دانشور یا کرپشن اپالوجسٹ؟ روف کلاسرہ کے تناظر میں

0

کردار کشی ہمارے معاشرے کی ایک بھیانک حقیقت ہے جسے سوشل میڈیا نے انتہائی پست درجے تک پہنچا د یا ہے۔ عموما وہ افراد اسکا نشانہ بنتے ہیں جو عوامی مقبولیت کی طرف رو اں ہوتے ہیں او ر ایسی ہر منظم مہم کا مقصد کسی مقتد ر شخصیت کو بچانا ہو تا ہے جسکے اقتدار کو خطرہ لاحق ہو رہا ہوتا ہے۔ رووف کلاسرہ کے ساتھ جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ علامت ہے کہ شاہ کے وفادا ر کس قدر اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔
یہ ایک معاشرتی حقیقت ہے کہ جب کوئی صاحب اقتدار رو بہ زوال ہوتا ہے تو عموما مڈل کلاس اسکی حمایت کیلیے آنسو بہاتی ہوئی باہر نکلتی ہے۔ اسکی وجہ انکی وہ ناقص امیدیں ہوتی ہیں جو وہ صاحبان اقتدار سے لگا بیٹھتی ہے، ہر لمحہ پھسلتا ہو ا اقتدار ان امیدوں پر پانی پھیر رہا ہوتا ہے، وہ اسکے سامنے اپنی ہر ممکن دانست سے بند باندھنے کی کوشش کرتی ہے۔ چونکہ مزاحمت کرنا درمیانے طبقے کا خاصہ نہیں ہے او ر مناسب سیاسی تربیت کا فقدان بھی ہو تا ہے اس لیے غیر منظم کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں ا ور کچھ ہی عرصے بعد یہ نئے نظام کے ساتھ صبر شکر کر کے ایڈجسٹ ہو جاتی ہے۔ لیکن نشہ اترنے کا دور تھوڑا مشکل ہوتا ہے، جام ہاتھ سے گرنے سے پہلے بعض اوقات کچھ سراتر چکے ہوتے ہیں اور کچھ پگڑیاں اچھالی جا چکی ہوتی ہیں۔ کردار کشی اسی مرحلے کا ایک ہتھیار ہے جس میں ہر چیز پھسل رہی ہوتی ہے۔

۔۔۔چونکہ مزاحمت کرنا درمیانے طبقے کا خاصہ نہیں ہے اس لیے غیر منظم کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں ا ور کچھ ہی عرصے بعد یہ نئے نظام کے ساتھ صبر شکر کر کے ایڈجسٹ ہو جاتی ہے۔
لیکن نشہ اترنے کا دور تھوڑا مشکل ہوتا ہے، جام ہاتھ سے گرنے سے پہلے بعض اوقات کچھ سراتر چکے ہوتے ہیں اور کچھ پگڑیاں اچھالی جا چکی ہوتی ہیں۔ کردار کشی اسی مرحلے کا ایک ہتھیار ہے جس میں ہر چیز پھسل رہی ہوتی ہے۔

لفظوں کے ذریعے کسی، شخص، ادارہ یا کمیونٹی کی شہرت کو نقصان پہچانا یا انکو معاشرتی طور پر غیر فعال کرنے کی کوشش کرنا ایک سماجی حربہ ہے جسے کسی تجارتی، معاشی یا سیاسی مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ بظاہر جو بیوقوف کردار سامنے نظر آ رہے ہوتے ہیں انکے پیچھے استعمال کرنے والا کوئی ذہین لیکن بے ضمیر ہاتھ ہوتا ہے۔ اس کا پلاٹ جو لوگ تیا ر کرتے ہیں وہ کبھی سامنے نہیں آتے۔ اس کھیل میں کسی کا مستقبل داو پر لگتا ہے اور کسی کی عزت، لیکن بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ شکار بیچارے کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ بظاہر جو بیوقوف پتلی تماشہ کر رہی ہوتی ہے اسکی رسی کس نیک صورت کے ہاتھ میں ہے۔شکار تکلیف کو سہتا ہے اور ساری زندگی پتلیوں کو کوستا رہتا اور یہ مکروہ دھندہ چلتا رہتا ہے۔ اسکے شکار پر کیا بیتتی ہے اسکی رسیا ں کھینچنے والے خواجگان کو کوئی احساس نہیں ہوتا تاوقتیکہ کوٰی انکو اچھی طرح سے یہ باور نہ کراے کہ بدی کا بد لہ لینے والے ایک دن ضرور آتے ہیں۔

Rauf Klasra

کچھ عرصہ قبل ہی کسی دہشت گردی کی واردات پر طالبان کی مذمت کی جاتی تھی تو کچھ لوگ ڈرون حملوں سے لے کر فلسطین، کشمیر و برما اور عالمی استعمار تک ہر چیز کا ورد شروع کردیتے تھے تاکہ اصل موضوع کو خرد برد کیا جا سکے۔ ان لوگوں نے ملک میں راے عامہ بننے کے عمل کو کافی عرصہ تک حبس بے جا میں رکھا۔ یہ لوگ دہشت گردوں کی بربریت کی مذمت کرنے سے گریز کرتے ہوئے بحث کو پھیلا کر لوگوں کو کنفیوز کرتے اور بالواسطہ دہشت گردوں کی حمایت کرتے تھے۔ پانی جب سر سے گزرا تو انکے بیرونی ہاتھ والا پکا راگ بند ہوا اور امن و امان کے لیےسخت ایکشن کے لیے راے عامہ ہموار ہو سکی لیکن اس دوران قوم نے بہت بھاری قیمت ادا کی۔ آج بھی یہی لوگ متحرک ہیں کہ کرپشن کے خلاف کوی قومی اتفاق راے نہ بن سکے۔
آج ملک میں بحث یہ شروع ہے کہ آیا کرپشن کی سماجی برائی پر ہمیں ایک قومی سٹینڈ لینا ہے یا ظالمانہ نظام کو اسی طرح چلتے دینا ہے، اور کیا سپریم کورٹ کو ایک صاف اور شفاف معاشرے کے قیام کیلیے ضابطہ جاتی انصاف (PROCEDURAL JUSTICE ) تک محدود رہنا ہے یا اس سے بڑھ کر آیین کی دفعہ 187 میں مذکور مکمل انصاف (ABSOLOUTE JUSTICE) کی طرف جانا ہے۔ اب کچھ دانشور اس پر بالکل وہی موقف اختیار کر چکے ہیں جو طالبان اپالو جسٹس کا تھا۔ وہ جے آ ئی ٹی کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کو متنازعہ بنا کر شاہ کی خدمت کا حق ادا کر رہے ہیں۔ ایک صاحب نے جے آی ٹی کو مستقل نشانہ بنا رکھا ہے اور یہ دعوی کیا ہے کہ اسکی کارکردگی صرف اس صورت میں اتنی اعلی ہو سکتی ہے کہ انکے پاس جنات ہوں۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اس پر سخت اور اصولی موقف اختیار کر چکے ہیں جن میں رووف کلاسرہ شاید ہر اول دستے میں ہیں۔ ایسے ماحول میں انکے خلاف ایک کردار کشی کی مہم کا شروع ہونا محض اتفاق نہیں ہو سکتا بلکہ ایک سوچی سمجھی اور غلیظ سازش ہے جسکی جتنی بھی مذمت کی جاے اتنی ہی کم ہے۔
یہ مہم عام طور پر ان افراد کے خلاف چلائی جاتی ہے جو کسی خصوصی امتیاز کے حامل ہوتے ہیں، آپ نے آج تک کسی احمق کے خلاف اس طرح کی سازش ہوتے نہیں دیکھی ہو گی۔ یہ جب بھی ہوئی ہے تو کسی جی دار، کسی نابغے یا کسی سورمے کے خلاف ہی ہوئی ہے۔
بد قسمتی یہ ہے کہ کسی کو بد کردا ر مشہور کرنے والے خود زیادہ گھناونے لوگ ہوتے ہیں لیکن انکے سکینڈل منظر عام پر نہیں آے ہوتے۔ ایسی مہمیں صرف صحافیوں، ادیبوں، اور سرگرم کارکنوں کے خلاف ہی نہیں چلائی گئی ہوتی بلکہ اسکا نشانہ سیاستدان مہاتمے، مذہبی رہنما، اور مقدس ہستیاں بھی بنائی گئی ہوتی ہیں، وقت جنکے کردار کی صفای خود مہیا کرتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: