ہم کتنا کھارہے ہیں: بسیار خوری یا Over Eating

0
  • 9
    Shares

آج تجارت، میڈیا اور انڈسٹری باہم مل چکے ہیں۔ مرج البحر کی طرح یہ سب آپس میں ضم merge ہو رہے ہیں۔ ایسے میں جب ہم اپنی کسی روزمرہ خوراک کے بارے میں حقیقت حال کے چند لفظ لکھ دیتے ہیں۔ تو گھبرا کر ایک ہی سوال ہوتا ہے۔ آخر ہم کھائیں کیا۔۔۔؟
بے شک یہ بہت اہم سوال ہے۔ اسکا کوئی ایک سطری جواب ممکن بھی نہیں۔ لیکن اسی سوال سے کچھ اور سوالات ہر فرد کو اپنی ذات سے ضرور کرنے چاہئیں۔
کیوں کھانا ہے۔؟ کب کھانا ہے۔؟ کیا کھانا ہے۔؟ ان سوالات کے بعد یہ فکر قدرے آسان ہوجاتی ہے کہ ہم کھائیں گے کیا۔۔؟؟ انسان کی زندگی اُس کی نفسیات اور ضروریات پر تشکیل ہوتی ہے۔ کھانے پر انسانی نفسیات تین چیزوں سے تشکیل پاتی ہے۔ آنکھیں، ناک اور زبان۔ آنکھیں کھانے کے رنگ اور انکی جاذبیت پر فدا ہوتی ہیں۔ ناک اسکی خوشبو پر، اور زبان اس کے ذائقے پر۔ ایک بار کھانا حلق کے پار ہوجائے تو یہ تنیوں خواص جسم کے کسی کام کے نہیں، جسم اس کھانے کی سیرت سے سروکار رکھتا ہے۔
ہماری اسی نفسیات نے کھانے پینے کی ایک بہت بڑی مارکیٹ بنا لی۔ انہوں نے آنکھوں کو لبھانے کیلئے قسم قسم کے رنگ و آرائش بنالئے، خوشبووں کیلئے مصنوعی کیمکل فلیورز اور زبان کیلئے سیکڑوں مصالحہ جات کی ترکیبیں۔ اس پر انکی سیل چل پڑی، لیکن اس کھانے کا حلق پار پیٹ میں کیا اثرات، ان پر زیادہ تر راوی خاموش رہتے ہیں۔ کیا ہم آج اتنا ہی کھاتے ہیں جتنا ہمارے اجداد کھاتے تھے۔؟ اس کا جواب نفی ہے۔ ہمارے اجداد کی مشقت ہم سے زیادہ خوراک کم تھی۔ ہماری خوراک بہت زیادہ مشقت کم ہے۔ آج کھانا بطور خوراک کم اور بطور نشہ زیادہ ہے۔ جیسے پان اور گٹکا زبان کے کچھ سنسرز کو عادی بنا کر ہماری مجبوری بن جاتا ہے،ہم اسے نشہ بھی سمجھتے ہیں، نقصان بھی لیکن چھوڑنا پھر بھی دوبھر لگتا ہے۔ ایسے ہی زیادہ تر کھانا بھی ایک نشہ جسے چسکا کہتے ہیں۔ اسی کی آبیاری ہے۔
دوسرا ہم نے کھانے کے اوقات بنا لئے۔ اب چاہے ہمارے بدن کو طلب ہو کہ نہ ہو، ان اوقات میں کھانا لازم ہے۔ کھانے کی لذت بھوک میں ہے۔ بھوک بدن کا وہ سسٹم ہے جو توانائی کیلئے آپ سے خوراک کی طلب کرتا ہے۔ چسکا وہ طلب ہے جو زبان، آنکھ یا ناک کی طلب پر آپ نشئی کی طرح حلق کے پار کرتے ہیں۔ جیسے روزے کی سختی میں افطار کی لذت ہے۔ ایسے ہی بھوک کی شدت میں کھانے کا ذائقہ ہے۔ اس بھوک میں سادہ خوراک بھی شاہی دسترخوان لگتا ہے۔
تیسرا مسئلہ تب کیا کھانا ہے آجاتا ہے۔ ہم رائج الوقت ان اشیاء پر لکھتے ہیں۔ جو ہمھاری اس ڈیمانڈ نے غیر فطری سپلائی کی صورت میں بازاروں میں بھر دی ہے۔ پانی کی موجودگی میں اگر آپ کوک پئیں گے تو یہ اختیاری مسئلہ ہوگیا، مجبوری نہی کہا جاسکتا۔ جب کہ کوک کے نقصانات بے تحاشا اور پانی کے کچھ نہیں۔ ایک امریکی ٹاون کی تحقیق میں دیکھا پچھلے بیس سال میں آبادی پندرہ فیصد بڑھی، جبکہ انہی بیس سال میں برائیلر مرغی کی طلب 800 گنا بڑھ گئی۔ یہی لائف اسٹائل کا مسئلہ ہے۔ ہم نے اس طلب کو ضرورت سمجھ لیا ہے۔ اگر ہم طلب کم کردیں گے تو زیادہ قیمت ہوتے بھی چینی کو شہد سے کوکنگ آئل کو دیسی گھی یا زیتون و ناریل کے تیل سے بدل پائیں گے۔ یا یہ نہ بھی کرسکے تو ان اشیاء کا استعمال کم تو ہو ہی جائے گا۔ اور کم استعمال پر جسم کا اپنا امیون سسٹم بھی بدن کی مدافعت کر پاتا ہے۔
آج اس نئے لائف سٹائل پر ہم بتدریج اس حد تک جارہے ہیں کہ ہمارے بچپن میں جو اینٹی بائیوٹک ہمارے لئے کافی ہوتی تھی وہ نئی نسل پر کام ہی نہیں کرتی۔ یہ ایک سوچ ہے۔ کھانا جینے کیلئے کھانا ہے نہ کہ کھانے کیلئے جینا ہے۔ کھانے کو اسکی غذائیت پر کھانا ہے نہ کہ چند انچ کی زبان کا چسکا پورا کرنے کیلئے کھانا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: