کیا اس ملک میں اتنی ہی کرپشن ہوئی ہے جتنی پنامہ لیکس میں سامنے آئی ہے؟

0

سیمولیشن کی تھیوری کے مفکرین کے مطابق جب معاشرے کا کوئی طاقتور گروہ اپنے مخصوص مفادات کا تحفظ کسی خاص رجحان کی فیبریکشن میں دیکھتا ہے تو اسے ایک ایڈھاک بیانیہ کی شکل دے کر معاشرے کے تمام ذرائع ابلاغ عامہ کو استعمال کرکے اپنی اس خاص طبقاتی ضرورت کو سارے معاشرے کی رئیلیٹی میں تبدیل کردیتا ہے۔ یہ دراصل سیمولیٹڈ رئیلیٹی ہوتی ہے جومعاشرے کی پوری فضا پر اتنی طاقت سے تھوپ دی جاتی ہے کہ عام افراد کیلئیے وہ مصنوعی سوشل کنسٹرکٹ ہی اصل سماجی حقیقت کی حیثیت اختیار کرلیتا ہے۔ اس مقصد سے اس معاشرے میں “نان-ایشوز” کا ایک سیلاب لایا جاتا ہے جس میں تمام سوچنے سمجھنے والے لوگ بہہ جاتے ہیں۔ دنیا نے جہاں عظیم عالمی سوشل سیمولیشنز کے ادوار دیکھے ہیں، مثلاً کیپیٹلزم، فاشزم، نازی ازم، وہاں اب دنیا میں منی سیمولیٹڈ رئیلیٹیز اور مائیکرو سیمولیشنز کا دور آگیا ہے۔ جو لوگ ان سیمولیٹڈ سوشل رئیلیٹیز کو ماننے سے انکار کرتے ہیں ایک تو یوں بھی ان کی تعداد بہت قلیل ہوتی ہے دوسرے ان کو “حقائق” سے متصادم بات کرنے کے جرم میں “نکو” بناکر تنہا اور فرسٹریٹ کردیا جاتا ہے، نتیجتاً ایسے لوگ معاشرتی “نارمز” سے نان-کمپلائنس کی بنا پر یا تو گوشہ نشین کردئیے جاتے ہیں یا پھر انہیں “فکس-اپ” کردیا جاتا ہے۔ اس بات کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اسی “معاشرتی حقیقت” میں جب طاقتور طبقے کی ضرورت ختم یا تبدیل ہوجائے تو اسی تناسب سے، سوشل انجینئیرنگ کے ذریعہ ایک مختلف، متضاد یا بالکل نئی مائیکرو سماجی حقیقت راتوں رات سیمولیٹ کردی جاتی ہے۔ ایک وقت تھا کہ مائیکروسیمولیٹڈ رئیلیٹی یہ تھی کہ تمام پاکستانی طالبان مقدس ہیں اور ان کے خلاف ایک لفظ بھی بولنا گناہ ہے۔ پھر سیمولیشن میں تبدیلی کی ضرورت پڑی اور رئیلیٹی یہ ٹھہری کہ کچھ اچھے طالبان ہیں اور کچھ برے۔ مگر کچھ ہی عرصے بعد اس سیمولیشن کو مزید موڈیفائی کرنا پڑا اور یوں تمام پاکستانی طالبان ہی فتنہ و فساد کی جڑ بنادئیے گئے۔ وہ تمام ذرائع اظہار اور رائے سازحضرات، جو کبھی طالبان کے تقدس کی قسمیں کھایا کرتے تھے اور ان تمام لوگوں کی زندگیاں جہنم بناتے رہے تھے جن کا ایمان تھا کی طالبانیت ایک بہت بڑا فتنہ تھی، جب مائیکرو سوشل رئیلیٹی تبدیل ہوئی توخود بھی انہی طالبان کوتمام فتنہ و فساد کا منبہ قرار دینے لگے۔

2013 کے الیکشن کے بعد مائیکرو سیمولیٹڈ رئیلیٹی یہ کری ایٹ کی گئی کہ ان انتخابات میں نون لیگ نے دھاندلی کی ہے [لوگوں کو اس رئیلیٹی میں یوں محسوس ہونے لگا گویا کہ اس سے پہلے کسی الیکشن میں ایسی دھاندلی نہیں ہوئی اور اگر الیکشن دوبارہ کروائے جائیں تو پاکستان کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے] اس سیمولیٹڈ رئیلیٹی کے مقابلے پر جو اصل حقیقت تھی وہ طاہر القادری صاحب بیان کررہے تھے کہ یہ تو نظام ہی مکمل طورپرکرپٹ ہے۔ اس نظام میں نہ آئین کے مطابق الیکشن کمیشن قائم ہوتا ہے اور نہ ہوا اور نہ اس کمیشن نے امیدواروں کی آئین کی شقوں کے مطابق مکمل سکروٹنی کی۔ سو الیکشن میں دھاندلی پر شور مچانے کی بجائے آئین پر مکمل عملدرآمد کیلئیے عوامی جدوجہد کی جائے۔ لیکن الیکشن اور دھاندلی کی سیمولیشن کے تمام کرداروں نے طاہرالقادری صاحب کا ساتھ نہیں دیا اور چار حلقے کھول دئیے جائیں تو دھاندلی ثابت ہوجائے گی کا راگ الاپتے رہے۔ جبکہ دوسری جانب قادری صاحب اس استحصالی سیاسی نظام کودرست کرنے کی بات کرتے رہے جو جمہوری نعروں کی دھوکے بازسیمولیشن پر قائم ہے۔ بالآخرطاہرالقادری صاحب کو سانحہ ماڈل ٹاوٰن کرواکے “فکس اپ” کردیا گیا۔
اسی دوران پنامہ لیکس کے سکینڈل نے ہمارے جمہوری سیمولیٹڈ سیاسی ڈرامے میں، کرپشن کا ایک واضع باب کھول دیا۔ اس بار سیمولیٹڈ رئیلیٹی کا پردہ فاش ہوسکتا تھا اور اصل حقیقت عوام کے سامنے آنے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا، چنانچہ اس جمہوریت کے تمام سٹیک ہولڈرز نے عام کرپشن کی سیمولیشن کو اس طرح موڈیفائی کیا کہ سارا فوکس محض پنامہ کی “کرپشن” تک محدود ہوگیا۔ اور پھر ماڈل ٹاوٰن کے سانحے کو پنامہ سکینڈل کے شور میں دبادیا گیا اس کے بدلے میں کرپشن کے الزام کا زیادہ بوجھ شریف خاندان پر لاد کر بدلے میں باقی سٹیک ہولڈرز کی کرپشن کواگلے الیکشن کی ھاوٰ ھو میں غتربود کردینے کی سٹریٹجی طے ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

اس معاشرے میں “نان-ایشوز” کا ایک سیلاب لایا جاتا ہے جس میں تمام سوچنے سمجھنے والے لوگ بہہ جاتے ہیں۔

موجودہ وقت میں جس مائیکرو سیمولیٹڈ سیاسی رئیلٹی نے عوام و خواص کی نظربندی کی ہوئی ہے اس سے ہر جانب یہ یقین عام ہے کہ پنامہ لیکس کے مقدمے کا فیصلہ آنے کے بعد ملک میں کرپشن ختم ہوجائے گی، قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس آجائے گی اور عوام کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ پنامہ لیکس میں تو فقط ایک آف شور کمپنی میں پاکستانیوں کی بیرون ملک دولت کے ایک انتہائی قلیل حصے کا ذکر ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ہمارے بدعنوان سسٹم کی جعلی سیمولیٹڈ رئیلیٹی کس چالاکی کے ساتھ اس ظالمانہ نظام کو بچا رہی ہے۔ اوریہ بھی دیکھتے ہیں کہ اس تمام جھوٹ کے درمیان ملک کے محب وطن ادارے کس طرح مصنوعی حقیقت کے اس جال کو توڑ کر اس ملک کو مہذب قوموں کی صف میں شامل کرسکتے ہیں۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ “بچوں” نے لندن کی پراپرٹی اور جس آف شور کمپنی نے وہ پراپرٹی خریدی تھی، اس کی ملکیت کو “اون” کرنے کے بیانات دے کر غلطی کی تھی اور یوں پورے کنبے کو پھنسا دیا کیونکہ اگر ان کی ملکیت ماننے سے ہی انکار کردیا جاتا تو آج جے آئی ٹی کی پیشیاں نہ بھگتنا پڑتیں، جو لوگ یہ بات کہتے ہیں شاید ان کے ذہن میں ماضی قریب کی ذرداری صاحب والی مثال ہوکہ وہ آخر وقت تک انگلینڈ کے “سرے پیلس” کی ملکیت سے انکار کرتے رہے تھَے اور اسی موقف نے ان کو عدالتی تحقیقات کے ان مرحلوں میں پھنسنے نہیں دیا جن سے موجودہ شاہان اسلام آباد گذر رہے ہیں۔ بظاہر تو اس بات میں وزن ہے۔ لیکن غور سے دیکھا جائے تو موجودہ شاہان کی صورتحال، ماضی کےشاہ ذرداری سے مختلف ہے۔ آج کی حکمران ڈائنسٹی پر براہ راست بہت سے بڑے بڑے معاملات میں دولت کی غیر معمولی حرکت کے الزامات ہیں۔ اگر پانامہ لیکس کا “اتفاقی” واقعہ نہ ہوا ہوتا توپاکستان کے تمام تحقیقی اور احتسابی اداروں سمیت، کسی کو معلوم تک نہ ہوتا کہ ان “بچوں” کے نام پرکوئی آف شور کمپنی کھلوائی گئی تھی اور اس آف شور کمپنی نے چند لاکھ پاوٰنڈ کی قیمت کی پراپرٹی لندن میں خریدی تھی۔ پانامہ لیکس کا واقعہ تو پاکستان کے چارٹر آف ڈیموکریسی سے جنم لینے والے تمام اقتدار پسند گروہوں کیلئیے ایک نعمت آسمانی کی طرح اترنے والا واقعہ ثابت ہوا۔ اپوزیشن نےکمال ہوشیاری سے “گو نواز گو” کا نعرہ صرف پانامہ لیکس کے الزامات کے دائرے تک محدود کردیا۔ اور شاہان اسلام آباد کیلئیے بھی تمام بڑی کرپشن کے الزامات سے جان چھڑا کر یکسوئی سےاس کھیل میں چوکھا رنگ بھرنا آسان ہوگیا کہ لندن کے فلیٹوں کی ملکیت کس کی ہے اور وہ چند لاکھ پاوٰنڈ کہاں سے آئے جن سے اس جائیداد کو خریدا گیا۔
یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اس قوم کا جو اصل سرمایہ “مسنگ” ہے یعنی جس رقم کا سراغ نہیں مل رہا کہ کہاں گئی، وہ تو سینکڑوں بلین ڈالرز ہے۔ لیکن سیمولیٹڈ رئیلیٹی نے زبانوں کو اس طرح گنگ اور ذہنوں کو اس طرح ماوٰف کیا ہوا ہے کہ ساری فکری کسرت کا زور صرف پنامہ کے مقدمے کی کاروائی اور اس کے اتار چڑھاوٰ پر مرتکز ہوگیا ہے۔ اس پہلو سے کہیں غور ہی نہیں کیا جارہا کہ اصل رقم جس کی کرپشن میں پورا سسٹم ملوث ہے اس کے مقابلے میں لندن کی پراپرٹی کی قیمت تو محض مونگ پھلی کی حیثیت رکھتی ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ساری اپوزیشن نے اسی مونگ پھلی کو بنیاد بنا کر آسمان سر پر اٹھایا ہوا ہے۔ یہی مونگ پھلی ہے جس کے بارے میں جے آئی ٹی بھی تحقیقات کررہی ہے اور یہی مونگ پھلی ہے جس نے “ایک شریف خاندان” کو سیسیلئین مافیا کے خطابات کا سزاوار قرار دے دیا ہے۔
پاکستان، وہ مملکت خداداد، جو قدرت کے عطاکردہ انتہائی قیمتی خزانوں سے مرصع ایک باغ تھا، اسے پچھلی کئی دہائیوں میں جمہوریت کے نام پرخوب لوٹا اور اجاڑا گیا اور اب یہاں اگلے الیکشن سے پہلے چند لاکھ پاوٰنڈ کی مونگ پھلی چوری کےڈرامے کا فیصلہ ہونے جارہا ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ ان عدالتی کاروائیوں کا زیادہ سے زیادہ نتیجہ کیا نکلے گا؟ یہی ناں کہ لندن پراپرٹی کی “منی ٹریل” ثابت نہیں ہوپائے گی۔ یا نواز شریف صاحب کے صادق اور امین ہونے پرہلکی سی آنچ آجائے گی جس کے نتیجے میں ہوسکتا ہے کہ انہیں انتخابات سے چند ماہ پیشترایک بڑے لیڈر کی طرح اقتدار چھوڑنے کی مثال قائم کرنا پڑجائے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فیملی اپنے اگلے ٹیکس گوشواروں میں لندن پراپرٹی بھی فیملی ایسٹس کے طور پر ظاہر کرنے کو تیار ہوجائےاور اب تک نہ ظاہر کرنے کے جرمانے سمیت بقایا جات ادا کرکے ایک مزید اچھی روایت کی داغ بیل ڈالے۔ تو کیا فقط یہ نتیجہ نکلنا چاہئیے اس قوم کے پورے پانچ سال الیکشن میں دھاندلی کے الزام اور اس پنامہ کیس پر ضائع کردینے کا؟
قطعاً نہیں۔ پاکستانی قوم کی سچی خیر خواہی کا تقاضہ ہے کہ تمام روشن ضمیر شہری بیک آواز بلند یہ اعلان کریں کہ پنامہ سکینڈل اورفقط لندن پراپرٹی کی “منی ٹریل” کی تحقیقات کی آڑ میں اس ملک میں ایک زمانے سے ہورہی لوٹ ماردبانے کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پنامہ سکینڈل کے نام پر لندن پراپرٹی پر جو بھی فیصلہ ہوگا وہ ملک کے باقی لٹیروں کیلئیے کلین چٹ نہیں بننے دیا جائے گا۔ تمام باشعور شہریوں کو اپنے ملک کے ذمہ دار اداروں سے سوال کرنا چاہئیے کہ کیا اس ملک میں صرف اتنی ہی کرپشن ہوئی ہے جتنی پنامہ لیکس کے نتیجے میں سامنے آئی ہے؟

یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اس قوم کا جو اصل سرمایہ “مسنگ” ہے یعنی جس رقم کا سراغ نہیں مل رہا کہ کہاں گئی، وہ تو سینکڑوں بلین ڈالرز ہے۔ لیکن سیمولیٹڈ رئیلیٹی نے زبانوں کو اس طرح گنگ اور ذہنوں کو اس طرح ماوٰف کیا ہوا ہے کہ ساری فکری کسرت کا زور صرف پنامہ کے مقدمے کی کاروائی پر مرتکز ہوگیا ہے۔

ہمارے مخلص اداروں کے پاس اس وقت موقع ہے کہ ایک ایسی جے آئی ٹی قائم کریں جو جنوبی افریقہ کے “ٹروتھ اینڈ ریکنسیلئیشن کمیشن” کے انداز میں کام کرے۔ یہ جے آئی ٹی سب سے پہلے توآئندہ الیکشن کے انعقاد سے پہلے امیدواروں کو آئین کے آرٹیکلز باسٹھ تریسٹھ کی چھاننی سے سختی سے گذارے۔ پچھلے الیکشن کمیشنز کا محاسبہ کرے۔ اپنے ملک کے تمام محتسب اور تحقیقاتی اداروں، مثلاً نیب، آڈٹ بیورواورریونیو/ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ، آئی بی، ایف آئی اے، وغیرہ سے سوال کرے کہ ملک میں کرپشن کے حوالے سے تمہارے پاس علاوہ پنامہ لیکس کے، اور کیا اطلاعات ہیں؟ ان کی کارکردگی پر بھی یہی سوال اٹھتا ہے کہ کیا اس ملک میں صرف اتنی ہی کرپشن ہوئی ہے جتنی پنامہ لیکس کے نتیجے میں سامنے آئی ہے؟ اگر پنامہ لیکس کا بین الاقوامی واقعہ نہ ہوتا توان اداروں کی کارکردگی تو اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان میں کرپشن کا نام ونشان تک نہیں تھا۔ کیا اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ یہ سب ادارے سیاسی دباوٰ کی بنا پر اپنی اصل صلاحیتیں استعمال کرنے کے قابل ہی نہیں رہنے دئیے گئے۔ ورنہ تو یہ ادارے ایسے ہیں کہ اگر انہیں بغیر سیاسی دباوٰ کے کام کرنے کا موقع دیا جائے تو یہ پاکستان میں قانون کی سربلندی قائم رکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ “ٹروتھ کمیشن” ان اداروں سے ملنے والی تمام معلومات کی روشنی میں ان تمام لوگوں کو اپنے نرغے میں لے، خواہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، جنہوں نے اس ملک کو نقصان پہنچایا ہے اور اس قوم کو دھوکا دیا اور لوٹا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ایسا ہوا تو آج اپوزیشن کے جو لوگ بھی حکومت کو منی ٹریل کے مقدمے میں پھنساکر بغلیں بجارہے ہیں اور آئندہ الیکشن میں کامیابی کے خواب دیکھ رہے ہیں اوراپنی حکومت کی باری کا بے چینی سے انتظار کررہے ہیں، ان میں سے بیشتر، اس مجوزہ ٹروتھ اینڈ ریکنسیلئیشن/ جے آئی ٹی کے شکنجے میں پھڑپھڑاتے دکھائی دیں گے۔
اس ملک کے محب وطن ذمہ داروں کولگتا ہے یہ بات سمجھ آتی جارہی ہے کہ اب اس ملک کو مزید “ہم زندہ قوم ہیں، تابندہ قوم ہیں” جیسے نعروں کی سیمولیٹڈ رئیلیٹی کے فریب کاروں کی لوٹ کھسوٹ کی بھینٹ چڑھنے نہیں دیا جاسکتا۔ ان جمہوری نوسر بازوں نے اس قوم سے ہر طرح کی خوش امیدی، خوش کرداری اور زندگی کی معمولی امنگ تک چھین لی ہے۔ قدرت کا قانون ہے کہ “باطل” جانے کیلئیے ہے اور”حق” آکر رہتا ہے۔ اگر اس ملک کے اداروں نے اس سیمولیشن کا پردہ چاک کرنے کیلئیے کسی طرح کے “ٹروتھ اینڈ ریکنسیلئیشن” کا بندوبست نہیں کیا تو قدرت کا قانون حرکت میں آئے گا۔ دنیا میں جہاں بھی “حق” قدرت کے قانون کے مطابق آیا ہے تو وہ عوام کی طاقت کے ذریعئیے آیا ہے۔ اگر عوام نے خود اس فریب کے جال کو پاش پاش کرنے کی ٹھان لی تو پھرہر جانب فقط ٹروتھ یعنی حق کی بنیاد پرقائم پھانسی گھاٹ سجیں گے۔ کہیں کوئی “ریکنسیلئیشن” نہیں ہوگی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: