پاکستان میں ہونے والے ڈرون حملوں پہ ہالی ووڈکی تازہ فلم’’ڈرون‘‘

0

(پاکستان پرہونے والے امریکی ڈرون حملوں پر بنائی گئی پہلی فلم)

ہالی ووڈمیں ایسی فلموں کابنناعام بات ہے، جن کے پیچھے سیاسی مقاصد کارفرماہوتے ہیں، صرف تخلیق کاری مطمع نظرنہیں ہوتی، البتہ ایسی فلموں کی تعدادبہت کم ہے، جس میں ایسے حقائق بیان کیے جاتے ہوں، جن سے مغربی معاشرے کااصل چہرہ بھی سامنے آئے، دنیامیں جہاں بھی انہوں نے ظلم وستم ڈھائے، اس کی عکاسی ہوسکے۔ 26جون، 2017کوامریکا اورکینیڈامیں ریلیزہونے والی فلم ’’ڈرون۔ Drone ‘‘ایسی ہی ایک فلم ہے، جس کاموضوع حیرت انگیز طورپر’’ڈرون حملے‘‘ہے۔ اس فلم میں پاکستان کامقدمہ موثر اندازمیں لڑاگیاہے۔ آپ کی حیرت یہ جان کرختم ہوجائے گی کہ اس فلم کو کسی امریکی نے نہیں، بلکہ ایک کینیڈین فلم سازاورہدایت کار Jason Bourque نے بنایاہے، جوکینیڈاکے منجھے ہوئے فلم سازہیں۔ یہی وجہ ہے، فلم پاکستان کے حق میں ہے اورپاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے نتیجے میں مارے جانے والے بے گناہ انسانوں کے بارے میں ہے۔

اس فلم کامرکزی خیال کچھ یوں ہے، ایک پاکستانی تاجر Patrick Sabongui کودکھایاگیاہے، جس کاتعلق کراچی سے ہے اوراس کی بیوی اوربیٹی ڈرون حملے میں ماری جاتی ہیں، جن کا بدلہ لینے وہ تاجر پاکستان سے امریکا کارخت سفرباندھتاہے۔ وہ انتقام کی آگ میں جھلستاہوا، امریکا میں سی آئی اے کی زیرپرستی، خفیہ پروگرام میں شامل، ڈرون حملوں کے آپریٹر اورپائلٹSean Beanکوڈھونڈنکالتاہے۔ اس کی نجی اورپیشہ ورانہ زندگی کی کی نگرانی کرتاہے۔ حتیٰ کہ اس ڈرون آپریٹرکی بیوی کے معاشقے سے لے کر، بیٹے کی الجھنوں تک، سب کچھ دریافت کرنے میں کامیاب ہوجاتاہے۔ ڈرون آپریٹر کے مرحوم والدکی کشتی خریدنے کے بہانے، اس کے گھرمیں داخل ہوتاہے، اس کی بیوی اوربیٹے سے انسیت پیداکرتاہے۔

حیرت کی بات یہ ہے، اس فلم کے بارے میں، نہ تومغربی میڈیا نے کوئی توجہ دی ہے، نہ ہی اس کو پاکستانی میڈیا اورفلم کے موضوع پر لکھنے والوں نے اس قابل سمجھاہے کہ اس کوقلم بند کیاجائے۔

اس خاندان سے مکالمے میں اس کے ذاتی دکھوں کاحوالہ اورپاکستان، کراچی اورڈرون حملوں کا تذکرہ بھی نکلتا ہے۔ ایک موقع پر بات کھل جاتی ہے، اس دوران امریکی خفیہ اہلکاربھی اس خطرے کوبھانپ لیتے ہیں۔ پاکستانی تاجردھمکی دیتاہے، اگراس کو کچھ کہا گیا تو وہ ایک بٹن کے دھماکے سے بریف کیس اڑادے گا، جووہ اپنے ساتھ لایاہے، اس میں بم موجودہے۔ اس دوران وہ اپنے بے گناہ خاندان کے حوالے سے جذباتی گفتگوبھی کرتا ہے اوران لوگوں کواحساس دلاتا ہے، اپنوں کھودینے کاغم کتنا جان لیوا ہوتا ہے۔ فلم کی کہانی میں، ایک موقع پر آکروہ ڈرون آپریٹر کے ہاتھوں چھری کے وارسے زخمی ہوجاتا ہے، پھرامریکی خفیہ ایجنسی کے اہلکار وں کے ہاتھ مارا جاتا ہے، جب اس کے بریف کیس کوکھولاجاتا ہے، تواس میں سے صرف، اس کی بیوی اوربیٹی کی تصویر برآمد ہوتی ہے۔

آفیشل فلم ٹریلرکالنک

اس فلم کامرکزی خیال، فلم ساز Jason Bourque کاہے، انہوں نے جس کو Paul A. Birkettاور Roger Patterson کے ساتھ تشکیل دیا، یوں اس کہانی کااسکرین پلے لکھتے ہوئے بھی وہ اس میں شریک رہے، جبکہ  Paul A. Birket نے اس میں، ان کاساتھ دیا۔ فلم سازی، ہدایت کاری، موسیقی اورمکالمے بہت ہی عمدہ ہیں۔ بالخصوص کرداروں کے درمیان ہم آہنگی، مضبوط کردارسازی دکھائی دی، جس کی وجہ Jason Bourque کاٹیلی وژن ڈرامے بنانے کاوسیع تجربہ ہونابھی ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے تمام کرداروں سے انصاف کیا، البتہ پاکستانی ثقافت کے حوالے سے کہیں معمولی تکنیکی غلطیاں بھی ہیں، جس طرح، کراچی کو جس انداز میں فلم میں انہوں نے دکھایا، یہ ویسابالکل بھی نہیں ہے، پھرپاکستانی تاجر، جوبہت پڑھالکھااوربالغ انسان ہے، اس کی بیوی اوربچی بالکل پسماندہ ماحول کے تناظرمیں دکھائی گئیں ہیں۔ پاکستانی جھنڈے بھی غلط دکھایا۔ ڈرون حملوں کے تناظرمیں بنائی گئی اس فلم کی تکنیکی باریکیوں کے لیے، اگرفلم ساز کسی پاکستانی اداکاریاثقافتی ادارے کے مدد لے لیتے، توشاید انہیں آسانی رہتی، اس تمام ترتفصیل کے باجودمجموعی حیثیت میں فلم بہت عمدہ بنائی گئی ہے۔

اس فلم میں ڈرون آپریٹر کامرکزی کردار Sean Bean نے اداکیا۔ وہ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ایک منجھے ہوئے اداکارہیں۔ رائل اکیڈمی آف ڈرامیٹک آرٹ سے فارغ التحصیل، اس اداکارنے اپنی اداکاری سے فلم میں جان ڈال دی۔ دیگراداکاروں میں  Mary McCormack اور Joel David Moore نے بھی اپناکام خوب نبھایا۔ دیگرثانوی کرداروں میں کام کرنے والے اداکار بھی تعریف کے قابل ہیں، جنہوں نے اپنے اپنے کردار میں رہ کراچھی اداکاری کی، جس سے فلم کامجموعی تاثر مثبت اورشانداررہا۔

حیرت کی بات یہ ہے، اس فلم کے بارے میں، نہ تومغربی میڈیا نے کوئی توجہ دی ہے، نہ ہی اس کو پاکستانی میڈیا اورفلم کے موضوع پر لکھنے والوں نے اس قابل سمجھاہے کہ اس کوقلم بند کیاجائے۔ پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے نتیجے میں جہاں کئی دہشت گردہلاک ہوئے، وہیں بہت ساری معصوم جانیں بھی ان حملوں کی بھنیٹ چڑھیں، ایک بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ کے مطابق تقریباً  ڈھائی ہزاربے گناہ افرادان حملوں میں اب تک مارے جاچکے ہیں۔ اس موضوع پر، پاکستانی نکتہ نظرسے پہلی بار یہ فلم کسی نے بنائی تووہ بھی ایک کینڈین فلم سازنے، جبکہ میں کئی بار لکھ چکا ہوں، شرمین عبید چنائے کو پاکستانی معاشرے کی تکالیف کاذکرکرتے ہوئے، ڈرون حملوں کاموضوع کیوں یادنہیں آتا۔ ہزاروں میل دوربیٹھے ایک فلم سازنے پاکستان کے اس دردکومحسوس کرکے فلم بنادی، مگریہاں کے فلم سازوں کوخیال نہ آیا۔

یہ فلم امریکا اورکینیڈا میں ریلیز ہونے کے علاوہ کئی فلمی میلوں میں بھی دکھائی جاچکی ہے۔ پاکستان میں اس فلم کو ضرور ریلیز ہوناچاہیے، حکومت وقت کواس فلم کی پاکستان میں نمائش پرغورکرنا چاہیے۔ اگرکوئی فلم پاکستان کے خلاف بنتی ہے، تواسے فوری طورپر بین کردیاجاتاہے، یانمائش کی اجازت نہیں دی جاتی، اب اگرکوئی فلم پاکستان کے حق میں ہے تواس کو کون یہاں ریلیز کروائے گا، اس پر کون بات کرے گا، حکومت وقت، فلم کے شعبے کے ذمے داران اورقلم کاروں کو سوچنا ہوگا، لکھناہوگا۔ کسی نے ہمارے ملک کے لیے حق کی آواز بلند کی ہے، ہمیں اس میں اپنی آواز شامل کرنی چاہیے۔ یہ ہمارااخلاقی فرض ہے۔

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: