نادرا گیٹ : Digital Hagemony

0

خیالات کا ارتکاز ہی اصل مسئلہ ہے۔ آج بھی یہی مسئلہ درپیش ہے۔ کچھ لکھنا ہے لیکن سمجھ نہیں آ رہا کہ آغاز کس طرح کروں۔ تھوڑی دیر برداشت کریں، ابھی موضوع پر آنے کی کوشش کرتا ہوں۔ دراصل بے ربط خیالات اور تیزی سے آتی ہوئی سوچیں ہی انسان کو موضوع سے ہٹا دیتی ہیں۔ اگر فی الواقع انسان ہو۔ وگرنہ رائفل لٹکائے دو ہاتھ اور دو پاؤ ں اور بظاہر انسانی شکلیں لئے خون آشام درندے بھی نظر آتے ہیں جن کو سوچنا نہیں آتا اورتخیل سے جن کا کوئی واسطہ نہیں۔ ہاں مگر ان کی ڈوریں ہلانے والے سوچتے ہیں اور خوب سوچتے ہیں۔ ان کی سوچ کا ہی ثمر ہے کہ محاذ سے زیادہ طواف کو اہمیت دینے والی یہ امت انہی کی تلواروں کے سائے میں کعبے میں رو رو کر دعائیں کرتی ہے مگر خدا میری لغزش کو معاف کرے گمان غالب یہی ہے کہ یہ دعائیں اس بابرکت مسجد کی چھت تک بھی نہیں پہنچتی ہیں۔
تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی اس دنیا میں فاتح تو محض مفکر ہی ٹھہرتے ہیں۔ ہاں مگر مفکر کی تشریح بغداد کے چوک پر لڑنے والے گدھ بھی نہیں اور کی بورڈ مجتہدین بھی نہیں۔
دراصل اس دنیا میں جتنے انٹیلیجنٹس ڈیزائن نظر آتے ہیں ان کی بابت میں نے ایک عرصے بعد یہ نظریہ قائم کیا ہے کہ یہ انسانی کام نہیں ہے۔ہر چند کہ خدا کے اس نائب کو وہ عظیم ذہانت عطا کی گئی ہے کہ جس کا اسے خود بھی ادراک نہیں مگر پھر بھی کچھ غیر معمولی دیکھ کر یہی ذہن میں آتا ہے کہ یا تو یہ وحی ہے یا اس کے پیچھے شیطان ہے۔ ہمیں جدید دنیا میں جتنے طلسم نظر آتے ہیں اور وسیع و عریض عمارتوں کی زیارت نصیب ہوتی ہے ان سب میں تثلیث اور شیطانیت کی جھلک واضح ہوتی ہے کہ دیدہء بینا چاہئیے اسے دیکھنے کو وہ سرجری کر کے لگوا لیں۔

حسب عادت اور حسب توفیق موضوع کہیں کا کہیں نکل اور یہی ہوتا ہے جب آپ دجال نامی کتاب کو ضرورت سے زیادہ توجہ سے پڑھ لیں۔ بات ہو رہی تھی مفکرین کی بابت۔مفکر تو وہ تھا جس نے سی لینگویج ایجاد کی۔ آپ سوچیں کس لیول کی فکر تھی اس کی؟ حد ادب! مجھے کہنا چاہئے ان کی خدمت کا، ان کا احسان ہے انسانیت پر۔ لیکن میں اس وقت احسان فراموشی کے موڈ میں ہوں۔ جو سی لینگویج سے واقف ہیں شاید وہ میری بات سے اختلاف نہ کریں اور کر بھی لیں تو مجھے کیا فرق پڑنا ہے۔ بہرحال یہ سی لینگویج انسان کا کام نہیں لگتا۔ بلاشبہ اسے کیا ایک انسان ہی نے تھا لیکن اس کے ثمرات کس کو پہنچے اور اس کے تحت پھر ایجادات در ایجادات کا جو سلسلہ چل پڑا اور اس کی مدد سے جو سسٹم بنائے گئے وہ فی الحقیقت اس وقت دنیا میں ایک عالمی مرکزی نظام کا تسلط قائم کرنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ انسانوں پر نظر رکھنا، ان کی ذاتی زندگی سے متعلق معلومات تک رسائی، پسند نا پسند اور ترجیحات کو جاننا اس آقا کیلئے بے حد ضروری تھا جس نے اب نمودار ہونا ہے۔ یہ ضروری تھا کہ اس زمین پر کوئی ایک بھی شخص اس نظام کے دائرے سے باہر نہ ہو جس کے تحت وہ اس دنیا کو چلانا چاہتے ہیں۔ اسے نیو ورلڈ آرڈر کہہ لیں یا کچھ اور، فی الواقع اب اس نظام کے تحت کچھ ایسے کام کئے گئے ہیں ان مقاصد کو حاصل کرنا نہایت آسان ہو گیا ہے۔
فیس بک نامی بلا پر کچھ کلام کرنا لا حاصل ہے۔ کون نہیں جانتا کہ یہ انسان کی پوری زندگی کا احوال ہے۔ چاہیں تو کسی کی ٹائم لائن پر جا کر اس کی خودنوشت تحریر کر سکتے ہیں۔ انسٹا گرام کے ذریعے انسان کا ہر روپ ان پرآشکار ہو چکا ہے۔ واٹس ایپ اور اسکائپ کے ذریعے وہ دنیا کے ہر خطے میں ہونے والی بات چیت سے آگاہ ہیں۔ گوگل نے فی الواقع زمانے کی امامت سنبھال لی ہے مگر یہ حاضر و موجود سے بیزار نہیں کرتا۔ وہ جو غالب کے کاپی رائٹ پامال کرتے ہوئے میں نے کہا تھا؛ کی ورڈز کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے کھلتا کسی پہ کیوں میری سرچنگ کا معاملہ، آپ کی پوری شخصیت کا خاکہ تیار ہوتا ہے اور اسی بنیاد پر آپ کی ترجیحات کا تعین کرتے ہوئے آپ کو وہی دکھایا جاتا ہے جو آپ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس ڈیجیٹل دنیا میں اب کتاب سامری اور جام جمشید کو کسی تصوراتی طلسم کا نام نہیں دیا جا سکتا کہ اب یہ طلسم ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔
حال ہی میں پاکستان میں آنے والی یوبر اور کریم سروسز نے اب ہماری سفر کی روداد بھی ڈیجیٹل کر دی ہے۔ جس رائیڈ کو آپ نقشے پر دیکھتے ہیں تو جن کیلئے لازم ہے کیا وہ اس سے محروم رہ جائیں گے؟ سیٹلائیٹ نظام کے تحت اب اس مرکزی نظام کے تحت ہر ایک کو آنا ہو گا اور اس سے بچنے کا کوئی راستہ بظاہر نظر نہیں آتا۔ وہ جو کہا گیا تھا کہ دجال ایک ہاتھ سے روٹی دے گا اور ایک سے پانی ۔ڈیجیٹل کرنسی اسی کی تشریح معلوم ہوتی ہے۔ آپ جس شے میں انویسٹ کر رہے ہیں وہ کس کے کنٹرول میں ہے آپ نہیں جانتے۔ وہ جسے چاہیں قلاش کر دیں کہ ڈیجیٹل والٹ گیا تو سب گیا۔ مگر پھر بھی اس ترقی پذیر ملک میں ہمیں اس انتہا تک نہیں گھیرا گیا تھا۔ ہر فرد تک رسائی ممکن نہیں تھی۔ ہر شخص ان کے دائرہ کار میں نہیں تھا۔ جب یہ صورتحال سامنےآئی تو فنگر پرنٹس کا سہارا لیا گیا۔ بائیو میٹرک تصدیق کی مہم چلائی گئی وہ بھی فری۔ کہتے ہیں کہ جو چیز فری ہو اس میں کچھ تو گڑبڑ ہوتی ہے۔ یہ بھی فری تھا۔ اب سم لینے جائیں یا پاسپورٹ یا شناختی کارڈ بنوائیں۔ نادرا کے ڈیٹابیس میں آپ کی انگلیوں کے نشانات محفوظ کرنا لازم ٹھہرتا ہے۔ اور یہی وہ چیز تھی جس سے ان کی رسائی میں ہر وہ شخص آ گیا جو کسی طرح اس سے قبل بچھائے گئے جال سے باہر تھا۔ اب نادرا کے ڈیٹابیس میں شامل ہر شخص یعنی پوری قوم اپنی انگلیوں کے نشانات اور متعلقہ کوائف سمیت محض ایک کلک کی دوری پر اس مرکزی نظام میں داخل ہے۔ بس اس پر موجود جی پی ایس چپ کو e ہونے دیں۔ ہم سب کی جیب میں ٹریکر ہو گا اور ہر ممکنہ دہشت گرد محض ایک کلک پر ڈرون کو پیارا ہو جائے گا۔ آئندہ آنے والی خبریں کچھ اس طرح ہوا کریں گی:

“جامعہ کراچی کے پولیٹیکل سائنس ڈیپارٹمنٹ کا طالبعلم فیس بک پر جہادی آیت پوسٹ کرنے کے بعد ڈرون حملے میں مارا گیا۔”

“نجی تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم ایک طالبعلم نے واٹس ایپ پر شدت پسندانہ مواد شئیر کیا جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہے۔”

“مشتبہ شخص کی انسٹاگرام پر سیلفی، جیو ٹیگنگ کی مدد سے مبینہ دہشت گرد کو ہلاک کر دیا گیا۔ “

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: