قراردادِ پاکستان، مغالطے اور شامی صاحب 3 — اکمل گھمن

0

۔۔۔۔ گذشتہ سے پیوستہ ۔۔۔

کیا قرارداد لاہور کے الفاظ کی بدولت پاکستان وجود میں آیا تھا؟
’’چودھری خلیق الزمان، عاشق بٹالوی اور نواب یامین خان جیسے بعض ایسے عناصر یہ کہتے ہیں کہ اس قرارداد کے الفاظ مبہم اور ناقص تھے‘‘۔ اس میں شمال مغربی اور شمال مشرقی علاقوں کے مسلم اکثریت والے صوبوں کے نام نہیں لکھے گئے بلکہ یہ لکھا گیا ہے کہ ’’ضروری علاقائی ردوبدل کے بعد جن خطوں میں عددی اکثریت ہے ان کو باہم ملا کر خود مختار ریاستیں بنا دی جائیں‘‘۔ چودھری خلیق الزمان کا دعویٰ ہے کہ قرارداد میں یہ ابہام و نقص محض اس لیے رہ گیا تھا کہ یہ قرارداد اس نے نہیں لکھی تھی اگر حسب سابق قرارداد لکھنے کا کام اسے دیا جاتا تو قرارداد کا مفہوم نہ بگڑتا۔ اسے افسوس ہے کہ کاش ورکنگ کمیٹی کے ارکان اس کی آمد کا انتظار کرتے کہ وہ اپنے وسیع سیاسی تجربے کی بنا پر قرارداد صحیح الفاظ میں مرتب کر سکتا۔ وہ اپنی بیٹی کی شادی کی وجہ سے 21 مارچ سے پہلے لکھنئو سے روانہ نہیں ہو سکا تھا۔
عاشق بٹالوی کہتا ہے کہ میں نے لیگ کونسل کے اجلاس میں اس قرارداد میں ترمیم پیش کی تھی اور یہ کہا تھا کہ ’’اگر آپ لوگ پنجاب اور بنگال کے صوبوں کو مجوزہ مملکتوں میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو جہاں آپ نے ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی منطقوں کا ذکر کیا ہے وہاں صاف لفظوں میں ان صوبوں کے نام لیجیے تا کہ ہمارے غاصب اور مخالف دونوں ہمارے مطالبے کی حقیقت ابھی سمجھ جائیں ورنہ علاقائی ردوبدل کے بعد پنجاب و بنگال کا تقریباً نصف حصہ کٹ جائے گا۔ میری اس ترمیم کا جواب نواب زادہ لیاقت علی خان نے یہ دیا کہ ہم علاقائی ردو بدل کے تحت دہلی اور علی گڑھ کو جو ہماری تہذیب و تعلیم کے مرکز ہیں، مجوزہ مملکت میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ آپ مطمئن رہیے علاقائی ردو بدل کا یہ مطلب نہیں کہ پنجاب کا کوئی حصہ ہاتھ سے دینا پڑے گا۔ نوابزادہ صاحب کے اس جواب پر ایوان میں خوب تالیاں بجیں۔

مصنف

’’نواب یامین خان کہتا ہے کہ اس ریزولیوشن کے بنانے میں سر سکندر حیات کا کافی ہاتھ تھا اور انہوں نے اپنی زونل سکیم کو بھدے الفاظ میں درج کیا تھا‘‘۔ سید نور احمد لکھتا ہے کہ ’’سر سکندر حیات نے اس قرارداد کا ابتدائی مسودہ دراصل مارچ کے دوسرے ہفتے میں ہی تیار کر لیا تھا۔ اس نے اس مسودے میں اس وقت کے حالات اور قائد اعظم کے خیالات کا رجحان دیکھتے ہوئے ملک کی تقسیم کے مطالبہ کو ایک نرم شکل میں اور اپنی پسند کی اصطلاحوں میں پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس نے یہ مسودہ میر مقبول محمود کے ہاتھ قائد اعظم کی منظوری کے لیے دہلی بھیج دیا۔ قائد اعظم نے اسے سبجیکٹس کمیٹی کے سامنے رکھنا منظور کر لیا۔ اسی مسودے نے مزید کانٹ چھانٹ اور تبدیلیوں کے بعد ’’قرارداد لاہور‘‘ کی صورت اختیار کر لی…… سبجیکٹس کمیٹی نے سر سکندر کی عدم موجودگی میں صوبوں کی جگہ ’’مسلم اکثریت کے علاقوں‘‘ کی اصطلاح استعمال کی کیونکہ قائد اعظم مسلمانوں کے قومی مطالبے کو صاف اور واضح طو رپر مسلم قوم کے حق خود ارادیت کی منطق پر مبنی کرنا پسند کرتے تھے‘‘۔ ان کے خیال کے مطابق اس منطق کے سوا کسی اور منطق کی بنا پر ملک کی تقسیم کا کوئی جواز نہ تھا…… پھر بھی ترمیم شدہ مسودے میں ایک آدھ لفظ ایسا رہ گیا جو اصل مسودے میں درست تھا لیکن ترمیم شدہ عبارت میں آج بھی عجیب معلوم ہوتا ہے۔ مثلاً اکثریت کے علاقوں کی آزاد مملکتوں کے یونٹوں کے لیے Soveriegn (حاکمانہ حیثیت) کی اصطلاح کا استعمال…… سر سکندر نے اپنے ابتدائی مسودے میں یہ لفظ اس لیے استعمال کیا تھا کہ وہ مسلم لیگ کے مقصد کو صوبائی خودمختاری کی اصطلاح میں بیان کرنا چاہتے تھے اور ایک ایسے نعرے کی شکل دینا چاہتے تھے جس کی تائید وہ ایک پنجابی کی حیثیت سے صوبائی حب الوطنی کے نام پر کرسکیں اور اسے اپنے غیر مسلم یونینسٹ ساتھیوں کے لیے بھی قابل قبول نہ بنا سکیں‘‘۔ یہ عناصر الزام عائد کرتے ہیں کہ اگر اس قرارداد کے الفاظ مبہم اور ناقص نہ ہوتے اور اس میں علاقائی ردوبدل کا ذکر نہ ہوتا تو 1947ء میں پنجاب اور بنگال کی تقسیم نہ ہوتی، لاکھوں بے گناہ لوگوں کا قتل عام نہ ہوتا اور کروڑوں لوگوں کا جبری تبادلہ آبادی نہ ہوتا۔
ایسے تخیل پسند عناصر اس قسم کی احمقانہ باتیں محض اس لیے کہتے اور لکھتے ہیں کہ ان کے خیال میں قوموں کی تقدیر کا فیصلہ قراردادوں کے الفاظ کے صحیح یا غلط ہونے پر ہوتا ہے۔ انہیں معلوم نہیں کہ تاریخ کا ارتقا متعلقہ معاشرے کے سیاسی و معاشی تقاضوں کے تحت ہوتا ہے اگر کسی قرارداد کے الفاظ ان تقاضوں کے مطابق ہوں تو اس کی تعمیل ہوتی ہے اور اس کے الفاظ غیر مبہم اور صحیح ہونے کے باوجود ان تقاضوں کے خلاف ہوں تو اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکتا۔ برصغیر میں کون نہیں جانتا کہ 1947ء میں پنجاب اور بنگال کی تقسیم کا فیصلہ اس قرارداد کو پیش نظر رکھ کر نہیں کیا گیا تھا بلکہ اس کا فیصلہ اکالی دل کے تبادلہ آبادی کے منصوبے اور کانگریس کی مارچ 1947ء کی قرارداد کے مطابق ہوا تھا اور اس فیصلے کو قطعی شکل مئی 1947ء میں شملہ میں نہرو اور مائونٹ بیٹن کے درمیان خفیہ ملاقاتوں میں دی گئی تھی۔ وائسرائے مائونٹ بیٹن کی سیاسی لیڈروں سے گفتگو کے سرکاری ریکارڈ، جس کا کچھ حصہ ’’پاکستان کی سیاسی تاریخ۔پاکستان کیسے بنا؟‘‘ جلد اول و دوئم میں بیان کیا گیا ہے، کے مطابق جناح آخری وقت تک پنجاب اور بنگال کی تقسیم کی مخالفت کرتے رہے تھے اور یہ التجائیں کرتے تھے کہ انہیں کرم خوردہ پاکستان نہ دیا جائے۔ انہوں نے جون 1947ء میں مائونٹ بیٹن کو اکالی دل کے پُرتشدد منصوبے سے بھی آگاہ کر دیا تھا۔ تا ہم کانگریسی لیڈروں اور مائونٹ بیٹن کی ملی بھگت کی وجہ سے اُن کو مجبوراً پنجاب اور بنگال کی تقسیم پر رضا مند ہونا پڑا۔ 23 مارچ 1940ء کی قرارداد کے الفاظ خواہ کیسے ہی ہوتے 1947ء کے اوائل میں برصغیر کے فرقہ وارانہ حالات کچھ اس طرح کے ہوئے گئے تھے کہ پنجاب اور بنگال کی تقسیم کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ مسلمانوں کے اصرار کی وجہ سے ہندوستان متحد نہیں رہ سکتا تھا اور ہندوئوں اور سکھوں کی ضد کی وجہ سے پنجاب اور بنگال کی تقسیم کے بغیر برصغیر کی تقیسم نہیں ہو سکتی تھی۔ قتل و غارت اور خون خرابہ دونوں صورتوں میں ہی ناگزیر تھا۔

جیسا کہ عاشق بٹالوی نے بتایا ہے اس قرارداد کی ترتیب و تدوین میں محمد علی جناح اور ملک برکت علی جیسے اعلیٰ پایہ کے وکلاء نے حصہ لیا تھا۔ لہٰذا قرارداد کے الفاظ کے نقائص ان کی نظر سے اوجھل نہیں رہ سکتے تھے۔ انہوں نے اس کے الفاظ کو مبہم اس لیے رکھا تھا کہ وہ اس وقت سنجیدگی سے اس پر عملدرآمد کی توقع نہیں رکھتے تھے۔ نواب یامین خان کے بیان کے مطابق جناح نے یکم مارچ 1939ء کو ڈاکٹر ضیاء الدین احمد کے مکان پر ایک کھانے کے دوران مطالبہ پاکستان کو محض کانگریس سے سودے بازی کے لیے اپنانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس کے بغیر کانگریس قابو میں نہیں آئے گی۔ بیگم شائستہ اکرام اللہ کی کتاب سے یامین خان کے اس بیان کی تائید ہوتی ہے۔ وہ لکھتی ہے کہ ’’اکثر مسلمانوں کے نزدیک پاکستان ایک تصور تھا حقیقت نہ تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ پاکستان گویا ان کا ناقابل تردید حق ہے۔ جسے اب تک انہوں نے استعمال نہیں کیا۔ مسلمانوں کے بڑے بڑے لیڈروں کا بدستور یہ خیال تھا کہ کسی قسم کا باہمی سمجھوتہ ہو جائے گا اور وہ متحدہ ہندوستان کے اندر اپنی جداگانہ کلچرل، ہستی برقرار رکھ سکیں گے۔ قائد اعظم کا بھی یہی خیال تھا۔ مجھے بخوبی یاد ہے جب میں پہلی بار (اکتوبر 1941ء ) میں ان سے ملی تھی تو انہوں نے کہا تھا کہ کینڈا کا آئین ہمارے مسائل کا بہترین حل ہے۔ قرارداد پاکستان کے بعد وہ سات سال تک ایک طرف برطانوی حکومت اور دوسری طرف کانگریس سے باہمی سمجھوتے کی بات چیت کرتے رہے اور اس دوران میں ایک سے زائد بار تقریباً سمجھوتہ ہو بھی گیا تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ دو ٹوک بٹوارہ نہیں چاہتے تھے۔ باہمی سمجھوتے میں ناکامی ہوئی تو اس کی ذمہ داری قائد اعظم پر نہیں کانگریس لیڈروں کی تنگ دلی اور تعصب پر تھی‘‘۔
پاکستان کی بیوروکریسی کے ایک اعلیٰ رکن سید ہاشم رضا کے بیان سے اس موقف کی تائید مزید ہوتی ہے۔ یہ شخص 14اگست 1947ء کو انتقال اقتدار کے موقع پر کراچی کا ایڈمنسٹریٹر تھا اور اس حیثیت سے اس نے افسر تقریبات کے فرائض بھی سر انجام دیئے تھے۔ اس کا کہنا ہے کہ جب قائد اعظم تقریب گاہ میں تشریف لائے تو مہمانوں سے ان کی ملاقات کرانے کا شرف بھی مجھ کو ہی حاصل ہوا۔ جب میں بابائے قوم کو لے کر اس میز پر پہنچا جس پر غیر ملکی اخباری نمائندے بیٹھے تھے تو نیویارک ٹائمز کے نمائندہ خصوصی نے بڑھ کر بابائے قوم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور وفور عقیدت سے ان کا ہاتھ زور سے دبا کر بے ساختہ پکار اٹھا۔ قائد اعظم میں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آخر کار آپ نے پاکستان لے ہی لیا۔ قائد اعظم نے یہ جملہ سن کر امریکی صحافی کا ہاتھ جھٹک دیا اور اپنے مخصوص لہجے میں جواب دیا۔ ’’میں نے اکیلے پاکستان حاصل نہیں کیا۔ پاکستان کے قیام کی جدوجہد میں میرا، ایک روپے میں صرف دو آنے حصہ تھا۔ اس تگ و دو میں برصغیر کی مسلم قوم کا حصہ روپے میں چھ آنے کے برابر تھا اور قیام پاکستان میں اس برصغیر کی ہندو قوم کا حصہ روپے میں سے آٹھ آنے کے برابر تھا۔ امریکی صحافی قائد اعظم کے اس غیر متوقع ارشاد سے چونک اٹھا مگر بابائے قوم نے اس کی حیرت اپنی وضاحت سے دور کر دی۔ بابائے قوم نے فرمایا۔ جس زمانے میں مصر میں سعد زاغلول پاشا کی حکومت تھی۔ مصر کے عیسائیوں نے اپنے حقوق کے تعین کے لیے تحریک شروع کر دی۔ ان کا تناسب آبادی 13فیصد تھا۔ لیکن وہ 20فیصد کے تناسب سے حقوق مانگتے تھے اور یہ قضیہ روز بروز سنگینی اختیار کر رہا تھا۔ سعد زاغلول پاشا نے اپنی پارٹی کا اجلاس طلب کیا اور اس میں اپنا یہ فیصلہ منظور کروالیا کہ عیسائیوں کے ساتھ وہ خود اس مسئلے کا تصفیہ کر لیں گے۔ چنانچہ اپنی پارٹی سے یہ اختیار حاصل کر کے انہوں نے عیسائیوں کے مطالبے کا فیصلہ کرنے کے لیے گول میز کانفرنس طلب کی۔ یہ گول میز کانفرنس قاہرہ میں منعقد ہوئی۔ ابھی اس کانفرنس میں ایک ہی عیسائی نمائندے نے تقریر کی تھی کہ سعد زاغلول پاشا نے اسے ٹوک دیا اور کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ عیسائی حقوق کے سلسلے میں 20فیصد تناسب کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن ہم انہیں تیرہ فیصد کی بجائے 25 فیصد تناسب کا حق دیتے ہیں۔ سعد زاغلول پاشا کا یہ اعلان عیسائیوں کے لیے عید کی خوشی کی سی حیثیت رکھتا تھا۔ انہوں نے مسلمان حکمران لیڈر کو بے حد خراج تحسین پیش کیا۔ گول میز کانفرنس ختم ہو گئی۔ یہ 1923ء کا زمانہ تھا۔ اس کو اب ربع صدی گذر چکی ہے اور مصر میں اس دن کے بعد مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین کوئی بدمزگی یا کسی قسم کی کشیدگی پیدا نہیں ہوئی۔ کیونکہ عیسائی 25 فیصد تناسب حاصل کر کے بھی 75 فیصد مسلمانوں کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔ قائد اعظم نے فرمایا۔ بعینہ یہی مسئلہ برصغیر کا بھی تھا۔ مسلمان بلحاظ تناسب آبادی ہندو قوم سے کہیں زیادہ اقلیت میں تھے۔ اگر ہندو قیادت بھی سعد زاغلول پاشا جیسی فراخدلی کا عملی ثبوت پیش کرتی تو مسلمانان برصغیر کو علیحدہ اور خود مختار وطن حاصل کر کے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی۔ جناح کی اس بات سے صاف ظاہر ہے کہ اگر ہندوئوں کی قیادت مسلم اقلیت کے ساتھ فراخدلانہ سلوک کرتی اور مسلم لیگ کے ساتھ مناسب سمجھوتہ کر لیتی تو قرارداد پاکستان کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی اور اگر یہ قرارداد منظور ہو ہی گئی تھی تو اس پر عملدرآمد کی نوبت نہ آتی۔ بیگم شائستہ اکرام اللہ کے بیان کے مطابق اس قرارداد کے بعد جناح سات سال تک ایک طرف برطانوی حکومت اور دوسری طرف کانگریس سے باہمی سمجھوتے کی بات چیت کرتے رہے تھے‘‘۔
قرارداد لاہور کے حوالے سے نواب سید شمس الحسن نے اپنے ایک ریڈیو انٹرویو میں بتایا کہ

’’اصل قرارداد میں لفظ’’States(ریاستیں) تھا‘‘۔ ریاستوں کا تصور اس لیے تھا کہ پنجاب اور بنگال پورے صوبے ایک یونٹ کی حیثیت سے آزاد ہوں گے تو ظاہر ہے بنگال اگر تقسیم نہ ہوتا اور اگر ایسٹ اور ویسٹ مل کر آزاد ہوتے تو وہ خود ایک بہت بڑا یونٹ ہوتا۔ اس لیے ’’States‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا تھا۔ بعد میں چودھری خلیق الزمان صاحب کو یہ خیال آیا اور انھوں نے قائد اعظم کو ایک خط لکھا کہ اس تجویز میں ایک یہ خلا رہ گیا ہے کہ لفظ ’’States‘‘ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دو الگ حکومتیں ہوں گی۔ گویا اس کو درست کرنا چاہیے؟ یہ سوال چودھری صاحب نے اٹھایا تھا اور یہ خط خود خلیق الزمان صاحب نے مجھے سنایا تھا جو قائد اعظم کو بھیجا گیا تھا‘‘۔ ’’جب جناح صاحب کو خود یہ انکشاف ہوا کہ غالباً صوبہ جاتی بُنیادوں پر پورا علاقہ آزاد نہیں ہو گا تو 1946ء کے دہلی کنونشن میں اُسے درست کیا گیا۔ کیونکہ قائد اعظم کو احساس ہو گیا تھا کہ ہم پورے پنجاب اور بنگال کو شاید آزاد نہیں کرا سکیں گے اس لیے کُچھ قربانی دینی پڑے گی‘‘۔ ’’قرارداد لاہور کے حوالے سے بہت سے میرے ہندو دوست احباب سمجھتے تھے کہ قائد اعظم نے محض بارگیننگ (Bargaining) کے لیے یہ قدم اٹھایا تا کہ مشترکہ حکومت کی کوئی بہتر صورتِ حال نکل آئے مگر میں انھیں سمجھاتا تھا کہ قبل ازیں اتحاد کی بہت سی ناکام کوششیں ہو چکیں ہیں‘‘۔
معروفی بھارتی صحافی کلدیب نیّر نے بھی اپنی کتاب ’’ایک زندگی کافی نہیں‘‘ کے صفحہ 43،44 پر چودھری خلیق الزمان کے حوالے سے قراردادِ لاہور میں لفظ’’State‘‘ کے استعمال کے پس منظر کے حوالے سے بحث کی ہے۔
’’(کلدیب نیّر کی یہ کتاب لاہور سے شائع ہوئی)‘‘
جہاں تک قراردادِ پاکستان کو بطور سیاسی حکمت عملی استعمال کرنے کا پہلو ہے تو غالباً قائد اعظم ایک ’’کٹا پھٹا‘‘ پاکستان نہیں چاہتے تھے۔ اس لیے 1946ء میں وزارتی مشن منصوبے کو بھی قائد اعظم نے قبول کر لیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت مزید دس سال تک ایک مرکزی حکومت کے زیر انتظام صوبائی حکومتیں چلائی جاتیں‘‘۔ 6 جون کو رات گئے آل انڈیا مسلم لیگ نے ایک قرارداد کے ذریعے وزارتی مشن منصوبہ کو قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس قرارداد میں مشن کی جاری کردہ دستاویز کے ابتدائیہ میں مطالبہ پاکستان کے خلاف جو موقف اختیار کیا گیا تھا اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ آل انڈیا مسلم لیگ اعادہ کرتی ہے کہ پوری طرح خود مختار پاکستان کے حصول کا مقصد بھی مسلمانانِ ہند کا ناقابلِ ترمیم نصب العین ہے۔ جس کے حصول کی خاطر اگر ضروری ہوا تو وہ اپنے بس میں سارے ذرائع بروئے کار لائیں گے اور کسی قربانی یا تکلیف کو خاطر میں نہ لائیں گے‘‘۔ تا ہم مشن منصوبہ قبول کرنے کے دو وجوہ بیان کی گئیں۔ اول یہ کہ ’’مسائل بہت سنگین ہیں اور مسلم لیگ ان کے پُر امن حل کی خواہاں ہے‘‘۔ دوئم یہ کہ منصوبے میں پاکستان کے قیام کی بُنیاد موجود ہے کیونکہ مسلم اکثریت کے چھ صوبوں کی دو گروپوں ’’ب‘‘ اور ’’ج‘‘ کی صورت میں لازمی گروپنگ کی گئی ہے۔ کونسل نے امید ظاہر کی کہ ’’بالآخر یہ منصوبہ مکمل طو رپر خودمختار پاکستان کے قیام پر منتج ہو گا‘‘۔
’’(’’پاکستان کیسے بنا‘‘۔ زاہد چوہدری، صفحہ 410)‘‘
اس اقتباس کے بعد صاحب کتاب اسی صفحے پر لکھتے ہیں ’’مسلم لیگ نے پاکستان کے نام پر وزارتی مشن منصوبہ قبول کر کے اگر مطالبہ پاکستان سے دست برداری اختیار نہیں کی تھی تو کم از کم اس کے حصول کو دس سال کے لے ملتوی ضرور کر دیا تھا کہ مجوزہ منصوبے میں دس سال کے بعد ہی آئین میں ترمیم ممکن تھی۔ ان حالات میں جب کہ مسلمان عوام الناس کی امنگیں آزاد پاکستان کے حصول کے لیے ولولہ انگیز تھیں، برصغیر ہند کی وحدت کو برقرار رکھنے کے لیے جناح اور مسلم لیگ کی جانب سے اس سے بڑھ کر پُر خلوص کاوش اور کیا ہو سکتی تھی‘‘؟ دراصل یہ کانگریس ہی تھی جس نے اس منصوبے کو تسلیم کرنے میں لیت لعل سے کام لیا اور انجامِ کار فیصلے کا اختیار اُن کے ہاتھ سے نکل گیا۔
یقیناً قائد اعظم اور مسلم لیگ نے کانگریس کی نسبت زیادہ بہتر انداز میں اپنی سیاسی بصیرت کا اظہار کیا اور اپنے پتّے زیادہ بہتر انداز میں کھیلے۔
اس حوالے سے ہر ذی شعور قائد اعظم کے قائدانہ کردار کو تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔ کلدیب نیّر اپنی کتاب ’’ایک زندگی کافی نہیں‘‘ کے صفحہ 46 پر لکھتے ہیں کہ ’’اگر کانگریس نے کرپس کی تجویز کو مان لیا ہوتا تو ہندوستان کو تقسیم سے بچا لیا ہوتا۔ یہ سچ ہے کہ تجویز میں تقسیم کے بیج موجود تھے لیکن کرپس نے جس وفاقی ڈھانچے کی تجویز دی ہے وہ کانگریس اور مسلم لیگ کو ایک ملک کے لیے اکٹھے کام کرنے پر مجبور کر سکتا تھا۔ اس کے معنی برطانیہ کی نیک نیتی پر بھروسہ کرنا تھا لیکن یہ سب عارضی ہوتا۔ ہر شخص دیکھ سکتا تھا کہ جنگ کے بعد لندن کسی طرح بھی اس پوزیشن میں نہ ہو تا کہ انڈیا پر اپنا قبضہ قائم رکھ سکتا‘‘۔
اس ساری بحث سے ہم چند نکات اخذ کر سکتے ہیں۔
(۱)قراردادِ لاہور کوئی مقدس دستاویز نہیں تھی کہ جس میں کسی قسم کی تبدیلی ناممکن تھی۔ البتہ یہ بات واضح ہے کہ دراصل یہی قرارداد آگے چل کر پاکستان کی بُنیاد ثابت ہوئی۔ بطور سیاست دان قائد اعظم کا برصغیر کی سیاست میں یہ قدم انگریزوں، ہندوئوں اور اُن کے ہم نوائوں پر بہت بھاری ثابت ہوا۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے تحریکِ پاکستان میں قراردادِ لاہور کا کلیدی کردار ہے۔
(۲)وزارتی مشن کی تجاویز کو مسلم لیگ نے 6جون1946 کو منظور کر لیا تھا۔ اس مشن کا مرکزی نقطہ نظر یہ تھا کہ’’برصغیر میں مسلم اکثریت والے علاقوں کو خود مختاری بھی مل جائے اور ہندوستان کی وحدت بھی قائم رہے‘‘۔ ’’یہ نظام دس سال تک جاری رہے گا اور اس میعاد کے بعد اس میں ترمیم یا تبدیلی کی جا سکے گی‘‘۔
(پاکستان کی سیاسی تاریخ (۵) صفحہ 386)

یہ دراصل کانگریس اور اس کے ہندو رہنما تھے جنھوں نے اس منصوبے کو سبوتاز کیا لہٰذا یہاں بھی مسلم لیگ اور قائد اعظم کی سیاسی حکمت عملی کامیاب ٹھہری جسے اپنے پرائے سب مانتے ہیں۔
اب آتے ہیں اُس معاملے کی طرف کہ’’کیا قراردادِ لاہور کا مسودہ انگریز کی منظوری سے سر ظفر اللہ نے تیار کیا تھا‘‘؟ زاہد چودھری اور حسن جعفر زیدی کی مرتب کردہ کتاب’’پاکستان کی سیاسی تاریخ‘‘ جلد ۵ کے صفحہ 304 تا 312 پر اس معاملے کو ’’قرارداد لاہور کے محرکات کے متعلق ولی خاں کی غلط بیانی۔۔۔۔۔ایک عملی بددیانتی‘‘ کے عنوان سے بہت وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ زاہد چودھری لکھتے ہیں۔
پاکستان کے ایک سیاستدان عبد الولی خان نے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ انگریزوں نے برصغیر کو اپنے سامراجی عزائم کی تکمیل کی خاطر تقسیم کیا تھا اور پاکستان انگریزوں کی سازش کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا، دسمبر 1981 میں پاکستان کے اخبارات میں دعویٰ کیا کہ اُس نے انڈیا آفس لائبریری میں ایک ایسی دستاویز دیکھی ہے جس سے اُس کے دعویٰ کی تصدیق ہوتی ہے۔ پھر اُس نے اپنی کتاب Facts are Facts میں اس دستاویز کو نقل کیا اور ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مسلم لیگ نے دراصل انگریزوں کے ایما پر قرارداد لاہور منظور کی تھی۔ ولی خان کے مطابق برصغیر کو دو ریاستوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ وائسرائے کے کہنے پر اس کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن ظفر اللہ خان نے تیار کیا تھا۔ اس کے مسودے کی نقل جناح کو بھیجی گئی اور وزیر ہند کو برطانیہ بھی بھیجی گئی۔ اس سارے فسانے کی بنیاد وہ ایک خط کو بناتا ہے جو قرارداد لاہور کی منظوری سے 12 روز پیشتر 12 مارچ 1940 کو وائسرائے لارڈ لنلتھگو (Linlithgow) نے وزیر ہند لارڈ زیٹ لینڈ (Zetland) کو لکھا تھا۔ ولی خان نے اپنی کتاب میں اس کا متن یوں نقل کیا ہے:
ترجمہ:۔’’میری ہدایت پر ظفر اللہ نے دو ڈومینین ریاستوں کے عنوان سے ایک یاد داشت تحریر کی ہے۔ میں اسےآپ کے ملا حظہ کے لیے پہلے ہی ارسال کر چکا ہوں۔ میں نے اس سے مزید وضاحتیں طلب کی ہیں جو وہ کہتا ہے کہ مہیا کر دی جائیں گی۔ تا ہم وہ اس بارے میں متردد ہے کہ کسی کو یہ معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ یہ منصوبہ اُس نے تیار کیا ہے۔ البتہ اُس نے مجھے یہ اختیار دیا ہے کہ میں اس مسودے کو جس طرح چاہوں استعمال میں لے آئوں اور یہ کہ اس کی نقل آپ کو بھیج دوں۔ اس کی نقلیں جناح اور میرا خیال ہے اکبر حیدری کو بھی بھیجی گئی ہیں۔ اب جبکہ ظفر اللہ اپنی دستاویز کی تصنیف کا اعتراف نہیں کر سکتا، یہ دستاویز اس لیے تیار کی گئی ہے کہ مسلم لیگ اس نقطہ نگاہ کے ساتھ اختیار کر لے گی کہ اس کی خوب تشہیر کی جائے‘‘۔
اب حقیقت حال یہ ہے کہ 12مارچ 1940 کو وائسرائے لنلتھگو کی جانب سے وزیر ہند زیٹ لینڈ کے نام لکھا گیا اصل خط جو انڈیا آفس لائبریری کے ریکارڈ میں موجود ہے اس کا متن ولی خان کے نقل کردہ متن سے بہت زیادہ مختلف ہے۔ اصل خط کی عبارت یوں ہے:۔
ترجمہ:۔’’میں نے پچھلی مرتبہ بیگ میں ڈومینین کے درجہ کے بارے میں ظفر اللہ کے نوٹ کی نقل بھیجی تھی اور میں نے اس کے بارے میں لکھا تھا کہ اس دستاویز سے نسبتاً انتہا پسندانہ نقطہِ نظر مترشح ہوتا ہے۔ یہ بات میں نے اس لیے کہی تھی کہ اُس وقت تک مجھے اس کی صحیح نوعیت کے بارے میں اُس کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے کا موقع نہیں ملا تھا اور اس میں شامل بعض تجاویز، اگر میری کونسل کے ایک رُکن کے نام سے رسمی طو رپر پیش ہوتیں تو میرے خیال میں ان الفاظ میں وضاحت کا جواز مہیا کرتی تھیں۔ میں نے کل اُس سے کہا کہ مجھے اس کے بارے میں ذرا کچھ تفصیل سے آگاہ کرو تو اُس نے مجھے بتایا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ ابھی ابتدائی مسودہ ہے، دوسرے یہ کہ اگر اس معاملے میں اُسے تحفظ دیا جائے اور اس استاویز کا استعمال مشتہر کر کے نہ کیا جائے تو پھر میں جیسے چاہوں اس کو استعمال میں لا سکتا ہوں اور اس نقل آپ کو بھی بھیج سکتا ہوں، تیسرے یہ کہ اس دستاویز کی نقول جناح اور غالباً حیدری کو بھی دی گئ ہیں اور چو تھے یہ کہ اب جبکہ وہ یعنی ظفر اللہ بلاشبہ اس دستاویز کے مصنف ہونے کا اعتراف نہیں کر سکتا، یہ دستاویز اس لیے تیار کی گئ ہے کہ مسلم لیگ اس کی خوب تشہیر کرنے کے نقطہِ نگاہ سے اسے اختیار کرے۔ میں اب بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اسے پوری طرح سمجھ گیا ہوں اور میں بہتر سمجھوں گا کہ اس پر اپنی رائے مئوخر کر دوں۔ تا ہم یہ خاصا قابلِ قدر کام ہے اور میں اس کے بارے میں آپ کے ردّ عمل میں بہت دلچسپی رکھتا ہوں‘‘۔


۔۔۔ جاری ہے۔۔۔

پہلا حصہ یہاں ملاحظہ فرمایئے۔

دوسرا حصہ یہاں ملاحظہ فرمایئے۔

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: