قراردادِ پاکستان، مغالطے اور شامی صاحب (آخری حصہ) ۔ اکمل شہزاد گھمن

0

قرادادِ پاکستان کے حوالے سے میڈیا میں جاری حالیہ بحث پر دانش کے سینئر ایڈیٹر جناب اکمل شہزاد گھمن کی تحقیق پر مبنی تحریر کی آخری قسط پیش خدمت ہے۔

اس طرح کے علمی مباحث میں شائستگی اور اسلوب میں علمی و جاہت از حد ضروری ہوتی ہے۔ دانش کے ایک اور سینئر ایڈیٹر اور معروف کالم نگار جناب خورشید احمد ندیم نے بھی اپنے تبصرے میں اس جانب بجا طور پر توجہ دلائی۔ مضمون نگار نے خود اپنے مضمون میں اس شائستگی کی جانب اشارہ کیا مگر ہمارے خیال میں وہ خود اس پر کچھ زیادہ کاربند نہ رہ سکے۔

اس بحث میں در آنے والے تمام افراد ہمارے لیے بے حد قابل احترام ہیں اور دانش کا فورم کسی بھی جانب سے آنے والے ممکنہ جواب کو خوش آمدید کہے گا۔ مدیر اعلی


ولی خاں کے متن اور اصل متن کی عبارتوں کا موازنہ کرنے سے ولی خاں کی بد دیانتی خود بخود کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ ولی خاں کی پہلی بد دیانتی یہ ہے کہ اُس نے تحقیق کے مروجہ قواعد کے مطابق اپنی کتاب میں نقل کردہ متن کا حوالہ ہی نہیں دیا جبکہ انڈیا آفس لائبریری اینڈ ریکارڈ کی تمام فائلوں اور ان میں شامل دستاویزات کے باقاعدہ نمبر لگے ہوئے ہیں اور ان کا حوالہ دینا بہت آسان ہے۔ اُس کی دوسری بد دیانتی یہ ہے کہ اُس نے اصل عبارت سے پوری کی پوری سطریں حذف کر کے ان کی جگہ اپنی طرف سے سطریں لکھ دی ہیں اور پھر ان ہی سطروں کو بنیاد بنا کر ایک خیالی سازش کا محل کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس نے انتہائی بے شرمی کے ساتھ ’’Dominion Status‘‘ یعنی ’’ڈومینین کا درجہ‘‘ کے الفاظ کو’’Two Dominion States‘‘ یعنی ’’ڈومینین ریاستوں‘‘ کے الفاظ سے تبدیل کر دیا ہے اور پھر اپنے پاس سے یہ اضافہ بھی کر دیا ہے کہ ’’Upon my instruction Zafarullah wrote a memorandum‘‘ حالانکہ اصل متن میں کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ وائسرائے کی ہدایت پر ظفر اللہ نے یہ دستاویز تیار کی تھی۔ بلکہ اس کے برعکس وائسرائے اس دستاویز کے مندر جات کا پوری طرح احاطہ ہی نہیں کر سکا تھا۔ گویا خود ہی ترمیم و اضافہ کے یہ لکھا کہ’’وائسرائے کے کہنے پر ظفر اللہ نے دو ڈومینین ریاستوں کے قیام کا منصوبہ تیار کر کے کیا‘‘ اور پھر اسی کو بنیاد بنا کر یہ ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیا کہ قرارداد لاہور کے پسِ پشت انگریزوں اور قادیانیوں کی سازش کار فرما تھی۔

چودھری خلیق الزماں

سر ظفراللہ خان

ابولکلام آزاد

شورش کاشمیری

ولی خاں کی تیسری اور سب سے بڑی بد دیانتی یہ ہے کہ اُس نے ظفر اللہ کی دستاویز کا کوئی حوالہ دے کر یہ نہیں بتایا کہ اُس نے اس دستاویز میں کیا لکھا تھا۔ اُس نے اس دستاویز سے ایک لفظ بھی نقل نہیں کیا جس پر اُس نے اتنا طومار باندھا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں اس دستاویز میں کیا لکھا گیا ہے۔ 32 صفحات پر مشتمل ظفر اللہ خاں کا یہ نوٹ ہندوستان اور برطانوی دولت مشترکہ میں رہتے ہوئے ایک ڈومینین کی حیثیت سے خودمختار درجہ دیئے جانے کے بارے میں اُن مباحث کا ایک حصہ تھا جو اُس وقت ہندوستان اور برطانیہ میں جاری و ساری تھے۔ اُس مباحث کا پس منظر یہ تھا کہ دوسری عالمی جنگ سے بہت پہلے 1929 میں برطانوی حکومت نے ہندوستان کو ڈومینین کی حیثیت دیئے جانے کا حق تسلیم کر لیا تھا اور پھر 1935 کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ میں بھی اس کے لیے گنجائش رکھی گئی تھی۔ تا ہم کانگریس جس نے 1928 کی نہرو رپورٹ میں ڈومینین کی حیثیت کا مطالبہ کیا تھا بعد میں مکمل آزادی کا نعرہ بلند کرنے لگی تھی۔ چنانچہ 30 کے عشرے میں برطانوی حکومت کی جانب سے ہندوستان کو ڈومینین کا درجہ دیئے جانے کی یقین دہانیاں کرائی جاتی رہیں۔ جبکہ کانگریس مکمل آزادی کا مطالبہ کرتی رہی۔ 26 اکتوبر 1939 کو لارڈ پریوی سیل یعنی وزیر مہر شاہی سر سیموئیل ہور (Samual Hoare) نے دارالعوام میں بیان دیا کہ ہندوستان کو ویسا ہی ڈومینین کا درجہ دیا جائے گا جیسا کہ برطانوی دولت مشترکہ میں دوسری ڈومینینوں کو حاصل ہے۔ اس کے بعد 10 جنوری 1940 کو وائسرائے لنلتھگو نے اوریئنٹ کلب بمبئی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی ڈومینین کی حیثیت وہی ہو گی جو برطانوی دارالعوام کا قانون یعنی Statue of Westminister میں رکھی گئی ہے۔ اور یہ جنگ کے خاتمہ کے فوراً بعد جس قدر جلد ممکن ہُوا ہندوستان کو ڈومینین کا درجہ دے دیا جائے گا۔ اس تمام عرصہ کے دوران مسلم لیگ کی جانب سے یہ سوال اُٹھایا جاتا رہا کہ ڈومینین ہندوستان کے اندر مسلمانوں کو ہندو اکثریت کے مقابلے میں کیا تحفظات حاصل ہوں گے اور یہ کہ جب تک یہ تحفظات حاصل نہیں ہوں گے مسلم لیگ کسی آئین کو تسلیم نہیں کرے گی اور یہ تمام بحث متحدہ ہندوستان کے دائرے ہی میں رہی۔ فروری 1940 میں ظفر اللہ خان نے اسی بحث کے تسلسل میں متذکرہ نوٹ تیار کیا اور ایک نقل جناح کو بھیج دی۔ ہندوستان کو ڈومینین کی حیثیت سے آزادی ملنے کی صورت میں مسلمانوں کو ہندو اکثریت کی جانب سے ممکنہ خطرات کے پیش نظر اُس وقت مسلمانوں کے مابین کئی سکیموں پر بحث جاری و ساری تھی جیسا کہ اس باب کے اوائل میں ذکر کیا گیا ہے۔ دیگر سکیموں کے علاوہ ان میں ایک پاکستان سکیم تھی، دوسرے مشرقی و مغربی خطوں میں علیحدہ علیحدہ وفاق بنانے کی سکیم تھی اور تیسرے ڈومینین ہندوستان میں زیادہ سے زیادہ صوبائی خود مختاری پر مبنی سکیم تھی۔ یہ تمام سکیمیں مسلم رائے عامہ کے حلقوں میں پہلے سے کُھلے عام زیرِ بحث تھیں، انہیں ظفر اللہ نے خفیہ طور پر پیش نہیں کیا تھا۔ اُس نے متذکرہ نوٹ میں ان سکیموں کا فقط موازنہ پیش کیا اور اپنے حتمی تجزیئے میں متحدہ ہندوستان کے دائرے میں رہتے ہوئے فریقین کے مابین ہم آہنگی کی صورت میں کسی حل کی توقع ظاہر کی۔
ظفر اللہ نے اس نوٹ میں پاکستان سکیم کو مکمل طور پر رد کرتے ہوئے لکھا۔ ’’مسلم رہنمائوں نے مایوسی اور مضطراب سے دوچار ہو کر متعدد منصوبے وضع کئے ہیں۔ جن میں سے بعض کو انہوں نے اس مشکل اور انتہائی پیچیدہ صورت حال کے مداویٰ کے طو رپر پیش بھی کیا ہے جس کا اُن کو سامنا ہے۔ مثلاً ایک پاکستان سکیم ہے جس کا وسیع معنوں میں مقصد ہندوستان کو مسلم اور غیر مسلم حصوں میں تقسیم کرنا ہے۔ اس میں مسلم حصے کو پاکستان قرار دیا گیا ہے۔ اس سکیم کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ بھاری تعداد میں تبادلہِ آبادی کو عمل میں لایا جائے گا۔ اس پر عملدرآمد کی صورت میں جو اخراجات ہوں گے، جو پریشانی، اذیت اور ہولنک دہشت درپیش ہو گی اور ہندوستان میں جس وسیع پیمانے پر یہ سب کچھ ہونا ناگزیر ہو گا، فقط اُس کا تصور ہی اس سکیم کو رد کرنے کے لیے کافی ہے۔ ہم وثوق سے سمجھتے ہیں کہ یہ سکیم بالکل ناقابل عمل ہے اور اس سے سوائے پریشانی اور مصیبت کے اور کچھ نتیجہ نہیں نکلے گا اور یوں ہندوستان کے مسائل کے حل میں اس سے کوئی مدد نہیں ملے گی۔ وہ لوگ جو اس سکیم کی وکالت کر رہے ہیں، انہوں نے تصویر کے صرف ایک رخ کو مد نظر رکھا ہے، وہ بعض ایسی چیزوں کو تحفظ دینے کی واحد خواہش سے مغلوب ہو گئے ہیں جو مسلمانوں کو بہت عزیز ہیں مگر وہ اس سکیم کے قابل عمل ہونے کے پہلو کو نظر انداز کر گئے ہیں۔ اس سکیم پر ایک اور بڑا سنگین اعتراض یہ ہے کہ اس کے ذریعے ہندوستان میں مسلم عقیدے اور ثقافت کا فروغ چند جغرافیائی حدود کے اندر محدود ہو کر ر جائے گا، اس سے بڑھ کر مسلمانوں کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔ یہ ہندوستان کی ہندو آبادی کے اُن افراد کے لیے کوئی حل مہیا نہیں کرتا جو ملک کی دو حصوں میں تقسیم اور تبادلہِ آبادی پر عملدرآمد مکمل ہونے کے بعد مشرف بہ اسلام ہوں گے۔ ہم ضروری نہیں سمجھتے کہ اس سکیم پر تفصیلی تنقید کی جائے کیونہ ہم وثوق کے ساتھ سمجھتے ہیں کہ اگر اس کا تنقیدی جائزہ اُن لوگوں کی جانب سے لیا جائے جنہوں نے اسے پیش کیا ہے تو اس سکیم کے پورے طو رپر ناقابل عمل ہونے کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہو گا‘‘۔

قرارداد لاہور کے حوالے سے اتنی وضاحت و صراحت کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ قرار داد لاہور کو انگریز حکمرانوں کی منظوری سے سر ظفر اللہ سے لکھوائے جانے کے حوالے سے ڈاکٹر مبارک علی صاحب کا موقف کمزور ہے.

اس سارے قضیے میں 12 مارچ 1940 کو وائسرائے ہند لارڈ لنلتھگو(Linlithgow) کا وزیر ہند لارڈ زیٹ لینڈ (Zetland) کو لکھے گئے خط کا وہ حصہ معاملے کو قدرے مشکوک بناتا ہے جس میں وہ لکھتا ہے کہ’’اس دستاویز کی نقل جناح اور غالباً حیدری کو بھی دی گئی ہیں اور چوتھے یہ کہ اب جبکہ وہ یعنی ظفر اللہ بلاشبہ اس دستاویز کے مصنف ہونے کا اعتراف نہیں کر سکتا، یہ دستاویز اس لے تیار کی گئی ہے کہ مسلم لیگ اس کی خوب تشہیر کرنے کے نقطہِ نگاہ سے اسے اختیار کرے‘‘۔
وائسرائے کے خط کے اسی حصے کو بُنیاد بنا کر ولی خاں صاحب نے اپنی مرضی کے نتائج اخذ کیے۔ لیکن جیسا کہ ہم نہایت تفصیل سے قرارداد لاہور کے پس منظر اور پیش منظر کو زیرِ بحث لا چکے ہیں۔ اسی طرح سر ظفر اللہ کے مذکورہ نوٹ پر بات ہو چکی ہے۔ لہٰذا اب یہ بات بڑی حد تک واضح ہے کہ (۱) قراردادِ لاہور خالصتاً قائد اعظم اُن کے رُفقا اور مسلم لیگ کی کوشش تھی۔ (۲) غیر جانبداری سے اگر تقسیم ہند کے زمانے کا مطالعہ کیا جائے تو پاکستان کا قیام ایک معجزے سے کم نہ تھا۔ بقول سرظفر اللہ ’’اگر قائد اعظم نہ ہوتے تو پاکستان نہ بنتا‘‘۔
قرارداد لاہور کے حوالے سے اتنی وضاحت و صراحت کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس معاملے میں ڈاکٹر مبارک علی صاحب کا موقف کمزور ہے۔ اس حوالے سے ڈکٹر صاحب کا اپنا کہنا بھی یہی ہے کہ ’’وقت کے ساتھ ساتھ جب مزید شہادتیں ملیں گی تو پھر اس بیانیے کے حوالے سے کہہ سکتے ہیں کہ مستند ہے‘‘
اتنی سی بات پر پاکستان کے نام نہاد ٹھیکیداروں نے اخبارات میں اُودھم مچائے رکھا۔ ڈاکٹر مبارک علی سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اُن کی ہر بات پر ہاں سے ہاں ملانا ضروری ہے۔ مگر جس طرح اُن کے خلاف شامی صاحب نے ایک محاذ کھڑا کیا اورنرگسیت کا رویہ رکھا وہ ناقابل تحسین ہے۔
وہ لکھتے ہیں:
’’کئی برس پہلے ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے پروگرام میں ڈاکٹر صاحب موصوف، ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم، سید منور حسن صاحب اور مجھے یاد کیا تھا۔ انہوں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا تھا کہ اگر آپ 1946 میں ووٹر ہوتے تو کس کو دیتے؟ انہوں نے دھڑلے سے کہا تھا کہ پاکستان کے خلاف ووٹ دیتا۔ اس پر میں نے عرض کیا تھا کہ پاکستان ایک ووٹ کی اکثریت سے تو قائم نہیں ہوا کہ اگر آپ اسے ووٹ نہ دیتے تو یہ نہ بنتا۔
غیر رسمی گفتگو میں یہ بھی عرض کر دیا تھا کہ اگر مولانا ابو الکلام آزاد جیسے عبقری کا ووٹ پاکستان کو نہیں روک سکا تو کسی ’’چمپو‘‘ کا ووٹ کیسے روک لیتا۔
وہ دن جائے اور آج کا آئے، ڈاکٹر صاحب مجھ سے کنّی کتراتے ہیں‘‘۔
اب شامی صاحب سے گذارش ہے کہ اتفاق سے مجھے بھی ڈاکٹر شاہد مسعود کے مذکور ہ پروگراموں کو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ شامی صاحب کا طریقہِ واردات یہ تھا کہ آواز اور لب و لہجہ کو بلند آہنگ رکھ کر حاوی ہونے کی کوشش کی جائے۔
رہ گئی بات ’’چمپو‘‘ ہونے کی تو ڈاکٹر مبارک علی اور آپ کا کوئی موازنہ ہی نہیں۔ ماسوائے بھٹو کے ابتدائی زمانے کے مارشل لا کے دوران جیل کاٹنے اور مقدمہ بُھگتنے کے آپ کے کریڈٹ پر کیا ہے؟
ضیا کے سیاہ دور میں آپ اُس کے کاسہ لیس تھے جبکہ عام صحافی اور سیاسی کارکُن کوڑے کھا رہے تھے۔
حامد میر کے بارے میں میرا یہ گمان ہے کہ انھوں نے شاید ڈاکٹر مبارک علی کی ایک بھی کتاب نہیں پڑھی ورنہ وہ ڈاکٹر صاحب کے حوالے سے اتنا سطحی، جذباتی اور بودا کالم نہ لکھتے۔ جہاں تک سجاد میر صاحب کا تعلق ہے ماشا اللہ جتنی ’’بے برکتی‘‘ اُن کی تحریر میں ہے شاید ہی وہ کسی نمایاں کالم نگار کو نصیب ہوئی ہو۔ سجاد میر صاحب نے ڈاکٹر مبارک علی کے خلاف جو زبان استعمال کی اُس سے خود میر صاحب کا تشخص مجروح ہوا۔ تاثر یہ تھا کہ وہ کروضع دار، مناسب گفتگو کرنے والے شخص ہیں مگر تعصب میں وہ رکھ رکھائو بھی بھول گئے ۔
جہاں تک ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کا تعلق ہے اُن کے حوالے سے اپنی کتاب’’میڈیا منڈی‘‘ سے میں ایک اقتباس درج کرنا چاہوں گا جس سے اُن کی شخصیت زیادہ واضح ہو جائے گی۔
’’کالم نویسوں میں ایک’’بشارتی یا خوابی‘‘ گروپ بھی موجود ہے۔ ان حضرات کو حالاتِ حاضرہ کے متعلق خواب آتے ہیں یا بشارتیں اور وعیدیں ملتی ہیں، جن کو یہ لوگ پھر اپنے کالموں میں بیان کرتے ہیں۔ ان کالم نویسوں میں سے چند بابے بھی ہیں(حالانکہ پہلے صرف اشفاق احمد ہی اس حوالے سے معروف تھے)۔ اس ’’بشارتی اور وعیدی‘‘ گروپ میں ہارون الرشید، اوریا مقبول جان اور ڈاکٹر صفدر محمود نمایاں ہیں۔ ڈاکٹر صاحب تو بعض اوقات تاریخی حوالوں کو بھی اپنے خوابوں کے ذریعے درست کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ماشا اللہ مئورخ بھی ہیں اور دانش ور بھی ہیں۔ 17 جولائی 2011 کو انھوں نے روزنامہ جنگ میں’’بے غیرت‘‘ کے عنوان سے کالم تحریر کیا، جس میں انھوں نے سیاست دانوں کی بے اصولیوں اور سیاسی سمجھوتوں کو برا بھلا اور بے غیرت کہا اور آخر میں اُن کے کالم کی شان اس فقرے پر ٹوٹی’’کیا ڈرون حملے اور ایبٹ آباد آپریشن بھی ہماری بے غیرت سیاست کا ہی شاخسانہ نہیں‘‘۔
پاکستان کا عام صحافی اور باشعور شہری بھی خوب جانتا ہے کہ ڈرون حملے کس کی اجازت سے ہوتے ہیں اور کون ان حملوں کو روک سکتا ہے۔ رہ گئی بات ایبٹ آباد آپریشن کی تو کیا ڈاکٹر صاحب کو نہیں پتا اس کی اصل کہانی کیا ہے؟ اس کو روکنا کس کے بس میں تھا اور کون بے بس؟ سیاست اور ’’بے چارے‘‘ سیاست دانوں کو تو ڈاکٹر صاحب نے کمزور جان کر بے غیر کہہ ڈالا اور بے عزت کر دیا۔ ذرا اُن مقتدر حلقوں کو بے نقاب کرنے کے لیے قلمی جہاد فرمائیں بقول شخصے جن کے قبضہِ قدرت میں پاکستان اور ہماری جان سمجھی جاتی ہے ڈاکٹر صفدر محمود جیسے دانش ور اور مئورخ کے قلم سے سرزد ہونے والے اکثر سطحی کالم پڑھ کر پاکستان کی دانش ورانہ کلاس کی عملی و تجزیاتی صلاحیت پر رونا آتا ہے‘‘۔ (میڈیا منڈی صفحہ 220۔2016)
ڈاکٹر صفدر محمود سجاد میر اور حامد میر جیسے نابغہ روزگار کالم نگاروں کا شاذ ہی کوئی کالم پاکستان کے ستم رسیدہ کسانوں یا مزدوروں کے حوالے سے اخبارات کی زینت بنا ہو۔
مختصر یہ کہ نظریاتی اختلافات کو ذاتی اختلافات کا رنگ نہیں دینا چاہیے۔ شائستگی اور دلائل کے ساتھ بھی اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ سطحی اور بازاری زبان استعمال کر کے آپ نوجوان نسل کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں اور کیا آپ لوگوں کے نقشِ قدم پر چل کر وہ یہ طریقہ گفتگو اور انداز تحریر اپنائیں گے۔
مولانا مودودی، حسین احمد مدنی، عطا اللہ شاہ بخاری، مولانا ابو الکلام آزاد، شورش کاشمیری اور دیگر کئی جیّد شخصیات نے پاکستان بننے کی مخالفت کی تو کیا ہم انھیں گالم گلوچ کریں۔ بات یہ ہے کہ وہ اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق خیال کرتے تھے کہ پاکستان بننے سے مسلمانوں کی طاقت تقسیم ہو جائے گی۔ ان رہنمائوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر اُن کی نیت پر شک کرنا مناسب نہیں۔ لہٰذا ڈاکٹر مبارک علی سے بھی سو بار اختلاف کیجئے مگر لوگوں میں غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے بند کر دیجئے اور بلوغت کی سیڑھی پر قدم رکھ دیجئے۔ اور ہاں ڈاکٹر مبارک علی صاحب آزردہ اور رنجیدہ نہ ہوں دس بونے مل کر بھی آپ کا قد چھوٹا نہیں کر سکتے۔ آپ نے اصولوں پر سمجھوتا کیے بغیر سچ کا سفر ہمیشہ جاری رکھا۔ آپ نے بند ماغوں کو سوچنا اور گُنگ زبانوں کو سوال کرنے کی جرأت دی۔ وقت اور تاریخ فیصلہ کرے گی کہ سچ کیا تھا اور کون جھوٹ کو سچ بنانے پر تُلا ہوا تھا۔


 

پہلا حصہ یہاں ملاحظہ فرمایئے۔

دوسرا حصہ یہاں ملاحظہ فرمایئے۔

تیسرا حصہ یہاں ملاحظہ فرمایئے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: