رواج : عالیہ چودھری کا افسانہ

0

زندگی اتنی آسان نہیں ہے جتنی ہم سمجھتے ہیں۔ بعض اوقات ہم کو لگتا ہے غلط کے خلاف آواز اٹھا لی تو سب ٹھیک ہو جائے گا مگر ایسا ہوتا نہیں۔ سوچ کو بدلنے میں وقت درکار ہوتا ہے خاص کر معاشرتی سوچ کو۔جس معاشرے کے اندر خواہشیں بھی پابند ہوں، جہاں خواب سسکتے ہوں وہاں کے رواج اور روایتی سوچ کا بدلنا آسان نہیں ہوتا۔
قلم اس سے آگے رک گیا۔۔ وہ بھی شاید ویسی ہی گھٹن محسوس کر رہا تھا جس کا شکار اس وقت وہ خود تھی۔ ان لفظوں میں چھپی اذیت کو اس سے بہتر کون جان سکتا تھا۔ وہ جو اپنی کہانیوں میں محبت کی سیکھ دیتی رہی۔۔۔جو غلط کے خلاف ڈٹ جانے کو ایک نئی سوچ کی جانب پہلا قدم گردانتی تھی۔ مگر کیا ہوا وہ اپنے ہی لفظوں کو آزاد نہ کرا سکی۔ مات بھی ہوئی تو وہاں جہاں اس کی اپنی سوچیں غلام بن گئیں۔ وہ جو بدلنے کا ہنر جانتی تھی اب برتنے کی فکر میں خود کو ہلکان کیے رکھتی۔
♡♡♡♡♡♡
خوش نصیبی ایسے تھوڑی سب کے در پر دستک دیتی ہے۔ تمہارا گھر روشن ہے کیونکہ وہاں بھوک اور ضروریات کا خیال رکھنے والی بہو ائی ہے۔ اور ایک ہم ہیں جن کو صرف لفظوں سے بھری پٹاری دے دی گئی۔ ” وہ خاموشی سے اپنے کام میں مگن تھی۔ اب اس تکلیف کو سہنا اس نے سیکھ لیا تھا اگرچہ درد اب بھی ہر دفعہ پہلے سے زیادہ محسوس ہوتا تھا۔ وہ لکھاری تو تھی ہی مگر اپنے لفظوں میں لپٹے جذبات کو جتوا نہ سکی۔ باہر اماں محلے سے آئی عورت کے سامنے اس کے خالی ہاتھ اس گھر میں داخل ہونے کے قصے سنا رہی تھیں جبکہ وہ عورت بھی خوب بڑھا چڑھا کر اپنی نئ نویلی بہو سے زیادہ اس کے جہیز میں لائے سامان کی تعریف کر رہی تھی۔
عورت اگر اچھی ہوں تو وہ اپنے سے جڑے لوگوں کی ضروریات کا بھی خیال رکھتی ہے۔ تمہاری بہو خالی ہاتھ آکر بھی تم لوگوں پر راج کرنا چاہتی۔ یہ کہانیاں لکھنے والی اسے کیا پتا حقیقت میں یہ دعوے دھرے رہ جاتے ہیں۔ اپنی بہو کو بولو رواجوں کو بدلنے کی کوشش مت کرے یہ بڑے بڑے دعوے صرف کہانیوں میں ہی اچھے لگتے وہاں ہی لوگوں کو سناے۔ ” لہجوں کی کڑواہٹ کتنا زہریلا اثر رکھتی لوگ کاش دوسروں کو سنانے سے پہلے ایسا سوچ لیا کریں۔
یہ جہیز کی بات اپنی جگہ ویسے میری بہو بہت اچھی ہے اس نے میرے گھر کو خوب سنبھال کر رکھا ہے۔ ” اماں اس کے سامنے کم ہی مگر دوسروں کے سامنے اس کی اتنی تعریف ضرور کر دیتی تھیں۔ویسے بھی انھیں تو اس کی اپنی ذات سے نہیں بلکہ اس کے نظریات سے چڑ رہتی تھی۔
♡♡♡♡♡♡
رائیٹنگ ٹیبل پہ سر ٹکائے وہ کہیں بہت دور کھوئی ہوئی تھی۔ زندگی کہانیوں سے بھری ایک کہانی ہے، جہاں زبان سے نکلے لفظ جتنی تکلیف دیتے ہیں وہ کوئی ورق اپنے اندر نہیں اتار سکتا۔ اس گھر میں اس کا وجود اسی صورت معتبر ٹھہر سکتا تھا اگر وہ اپنے ساتھ مادی اشیاء کو لیے اس گھر میں قدم رکھتی۔ اس کے اندر جو محبت رواں تھی اس پہ نظر کیوں نہیں ٹھہر جاتی۔۔۔ کیوں لوگ آپ کے وجود کو قیمت کے ساتھ تولتے ہیں۔۔۔ وہ اب ٹوٹ رہی تھی اور اپنی لکھی کہانیوں میں بھی لفظوں کو سوگ کی چادر پہنائے ہوئے تھی۔
آج دن کو ہی باہر سے آئی کسی عورت کے آگ میں لپٹے لفظ اس کو جھلسا رہے تھے۔ جس کے بقول اس کی نند کا رشتہ اس کی وجہ سے نہیں ہو رہا۔ وہ لکھاری ہے اور لوگ اس کے نظریات سے اچھی طرح واقف ہیں۔ لوگ دوسرے کےکئے ہوئے کے بارے میں سن سکتے ہیں اپنے لیے کوئی گریبان میں نہیں جھانکنا پسند کرتا۔ وہ کہاں سے شروع کرنے۔۔۔کیسے ٹھیک ہو گا سب۔۔۔ اسے کچھ سمجھ نہیں تھا آ رہا۔
♡♡♡♡♡♡
امی، مجھے لگتا ہے میں نےجو اپنے قلم کو اپنی آواز بنایا تھا میری آواز جیسے کہیں بہت پیچھے دب کے رہ گئی ہے۔۔۔ میرا اور میرے لفظوں کا ساتھ اب ویسا نہیں رہا، یہ اب بالکل ادھورے سے محسوس ہوتے ہیں۔ میں چاہ کر بھی ان کو مکمل ہونے کا احساس نہیں دلا سکتی۔ میں تو اب ان سے بھی نظریں چرائے پھرتی ہوں۔ عورت واقعی پورا سوچ تو لیتی ہے مگر لکھتی وہ آدھا ہے وہ یہاں بھی آزاد نہیں ہے۔ میں تو اب اپنے اندر کی خلش کو بیان بھی نہیں کر سکتی، میرے قلم کو اب اس معاشرے کا خوف ہے۔ میرے لفظوں کے ساتھ رواجوں کی بیڑیاں باندھ کر انھیں پھر بھی چلنے، سانس لینے کو بولا گیا ہے۔ امی میں عورت ہوں نہ اس لئے پورا لکھ نہیں سکتی۔ میرے لفظوں نے یہ بیڑیاں اتار کر بغاوت کر دی اس معاشرے کی شرافت کو کاغذ پر اتار دیا تو ساری گردنیں میری طرف مڑ جائیں گیں۔لوگوں کے قدم میرے گھر کی دہلیز کے باہر زور سے آہٹ دیں گے اور ان کی آوازیں مجھ سے جڑے رشتوں کو مجھ سے چھین لیں گی۔ ” آج میکے آ کر اس نے ماں کی آغوش میں اپنے آنسوؤں کو بہنے دیا۔
لکھاری تو کبھی نہیں ہارتا اور نہ ہی وہ کبھی ہار مانتا ہے۔ تم تو ابھی لڑی بھی نہیں اور تھک گئی۔ یہ راستہ تم نے خود چنا تھا اگر تمہیں یاد ہو تو کیسے تم نے ذکیہ کی بیٹی کو جہیز نہ دینے پر راضی کیا تھا، اس کے سسرال والوں کے سامنے ان کی استطاعت اور جہیز مانگنے والوں کو خود غرض بیاں کیا تھا۔ اس لڑکی نے تم سے زیادہ مشکل سے وقت گزارا ہے اور کیا خوب لڑی ہے کہ آج اس کے سسرال والے اس کے اخلاق اور کردار کی مثال دیتے ہیں۔ اس کے پاس دکھوں پر مرہم رکھنے کے لیے کوئی تھا بھی نہیں۔ تمہارے پاس تو میں ہوں، تمہارا قلم ساتھ ہے۔ تمہارے حالات اس سے بہت بہتر ہیں۔ یہ تم بھی جانتی تمہارے سسرال والے اچھے ہیں۔ انھوں نے جہیز مانگا بھی نہیں تھا۔ یہاں بھی غلطی ان کی نہیں اس معاشرے میں بسنے والے ان لوگوں کی ہے جو خود اچھا نہیں کرتے اور جو کر لے اسے بھی آسانی سے بخشتے نہیں۔ تمہارے سسرال میں جہیز نہ لانے پہ بات تبھی زور پکڑتی ہے جب دوسرے گھر کی عورتیں تمہاری ساس کے سامنے مفت میں ملے اس سامان کی تعریفوں کا انبارلگا دیتی ہیں کہ تمہاری صورت میں جیسے انھوں نے کوئی اپنا نقصان کر لیا ہو۔ ان کی بہوئیں اسی لیے اچھی انھیں لگتی ہیں ورنہ ایسے گھروں کے حالات چند سالوں بعد تم دیکھ لینا۔ تم لڑو اپنے کردار اور اخلاق کے ساتھ،اپنے شوہر کے ساتھ مل کر اپنے گھر کی بچت اور زیب و آرائش کرو۔ اپنا گھر دنیا دکھاوے کے لیے مت بناؤ۔ ” وہ اس کی ہمت بندھا رہی تھیں۔ کوئی بھی ماں اپنی اولاد کی تکلیف ختم نہ سہی مگر اس سے لڑنا ضرور سکھا سکتی ہے۔
امی، میرے لیے بہت دعا کیا کریں۔ میں نے جو یہ آواز اٹھائی ہے خدا اس کو میرے حق میں بہتر کرئے۔ جہیز کی اس قبیح رسم کو میں اکیلےختم نہیں کر سکتی مگر جتنے لوگوں کی سوچ بدل لوں وہ آگے بھی ضرور بڑھے گی۔ “
تم صبر کرو۔ ابھی تم پہ لوگ ہنسے گئے تمہارا مذاق اڑایا جائے گا مگر ایک دن آئے گا ان کے منہ سے تمہارے لیے ستائشی الفاظ نکلے گئے۔ اچھا انسان اس دنیا سے اپنا آپ منوا کر جاتا ہے۔ ” وہ اسے ٹوٹتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی تھیں۔
♡♡♡♡♡♡
آج کتنے دنوں کے بعد اس کی لکھی کہانی میں امید پھر سے جگمگائی تھی۔ اس نے صبح ہی اپنے قلم کے سپرد اپنا یقین کیا تھا تاکہ اس کے لفظ اس کے قدموں کو ڈگمگانے نہ دیں۔ روشنی کی جو کرن وہ لوگوں کو دکھا رہی تھی اسے خود بھی تو اپنا راستہ اسی میں تلاش کرنا تھا۔ کام کے دوران بار بار اماں پہ بھی نظر ڈال رہی تھی جو ہانیہ کے لیے آئے رشتے کی وجہ سے کافی پریشان تھیں۔ یہ پریشانی جہیز مانگے جانے کی ہی تھی۔ یہ سچ ہے ہم کتنے ہی دعوے کر لیں،کتنے ہی قوانین بنا لیں، جب تک لوگوں کےساتھ کھڑے ہو کر ان کے لیے مضبوط کندھا نہیں بنے گئے تب تک اس طرح کے رواج آسانی سے تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔
شام تک اس نے اماں کو کسی طرح قائل کر لیا تھا۔ اگرچہ شروع میں وہ اس پر برہم ہوئیں لیکن اس دفعہ بات ان کی اپنی بیٹی کی تھی کوئی تو امید دلاتا سہارا انھیں چاہیے ہی تھا۔ اس نے بات بھی کتنے سلیقے سے سمجھائی تھی۔
اماں، آپ فکر نہ کریں ہانی کی شادی ہم اچھی جگہ کریں گئے۔ ہم ایسے لوگوں کو کیسے اسے دے دیں جو پہلے ہی اتنی ڈھٹائی کے ساتھ جہیز مانگ رہے ہیں۔ یہ اختیار ہمارا ہے کہ ہم اپنی استطاعت کے مطابق جو ہو سکے اپنی بیٹیوں کو دیں. جہاں رشتوں کی ساکھ مطالبات منوانے کے ساتھ جڑی ہو وہاں ان کی اہمیت کو کون تسلیم کرتا ہے۔ آپ مجھ سے ناراض ہوسکتی ہیں مگر مجھے یقین ہے اس دفعہ آپ اس بارے میں سوچیں گی۔ اس میں میرا کوئی ذاتی فائدہ نہیں یہ ہماری ہانی کی زندگی کی خوشیوں کا معاملہ ہے۔ مائیں بیٹیوں کے لکھے نصیب سے آگاہ نہیں ہوتیں مگر جب حالات کی خبر پہلے سے ہی ہو تو بیٹی کو اس اذیت سے پہلے ہی بچا لینا چاہیے۔ آج ہم لوگ قدم اٹھائیں گئے کل دوسرے لوگ جو اس جہیز جیسی جکڑی ہوئی رسم کے آگے بے بس ہیں ان کی دہلیز پہ بھی خوشیاں قدم رکھیں گی۔ ” آج اس نے اماں کو منا کر ان کے چہرے پہ بکھرے محبت کے رنگ کو محسوس کیا جو خاص اس کے لیے تھا۔اور اس نے سیکھ لیا تھا اگر جیت یقینی نہیں تو ہم ہار کو اتنے یقین سے پہلے ہی کیوں مان لیتے ہیں۔۔۔ ہمارا اٹھایا ایک قدم ہی ہمیں زندگی میں کہیں نہ کہیں سرخرو ضرور کرتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: