داستان گو —- قسط نمبر 6 — ادریس آزاد

0
  • 2
    Shares

آج بڑے زوروں کی بارش ہورہی تھی۔ پروفیسر ولسن اپنے کمرے کی کھڑکی کھولے، باہر کا دلکش منظر دیکھنے میں مگن تھا۔ مہمان خانے کی عمارت گھنے درختوں میں گھِری ہوئی تھی۔ گرج چمک تو تھی لیکن طوفان نہیں تھا۔ یہی وجہ تھی کہ درختوں نے بھی مزاحمت کی بجائے نہانا شروع کردیا۔ مہمان خانے کے سامنے کا پورا جنگل جَل تھَل ہوگیا تھا۔ طوفانی ہوا نہ ہونے کی وجہ سےبارش کا پانی جبرالٹ کی زمین پر عمودی دھاروں کی شکل میں گررہاتھا۔ ولسن نے کھڑکی سے ہی آسمان کی طرف دیکھا۔ آسمان گھنے، سیاہ بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ جن میں پل پل بعد بجلیاں چمک رہی تھیں اور جب بھی بجلی زیادہ شدت سے چمکتی چند سیکنڈز بعد زور سے بادلوں کے گرجنے کی آواز سنائی دیتی۔ مہمان خانے کی طرف آنے والے راستے کا منظر دِل موہ لینے والا تھا۔ کشادہ سڑک کے دونوں کناروں پر شیشم کی نسل کے گھنے پیڑوں کی سیدھی قطاریں، جو اوپر سے اِس طرح آپس میں ملی ہوئی تھیں کہ نیچے ساری سڑک پوری طرح ڈھک گئی تھی، بارش کے پانی کو گویا کسی چھلنی کی طرح نِتار رہے تھے۔ صدردروازے پرکسی گلدستے کی شکل کا’’ رھوڈیم‘‘ کا درخت جو بڑے بڑے رنگین پھولوں سے لدا ہوا تھابارش کے حضور اپنے حسین پھولوں کی پَتیوں کا نذرانہ پیش کررہاتھا۔ تیز بارش کی وجہ سے بہتے ہوئے پانی پر رھوڈیم کے پھول کنول بن کر تیر رہے تھے۔
پروفیسر ولسن مسحور ہوگیا۔ سن رسیدہ پروفیسر کے دِل میں گدگدی سی ہونے لگی۔ جوانی کی حسین لیکن اُداس یادیں دل میں کہیں جاگتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ پروفیسر سوچنے لگا کہ وہ کتنا رومان پسند ہوا کرتاتھا۔ شباب کے دن اور پھر ’’کولوراڈوسٹیٹ‘‘ کا ایک شاداب گاؤں، جہاں پروفیسر کے لڑکپن کی محبت نے پہلی انگڑائی لی تھی۔ اُس لڑکی سے وہ پہلی بار چرچ میں ملا تھا۔ اُس دن بھی بارش تھی۔ وہ دونوں دُور دُور سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے اور پھر جاتےہوئے ’پیٹریشا‘ نے اُس کی طرف مسکراہٹ بھی اُچھالی تھی۔ وہ کتناخوش ہوا تھا۔ سارا دن جھومتا رہاتھا۔ پروفیسر ولسن کے چہرے پر گہری مسکراہٹ پھیل گئی۔ پیٹریشا اور وہ سکول سے واپسی پر ساتھ ساتھ پیدل چلتے ہوئے گھروں کو آتے تھے اور روز کتنی باتیں کرتے تھے۔ اکثر پیٹریشا اپنا ٹفن کھول کر کھانے کی کوئی چیز ولسن کو دیتے ہوئے کہتی، ’’یہ میں نے تمہارے لیے رکھ لیا تھا‘‘۔ پروفیسر کے دِل کو دھکا سا لگا۔ کہاں گئے وہ دن؟ وہ یکلخت اُداس ہوگیا۔
معاً ولسن کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ پیٹریشا کو بھی شاید جگادیا گیا ہو۔ وہ سوچ میں پڑگیا۔اور پھر اس کی سوچوں کی گاڑی کسی ایک سٹیشن پر نہ رُکی۔ اس نے اپنے سب دوستوں اور قریبی رشتوں کو ایک ایک کرکے یاد کیا اور سوچنے لگا کہ ان میں سے کوئی نہ کوئی تو ضرور جاگ گیاہوگا۔ یہ خیال پروفیسر کو پہلے نہیں آیا تھا۔ اِس خیال کے آتے ہی ولسن کا دِل تیزی سے دھڑکنے لگا۔’’کیا اُسے معلوم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے؟ کہاں سے پتہ چلے گا؟ یقیناً ’وِلسما‘ سے پتہ چلے گا۔ میں ضرور پتہ کرونگا‘‘۔ بارش نے آج بوڑھے پروفیسر کو جذباتی کردیا تھا۔ وہ بارش کی موسیقی، پانی کی اٹھکیلیاں، پیڑوں کے رنگ اور اپنی رومانی یادوں کی مَستی میں کھویا کہیں بہت دُور نکل گیا تھا کہ اُسے اپنے عقب میں آہٹ سنائی دی۔ اس نے مُڑ کر دیکھا تو کمرے میں انیتا کھڑی تھی۔
اَنیتا بنیادی طور پر ہندوستانی لڑکی تھی لیکن اُس کے ماتا پتا اَنیتا کی پیدائش سے بھی بہت پہلے کے امریکہ ہوتے تھے اور شاید پہلی بار ہیں ملے تھے چنانچہ اَنیتا اب امریکن نیشنل ہی تھی۔ لیکن اُس کے ہندوستانی خال وخد اور سانولی رنگت، چیخ چیخ کر اُس کے ہندوستانی ہونے کا راز کھول دیا کرتی تھی۔ پروفیسر نے نوٹ کیا تھا کہ وہ لوگ جب سے یہاں آئے تھے، سب سے زیادہ اُداس انیتا ہی رہتی تھی۔ پروفیسر نے اُسے اپنے کمرے میں دیکھا تو کھڑکی سے ہٹ آیا۔
’’اَنیتا! ‘‘
’’پروفیسر!‘‘
پروفیسر نے انیتا کو اور انیتا نے پروفیسر کو نام لے کر پکارا اور پھر پروفیسر نے خفیف سا ہنستے ہوئےکہا،
’’آؤ آؤ بیٹا! تم اتنی زیادہ اُداس رہنے لگی ہو کہ تمہیں دیکھ کر ہم سب بھی اُداس ہوجاتے ہیں۔کیا تم خوش نہیں ہو؟ تم نے دیکھا؟ یہ دنیا کتنی خوبصورت ہے‘‘
’’پروفیسر! خوبصورت ہے۔ بہت خوبصورت ہے۔ لیکن آپ تو جانتے ہوں گے۔ منظر ہو یا موسم، ان کی ساری خوبصورتی کا تعلق تو مَن اور مُوڈ کے ساتھ ہوتا ہے نا؟ میرا دِل ہی جب اُداس ہے تو میں اِن موسموں اور اِن خوبصورتیوں کو کیسے انجوائے کروں؟‘‘
پروفیسر نے دانتوں تلے ہونٹ دبا اور قدرے سرجھکا کر، جھانکنے کے سے انداز میں انیتا کی طرف دیکھا اور اُس کے منہ سے نکلا،
’’ہممم‘‘
پھر کچھ دیر بعد پروفیسر نے انیتا سے پوچھا،
’’تم خاص طور پر کس وجہ سے اُداس ہو؟ کیاتم خوش نہیں ہو کہ ہم زندہ اور ثابت و سالم کسی آباد سیّارے پر لینڈ کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں؟ زمین سے تو ہم بہت دُور تھے۔ اینڈورمیڈا پروجیکٹ کے بارے میں تو ناسا نے اپنے اعدادوشمار میں پہلے ہی اعلان کردیا تھا کہ پروجیکٹ کی واپسی کے چانسز کم ہیں۔ ہم اگر راستے میں مر، وَر گئے ہوتے تو؟‘‘

پروفیسر نے خاصی معقول دلیل سے انیتا کو قائل کرنے کی کوشش کی، لیکن انیتا نے بڑے اعتماد کے ساتھ کہا،
’’نہیں! میرے دِل کو یقین تھا کہ ہم لوگ ضرور زمین پر واپس پہنچے گے۔ میں تو اپنے ماتا پِتا اور سب گھروالوں کو اپنے خوابوں میں روز ملتی تھی۔ میں تو اپنی نانو کو بھی خواب میں کئی بار ملی تھی۔ میرا دل مطمئن تھا۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ یہ لوگ ہمیں یہاں لے آئینگے‘‘
پروفیسر نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے انیتا کی طرف دیکھا،
’’کمال ہے۔ کیا تم یہ بات تسلیم کرنے لیے تیار نہیں ہو کہ ہم ’’وارم ہول‘‘ سے گزرے ہیں؟ سوچو! اگر ہم زمین پر جاتے تو کیا ہوتا؟ تم نے سُنا نہیں اِس وقت زمین پر کوئی خلائی ادارہ ہی نہیں ہے سِرے سے۔ ہم لینڈ کیسے کرتے؟ اور فرض کرلو! ہم کسی نہ کسی طرح اُتر بھی جاتے تو کیا تم اپنی فیملی سے مل پاتیں؟ انیتا ہوش میں آؤ بیٹا! ہم مستقبل میں پندرہ سوسال آگے آچکے ہیں‘‘
اَنیتا نے کسی قدر منہ بسورتے ہوئے پروفیسر کی بات سُنی اور جیسے لاجواب سی ہوگئی۔ پھر کچھ دیر بعد اس نے کہا،
’’اِسی لیے میں نے واپس جانے کا فیصلہ کیا ہے‘‘
اب پروفیسر بہت بری طرح چونکا۔
’’کیا؟ …۔ تم گریوٹی بس میں سفر کروگی؟ یہ تو خطرناک ہے۔ بہت زیادہ خطرناک۔ تم فزکس جانتی ہو۔ مطلب تم اکیسویں صدی میں واپس جانا چاہتی ہو؟ بہت زیادہ وائینڈ ہوگی ٹائم کوائیل، یہ بہت مشکل ہے یہاں تک کہ ان لوگوں کے لیے بھی‘‘
’’یس پروفیسر! مجھے واپس جانا ہے‘‘
پروفیسر ولسن خاموش ہوگیا۔ لیکن اس کی آنکھوں میں حیرت تھی۔ وہ واپس کھڑکی طرف مُڑا تو انیتا بھی اس کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی کھڑکی پاس آگئی۔ پروفیسر دوبارہ بارش کو دیکھنے لگا۔ لیکن انیتا منتظر تھی کہ پروفیسر کوئی بات کرےگا۔ وہ بھی خاموشی سے باہر دیکھنے لگی۔
’’آج تو خوب مینہہ پڑرہاہے‘‘
انیتا نے پروفیسر کو بولنے کے لیے آمادہ کرنا چاہا۔ پروفیسر نے ایک لمبی اور ٹھنڈی سانس لی اور انیتا کی طرف دیکھے بغیر کہنے لگا،
’’دیکھو! انیتا! میں تو بوڑھا ہوچکاہوں اور جلد مرجاؤنگا۔ اب چونکہ ہم سب جان گئے ہیں کہ انسان کا مستقبل کیسا ہوگا۔ تو میں یہ بھی جان گیا ہوں کہ میں اکیسوی صدی میں بھی مرتا تو بھی جب بیدار کیا جاتا تو مجھے ذرا بھی پتہ نہ چلتا کہ کتنا وقت گزر گیاہے۔ اب یہاں بھی جب مرونگا تو ایسا ہی ہوگا۔ رہ گئی بات میری پرسنٹیج کی تو میں اپنی زندگی گزار چکا۔ میرے اعمال نے میری شخصیت بنا دی ہے۔ میں یہاں مروں یا وہاں مروں، میرا پرسنٹیج لگ بھگ ایک جیسا ہی ہوگا۔ وہاں میرا کوئی نہیں رہا۔ والدین، بہن بھائی، محبتیں، بیوی، بچے، سب کے سب اُڑ گئے۔ کچھ مرگئے اورکچھ مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔ لیکن مجھے اس بات کا یقین ہونے لگا ہے کہ وہ لوگ یہاں ہونگے۔ ان میں سے کوئی نہ کوئی تو یہاں ضرور ہوگا۔ کیا پتہ میری بیوی یہیں ہو۔ کیا پتہ میرے والدین یہیں ہوں‘‘
اتنا کہہ کر کچھ دیر کے لیے پروفیسر خاموش ہوگیا۔ انیتا منتظر تھی کہ پروفیسر مزید بات کریگا۔ چندثانیے بعد پروفیسر نے پھر بولنا شروع کیا،
’’لیکن تمہارا معاملہ مختلف ہے۔ تم ابھی جوان ہو۔ تمہارے سامنے پوری زندگی پڑی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ تم اکیسویں صدی کے امریکہ میں واپس لوٹ جانا چاہتی ہو‘‘
پروفیسر کے بات کرنے کا انداز ایسا تھا جیسے وہ خودکلامی کررہاہو۔ انیتا اس کی بات دھیان سے سُن رہی تھی۔اب کی بارپروفیسر چپ ہوا تو انیتا کہنے لگی،
’’ایک اور وجہ بھی ہے پروفیسر آپ جانتے ہیں۔ میرے اور ڈاکٹر چینگ کے درمیان میاں بیوی کا رشتہ اب نہیں رہا۔ ناسا نے ہماری شادیاں تو کروادی تھی کہ سالہا سال خلا میں اکیلا نہ رہا جائے اور ہر مرد کے ساتھ ایک عورت اور ہرعورت کے ساتھ ایک مرد ہو۔ دانش اور ایلس کی شادی ٹھیک ہوئی۔ ڈاکٹر بوسٹن اورڈاکٹر کیمیلا تو پہلے سے ہی شادی شدہ تھے۔ لیکن میرا اور چینگ کا رشتہ بے جوڑ تھا۔ ہمارے اس لمبے سفر نے مجھے اتنا اُداس اور نڈھال کردیا تھا اور پھر چینگ کے ساتھ نباہ بھی نہ ہو سکا۔ میں نے شِپ میں دِن کس طرح گزارے، یہ میں ہی جانتی ہوں۔ میں گھر جانے کے سپنے دیکھتی آرہی تھی کہ ہم یہاں ٹریپ ہوگئے۔ نیچرلی مجھے اچھا محسوس نہیں ہوتا۔ مجھے اب بھی گھر جانے کو جی چاہتاہے۔ اور اِس بار میں واپس گئی تو امریکہ میں بھی نہ رہونگی۔ اب تو میں نے فیوچر دیکھ لیا ہے۔ میں انڈیا واپس چلی جاؤنگی۔ میں اپنے لوگوں میں مرنا چاہتی ہوں‘‘
انیتا کے منہ سے ’’مرنے ‘‘ کی بات سُن کر پروفیسر کو بہت عجیب لگا۔ کیایہ لڑکی سڈرہ کمیونٹی کے وجود پر یقین نہیں رکھتی؟ ہممم ضرور انیتا کچھ اور سمجھتی ہے۔ بالآخر پروفیسر نے کہا،
’’ٹھیک ہے۔ اِن لوگوں نے ہمیں ہماری مرضی پر چھوڑ دیا ہے۔ تم اگر واپس جانا چاہتی ہو تو اپنا اختیار اور اپنی مرضی استعمال کرو! میں تو یہیں رہونگا۔ بلکہ ابھی میں سوچ رہا تھا کہ میں ’ولسما‘ کے ریکارڈ سے معلوم کرونگا۔ کیا میری ماں کو جگایا جاچکاہے؟ اور اگر نہیں جگایا جاچکا تو میں درخواست کرونگا کہ میری ماں کو جگایا جائے۔ میں اور لوگوں کو بھی جگاؤنگا۔ دوستوں کو بھی۔ بیوی کو بھی۔ تمہیں میں نے اپنی بیوی کی باتیں بتائی ہیں نا؟ ہم ایک خوشحال فیملی تھی، لیکن صرف اُس وقت تک جب تک بچے چھوٹے تھے اور میری بیوی زندہ تھی۔ میری بیوی کی موت کےساتھ ہی بچے میرے ہاتھ سے نکل گئے‘‘
اتنا کہہ کر پروفیسر اچانک چپ ہوگیا جیسے کسی سوچ نے اس کا دامن پکڑلیا ہو۔ پھر وہ خوکلامی کے سے انداز میں بولا،
’’نہیں! کسی کو بھی نہیں۔ میں سب سے پہلے، ’پیٹریشا‘ کو جگاؤنگا‘‘
انیتا، خاموش کھڑی، کھڑکی سے باہر شیشم کے بھیگے ہوئے درختوں کا منظر دیکھ رہی تھی۔ مہمان خانے کی عمارت کے پہلو میں تالاب بارش سے لبریز ہوکر چھلک پڑا تھا۔ اب تالاب کی سطح پر تیرتے پھول پانی کے ساتھ باہر آرہے تھے۔
**********
آج آئیسوان کو سیّارہ بعثان پر آئے ہوئے تیسرا دن تھا۔ وہ اُس وقت ڈاکٹر ہارون کی فائل پر جُھکا، نہ جانے کاغذ کے اِن پرانے ٹکڑوں میں کیا ڈھونڈ رہاتھا جب دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
’’ہم اندر آسکتے ہیں سر؟‘‘
یہ ماریہ اور شارق تھے۔آئیسوان نے سراُٹھا کر اُن کی طرف دیکھا اور فائل بند کرتےہوئے، ہلکی سی مُسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا،
’’آؤ! آؤ! میں تم دونوں سے خود ملنے کے لیے آنے والا تھا۔ کیسا ہے شارق؟ شارق کیسے ہوتم میاں؟‘‘
’’جسمانی حالت ہمیشہ سے بہتر۔ لیکن ذہنی حالت بہت خراب ہے سر!‘‘
شارق نے الجھن زدہ چہرے کے ساتھ جواب دیا تو آئیسوان نے قدرے سنجیدہ لہجے میں کہا،
’’میں سمجھ سکتاہوں۔ اگرچہ میں محسوس نہیں کرسکتا لیکن میں نے اپنے ہاتھوں سے ہزاروں انسانوں کو جگایا ہے۔ میں نے زمین، مریخ، مُشتری اور ٹائٹن سے انسانی ڈی این اے ڈھونڈے ہیں۔ میری عمر اِسی کام میں گزری ہے، اس لیے ہر بار جب تم لوگوں کو اُٹھاتاہوں تو سب کا یہی حال ہوتاہے۔ کچھ لوگ تو سمجھتے ہیں کہ ہم فرشتے ہیں‘‘
یہ کہتے ہوئے آئیسوان نے ہلکا سا قہقہ لگایا لیکن وہ مسلسل بول رہا تھا۔ ماریہ اور شارق ہونقوں کی طرح آئیسوان کا مُنہ تکے جارہے تھے۔ وہ کہہ رہاتھا،
’’تمہارے زمانے کے لوگ عجیب و غریب ہیں۔ نہایت عجیب۔ میں جتنے لوگوں سے ملا ہوں سب ہی عجیب تھے۔ ہر شخص کا پہلا جملہ ہمیشہ حیران کردینے والا ہوتا ہے۔ ہاہاہاہا۔ میں تمہیں بتاتاہوں۔ آج سے لگ بھگ سوسال پہلے میں نے بیسویں صدی کے ایک پولیس مین کو جگایا۔ اس نے جونہی آنکھ کھولی، تو اس کے منہ سے سب سے پہلا جملہ کیا برآمد ہوا؟ ………۔ اس نے آنکھ کھولتےہی سب سے پہلے اتنی موٹی تازی گالی دی۔ ہاہاہاہا۔ وہ اپنی موت کے وقت جس مجرم کے ساتھ لڑرہاتھا اُس نے آنکھ کھلتےہی سب سے پہلے لڑائی کے اُسی سلسلے کو بحال کیا اور وہیں سے بات شروع کی جہاں ختم ہوئی تھی‘‘
آئیسوان کی بات سن کر ماریہ ہنس دی لیکن شارق ابھی تک پریشان ہی تھا۔ آئیسوان نے شارق کی پریشان آنکھوں میں شرارت بھرے انداز سے جھانکا اور ہنستے ہوئے کہنے لگا،
’’شارق! ہم مصنوعی طور پر تمہیں خوش رکھنے پر قادر ہیں۔ میرا مطلب ہے کہ ہم تمہارے ہارمونز کو کنٹرول کرسکتےہیں۔ یہ معمولی سی بات ہے۔ خوشی، غم، غصہ، اُداسی وغیرہ یہ سب جذبات خالص جسمانی ہیں۔ سارا کیمیل ری ایکشن ہے۔ تم بھی جانتے ہوگے، ان کا سارا تعلق ہارمونز کے ساتھ ہے۔ یہ اصلی اور حقیقی جذبات نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم تمہیں مصنوعی طور پر خوش رکھ سکتے ہیں، لیکن ہم ایسا نہیں کرتے۔ تم لوگ وقت کے ساتھ جان جاؤگے کہ ہم حتی المقدور انسانوں کو زیادہ سے زیادہ نیچرل انداز میں جینے کا موقع دیتے ہیں۔ زندگی وہی ہے جو نیچرل ہے۔ مصنوعی زندگی بھی کوئی زندگی ہے‘‘
اتنا کہہ کر و ہ کسی تبصرے کے انتظار میں ماریہ اور شارق کی طرف دیکھنے لگا۔ ماریہ کے ذہن میں ایک سوال آیا تھا۔ سو اس نے پوچھا،
’’سر! ابھی آپ نے بتایا کہ آپ نے ایک پولیس والے کو جگایا تو اس کے منہ سے گالی برآمد ہوئی اور یہ کہ وہ مرنے سے پہلے کسی سے لڑرہاتھا۔ سر! ایسے لوگوں کے ساتھ آپ کیا کرتے ہیں؟ مجھے کسی نے بتایا کہ سڈرہ کمیونٹی میں لڑنے بھڑنے والے لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں‘‘
’’ارے نہیں! جگہ سب کے لیے ہے۔ بس کچھ لوگوں کو ہم چند دن تربیت کے عمل سے گزارنے کے لیے کہیں اور سیٹل کرتے ہیں۔ ابھی میں نے بتایا نا کہ ہم انسانوں کو زیادہ سے زیادہ نیچرل رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو مشق کرنا ہوتی ہے بس۔ تھوڑی سی مشق۔ اصل میں بات کیا ہے پتہ ہے؟ تم لوگوں کا جو زمانہ ہےیا موت پر قابوپانے سے پہلے کا جتنا بھی زمانہ ہے، اُس دور میں انسان صرف ’’سروائیول‘‘ کے لیے جیتے تھےاس لیے وہ اشیائے خوردونوش اور توانائی کے ذرائع کے لیے آپس میں لڑپڑتے تھے۔ وہ اپنی جگہ سچے تھے۔ اُس وقت ایک ہی سیّارہ تھا۔ ارتھ یعنی زمین۔ اب تو ہمارے پاس توانائی کے ذرائع لامختتم ہیں۔ اشیائے خورد و نوش کی فراوانی ہے۔ ہم ہر دولت سے مالامال ہیں۔ آپ کو سوائے ’جحمان‘ کے چھتیس سیّاروں کے، کہیں نہ کوئی ہسپتال نظرآئے گا، نہ تھانہ، نہ کچہری، نہ بازار، نہ مارکیٹ۔ یہاں بزنس نامی کوئی شئے نہیں۔ میں تو تاریخ پڑھتاہوں تو حیران رہ جاتاہوں۔ تمہارے زمانے میں بزنس باقاعدہ ایک فن تھا۔ بڑی بڑی ڈگریاں دی جاتی تھیں۔ سی اے، آئی سی ایم اے، ایم بی اے، وغیرہ وغیرہ۔ تم لوگ یقین کروگے؟ سڈرہ کمیونٹی کے ایک مؤرخ نے ’’بزنس کی تاریخ‘‘ پر ایک کتاب لکھی ہے اور اِن ڈگریوں کو جھوٹ، مکروفریب، بے ایمانی اور فراڈ کی تعلیم قرار دیاہے۔ ہمارے لوگ تو ان ناموں سے بھی واقف نہیں جو اس بھلے انسان نے استعمال کیے ہیں‘‘
ماریہ اور شارق کا منہ حیرت سے کھل گیا۔ جبکہ آئیسوان نے اچانک موضوع بدلتے ہوئے کہا،
’’اچھاچلو! باتیں تو ہم کرتے ہی رہینگے۔ پہلے ذرا کام کی بات کرلیں۔ کیا آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ آپ لوگوں کو کیوں جگایا گیاہے؟‘‘
ماریہ اور شارق اچانک چونکے بلکہ دونوں کا دِل ایک بار دھک سے رہ گیا۔ یکلخت ان کے دماغ میں طرح طرح کے خیالات گردش کرنے لگے اور وہ پریشان ہوگئے۔ ماریہ نے کسی قدر سہمے ہوئے لہجے میں جواب دیا،
’’نہیں سر!‘‘
’’ہممم! سنو! ہم ڈاکٹر ہارون کو جگانا چاہتے ہیں‘‘
ڈاکٹر ہارون کا نام آئیسوان کے منہ سے سنتےہی ماریہ اور شارق بہت بری طرح سے چونکے۔ انہیں کچھ سمجھ نہ آئی کہ وہ آئیسوان کی بات کا کیا جواب دیں۔ وہ کسی قدر بے چینی اور اضطراب کے ساتھ ایک دوسرے کا منہ تکنے لگ گئے۔ تب آئیسوان نے دوبارہ کہا،
’’اور آپ دونوں اِس کام میں ہماری مدد کرسکتے ہیں۔ میں پہلے ایک بات آپ کو سمجھا دوں۔ صدیوں پرانی بات ہے جب شروع شروع میں انسانوں کو جگایا جانے لگا تو یہ فیصلہ ٹھیک سے نہیں ہوپارہا تھا کہ کس کو جگایا جائے اور کس کو نہ جگایا جائے۔ کہیں سے ڈی این اے ڈھونڈنا ہمارے لیے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ زمین کی مٹی کے ہر ہر ذرّے میں جانداروں کے ڈی این اے ہیں یہاں تک کہ جن مذاہب کے لوگ اپنے مُردوں کو جَلا دیتے ہیں، ان مُردوں کے ڈی این اے بھی دستیاب ہیں۔ آپ تو جانتےہیں کہ ڈی این اے ذرا سا تھوکنے یا ناخن کاٹنے، یا بال گرنے سے بھی زمین میں محفوظ ہوجاتاہے۔ یہ ہمارے عادّین کے کمپیوٹرز کی ایک کلک کا کام ہے۔ سارے کے سارے ڈی این اے ہماری سکرینوں پر یوں جگمگانے لگتے ہیں جیسے بلب ہوں۔ میرا مطلب ہے کہ ہمیں ایک کلک سے پتہ چل جاتاہے کہ زمین پر کہاں کہاں کتنے ڈی این اے پڑےہیں۔ کس جانور کا کون سا ڈی این اے ہے اور ہم جب چاہیں اُنہیں اُٹھا سکتے ہیں۔ اگر کوئی ڈی این اے فاسل بن چکاہے یعنی ہزاروں لاکھوں سال پرانا ہے، تب بھی ہم اسے جگاسکتےہیں۔ آپ لوگ فاسلز کے علم سے تو واقف ہیں نا؟‘‘
آئیسوان نے بات کرتے کرتے، رُک کر، اچانک اُن سے سوال کردیا اور جواب کے انتظار میں ان دونوں کی طرف دیکھنے لگا۔ شارق اور ماریہ دونوں نے اثبات میں سرہلایا۔ تب آئیسوان نے دوبارہ کہنا شروع کیا،
’’فاسل پتھر کی شکل میں بھی ہوسکتاہے۔ فاسل لوہے کی شکل میں بھی ہوسکتاہے۔ فاسل بھُربھُری مٹی کی شکل میں بھی ہوسکتاہے۔ مختصر بات کروں تو اگر تم لوگوں کے فاسلز مٹی کے ساتھ مل چکے ہیں، پتھر بن چکے ہیں یا لوہا بن چکے ہیں، ہم پھر بھی اُن میں سے ڈی این اے نکال سکتے ہیں اور انہیں پھر سے زندہ کرسکتے ہیں۔ خیر! تو میں بات کررہا تھا کہ کوئی ایک، اَکیلا ڈی این اے بھی ہماری نظروں سے پوشیدہ نہیں۔ اب شروع شروع کے ادوار میں صورتحال کیا ہوتی تھی؟
یہ سوال کہ کیا سب کے سب لوگوں کو جگا دیا جائے؟ کیا صرف تاریخ میں موجود فقط مشہور لوگوں کو جگایا جائے؟ کیا صرف ان لوگوں کو جگایا جائے جن کا اخلاق اچھا تھا اور اُن لوگوں کو چھوڑ دیا جائے جو لڑائی بھڑائی کرتے تھے؟ یہ وہ سوال تھے جن کی وجہ سے صدیوں تک ہمارے ماہرین میں مباحثے ہوتے رہے۔ اسے ہمارے طالب علم ’’بڑی ڈیبیٹ‘‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ بہت طویل مدت بعد یہ فیصلہ ہوا کہ ہم ابتدائی دور کے چند لوگوں کو جگا دیں اور ان سے یہ کہہ دیا جائے کہ آپ جس جس کو جگانا چاہتے ہیں، اس کا نام لیں اور ہم اُنہیں اُٹھادینگے۔ تب کیا ہوا ہے کہ جب شروع شروع کے چند اچھے لوگ بیدار ہوئے تو انہیں اپنی پہلی زندگی اور دوستوں اور رشتہ داروں کی بہت یاد آتی تھی، سو لوگوں نے نام بتانے شروع کردیے اور ہم ہر اُس شخص کو جگانے لگ گئے جو اخلاق کا اچھا ہوتا تھا اور پہلے سے بیدار ہوجانے والے لوگوں میں سے کسی نہ کسی کا رشتہ دار یا دوست ہوتا تھا۔ یوں ہم نے اب تک جتنے لوگ جگائے ہیں ان میں سے نناوے فیصد تعداد اُن لوگوں کی ہے ’’جن کا کوئی تھا‘‘۔ مطلب جن کا کسی نہ کسی جاگے ہوئے شخص نے نام لیا اور ہمیں کہا کہ اُسے اُٹھایا جائے۔ایسا کرنے میں ہمیں ایک آسانی ہوتی تھی۔ ایک تو سارے انسانوں کو ایک ساتھ نہ جگانا پڑتاتھا۔ اور ہم تسلی میں تھے کہ وقت کے ساتھ ساتھ سارے ہی اس طریقے سے خود بخود بیدار جائینگے۔ دوسرا فائدہ یہ تھا کہ جب ہم کسی ایسے شخص کی یاداشت واپس لانا چاہتے تھے جو زیادہ پرانے دور کا ہوتا اور اس کی یاداشت کا ریکارڈ ہمارے پاس نہیں ہوتا تھا تو ہم روشنی کے ’’اِٹینگلڈ پارٹیکلز‘‘ کی مددسے ایسے لوگوں کی سوانح حیات کی ویڈیوز بنالیتے تھے۔
اب یہ ویڈیوز بنانا تب ہی ممکن ہوپاتاہے جب اُس شخص کو جاننے والا کوئی موجود ہو۔ ہم ڈی این اے سے ٹھیک ٹھیک تاریخوں اور مقامات کےاندازے نہیں لگا سکتے۔ لیکن اگر کوئی جاننے والا موجود ہو تو ہم ایسا کرسکتے ہیں۔ آپ لوگوں کو اس لیے بیدار کیا گیا ہے کہ آپ ہمیں ٹھیک ٹھیک وقت اور مقامات بتائینگے اور ہم دُور سے ہی اُس عہد کی ویڈیو بنالینگے جس میں ڈاکٹر ہارون ہوگزرے۔ کوئی ایک واقعہ ہی کافی ہوگا۔ مثلاً آپ کوئی ایک تاریخ بتائینگے کہ فُلاں فُلاں دن آپ لوگ ڈاکٹر ہارون کے ساتھ کہاں موجود تھے‘‘
آئیسوان نے نہایت تفصیل سے اپنا مدعا سمجھایا۔ اِسی کام کے لیے تو وہ بعثان آیا ہوا تھا۔ اپنی بات مکمل کرکے وہ ان دونوں کی طرف سے کوئی جواب یا سوال سننے کا انتظارکرنے لگا۔ ماریہ اور شارق دونوں خاموش تھے۔ آئیسوان بھی صبر کےساتھ ان کا انتظار کرنے لگا۔ اچانک ماریہ نے قدرے جذباتی لہجے میں کہا،
’’میں چودہ اگست 2010 کے روز سارا دن ڈاکٹرہارون کے گھر تھی‘‘
’’اوہ! دیٹس گُڈ! اور ڈاکٹرہارون کا گھر کہاں تھا؟‘‘
ماریہ نے یہ سوال سُنا تو پگلا سی گئی،
’’ہیں؟؟……۔ گھر کہاں تھا؟ کراچی میں، فیز سکس، سی ویو‘‘
ماریہ کے انداز اور ماریہ کے جواب پر آئیسوان کا قہقہہ نکل گیا۔ اس نے ہنستے ہوئے کہا،
’’نہیں، ایسے نہیں۔ مجھے کورآرڈی نیٹس چاہییں‘‘
اب شارق پہلی بار بولا،
’’کوآرڈی نیٹس ؟ وہ ہم کیسے بتاسکتے ہیں؟ یہ تو ناممکن سی بات ہے‘‘
ساتھ ہی ماریہ نے بھی زور زور سے سرہلایا۔ لیکن اچانک ماریہ نے ایک مختلف سوال کردیا،
’’کیا ہم سے پہلے آپ نے ڈاکٹر ہارون کے کسی رشتہ دار کو نہیں جگایا؟‘‘
’’نہیں۔ و ہ ہمارے لیے ممکن تو تھا لیکن سِڈرہ کے قانون کی رُ وسے ہم پابند تھے۔ ان میں سے کسی کا پرسنٹیج ساٹھ نہیں ہے‘‘
ماریہ اور شارق کو پرسنٹیج والی بات بالکل بھی سمجھ نہ آئی۔ ماریہ نے الجھے ہوئے لہجے میں پوچھا،
’’پرسنٹیج کیا ہوتاہے؟آئیسوان جانتا تھا کہ ابھی ماریہ بھی اُس مخصوص تربیتی کورس سے نہیں گزری جس کے بعد جگائے جانے والوں کو اُن کے پرسنٹیج یعنی پہلی زندگی میں کیے گئے اعمال کا حساب کتاب بتایا جاتاتھا۔ چنانچہ آئیسوان نے صرف اتناجواب دیا،
’’پرسنٹیج‘ ہمارے ایک بہت بڑے ادارے کا نام ہے۔ اس کی بابت آپ بہت جلد جان جائینگے‘‘
تب شارق نے ایک سوال کردیا،
’’آپ ڈاکٹر ہارون کو جگانا ہی کیوں چاہتے ہیں؟ میرا مطلب ہے کہ جب اُن سے پہلے اُن کا کوئی ’’اپنا‘‘ بیدار ہی نہیں تھا تو پھر کس نے اُن کا نام تجویز کیا؟ ابھی آپ نے بتایا نا کہ کوئی نہ کوئی رشتہ دار یا دوست ہی نام تجویز کرتاہے تو آپ لوگوں کو جگاتے ہیں‘‘
آئیسوان کی آنکھوں میں چمک نمودار ہوئی۔ اس نے قدرے جوش سے جواب دیا،
’’یہ پرسنٹیج کا جو سارا نظام ہے۔ یہ انسانی اعمال کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ کون کتنا وائیلنٹ تھا۔ کون کتنا نرم مزاج اور تحمل والا تھا۔ کون کتناجذباتی تھا۔ کون کتنا اطمینانِ قلب کا مالک تھا۔ کئی صدیوں تک ہمارے لیے یہ فیصلہ کرنا ہی دشوار عمل تھا کہ آخر کیسے طے کیا جائے کہ کون سی بات بُری ہے اور کون سی بات اچھی ہے۔ قدیم علوم، قدیم نظریات اور افکار’ کے اوس‘(Chaos) سے بھرے ہوئے ہیں۔ الفاظ بے معنی ہوا کرتے تھے اوراصطلاحات لایعنی۔ تب ہمارے عادّین نے سینکڑوں سال کی محنت سے ایک نظام وضح کیا۔ اسی نظام کو فالو کرتےہوئے آج تک ولسما نے سب کو بیدار کیا ہے۔ لیکن آج سے اَسّی سال پہلے ہمارے علم میں آیا کہ ڈاکٹر ہارون کے دماغ میں انسانی نفسیات کے حوالے سے ایک بالکل مختلف تھیسز موجود تھا۔ انہوں نے جستہ جستہ اپنے نوٹس جہاں کہیں لکھے تھے ہمیں مل گئے۔ جب ہمارے ماہرین نے اُن کا مطالعہ کیا تو حیران رہ گئے۔ ڈاکٹرہارون کا وہ تھیسز اگرچہ کبھی شائع تو نہ ہوسکا اور ان کےساتھ ہی دفن ہوگیا۔ لیکن اس تھیسز سے جو قانون اخذ ہوتاتھا اس کے متن تک ہماری رسائی ہوگئی…………۔۔‘‘
ماریہ آئیسوان کی بات جوں جوں سنتی جارہی تھی اس کی آنکھیں پھیلتی چلی جارہی تھیں۔ اچانک اُس نے آئیسوان کی درمیان میں بات کاٹ دی اورجھٹ سے کہنے لگی،
’’اور وہ قانون یہ تھا، ٹیمپرامنٹ اِز اِنْوَرْسلی پروپوشنل ٹو فلَکس، یعنی ’صبر اور جذبات آپس میں بالعکس متناسب ہیں‘‘
آئیسوان کی آنکھوں میں شدید قسم کی چمک نمودار ہوئی۔ وہ یکلخت بے پناہ خوش ہوا اور کرسی میں ذرا آگے ہوکر بیٹھ گیا اور قدرے اونچی آواز میں بولا،
’’ایگزیکٹلی ایگزیکٹلی۔ بالکل یہی۔ بالکل یہی قانون ڈاکٹر ہارون نے تقریباً اخذ کرلیا تھا۔ آپ دونوں ڈاکٹر ہارون کے سائیکالوجی کی سٹوڈینٹس تھے۔ یقیناً انہوں نے اپنی کلاسوں میں اس کا ذکر کیا ہوگا۔ ویل ڈن! تو کیا آپ کو وہ سب ریاضیاتی فارمولے بھی آتے ہیں جن کی بنیاد پر ڈاکٹر نے یہ قانون اخذ کیا تھا؟‘‘
اب ماریہ سٹپٹا گئی۔ وہ اپنی جگہ پہلو بدل کر رہ گئی۔ اس نے شارق کی طرف اُمید بھری نظروں سے دیکھا اورپھر مایوس ہوکر دوبارہ آئیسوان کی طرف دیکھا اور پھر نفی میں سرہلادیا۔

—جاری ہے۔—

پہلی قسط اور ناول کا تعارف اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

دوسری قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

تیسری قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

چوتھی قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں 
پانچویں قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: