے بچانے کے لئے وظیفے دیئے جاتے تو بہتر ہوتا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: