قراردادِ پاکستان، مغالطے اور شامی صاحب 2 — اکمل گھمن

1

گذشتہ سے پیوستہ۔۔۔

اس کالم میں ڈاکٹر مبارک نے ڈاکٹر صفدر محمود کے الزامات کا جواب یوں دیا۔
’’یہ درست ہے کہ 2002ء میں ہندوستان کی ایک نجی سوسائٹی نے مجھے کمیونل ہارمنی ایوارڈ (Communal Harmony Award) دلائی لامہ کے ہاتھوں دلوایا۔ میرے ساتھ دوسرے پاکستانی جنہیں یہ ایوارڈ دیا گیا وہ عبد الستار ایدھی تھے لہٰذا ثابت یہ ہوا کہ وہ بھی ہندوستانی حکومت کی ایما پر پاکستان میں فلاح و بہبود کا کام کر رہے تھے۔
دوسری یہ بات بھی درست ہے کہ میری ایک بیٹی نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی جو امریکا اور یورپ کی مہنگی جامعات کے مقابلے میں سستی اور معیاری ہے۔‘‘
ڈاکٹر مبارک علی مزید لکھتے ہیں کہ ’’تاریخ کوئی ٹھہرا ہوا علم نہیں‘‘۔ شواہد اس کے بیانیے کو بدلتے رہتے ہیں۔ نئی دریافت شدہ دستاویزات پرانے معانی و مفہوم کو تبدیل کر دیتی ہیں۔ پاکستان کے ریاستی مورخوں اور دانشوروں کے لیے تاریخی بیانیہ کی یہ تبدیلی اس لیے قابلِ قبول نہیں کہ انھوں نے جو تاریخ تشکیل کر دی ہے اگر اس کو چیلنج کیا گیا، ان کے حقائق کو بے نقاب کیا گیا تو اس سے وابستہ جو ہیروز ہیں وہ اپنا انتہائی اعلیٰ رُتبہ کھو دیں گے اور زمین دوز ہو جائیں گے نہ صرف یہ بلکہ وہ طبقے بھی جو اس بُنیاد پر مراعات حاصل کیے ہوئے ہیں۔ مالی فوائد اُٹھا رہے ہیں وہ سب اپنی سہولتوں سے محروم ہو جائیں گے۔ اس لیے پاکستان میں تاریخ کا ایک ہی بیانیہ ہے۔ جس پر مورخ لوٹ پھر کے بار بار کہے جاتا ہے اور یہی سب کُچھ ہماری نصابی کتابوں میں ہے جو نوجوانوں کے ذہنوں کو اپنی گرفت میں لے کر سوچ اور فکر کے تمام دروازے بند کر دیتی ہے‘‘۔
’’کوئی تحقیق بھی ہمیشہ کے لیے مستند نہیں ہوتی۔ اگر اس نقطہ نظر کے خلاف کوئی دوسرا نقطہ نظر آتا ہے تو اس کو زہریلا کہنا اور یہ لکھنا کہ یہ نوجوانوں کو گُمراہ کرنے والا ہے اس لحاظ سے صحیح نہیں کیونکہ ہماری ریاستی تاریخ تو پہلے ہی سے نوجوانوں کو گمراہ کر چکی ہے‘‘۔
’’کوئی بھی سیاسی شخصیت مکمل نہیں ہوتی۔ اس میں خوبیاں بھی ہوتی ہیں اور کمزوریاں بھی۔ قائد اعظم محمد علی جناح کو اس تناظر میں رکھیے اور انھیں مقدس بنا کر لوگوں سے دور کرنے کی کوشش نہ کیجئے۔ انھوں نے تاریخ میں ایک ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا، اب نیا زمانہ ہے، نئی نسلیں ہیں، انہیں ان کی خواہشات پر اور زمانے کے تقاضوں کے تحت پاکستان کی تشکیل کرنے دیجئے‘‘۔

اسی دوران زاہد منیر عامر اور منیر احمد منیر کے کالم بھی چھپ گئے جن میں ڈاکٹر مبارک علی پر طعن و تشنیع کی گئی تھی۔
’’ڈاکٹر مبارک علی چند معروضات‘‘ کے عنوان سے خرم علی شفیق کا ایک پرانا مضمون ’’دلیل‘‘ ویب سائٹ نے بھی چھاپ دیا۔ مضمون ہذا میں ڈاکٹر مبارک علی کی طرف سے علامہ اقبال پر اٹھائے گئے فکری اعتراضات کا جواب بہت سطحی انداز میں دیا گیا تھا۔ صاحب مضمون انگریزی روزنامہ ’’ڈان‘‘ کے لیے ڈاکٹر مبارک علی کا انٹرویو غالباً 2002ء میں کر چکے ہیں۔ مذکورہ انٹرویو میں حضرت نے ڈاکٹر صاحب کی خوب تعریف و توصیف کی۔ پچھلے چند سالوں سے ’’اقبال اکیڈمی‘‘ سے وابستہ ہیں اور اصل ’’مآخذات‘‘ سے استفادہ کر رہے ہیں۔
اسی اثنا حامد میر بھی ڈاکٹر مبارک علی کے خلاف میدان میں کود پڑے اور ’’لائیو ٹی وی مناظرہ‘‘ کے عنوان سے کالم لکھ مارا۔ جس میں دلائل سے زیادہ جذباتیت حاوی تھی حالانکہ وہ خود اسی رویے کا شکار ہو چکے ہیں جو انہوں نے ڈاکٹر صاحب کے لیے اپنایا۔
ابھی حامد میر کے کالم کی گرد نہیں بیٹھی تھی کہ سجاد میر نے 20اپریل کو ڈاکٹر صاحب کے خلاف ’’بیمار ذہنوں کی کہانی‘‘ کالم لکھ دیا جس میں انتہائی سطحی زبان استعمال کی گئی۔
ڈاکٹر صفدر محمود کے روزنامہ جنگ میں 16اپریل کو چھپنے والے ایک اور کالم ’’لا علمی قابل معافی ہے لیکن بد نیتی نہیں‘‘ کے جواب میں ڈاکٹر مبارک علی نے ایک جوابی کالم’’دامن کو ذرا دیکھ‘‘ روز نامہ جنگ کو بھیجا جو بہت رد و کد اور تردد کے بعد آخر کار 28اپریل کو روزنامہ جنگ نے چھاپا۔ کالم ہذا کے بعد ڈاکٹر صفدر محمود نے 30اپریل کو ایک اور کالم’’ سچ اور صرف سچ بولیں‘‘ روزنامہ جنگ میں لکھا۔ حسب روایت جس میں پارسائی اور اپنا سچاہی صرف سچ ہے کا راگ الاپا گیا تھا۔
مذکورہ تمام صحافتی چاند ماری پر بعد میں بات کریں گے پہلے ذرا قرارداد لاہور کے منظر اور پس منظر کا ایک جائزہ لیتے ہیں۔
تخلیق پاکستان کے حوالے نامور محقق زاہد چوھدری کا کام بہت قابل ستائش ہے۔ زاہد چوھدری اور حسن جعفر زیدی کی مرتَّبہ کتاب’’پاکستان کی سیاسی تاریخ(جلد5)‘‘
’’مسلم پنجاب کا سیاسی ارتقاء‘‘(1849ء۔1947ء) کا باب نمبر9قراردادِ لاہور پر تفصیلاً روشنی ڈالتا ہے۔ ’’قراردادِ لاہور کس طرح قراردادِ پاکستان بنی؟‘‘ کے عنوان سے صفحہ نمبر 281سے صفحہ نمبر 312تک قراردادِ لاہور کا پورا منظر اور پس منظر بیان کیا گیا ہے۔
باب ہٰذا میں بہت وضاحت سے بیان کیا گیا ہے کہ اُس زمانے میں برصغیر میں اور عالمی سطح پر حالات کس نہج پر جا رہے تھے۔ کیسے قائد اعظم، مسلم لیگ اور دیگر مسلم قیادت اس نتیجے پر پہنچی کہ برصغیر کے مسلمان علیحدہ مملکت کا مطالبہ کریں۔
پے در پے عالمی جنگوں میں شمولیت کے باعث برصغیر پر انگریز کی گرفت کمزور ہو رہی تھی اور مقامی سیاسی قیادت آزادی کے لیے زیادہ متحرک ہوتی جا رہی تھی۔ اسی طرح کانگریس کی کوتاہ نظری اور تنگ ذہنیت کے باعث علیحدگی کی گئی سکیمیں پہلے ہی زیر بحث تھیں۔
جولائی 1937ء میں ہندو اکثریت کے صوبوں میں قائم ہونے والی کانگریسی وزارتوں نے جو سلوک مسلمانوں سے روا رکھا اُس کی وجہ سے اُن کا انداز فکر بدلا۔
سندھ کے سر عبد اللہ ہارون نے اکتوبر 1938ء میں حیدر آباد (دکن) کے ڈاکٹر سید عبد الطیف کی کتاب کے دیباچے میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ ہندوستان کو دو فیڈریشنوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ ایک فیڈریشن مسلم اکثریت کی آئینہ داری کرے اور دوسری ہندو اکثریت کی آئینہ دار ہو۔ مسلم فیڈریشن ہندوستان کے شمال مغربی صوبوں اور کشمیر پر مشتمل ہو۔ اس کی اس تجویز میں بنگال اور آسام کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ جبکہ ڈاکٹر لطیف نے اپنی کتاب میں ہندوستان کو 15ثقافتی زونوں میں تقسیم کیا تھا۔ گیارہ ہندوئوں کے اور چار مسلمانوں کے اس کا خیال تھا کہ تبادلئہ آبادی ناگزیر ہے تا کہ ہر زون میں ہم آہنگی ہو۔ ہر زون میں خود مختار حکومت ہو گی جسکے اختیارات وسیع ہوں گے لیکن وہ آل انڈیا فیڈریشن کے ساتھ بھی منسلک ہو گی۔ اس کے مجوزہ چار زون یہ تھے:۔ (1) سندھ، بلوچستان، پنجاب، سرحد اور خیر پور و بہاولپور کی ریاستیں۔ (2) مشرقی بنگال اور آسام۔ (3) دہلی، لکھنئو بلاک۔ (4) دکن بلاک، ساری ہندوستانی ریاستیں اپنے ثقافتی تقاضوں کے مطابق مختلف زونوں میں ضم ہو جائیں گی۔ سر عبد اللہ ہارون نے نومبر اور دسمبر 1938ء میں سر آغا خان کے نام اپنے خطوط میں بتایا تھا کہ ’’مسلم لیگی حلقوں کا رجحان اب مسلم ریاستوں اور صوبوں کی علیحدہ فیڈریشن کی طرف ہو رہا ہے تا کہ ہم ہندوئوں کی دست درازی سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جائیں‘‘۔
اسی زمانے میں سندھ مسلم لیگ کی کانفرنس منعقدہ کراچی نے ایک قرارداد میں یہ حتمی رائے ظاہر کی کہ ’’ہندوستان کے وسیع و عریض علاقے میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے اور مسلمانوں اور ہندوئوں دونوں ہی قوموں کی آزادانہ ثقافتی ترقی، معاشی و معاشرتی بہتری اور سیاسی حق خود اختیاری کے لیے یہ قطعی طور پر ضروری ہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ اس سارے سوال پر نظر ثانی کرے کہ ہندوستان کے لیے کس قسم کا آئین مناسب ہو گا جس کے تحت انہیں باعزت اور جائز حیثیت مل سکے۔ لہذا یہ کانفرنس آل انڈیا مسلم لیگ سے سفارش کرتی ہے کہ وہ ایک ایسی آئینی سکیم مرتب کرے جس کے تحت مسلمانوں کو مکمل آزادی مل سکے‘‘۔
اس واقعہ کے تقریباً دو ماہ بعد جب دسمبر 1938ء میں پٹنہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس ہوا تھا تو اس میں ایک قرارداد کے ذریعے جناح کو اختیار دیا گیا تھا کہ وہ کسی ایسے متبادل آئین کے امکان پر غور کریں جس کے تحت ہندوستان میں مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کو مکمل تحفظ حاصل ہو سکے۔

یو۔ پی کے ایک تعلّقہ دار نواب سر محمد یامین خان کے بیان کے مطابق اس وقت تک صدر مسلم لیگ محمد علی جناح بھی برصغیر کی تقسیم کے اصول کو محض کانگریس سے سودا بازی کرنے کی غرض سے اپنانے پر مائل ہو گئے تھے۔ نواب یامین خان اپنی یکم مارچ 1939ء کی ڈائری میںلکھتا ہے کہ ’’ڈاکٹر ضیاء الدین نے مجھ کو، مسٹر جناح، سر ظفر اللہ خان، سید محمد حسین بیرسٹر الہ آباد کو بلایا۔ میرے ایک طرف مسٹر جناح بیٹھے تھے اور دوسری طرف سر ظفر اللہ خان ۔ مسٹر جناح کے دوسری طرف سید محمد حسین تھے اور سرظفر اللہ خان کی دوسری طرف ڈاکٹر ضیاء الدین احمد۔ لنچ کھاتے میں سید محمد حسین نے چیخ چیخ کر جیسے کہ ان کی عادت ہے کہنا شروع کیا کہ چوہدری رحمت علی کی اسکیم کہ پنجاب، کشمیر، صوبہ سرحد، سندھ، بلوچستان کو ملا کر بقیہ ہندوستان سے علیحدہ کر دیئے جائیں۔ ان سے پاکستان اس طرح بنتا ہے کہ پ سے پنجاب، الف سے افغان یعنی صوبہ سرحد، ک سے کشمیر، س سے سندھ اور تان بلوچستان کا اخیر ہے۔ چونکہ سید محمد حسین زور زور سے بول رہے تھے سر ظفر اللہ خان نے آہستہ سے مجھ سے کہا کہ اس شخص کا حلق بڑا ہے مگر دماغ چھوٹا ہے۔ سر ظفر اللہ خان ان کی مخالفت کر رہے تھے کہ یہ ناقابل عمل ہے۔ مسٹر جناح دونوں کی تقریر غور سے سنتے رہے پھر مجھ سے بولے کہ اس کو ہم کیوں نہ اپنا لیں اور اس کو مسلم لیگ کا کریڈ (Creed) بنائیں۔ ابھی تک ہماری کوئی خاص مانگ نہیں ہے اگر ہم اس کو اٹھائیں تو کانگریس سے مصالحت ہو سکے گی ورنہ وہ نہیں کریں گے۔ میں نے کہا مغربی علاقہ کے واسطے یہ کہہ رہے ہیں مشرقی علاقے کا کیا ہو گا۔ مسٹر جناح نے ذرا غور کیا اور بولے کہ ہم دونو ںطرف کے علاقوں کو علیحدہ کرنے کا سوال اٹھائیں گے۔ بغیر اس کے کانگریس قابوں میں نہ آئے گی۔ میں نے کہا کہ ابھی کئی دن ہوئے بھائی پرمانند نے یہی اندیشہ ظاہر کیا تھا اور آپ نے جواب ٹھیک دیا تھا۔ اگر بار گیننگ یعنی سودے بازی کے لیے یہ مسئلہ لیگ کا کریڈ یعنی اصولی مانگ بنا کر اٹھایا جائے تو پھر ہٹنا مشکل ہو گا۔ مسٹر جناح نے کہا کہ ہم کانگریس کا رد عمل دیکھیں گے۔ اس پر یہ معاملہ ختم ہو گیا چونکہ یہ کھانے کی میز کی گفتگو تھی‘‘۔ نواب یامین خان کی یہ کتاب 1970ء میں شائع ہوئی تھی۔ مسٹر ظفر اللہ خان اس کے پندرہ برس بعد تک زندہ رہا لیکن اس نے کبھی اس واقعہ کی تردید نہیں کی۔ 19 جنوری 1940 کو لندن کے ہفت روزہ اخبار ٹائم اینڈ ٹائڈ میں جناح کا ایک مضمون شائع ہوا۔ یہ ان کی سیاسی زندگی کا پہلا اور آخری مضمون تھا جس میں انہوں نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا تھا کہ ’’ہندوستان میں جمہوری پارلیمانی نظام نہیں چل سکتا۔ کیونکہ جس ملک میں دو قومیں، ہندو اور مسلمان آباد ہوں، ایک کی دائمی، مستقل اور ناقابل تبدیل اکثریت اور دوسری کی دائمی، مستقل اور ناقابل تبدیل اقلیت ہو وہاں اس قسم کی حکومت اصولاً قائم نہیں ہونی چاہیے۔ ہندوستان میں جماعتی حکومت موزوں نہیں ہے۔ مرکز اور صوبوں کی ساری حکومتوں میں سارے فرقوں کے نمائندے شامل ہونے چاہئیں۔ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء کے نفاذ کے بعد کانگریسی وزارتوں کا ہمیں جو تلخ تجربہ ہوا ہے اس کی روشنی میں ہندوستان کے آئندہ آئین کے بارے میں ازسر نو غور ہونا چاہیے۔ کانگریس اس عرصے میں طاقت کے نشے سے بدمست ہو گئی تھی اور کانگریس کے مجلس عاملہ نے ایک متوازی مرکزی حکومت کی پوزیشن اختیار کر لی تھی جس کے سامنے اس کی صوبائی حکومتیں جوابدہ تھیں کانگریس نے ریجنل ڈائریکٹر مقرر کئے تھے اور صوبائی حکومتیں مکمل طو رپر ان کے حکام کی تابع تھیں۔ ان کی منظوری کے بغیر کوئی قانون سازی نہیں ہو سکتی تھی پھر انہوں نے جو تھوڑی بہت مخالفت کی تھی اس کو کچلنا شروع کیا۔ مسلم لیگ ہندوستان کی آزادی کی حامی تھیں لیکن وہ ایسے وفاق کے قطعی خلاف ہے۔ جس میں جمہوریت اور پارلیمانی نظام کے نام پر اکثریت کی ایک دائمی حکومت قائم ہو جائے۔ برطانیہ کو آئندہ مسلم لیگ کی منظوری کے بغیر کوئی آئین نہیں بنانا چاہیے اور نہ موجودہ آئین میں کوئی تبدیلی کرنی چاہیے۔ ہندوستان کے لیے ایسا آئین بننا چاہیے جس میں یہ تسلیم کیا جائے کہ اس ملک میں دو قومیں آباد ہیں۔ ہندو اور مسلمان۔ دونوں کو اپنے وطن کا نظام حکومت چلانے میں برابر کا حصہ ملنا چاہیے۔ اس قسم کا آئین بنانے کے لیے مسلمان، برطانوی حکومت، کانگریس یا کسی بھی فریق سے تعاون کرنے پر آمادہ ہیں تا کہ موجودہ تلخیاں ختم ہوں اور ہندوستان اقوام عالم میں اپنا مقام حاصل کر سکے‘‘۔ اس مضمون سے ظاہر ہے کہ جناح نے 19جنوری 1940ء تک اپنے ذہن میں برصغیر کی تقسیم کا کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ ان کا مطالبہ صرف یہ تھا کہ ہندوستان میں ہندو اکثریت کی ناقابل تبدیل حکومت قائم نہ کی جائے اور مسلمانوں کو آئندہ کی مرکزی اور صوبائی حکومتوں میں جائز حصہ دیا جائے۔ 15 فروری کو جناح نے دہلی میں آل نڈیا مسلم لیگ کونسل کے اجلاس میں پھر یہی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ ہم برطانیہ اور گاندھی میں سے کسی کو بھی مسلمانوں پر حکومت نہیں کرنے دیں گے۔ ہم آزادی چاہتے ہیں۔ میں مسلمانوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو منظم کریں اور لیگ کونسل کے ممبروں سے کہتا ہوں کہ جائو مسلم لیگ کا پیغام بچے بچے تک پہنچا دو‘‘۔ دراصل مسلم لیگ کا پیغام مسلمانان ہند کے بچے بچے تک پہلے ہی پہنچ چکا تھا۔ یہ مسلم لیگ کونسل کی کوششوں کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ کانگریسی لیڈروں کی کوتاہ اندیشی کا ثمر تھا۔ محمد علی جناح کو لاہور کے ایک نوجوان میاں فروز الدین احمد نے قائد اعظم نہیں بنایا تھا بلکہ کانگریسی لیڈروں نے اپنی رعونت کے باعث انہیں یہ اعلیٰ مقام بخشا تھا۔ جناح تو نومبر 1939ء میں بھی مخلوط وزارتوں کی بنیاد پر کانگریس سے سمجھوتہ کرنے پر آمادہ تھے لیکن جواہر لال نہرو کو ’’کانگریس اور مسلم لیگ میں کوئی چیز مشترک نظر نہیں آتی تھی‘‘۔ اور گاندھی کو ’’مخلوط وزارتوں میں کوئی فائدہ دکھائی نہیں دیتا تھا‘‘۔ ان حالات میں پنجابی مسلمانوں کے تعلیم یافتہ عناصر مسلم لیگ کے سوا کسی اور جماعت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔ سر سکندر حیات خان کی یونینسٹ پارٹی اور زمیندارہ لیگ جاگیرداروں کی تنظیمیں تھیں۔ ان کا شہری مسلمانوں کے درمیانہ طبقہ سے قدرتی تصناد تھا۔ مجلس احرار چار پانچ سال تک قادیانی فرقہ کے خلاف شورش برپا کرنے کے بعد مسجد شہید گنج کے ملبے میں دفن ہو چکی تھی۔ مجلس اتحاد ملت کا وجود، اس کے بانی مولانا ظفر علی خان کی سیاسی متلّون مزاجی کے باعث، تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ البتہ عنّایت اللہ مشرقی کی خاکسار جماعت کا کچھ چرچا تھا کیونکہ اس کے نچلے درمیانہ طبقہ کے بیلچہ بردار رضاکار نہ صرف شہری مسلمانوں میں ولولہ پیدا کرتے تھے بلکہ وہ عامتہ المسلمین میں راشٹریہ سیوک سنگھ، اکالی دل اور اس طرح کی دوسری متعدد غیر مسلم مسلح تنظیموں کے خلاف احساس تحفظ بھی پیدا کرتے تھے۔ مارچ 1940ء کو جبکہ لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کی زور شور سے تیاریاں ہو رہی تھیں علامہ نے فیصلہ کیا کہ اس کے رضاکار سر سکندر حیات خان کی حکومت کی طرف سے نیم فوجی تنظیموں پر عائد کردہ پابندی کی خلاف ورزی کریں گے۔ چنانچہ 19مارچ 1940 کو 313 بیلچہ بردار خاکساروں کے ایک جیش نے اندرون بھاٹی دروازہ فوجی نوعیت کی پریڈ شروع کر دی۔ جب یہ جیش ہیرا منڈی کے چوک نزدیک پہنچا تو اس کا تصادم پولیس سے ہو گیا۔ جانباز خاکساروں نے اپنے بیلچوں کے ساتھ رائفلوں سے مسلح پولیس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی جس میں پولیس کے چند افسر بری طرح زخمی ہوئے اور ایک انگریز پولیس افسر مارا گیا۔ اس کے تھوڑی دیر بعد جب مسلح پولیس کی کمک موقعہ پر پہنچ گئی تو اس نے خاکساروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس سے حکومت کے اعلان کے مطابق 36 خاکسار جاں بحق ہوئے لیکن غیر سرکاری اندازہ پچاس سے کم نہ تھا۔ اس واقعہ کے بعد شہر میں ہڑتال ہو گئی۔ دفعہ 144 نافذ کر دی گئی اور کرفیو لگا دیا گیا۔ اخبارات پر سنسر بٹھا دیا گیا اور پورے شہر میں فوج گشت کرنے لگی اور اس طرح چارو ںطرف دہشت طاری ہو گئی۔ حکومت پنجاب نے خاکسار جماعت کو خلاف قانون قرار دیدیا اور 184 سرکردہ خاکساروں کو گرفتار کر لیا۔ ادارہ علیہ پر حکومت نے قبضہ کر لیا اور علامہ مشرقی کو کراچی سے گرفتار کر کے لاہور لایا گیا جبکہ سنہری مسجد اور شہر کی بعض دوسری مسجدوں میں خاکساروں نے جمع ہو کر حکومت کے خلاف تقریروں کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ انہیں کھانا وغیرہ عوام الناس کی طرف سے مہیا کیا جاتا تھا اور وہ کبھی کبھی شہر کے کسی نہ کسی علاقے میں پریڈ بھی کرتے تھے۔ بالآخر جولائی 1940ء میں پولیس نے آدھی رات کے بعد چھاپے مار کر مسجدوں میں سے سارے خاکساروں کو گرفتار کر لیا گیا اور اس طرح پنجاب میں دس سالہ خاکسار تحریک کا زور ٹوٹ گیا اور بالآخر یہ تنظیم تحریک پاکستان اور مسلم لیگ کی مخالفت کی وجہ سے مفلوج ہو گئی۔ خاکساروں اور پولیس کے درمیان اس خوفناک تصادم کے صرف دو دن بعد یعنی 21 مارچ کو صدر مسلم لیگ محمد علی جناح لاہور پہنچے تو پروگرام کے مطابق ان کے اعزاز میں جلوس نہ نکل سکا کیونکہ شہر کی فضا بڑی سوگوار تھی۔ اسی دن شام کو آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کا اجلاس ہوا جس میں ایک سبجیکٹس کمیٹی کے تشکیل کی گئی۔ دوسرے دن یعنی 22مارچ کو لیگ کا کھلا اجلاس ہوا جس میں جناح نے اپنی طویل صدارتی تقریر میں پہلے تو جولائی 1937ء سے لے کر اکتوبر 1939ء تک کانگریسی وزارتوں کی فرقہ پرستانہ کارروائیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور پھر اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ مسلمان اقلیت نہیں ہیں۔ وہ ہندوئوں سے الگ ایک قوم ہیں اور ان کی گیارہ میں سے چار صوبوں میں اکثریت ہے۔ مسلمانوں میں ایک علیحدہ قوم کے سارے اوصاف موجود ہیں لہذا ان کے لیے ایک الگ وطن، الگ علاقہ اور الگ ریاست کا ہونا ضروری ہے۔ جناح نے اپنے اس موقف کی تائید میں پنجاب کے ایک سرکردہ ہندہ لیڈر لالہ لاجپت رائے کا ایک خط پڑھ کر سنایا جو اس نے 1924ء میں بنگال کے ایک وسیع المشرب لیڈر سی۔ آر۔ داس کو لکھا تھا۔ لاجپت رائے کے اس خط کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ ’’مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں جنہیں ایک دوسرے میں مدغم کر کے ایک قوم بنانا ممکن نہیں‘‘۔ عاشق بٹالوی لکھتا ہے کہ ’’لالہ لاجپت رائے چونکہ ہندو قوم کی ذہنیت کے صحیح علمبردار سمجھے جاتے تھے ان کے اس خط نے لوگوں کو ششدر کر دیا۔ ملک برکت علی سٹیج پر بیٹھے تھے۔ ان کے منہ سے نکل گیا کہ لالہ لاجپت رائے نیشنلسٹ ہندو تھے۔ قائد اعظم نے زور سے کہا کہ کوئی ہندو نیشنلسٹ نہیں ہو سکتا۔ ہر ہندو اول و آخر ہندو ہے۔ اس پر پنڈال میں خوب تالیاں بجیں۔


22مارچ کی شام کو سبجیٹکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں آل انڈیا مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری نوابزادہ لیاقت علی خان نے مشہور و معروف قرار داد پاکستان پیش کی۔ عاشق بٹالوی کی اطلاع کے مطابق اس قرار داد کا مسودہ 21 مارچ کی رات کو نواب ممدوٹ کے مکان پر لکھا گیا تھا۔ قرارداد کی ترتیب و تدوین و تصنیف میں چار آدمیوں یعنی قائد اعظم، نواب محمد اسماعیل خان، سر سکندر حیات خان اور ملک برکت علی نے حصہ لیا تھا۔ سر سکندر حیات خان ایک بنی بنائی قرارداد کا مسودہ اپنے ساتھ ورکنگ کمیٹی میں لائے تھے جو کم و بیش ان کی زونل سکیم کے خاکے پر مرتب کیا گیا تھا۔ لیکن ورکنگ کمیٹی نے اسے منظور نہ کیا۔ منظور شدہ قرارداد کا مسودہ یہ تھا ’’آل انڈیا مسلم لیگ کونسل اور ورکنگ کمیٹی نے 27اگست، 17،18 ستمبر، 22اکتوبر 1939ء اور 3فروری 1940ء کو آئینی امور کے بارے میں جو قراردادیں منظور کی تھیں آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ اجلاس ان کی تائید و تصدیق کرتے ہوئے نہایت پر زور طریقے سے واضح کرتا ہے کہ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء میں جس فیڈریش کی سکیم پیش کی گئی ہے وہ موجودہ حالات میں قطعی بے سود اور ناقابل عمل ہونے کے باعث مسلمانان ہند کے لیے ناقابل قبول ہے۔ یہ اجلاس مزید پرزور اعلان کرتا ہے کہ وہ اعلان تسلی بخش ہے جو ملک معظم کی حکومت کی طرف سے وائسرائے نے 18 اکتوبر 1939ء کو کیا تھا اور جس میں اعلان کیا گیا تھا کہ ہندوستان کی مختلف جماعتوں، فرقوں اور مفادات سے مشورہ کرنے کے بعد گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء پر غور کیا جائے گا۔ با ایں ہمہ مسلم انڈیا اس وقت تک مطمئن نہیں ہو گا جب تک تمام دستوری خاکے پر از سر نو غور نہیں کیا جاتا۔ مسلمان کسی دستوری خاکے کو جو ان کی رضا مندی اور مرضی کے بغیر مرتب کیا جائے گا، منظور نہیں کریں گے۔ قرار دیا جاتا ہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ کے اس اجلاس کی یہ سوچی سمجھی ہوئی رائے ہے کہ مسلمانان ہند صرف اس دستوری خاکے کو قبول کریں گے جو زیادہ بنیادی اصولوں پر مرتب کیا جائے گا۔
’’جغرافیائی طود پر متصلہ وحدتوں (یونٹ) کے منطقے اس طرح وضع کیے جائیں کہ ضروری علاقائی ردو بدل کے ساتھ جن خطوں میں مسلمانوں کی عددی اکثریت ہے۔ مثلاً ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی زون۔ ان کو باہم ملا کر خود مختار ریاستیں بنا دی جائیں جن کے ترکیبی یونٹ آزاد و خودمختار ہوں گے۔ وحدتوں (یونٹ) اور منطقوں میں رہنے والی اقلیتوں کے مذہبی، ثقافتی، اقتصادی، سیاسی اور انتظامی حقوق اور دیگر مفادات کے لیے ان اقلیتوں کے مشورے سے دستور میں مناسب قانون اور پرزور تحفظات رکھے جائیں گے۔ یہ اجلاس ورکنگ کمیٹی کو اختیار دیتا ہے کہ ان بنیادی امور کے مطابق ایک دستور کی سکیم کرے جس کی رو سے انجام کار یہ جملہ منطقے ان تمام اختیارات کو اپنے قبضے میں لے لیں جن کا تعلق دفاع، امور خارجہ، مواصلات، کسٹم اور دیگر ضروری محکموں سے ہے‘‘۔
یہ قرارداد اگلے دن یعنی 23 مارچ کو 3 بجے سہ پہر منٹو پارک میں لیگ کے کھلے اجلاس میں تقریباً ایک لاکھ حاضرین کے سامنے بنگال کے مولوی اے۔ کے فضل الحق نے پیش کی اور یو۔ پی کے چودھری خلیق الزمان نے اس کی تائید کی۔ تائید مزید پنجاب سے مولانا ظفر علی خان، سرحد سے سردار اورنگزیب خان، سندھ سے سر عبد اللہ ہارون، مدراس سے عبد الحمید خان، سی۔پی سے عبد الرئوف شاہ، بمبئی سے اسماعیل ابراہیم چندریگر اور بہار سے نواب محمد اسماعیل خان نے کی اور اگلے روز یعنی 24 مارچ کو یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ اس طرح برصغیر کی سیاست میں ایک بالکل نیا باب کھل گیا۔
یہ قرارداد 1921ء کے بعد تاریخی ہندو مسلم تضاد کی شدت میں مسلسل اضافے، جولائی 1937ء کے بعد کانگریس کی ہندو قیادت کی رعونت، غلط اندیشی اور تنگدلی، مسلم اقلیت کی روز افزوں معاشرتی اور معاشی پسماندگی اور برطانوی سامراج کی تفرقہ انگیزی کا منطقی نتیجہ تھی۔ اگر کانگریس کی بورژوا قیادت میں قدرے سیاسی دور اندیشی، دریا دلی اور انصاف پسندی کا جذبہ ہوتا تو مسلم لیگ کی جانب سے اس قسم کی قرارداد کی منظوری کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ 1939ء سے قبل صدر مسلم لیگ محمد علی جناح کے سیاسی نظریے کی بنیاد کبھی بھی دو قومی نظریے پر نہیں رہی تھی۔ وہ ہندو مسلم اتحاد اور متحدہ ہندوستانی قومیت کے عظیم علمبردار تھے۔ وہ کھلم کھلا کہا کرتے تھے کہ ’’میں پہلے انڈین ہوں اور اس کے بعد مسلمان ہوں‘‘۔ وہ نومبر 1939ء تک یہ کوشش کرتے رہے تھے کہ مخلوط وزارتوں کے اصول کی بنیاد پر کانگریس اور مسلم لیگ میں سمجھوتہ ہو جائے لیکن کانگریس کی کوتاہ اندیش قیادت نے بالآخر انہیں مجبور کر دیا کہ وہ برصغیر کی مسلم اقلیت کے درمیانہ طبقہ کی علیحدگی پسندی کے قائد اعظم بن جائیں۔ مسلمانوں کے درمیانہ طبقہ میں علیحدگی پسندی کا یہ رجحان تحریک خلافت کی ناکامی کے بعد گذشتہ تقریباً پندرہ سال سے پروان چڑھ رہا تھا۔ محمد علی جناح 1938ء میں مسلم درمیانہ طبقہ قائد اعظم اس وقت بنے تھے جب انہوں نے اپنی تقریروں اور بیانات میں اس رجحان کو اپنانے کا عندیہ دیا تھا۔


جاری ہے۔۔۔ پہلا حصہ یہاں ملاحظہ فرمایئے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. محترم اکمل گھمن صاحب نے بہت سنجیدگی سے یہ مضمون لکھا ہے جس پروہ تحسین کے مستحق ہیں۔ایک قاری کے حیثیت میں مجھے چار باتیں کہنی ہیں۔ایک تو یہ کہ اسلوب میں جس شائستگی کی طرف گھمن صاحب نے توجہ دلائی ہے اس کا اہتما م ہربحث کے شرکا پرلازم ہونا چاہیے۔اسی سے علم کا سفر آگے بڑھتا ہے۔دوسرا یہ کہ خرم شفیق صاحب کا مضمون میرے خیال میں ایسا سطحی نہیں ہے کہ اسےآسانی سے نظر انداز کیا جا سکے۔ڈاکٹر مبارک صاحب کے تمام تر احترام کے باجودمیری یہ خواہش ہے کہ وہ اقبال کے بارے میں کوئی رائے قائم کرتے وقت اگر مزید تحقیق کریں توہم جیسے طالب علم ان سے بہتر طور پر استفادہ کرسکیں گے۔تیسرا یہ کہ ڈاکٹر صاحب مطالعہ ٗ تاریخ کے مارکسٹ منہج کو درست سمجھتے ہیں۔میرے نزدیک اورنگزیب اور تحریکِ پاکستان سمیت،ان واقعات کے بارے میں کوئی رائے قائم کرتے وقت اس بات کی بہت اہمیت ہے کہ آپ تاریخ کو کس زاویہ نظر سے دیکھتے ہیں۔آخری بات اس بحث سے متعلق ہے۔اگر خودسرظفر اللہ خان نے ’ڈان‘ کے انٹر ویو میں اس مقدمے کو رد کر دیا تو اس مقدمے میں ان کی گواہی کی کیا اہمیت ہوگی؟

Leave A Reply

%d bloggers like this: