ہر اجالے میں تیرگی دیکھی ہر اندھیرے میں روشنی پائی — قیصر شہزاد

1

دو روایتی چینی داستانیں اور ان کی معنویت

تبت کے دور دراز مشرقی میدانوں کے کنارے پتھر سے بنے چھوٹے سے مکان میں ایک بوڑھا اپنے نوجوان بیٹے کے ہمراہ رہا کرتا تھا۔اس مختصر خاندان کا واحد سرمایہ اعلیٰ ترین نسل کا ایک انتہائی خوبصورت گھوڑا تھا۔ ایک یخ بستہ صبح بیٹا اٹھا تو اس گھوڑے کو غائب پایا۔ گھوڑے کی گمشدگی کی خبر پھیلنے پر ہمسائے افسوس اور ہمدردی کا اظہار کرنے بوڑھے کے گھر پہنچے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اپنا سب کچھ لٹ جانے پر وہ بہت دلگرفتہ ہوگا۔ لیکن انہوں نے اسے بالکل پرسکون پایا۔

” تمہیں گھوڑا گم ہوجانے کا دکھ نہیں ؟ ” کسی نے پوچھا۔” گھوڑا گم ہوجانا کون سا نقصان ہے؟ بات صر ف یہ ہے کہ کل رات تک یہاں ایک گھوڑا تھا اور آج نہیں ہے، اس میں نقصان کیسا اور دکھی ہونے کاکیا سوال؟ ” بوڑھے نے رسان سے جواب دیا۔

کچھ دن گزرے تو نہ صر ف گمشدہ گھوڑا اچانک لوٹ آیا بلکہ اپنے ہمراہ اسی نسل کے ویسے ہی عمدہ سات آٹھ گھوڑے اور لے آیا۔ لوگوں کو معلوم ہوا تو بوڑھے کے گھر جمع ہو گئے اور اس کی خوش قسمتی اور اس نعمتِ غیر مترقبہ کے حصول پر مبارکباد دینے لگے۔ بوڑھا ہلکے سے مسکرایا اور کہنے لگا: “۔ بات صرف یہ ہے کہ پہلے میرے گھر میں ایک گھوڑا ہوا کرتا تھا اب سات آٹھ گھوڑے ہیں۔بھلا اس کا خوش قسمتی سے کیا تعلق؟”

قیصر شہزاد

پھر یوں ہوا کہ بوڑھے کا بیٹا اپنے ایک گھوڑے سے گر کر ٹانگ تڑوا بیٹھا۔ پڑوسی ایک بار پھر اس کے ہاں آئے اور نوجوان بیٹے کی بدقسمتی کو کوسنے لگے۔ باپ نے حسبِ معمول پرسکون لہجے میں جواب دیا: ” میں نہیں سمجھتا یہ کوئی بدقسمتی ہے کل تک میرے بیٹے کی ٹانگ سلامت تھی اور آج وہ ٹوٹ گئی۔ کسے معلوم خوش قسمتی کیا اور بدقسمتی کیا ہے؟ “پڑوسیوں نے ایک دوسرے کی جانب معنی خیز نظروں سے دیکھا اور چل دیئے

 ایک صبح کچھ سپاہی گاوں میں نمودار ہوئے اور اعلان کیا کہ دشمن کی فوجیں ملک پر حملہ آور ہوگئی ہیں چنانچہ شاہی فرمان کے بموجب ہر گھرانے سے لڑنے کے قابل مردوں کی فوج میں شمولیت لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ بوڑھے کے علاوہ سب کے بیٹوں بھائیوں کو فوج میں شامل ہونا پڑا جبکہ اس کا بیٹا اپنی ٹوٹی ٹانگ کے باعث جنگ کا ایندھن بننے سے بچ گیا اب گاوں والوں کی آنکھیں کھلیں اور انہوں نے بوڑھے کی حکمت و دانائی کا اعتراف کیا۔ بوڑھے نے کوئی جواب نہ دیا اور صرف ہلکی سی مسکراہٹ پر اکتفا کیا۔

پھر کچھ عرصہ گذرنے پر ایک روز جب بوڑھا اپنے بیٹے کے ساتھ بیٹھا چراگاہ میں اپنے گھوڑوں کو چرتا دیکھ رہا تھا، اچانک گانے لگا:

زندگی کا پہیہ رہٹ کی مانند اوپر نیچے گھومتا چلا جاتا ہے،

ہماری زندگیاں اس پہیے سے جڑے، مسلسل بھرتے خالی ہوتے بہت سے ڈبوں کی مانند ہیں

کمہار کی مٹی کی مانند ہمارا مادی وجود ایک سے دوسرا روپ دھارتا رہتا ہے

روپ بار بار ٹوٹتے، بار بار بدلتے جاتے ہیں

نچلا بلند ہوگا اور بلند نیچے گر پڑے گا

تاریک روشن ہوجائے گا اور دولتمند خالی ہاتھ رہ جائے گا

بیٹے، اگر تم غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک ہوتے تو لوگ تمہیں خانقاہ کے لیے وقف کردیتے

اگر تم بہت زیادہ ذہین ہوتے تو کسی کوتوال کی میز کے ساتھ جڑے لوگوں کے بے کار جھگڑے نمٹا رہے ہوتے

ایک گھوڑا صرف ایک گھوڑے جتنی توجہ کا مستحق ہے

دولت اچھی چیز ہے لیکن جلد ہی اپنا ذائقہ کھو بیٹھتی ہے

 امید رکھو نہ خوف ؛ نہ توقع رکھو اور نہ ہی خود کو کسی ہیجان میں مبتلا کرو۔

تمہارے نصیب میں جو بھی آئے شکرادا کرو

ہر شے، ہر کسی کو قبول کرو۔

سادہ، بے پروا اور امن و سہولت میں زندگی بسر کرو۔

تم آسمان پر تیر تو برسا سکتے ہو لیکن وہ لوٹ کر زمین پر ہی گریں گے۔ “

 یہ کہہ کر بوڑھا خاموش ہوگیا!


ایک عرصہ قبل یہ کہانی کسی اردو ادیب (غالبا ابنِ انشاء) کی کسی کتاب میں پڑھی تھی اچھی تو بہت لگی تھی لیکن ہمارے خیال سے اس میں ایک معروف اخلاقی سبق دہرایا گیا تھا یعنی ہر حال میں خوش رہنا چاہیے۔ بہت سال بعد طلباء کو روایتی چینی ثقافت کے ایک بنیادی تصور “وُو-وئی” سمجھانے کوشش کرتے ہوئے ایک روز اچانک یہ کہانی یاد آگئی اور محسوس ہوا کہ اس کی گہرائی میں یہی مرکزی خیال کار فرما ہے۔ داؤ مت کی مسحور کن کتابوں داؤ –دِہ –جِنگ او ر چُوانگ تزو کی ورق گردانی سے اس خیال کو تقویت ملی۔ ارادہ کیا کہ کہیں سے مذکورہ ترجمہ مل جائے تو ان کتابوں سے متعلقہ اجزاء کی روشنی میں مختصر تبصرے کے ساتھ پیش کریں۔ لیکن تلاشِ بسیار کے باوجود ترجمہ دستیاب نہ ہوسکا۔ مجبورا خود اس کہانی کی دو مختلف روایتوں اور اپنے حافظے سے کچھ کام لیتے ہوئے از سرِ نو سنانا پڑی۔

‘وُ و-وئی ‘ کا انگریزی میں ترجمہ عموما ‘نان –ایکشن’ یا ‘ان ایکشن’ یعنی ‘بے عملی’ کیا جاتا ہے جو کہ غلط فہمی کا باعث بنتا ہے۔ اس کا بہتر ترجمہ شاید ایڈورڈ سلنگر لینڈ کا ‘ایفرٹ لیس ایکشن’ سمجھا جاسکتا ہے یعنی ایسا عمل جو کرنے کے لیے کسی تکلف، تصنع، جدوجہد اور اپنے آپ سے جنگ نہ کرنی پڑے بلکہ وہ انسان سے بالکل ایسے صادر ہو جیسے سورج سے روشنی صادر ہوتی ہے( روحانی ریاضت کا بنیاد ی مقصد بھی نیکی کے راستے پر عمل کو فطرتِ ثانیہ بننے میں مدد کرنا ہی ہوتا ہے)۔ البتہ سلنگر لینڈ کے اس ترجمے میں البتہ یہ خامی بدستور ہے ہے کہ یہ صرف اس تصور کا عمل سے متعلق پہلو سامنے لاتا ہے حالانکہ اس کاایک بنیادی پہلو ذہنی رویے اور فکر سے متعلق ہے اور یہ پہلو خود انہوں نے بھی واضح کیا ہے اور اس کہانی میں بھی اس کی جانب اشارہ پایا جاتا ہے۔

انسانی شخصیت کی باطنی ساخت سمجھانے کے لیےفلسفیوں، ماہرینِ نفسیات اور صوفیا نےمختلف تصویریں پیش کی ہیں۔ لیکن ہماری دانست میں سادہ اور آسان ترین نقشہ وہ ہے جس کے مطابق اسے فہم، ارادے اور روح میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ فہم کا بنیادی کام امتیاز قائم کرنا ہے چاہے یہ مطلق و اضافی کے درمیان ہو، اہم غیر اہم کے یا اچھے اور برے کے مابین۔ یہ امتیاز قائم ہو جانے کے بعد شخصیت کا ارادی پہلو اسے ایک سے منسلک ہونے اور دوسرے سے پرے ہٹنے پر تحریک دیتا ہے۔ جہاں تک روح کا تعلق ہے تو اس کا کام نہ تو امتیاز قائم کرنا ہے اور نہ وابستگی و دوری بلکہ اس کی ساری کارفرمائی محبت اور نفرت یا اباء کے سانچوں میں ہوتی ہے۔

عام طور پر انسانوں کا زندگی کی جانب رویہ اور اسے گزارنے کا طرز یہی ہوتا ہے جس چیز کو اچھا /مفید سمجھ کر اپنا مقصدِ حیات بنا لیا جائے اس کو محبت کا مرکز بنا لیا جاتا ہے اور اس کے حصول کی خاطر جدوجہد کی جاتی ہے، اس کے راستے میں آنے والی رکاوٹوں اور روکنے والوں سے نفرت اور جنگ کی جاتی ہے۔ منزل کی جانب ہر بڑھتے قدم سے انسان خوش جبکہ ہر دھچکے پر پریشان ہوتا ہے۔ اس سارے طرزِ فکر وعمل کی بنیاد حقیقت اور دنیا کودوئیوں میں تقسیم سمجھنا اور یہ یقین رکھنا کہ ان دوئیوں کو جمع کرنے، ان کے مابین واقع خلیج کو پاٹنے کی کوئی صورت ممکن نہیں : سیاہ سیاہ ہے اور سفید سفید، اچھاخالص اچھا ہے اور برُا محض بُرا۔ انہی دوئیوں میں سے ایک انسان اور باقی ماندہ کائنات کی بھی ہے جس کے مطابق یہ دونوں گویا آمنے سامنے مورچہ بند فوجیں ہیں انسان کو اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے کائنات اور اس میں کارفرما قوتوں سے جنگ کرنا اور ان پر قابو پانا ضروری ہے۔

ان مفروضات کو نہ تو بالکل غلط کہا جاسکتا ہے نہ ان پر مبنی انسانوں کے طرزِ فکر و عمل کولیکن سمجھنے کی بات صرف یہ ہے کہ اسی کرہ ارض پر پھلنے پھولنے والی قدیم ترین تہذیبی روایتوں میں سے ایک یعنی مشرقِ بعید کی روایت، جس کا یونان چین بنتا ہے، مذکورہ مفروضوں سے بالکل متضاد سمت میں سوچتی اور اپنی تمدنی زندگی کی بنا ڈالتی ہے۔ اگر مشرق مشرق ہے اور مغرب مغرب اور دونوں دریا کے آپس میں کبھی نہ ملنے والے دو کناروں کی طرح ہیں تو ایسا صرف اسی بنیادی فرق کے باعث ہے(لیکن اگر ہم نے مشرقِ بعید کی تہذیب کو ہمدردانہ انداز میں سمجھنا ہے تو ہمیں مشرق و مغرب کی اس مطلق دوئی پر اصرار بھی چھوڑنا پڑے گا اور دیکھنا ہوگا کہ ان دونوں کے درمیانی صورت کیا ہے)۔ اگر مغربی ذہن کے اس بنیادی رجحان کی عکاسی بشپ بٹلر کا یہ قول کرتا ہے کہ “ہر شے وہی ہے جو کہ وہ ہے، نہ کہ کچھ اور” تو مشرقی طرزِ فکر کا خلاصہ درجِ ذیل ہے۔ :”خوبصورتی کو پہچان لو تو بدصورتی وجود میں آجاتی ہے۔اچھائی کو پہچانو تو برائی بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ہست اور نیست ایک دوسرے کو پیدا کرتے ہیں،مشکل کا دارو مدار آسان پرہے۔ طویل کا امتحان مختصر سے لیا جاتا ہے۔ بالا کی حدبندی پست سے ہوتی ہے۔۔۔۔( داؤ –دِہ –جِنگ : باب ۲)۔لہذا کائنات میں نظر آنے والی ثنویتیں اور دوئیاں مطلق، یا دریا کے دو کناروں کی مانند نہیں بلکہ ان کے ہر ایک رکن میں دوسرے کا شائبہ پایا جاتا ہے(یِن- یانگ کی علامت[ یہی واضح کرتی ہے)

یہ بتانا چنداں ضروری نہیں کہ چیزوں اور تصورات کو ایک دوسرے الگ کرنے کی بنیاد اسی وقت پڑ جاتی ہے جب آپ انہیں نام دیتے ہیں داؤ –دِہ –جِنگ کا مشہورو معروف پہلا باب اسی طرف اشارہ کرتا ہے: “

 داؤ نامی داؤ حقیقی داؤ نہیں

کسی ابدی شے کو نام نہیں دیا جاسکتا؛

بےنام: اصلِ کائنات؛ نام: دس ہزار اشیاء کی جڑ؛

خواہشات سے خالی۔ باطن کا بھیدی!

خواہش سے پُر۔ ظاہر کا قیدی”

جس طرح باقی دوئیاں خالص نہیں اسی طرح اس نقطہ نظر سے انسان اور کائنات بھی آمنے سامنےکھڑے متضادات نہیں لہذا انسان نے کائنات کو تسخیر کرنے یا اس کا مقابلہ کرنے کی بجائے اس کے طریقے کو سمجھ کر اپنے آپ کواس کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے: ” داؤ (یعنی کائنات کاراستہ، طریقہ یا قانون ) ” تہی ہے، اس کا استعمال کبھی ختم نہیں ہوتا؛ بے انتہاء ہے، سب چیزوں کا مبداء یہ تیز کناروں کو کند بناتا، گرہیں کھولتااور چمک دمک کی چندھیاہٹ کو ہلکا کرتا ہے(باب ۴) اسی لیے داؤ سے موافقت رکھنے والے کبھی پُر ہونے کی تمنا نہیں کرتے اور چونکہ وہ معمور ہونے کی خواہش نہیں رکھتے اس لیے بغیر کسی جدوجہد کے پیچھے ہٹ جاتے ہیں”۔ (باب ۱۵)۔ عملِ بے عمل کا تصور یہیں سے جنم لیتا ہے۔ جب یہ بات کہ تمام گوناگونیوں، تضادات، تناقضات اور اختلافات کی اصل “خالی پن” ہے اور یہ کہ دنیا میں کوئی ہر شے اپنےمتناقض یا ضد کے ساتھ ملی جلی پائی جاتی ہے (ابنِ عربی کی اصطلاح میں یہ دنیا ‘برزخ ‘ ہےجس میں ہر شے اور تصور کا ایک رخ خیرِ مطلق یعنی وجود اور دوسرا شرِ مطلق یعنی عدم کی جانب ہے چنانچہ ہر شے خیر وشر کا امتزاج ہے) اور آپ کی کاوشِ حیات کی سمت کائناتی حرکت کی سمت سے مخالف نہیں ہونی چاہیے، سمجھ لی جائے تو انسان کے لیے جذباتی اور روحانی طور پر سب کچھ یکساں ہوجاتا ہے اس کے سامنے ہرشے محض واقعہ ہوتی ہے جس پر باہر سے لگایا جانے والا اچھائی یا برائی، فائدے یا نقصان کا لیبل فالتو عارضی او ر بے معنی لگتا ہے۔اسی لیے گھوڑا کھوبیٹھنے والا بوڑھا یہ سمجھ نہیں پاتا کہ لوگوں کو اچانک خالی ہوجانے والا اصطبل یا اس میں گھوڑوں کی تعداد میں کمی نقصان اور رنج وغم کا باعث کیوں لگتا ہے۔ واقعاتی صورتِ حال بدل جانے سے اس کے دل کی کیفیت کیوں بدلے؟ دیکھئے داؤمت کی دوسری اہم ترین کتاب ” چوانگ تزو” کیا بتاتی ہے:

“اگرہم چیزوں کو داؤکی روشنی میں دیکھیں تو نہ تو کوئی شے بہترین ہے اور نہ کوئی بدترین۔ آپ اپنی روشنی میں دیکھے جانے پر ہر شے اپنے انداز میں منفر د ہے۔ اگر کسی اور چیز کا موازنہ اس سے اس کی شرائط پر کریں تو یہ دوسری سے بہتر لگ سکتی ہے۔ لیکن اگر کل کے سیاق میں دیکھا جائےتو کوئی بھی شے بہتر نہ ہو۔ کسی اور شے سے عظیم تر شے عظیم کہلاتی ہے۔ چنانچہ کوئی شے ایسی نہیں جو عظیم نہ ہو۔ کسی اور شے سے حقیر تر شے حقیر کہلاتی ہے۔ چنانچہ کوئی شے ایسی نہیں جو حقیر نہ ہو۔ اس لیے ساری کائنات چاول کے ایک دانے، بال کی نوک جتنی چھوٹی یا پھر پہاڑ جتنی بڑی ہوسکتی ہے۔ اضافیت کا راستہ یہی ہے۔ مینڈھوں کی ٹکروں سے دیواریں گرائی تو جاسکتی ہیں لیکن دیوار کے سوراخ اس طرح بند نہیں کیے جاسکتے۔۔۔۔ چنانچہ جو کوئی غلط کے بجائے صرف درست، بے ترتیبی سے پاک ترتیب کی خواہش کرے، وہ زمین و آسمان کے قوانین سے ناواقف ہے۔ اسے خبر نہیں کہ چیزیں کس طرح باہم منسلک ہیں۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی شخص صرف آسمان سے چمٹا اور زمین سے بالکل بے خبر رہے؟ یہ دونوں تو ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں : ایک کو جاننا دوسرے کو جاننے کے مترادف اور کسی ایک کا انکار دوسرے کا بھی انکار ہے۔ ” (انتخاب از تھامس مرٹن، ص: ۹۹-۱۰۰)

 “وُو –وئی” یہ بصیرت حاصل ہوجانے کے بعد’ عمل ‘ انجام دینے کا واحد راستہ بچتا ہے اور اس راستے پر چلنے کا مطلب یہ ہے کہ اندرونی طور پر باہم متناقض اقدار کے جوڑوں میں سے کسی ایک قدر سے وابستگی اختیار کیے بغیر وہ اور صرف اتنا کیا جائے جتنا لمحہ موجود کا تقاضا ہو:

 ” دانا ہمیشہ عملِ بے عمل سے وابستہ رہتا ہے؛ سکھائے بغیر چلتا، درس دیئے بغیر دس ہزار چیزیں تخلیق کرتا ہے۔ عمل کرتا ہے لیکن تصنع نہیں۔ (امور کو) سرانجام دیتا تو ہے لیکن تعریف چاہے بغیر؛ جب تعریف کی توقع نہ ہو۔ تو کارنامے دیر پا رہتے ہیں۔”(داؤ-دہ -جنگ : باب ۲)۔

 ‘ دانا پیچھے ہٹ جانے کےباوجود ہمیشہ آگے رہتا ہے؛ باہر رہنے کے باوجود ہوتا ہمیشہ اندر ہوتا ہے۔

(تمہارا) ذاتی مفاد کوئی نہیں ؟ذات تکمیل پا چکی! (باب ۷)

” دانا۔۔۔اپنا آپ دکھاتانہیں۔۔۔۔۔ چنانچہ چمکتا ہے

اپنا آپ مسلط نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔ چنانچہ سب سے ممتاز ٹھہرتا ہے

اپنی تعریف نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔ اسی لیے کامیابی اس کے قدم چومتی ہے۔۔کسی پر قابو پانے کا خواہشمند نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے آسمان تلے کوئی بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ( باب ۴۰) چنانچہ واضح ہے کہ عملِ بے عمل سے مراد “کچھ نہ کرنا” نہیں بلکہ کرنے کے ہر کام کو ایک خاص بصیرت اور انداز سے کرنا ہے۔ وُو –وئی دراصل اس عمل کے اس انداز کی مخالفت ہے جسے انگریزی میں “اوور ڈوئنگ” کہا جاتا ہے:

” آسمانی طریق۔۔۔ کام انجام دے کر پیچھے ہٹ جانا۔۔۔!”(باب ۹)

داؤ کی حرکت رجعت ہے

داؤ کا طرزِ عمل۔۔۔سپردگی

آسمانی داؤ

فائدہ تو پہنچاتا ہے نقصان نہیں

دانا لوگوں کاطریق

فعل انجام دینا لیکن جھگڑے بغیر ( باب۸۱)

چینی حکمت کا یہ مرکزی پیغام بہت خوبصورتی سے “پانی ” کی رمزیت سے واضح کیا جاتا ہے: ” بہترین کام پانی کی طرح ہو جانا ہے۔۔۔۔۔ ہر شے کو فائدہ پہنچاتا ہے لیکن کبھی مقابلہ نہیں کرتا یہ ایسی (نشیبی) جگہوں پر جمع ہوتا ہے جہاں جانا انسانوں کو ناگوار گزرتا ہے داؤ کے قریب۔۔۔۔۔(باب۸)

پانی کی اسی مرکزی علامت کے باعث معروف برطانوی مصنف ایلن واٹس نے داؤ مت پر اپنی تعارفی کتاب کا عنوان ہی “واٹر کورس وے” رکھا ہے۔ اس تہذیبی روایت میں نرمی کو سب سے بڑی طاقت سمجھا گیا اور اس حقیقت کو اظہر من الشمس بنانے کے لیے پانی کی علامت استعمال کی گئی جو نرم ترین شے ہونے کے باوجود چٹانوں میں دراڑیں ڈال دیتا ہے۔ راستے میں رکاوٹ آنے پر آرام سے اپنا راستہ بدل لیتا ہے لیکن جس راستے پر وہ ایک عرصہ نرمی سے بہتا رہے وہاں زمین میں گہرے راستے بنا جاتا ہے۔

ہم نے آغاز کہانی سے کیا گیا تھا، اختتام بھی کہانی پر ہی کرتے ہیں:

کندہ کار:

 استاد کندہ کار “کھینگ” نے قیمتی لکڑی تراش کر گھنٹی رکھنے کا ایک چبوترہ تخلیق کیا۔ جس نے بھی یہ شاہکار دیکھا دانتوں میں انگلیاں داب لیں۔ ” یہ انسانی ہاتھ کا کام نہیں، ایسا کمال کوئی غیر انسانی مخلوق ہی کرسکتی ہے!” بہت سوں نے کہا۔ شہزادے “لیو” نےاستاد کو بلواکر دریافت کیا: “سچ بتاؤ، تمہاری مہارت کا راز کیا ہے؟

کھینگ نے جواب دیا: “حضور میں تو محض ایک کاریگر ہوں، میرا کوئی راز نہیں۔ بات صرف اتنی سی ہے جب سے اس کام کے متعلق سوچنا شروع کیا جس کا حکم آپ نے دیا تھا تو میں نے اپنے ذہن کی نگرانی شروع کردی تاکہ وہ غیرضروری فضول چیزوں پر اپنی توجہ کو منتشر نہ کرے۔ پھر سکونِ قلب کے لیے میں نے روزہ رکھا۔ تین روزے رکھنے کے بعدمیں کامیابی اور ناکامی دونوں بھول گیا۔پانچ روزوں کے بعدمیں نے تعریف و تنقید فراموش کردی۔ سات روزے رکھنے کے بعد میں سب اعضا سمیت اپنا جسم بھول گیا۔ تب تک حضور اور حضور کے دربار کا ہر خیال میرے ذہن سے رخصت ہوچکا تھا۔ مجھے میرے کام سے غافل کرسکنے والی ہر شے غائب ہوچکی تھی اورمیرا سارے کا سارا وجود ایک خیال پر مرتکز تھا: گھنٹی رکھنے کا چبوترہ۔ پھر میں جنگل کو گیا تاکہ درختوں کا ان کی فطری حالت پرمعاینہ کرسکوں۔ جب صحیح درخت میرے سامنے نمودار ہوا، تو چبوترہ بھی ساتھ ہی اس کے اندر واضح طور پر نمودار ہوگیا۔ اب میرے کرنے کا م یہی تھا کہ ہاتھ بڑھاؤں اور کام شروع کردوں۔ اگر مجھے یہ درخت نہ ملتا تو چبوترہ کبھی وجود میں نہ آتا۔ ہوا کیاتھا؟ میرے مرتکز خیال کا درخت میں چھپے چبوترے سے سامنا ہوگیا۔ یہ جیتا جاگتا آمنا سامنا ہی تھا جسے کے نتیجے میں میری تخلیق سامنے آئی، جسے آپ سب کسی غیر انسانی مخلوق کا کارنامہ سمجھ رہے ہیں۔ (چوانگ تزو۱۲۷-۱۲۸)

کارگاہِ حیات میں اے دوست

یہ حقیقت مجھے نظر آئی

ہر اجالے میں تیرگی دیکھی

ہر اندھیرے میں روشنی پائی

جگر

 

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. آپ تینوں بڑوں کی یہ حوصلہ افزائی ایسی حقیر کاوشیں جاری رکھنے پر ممد ہوگی۔ بہت شکریہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: