پاکستان کا فرسودہ نظام تعلیم: عماد قریشی

0

– علم حاصل کرنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور علم کے حصول کو سب کے لئے یکساں بنیادوں پر ممکن بنانا ہر ریاست کی بنیادی زمہ داری ہے . چونکہ ہماری ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہر چیز کو مذ ہب سے تشبیہ دے کر وزن پیدا کیا جاتا ہے تو یہ حربہ میں بھی استعمال کروں کرنا چاہوں گا کہ ایک غزوہ میں کچھ کفار کو مسلمانوں نے جنگی قیدی بنا لیا۔ اللہ کے نبی ص نے حکم دیا کہ ان قیدیوں میں سے، جو پڑھا لکھا ہے وہ ہمارے بچوں اور بڑوں کو تعلیم دے، اس طرح اس کے ساتھ نرمی کی جائے گی۔ اب اس بات کے دو مطلب ہیں۔ اول؛ یہ کہ وہ قیدی غیر مسلم تھے اور یقینا کافر قیدی سے قرآن یا اسلام کی تعلیم کی بات تو ہو نہیں رہی ہو گی، اس لئے ہمارے مولوی حضرات کا یہ دعوی کہ “علم حاصل کرنا ہے تو چین تک جاؤ ، اسلامی علم کے لئے کہا گیا تھا دنیاوی علم کیلئے نہیں” کی نفی ہوتی ہے۔ دوئم: تعلیم کی اہمیت اسلام میں کتنی ہے اس بات کا بہ خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

مصنف

اب اگر ریاست پاکستان کے تعلیمی نظام پہ نظر ڈالیں تو آپ کو معاشرتی اور طبقاتی تقسیم کی منافقانہ اور غیر منصفانہ ایک واضح لکیر وہاں بھی کھنچی نظر آئے گی۔ امیروں کیلئے اوکسفورڈ کے سلیبس پر مشتمل، جدید ریسرچ اور ٹیکنالوجی پر منحصر تعلیمی نظام ہے اور غریب کیلئے سرکاری بورڈ کا سلیبس جو جدید زمانے سے کسی قدر فرسودہ ہو چکا ہے ابھی کچھ دن پہلے میرا 8 سال کا بیٹا جرمنی میں میرے تایا کو بلبل کا بچہ والی نظم سنا رہا رھا۔ جو وہ پاکستان سے اپنی دوسری کلاس سے یاد کر کے آیا۔ میرے تایا نظم سن کے بہت ہنسے اور بولے کے یہ نظم میں نے 1963 میں یاد کری تھی۔ اب تایا جی کی یہ بات ہمارے تعلیمی نظام کے سالوں پرانے اسلوب پر گواہ ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اربوں ڈالر جھونکنے کے بجائے اگر کچھ کروڑ ڈالر ان ملکوں کے تعلیمی نظام پر پوری ایمانداری اور دیانتداری سے لگا دیئے جاتے تو نتائج آج کی نسبت بہتر ہوتے۔

2007 میں جب میں اپنی بیچلر ڈگری ختم کر رہا تھا تو یونیورسٹی کے ایک پروفیسر سے ایک پراجیکٹ کے سلسلے میں رابطہ کیا. جب ان کے سامنے کتاب کا نام لیا تو انھوں نے انکشاف کیا کہ یہ کتاب انھوں نے اپنی یونیورسٹی کے دنوں میں پڑھی تھی قریبا 1984 کی بات ہو گی۔ اب اگر پاکستانی نظام تعلیم کا مطالعہ ان حوالوں کو سامنے رکھتے ہوئے کریں توسرکاری سکولوں میں 54 سال اور یونیورسٹیوں میں 33 سال سے کم و بیش وہی تعلیمی نظام راج ہے۔ پرائیویٹ اور سرکاری تعلیمی نظام کی تقسیم نے ہماری موجودہ اور آنے والی نسل کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ ایک سرکاری سکول سے سن 1950 کا سلیبس پڑھ کر تعلیم حاصل کرنے والا پروفیشنل لائف میں ایک اے لیول والے کا مقابلہ بہت مشکل سے کر پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لمز یونیورسٹی کا طالبعلم 100،000 روپے کی نوکری پر اور پنجاب یونیورسٹی کا طالبعلم 25000 روپے کی نوکری پر لگتا ہے۔

تعلیم کے بنیادی حصول کا اثر صرف ملک کی معیشت پر ہی نہیں پڑتا ہے. بلکہ ملک میں موجود لاقانونیت اور انتہا پسندی کو بھی تعلیم کے ہتھیار سے شکست دی جا سکتی ہے۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اربوں ڈالر جھونکنے کے بجائے اگر کچھ کروڑ ڈالر ان ملکوں کے تعلیمی نظام پر پوری ایمانداری اور دیانتداری سے لگا دیئے جاتے تو نتائج آج کی نسبت بہتر ہوتے۔ 1945 میں دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی کی عوام کے پاس کھانے کو روٹی اور پہننے کو کپڑا مشکل سے میسرتھا۔ 30 سال اس قوم نے صرف آلو کھا کے گزارا کیا۔ اسلحہ اور دفاعی شعبہ میں سرمایہ کاری کے بجائے تعلیم پر سرمایہ کاری کی۔ اب یہاں تعلیم کا حصول سکول سے یونیورسٹی تک مفت ہے۔ بنیادی تعلیم کے حصول کے قوانین اتنے سخت ہیں کہ اگر ماں باپ اپنے بچے کو 6 سال کی عمر میں سکول نہ بھیجیں تو سرکار نہ صرف جرمانہ کرتی ہے بلکہ ضرورت پڑنے پر جیل بھی بھیج سکتی ہے۔ آج جرمنی دنیا کی چوتھی بڑی معیشت ہے اور اس سے دو سال کے بعد آزاد ہونے والے ہم دور دور تک اس ریس میں کہیں نہیں کھڑے۔ ہم سب کو چاہیئے کہ اس طبقاتی تعلیمی نظام کے خلاف اپنی اپنی حیثیت میں آواز اٹھاٰٰئیں اور آنے والے 2018 کے الیکشن میں اپنی اپنی جماعتوں سے روڈ ، گلیاں بنوانے کے بجائے ایک منصفانہ اور جدید ریسرچ پر مشتمل تعلیمی نظام کا مطالبہ کریں۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: