قراردادِ پاکستان، مغالطے اور شامی صاحب 1 — اکمل گھمن

1
  • 1
    Share

پاکستان کی تاریخ میں دو تین ہی مجیب مشہور ہوئے۔ شیخ مجیب الرحمٰن بنگلہ دیش کے بانی، جنرل مجیب الرحمٰن جنرل ضیاء کے وزیر اطلاعات جن کا کام اطلاعات پر قدغن اور بندش لگانا تھا نہ کی اُن کی آزادانہ فراہمی، تیسرے اپنے مجیب الرحمٰن شامی صاحب ہیں۔
شامی صاحب بلند پایہ صحافی، لکھاری اور شعلہ بیان مقرر ہیں۔ تقریر و تحریر کا یکساں ملکہ رکھتے ہیں۔ اُن سے کبھی بھی قریبی تعلق نہیں رہا مگر وہ جب بھی ملے بہت عزت سے ملے۔ دو تین سال قبل لاہور میں جب ایم کیو ایم کی ایک مرحومہ ایم این اے صاحبہ سے سرِ راہ جھگڑا ہو گیا تو میں نے پولیس کو قانونی کارروائی کے لیے درخواست دے دی جس کے جواب میں میرے ادارے نے مجھے زیر بار لانے کے لیے ملازمت سے معطل کر دیا۔ دیگر دوستوں کے ساتھ ساتھ شامی صاحب کو بھی میں نے صورت حال سے آگاہ کیا تو انھوں نے میرے حق میں اپنے پروگرام ’’نقطہ نظر‘‘ میں آواز اُٹھائی۔ یہ اُن کا مجھ پر ذاتی احسان ہے۔
بعد ازاں میری کتاب’’میڈیا منڈی‘‘ چھپی جس میں اُن کا بھرپور انٹرویو شامل تھا ساتھ ہی ساتھ اُن کے کاروباری حریف روزنامہ ’’پاکستان‘‘ اسلام آباد کے ایڈیٹر سردار خاں نیازی کا انٹرویو بھی شامل تھا۔ جس میں نیازی صاحب نے شامی صاحب پر بہت سے الزامات لگائے تھے۔ علاوہ ازیں میری اپنی تحقیق اور متعدد حوالہ جات بھی کتاب میں شامل تھے جن میں ’’روزنامہ پاکستان‘‘ پر ’’قبضے‘‘ کے حوالے سے کافی مواد تھا۔ اپنے ایک دوست کے ہمراہ ’’میڈیا منڈی‘‘ میں خود اُن کی خدمت میں پیش کرنے گیا کیونکہ میرا خیال تھا کہ جتنے صاحبانِ علم و دانش نے مجھے انٹرویوز دیے ہیں میرا فرض بنتا ہے کہ میں اُن کا خود جا کر شکریہ ادا کروں اور اگر اُن سے ملاقات نہ ہو سکے تو کم از کم کتاب انھیں بھیج دوں۔ شامی صاحب سے ملاقات ہوئی تو وہ حسبِ روایت بہت تپاک سے ملے لیکن بعد ازاں اُن کے تاثرات سے اندازہ ہوا کہ وہ ’’میڈیا منڈی‘‘ سے خوش نہیں ہوئے لیکن اس کے باوجود گذشتہ سالوں میں جتنی بھی عیدیں گزری ہیں اُن کے تہنیتی پیغامات میرے دونوں ٹیلی فون نمبروں پر موصول ہوتے رہے۔ یہ بات بھی ظاہر کرتی ہے کہ وہ بہت دید لحاظ والے انسان ہیں۔
دوسری طرف ڈاکٹر مبارک علی صاحب ہیں جو سراپا حلم و محبت ہیں۔ وہ جتنے بڑے عالم اور تاریخ دان ہیں اُتنے ہی منکسر المزاج، شُستہ لب و لہجہ اور دھیمی شخصیت کے مالک ہیں۔ میری ذاتی رائے میں ڈاکٹر صاحب جیسے اکیلے فرد نے پاکستانی معاشرے میں بغیر کوئی سمجھوتا کیے سوچ کے نئے روزن وا کرنے میں اتنا بھر پور کردار ادا کیا ہے جو کسی تحریک سے بھی بڑھ کر ہے۔ جس طرح انھوں نے تاریخ کا دوسرا پہلو دکھانے اور سوال اٹھانے کی روایت ڈالی ہے پاکستان کی آئندہ نسلیں بھی اُن کا یہ قرض ادا نہیں کر سکیں گی۔

پچھلے دنوں میڈیا میں تاریخ پاکستان اور قرارداد پاکستان کے حوالے سے ان شخصیات کے درمیان برپا ہونے والے مناقشہ کے بعد تاریخ کے اوراق کو کھنگالا اور موضوع زیر بحث پہ مبنی تحریر دانش کے قارئین کے لئے سپرد قلم کی، ملاحظہ فرمائیں۔


مصنف

اس بحث کا آغاز 23مارچ 2017ء کو کامران خان کے پروگرام سے ہوا۔ 23مارچ 1940ء کی قرارداد لاہور کے حوالے سے کامران خان نے ڈاکٹر مبارک علی کو آن لائن لیا۔ اس لائیو پروگرام میں ڈاکٹر صاحب کو مذکورہ اینکر نے بات بھی پوری نہ کرنے دی اور لائن کاٹ دی۔ اگلے دن جناب مجیب الرحمٰن شامی صاحب نے 26 مارچ 2017 کو روزنامہ دنیا میں ’’دماغ میں بُت خانہ‘‘ لکھ مارا۔ جواب میں ڈاکٹر مبارک علی نے بھی ایک ’’شریفانہ‘‘ سا جواب لکھ دیا مگر اُس کے بعد اُن کے خلاف ایک محاذ قائم ہو گیا اور کئی کالم اُن کے خلاف مختلف اخبارات میں چھپے جن میں صرف حقائق پر بات کرنے کے بجائے اُن کی تضحیک کی گئی اور مذاق اڑایا گیا۔ اس سارے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں لیکن پہلے کامران خان اور ڈاکٹر مبارک علی کی 23مارچ 1940ء کی قرارداد لاہور کے حوالے ہونے والی گفتگو کا مکمل متن ملا حظہ کریں۔
’’تاریخ کے بارے میں ہمیں یہ سوچ لینا چاہیے کہ تاریخ کا جو بیانیہ ہے وہ نئے مآخذ یا نئی ریسرچ آنے کے ساتھ ساتھ بدلتے رہے ہیں تو پہلی بات اُسی قرارداد کے حوالے سے ہے۔ کچھ نئی چیزیں سامنے آئی ہیں ان کی روشنی میں اس قرارداد کو دیکھا جائے تو ایک دوسرا ہی خاکہ ہمارے سامنے آتا ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ یادگار دن عام طور پر قوموں میں تاریخ کے تسلسل میں منائے جاتے ہیں تا کہ قوم کے اندر ایک نیا جذبہ اور ولولہ پیدا کیا جائے۔ چونکہ پاکستان ایک بالکل نیا ملک تھا اور اُن کے پاس ابھی کوئی ایسے اہم دن نہیں تھے لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ جب 1956ء کا آئین بنا ہے تو اُس وقت جا کے 23مارچ کی اہمیت ہوئی ہے اور یہ فیصلہ ہوا کہ اس دن کو یومِ جمہوریہ کے طو رپر منایا جائے۔
اس قرارداد کے حوالے سے جو نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں اُن کے مطابق اس قرارداد کے مسودے کو ہندوستان کے وائسرائے کی مرضی سے ڈرافٹ کیا گیا تھا اور اس کی منظوری برطانوی حکومت سے لی گئی تھی۔ اس مسودے کو قائد اعظم محمد علی جناح کو دکھا دیا گیا تھا۔ یہ مسودہ جب منٹو پارک لاہور کے اجلاس میں پیش ہونے کے لیے بہت دیر سے آیا تھا۔ عاشق حسین بٹالوی نے بیان کیا ہے اس قرارداد کافی البدیہہ ترجمہ (مولانا) ظفر علی خان نے کیا تھا ورنہ یہ قرارداد پہلے سے مسلم لیگ کے پاس ہوتی تو اس کا اردو ترجمہ بھی پہلے سے لکھ لیا جاتا۔ لہٰذا ایک خیال تو یہ ہے کہ یہ قرارداد برطانوی حکومت کی مرضی سے آئی ہے اور خاص وقت پہ آئی ہے۔ اس لیے اس کا ترجمہ بھی اُسی وقت کیا گیا۔
ڈاکٹر مبارک علی کی بات کاٹتے ہوئے کامران خان نے سوال کیا کہ ہم اس اکائونٹ کو کتنا مستند سمجھیں؟۔ ظاہر ہے تاریخ کے مختلف پہلو وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آتے ہیں۔ اس پر ڈاکٹر صاحب، ہم اپنا حتمی نتیجہ تو قائم نہیں کر سکتے؟۔
جواباً ڈاکٹر صاحب نے کہا’’نہیں، نہیں، بالکل نہیں کیونکہ جیسا میں نے کہا تاریخ بدلتی رہتی ہے‘‘۔ نئے مآخذ سامنے آتے ہیں۔ نئے پہلو (Interpretations) سامنے آتے رہتے ہیں لہٰذا وقت کے ساتھ ساتھ جب مزید شہادتیں ملیں گی تو پھر اس بیانیے کے حوالے سے کہہ سکتے ہیں کہ مستند ہے‘‘۔ اس گفتگو میں کہیں بھی ڈاکٹر صاحب اصرار نہیں کر رہے کہ جو میں کہہ رہا ہوں وہ حتمی سچائی ہے بلکہ اس حوالے کے مستند ہونے کے حوالے سے بھی وہ کہہ رے ہیں کہ ’’نہیں، نہیں بالکل نہیں کیونکہ جیسا میں نے کہا تاریخ بدلتی رہتی ہے‘‘ نئے مآخذ اور پہلو سامنے آتے رہتے ہیں۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ پروڈیوسر اور ایڈیٹرز کا ادارہ کمزور ہونے کے سبب اینکر ہی پروگرام کا مالک و مختار ہو چکا ہے۔ اگر کامران خان شتابی نہ دکھاتے اور ڈاکٹر صاحب کی بات پوری ہونے دیتے تو شاید قرارداد لاہور کے حوالے سے جو طوفانِ بدتمیزی کچھ نام نہاد اصحابِ علم و دانش نے برپا کر رکھا ہے وہ نہ ہوتا۔ اب آتے ہیں 23مارچ کو بطور قومی دن منانے کی طرف اور اُس کے بعد قراردادِ پاکستان پر بات کریں گے۔ 23مارچ 2017ء کو روزنامہ ایکسپریس کے خصوصی ایڈیشن میں پروفیسر یوسف حسن کا بہت عمدہ مضمون چھپا جس میں انھوں نے 23مارچ کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
’’ڈومینین اس ماتحت سیاسی درجے کا نام ہے جو اگست 1947میں پاکستان اور ہندوستان کی دونوں ریاستوں کو برطانوی شہنشاہ کی طرف سے عطا ہوا تھا۔ گویا 14اگست 1947ء کہ ہمیں کامل آزادی نہیں ملی تھی بلکہ ڈومینین سٹیٹس ملا تھا جس کا اصطلاحی ترجمہ نو آبادیاتی درجہ یا مستعمراتی درجہ بھی کیا جاتا ہے مگر پاکستان میں اس کا سرکاری ترجمہ ’’استقلال‘‘ کیا گیا اور ہمارے قومی ترانے میں بھی آزادی کا لفظ موجود نہیں ہے اور اس کے آخری بند میں بھی پہلے جو ’’جانِ استقلال‘‘ کے الفاظ ہوا کرتے تھے ان کا مطلب بھی یہی ’’ڈومینین کی جان‘‘ تھا۔
ترجمان ماضی شانِ حال
جان استقلال
سایہ خدائے ذوالجلال
23مارچ 1956ء کے بعد ’’استقلال‘‘ کو ’’استقبال‘‘ کر دیا گیا۔ کامل آزادی کے بجائے نو آبادیاتی درجے کے دور میں ’’استقلال‘‘ کے نام سے ایک سرکاری رسالہ بھی شائع ہوتا رہا۔ کامل آزادی کی جگہ نو آبادیاتی درجے کا حصول اور اس کا تقریباً نو سال تک وجود ایک تاریخی حقیقت تھی۔ جس کے گہرے اثرات ہماری قومی تاریخ پر نمایاں طو رپر نقش ہیں۔ جن کو کسی طور چھپایا نہیں جا سکتا مگر اس کے باوجود اس تاریخی حقیقت کو اب تک چھپایا جا رہا ہے اور خاص طور پر اردو نصابات اس تاریخی حقیقت کے بیان سے خالی چلے آ رہے ہیں‘‘۔

’’آل انڈیا مسلم لیگ نے پاکستان کے ساتھ جو نو آبادیاتی درجہ 1947ء میں پایا، اس کا مطالبہ اس نے پہلی بار 1916میں کیا تھا لیکن اس کے بعد کی دہائیوں میں قومی آزادی برطانوی سامراج کے خلاف عوام کی جدوجہد تیز سے تیز ہوتی گئی اسی کے دبائو میں آ کر انڈین نیشنل کانگریس نے 26جنوری 1929ء کو نو آبادیاتی درجے کے بجائے مکمل آزادی کو اپنا نصب العین بنایا اور آل انڈیا لیگ نے 23 مارچ 1940 کو مکمل آزادی کا نصب العین اختیار کیا‘‘۔
’’اگست 1947ء میں پاکستان کو جو نو آبادیاتی درجہ حاصل ہوا وہ مکمل آزادی کے نصب العین سے پسپائی تھی۔ اس میں پاکستان کا قیام تو ایک بڑا مبارک تاریخی اقدام تھا لیکن اس نو آبادیاتی درجے کی وجہ سے برطانوی شہنشاہ جارج ششم ہی پاکستان کی ریاست کا سربراہ رہا اور اس کے بارے بُنیادی قومی اداروں کے ساتھ رائل کا سابقہ بھی موجود رہا جیسے
رائل پاکستان سول سروس
رائل پاکستان نیوی
رائل پاکستان ایئر فورس اور
رائل پاکستان آرمی
اور پھر صرف رائل کا سابقہ ہی نہیں، ان سارے بنیادی اداروں میں سامراجی برطانوی افسران بھی موجود رہے‘‘
’’اس نو آبادیاتی درجے کے باعث ہی پاکستان برطانوی دولتِ مشترکہ میں شامل ہوا اور برطانوی، امریکی سامراج بلاک میں شریک رہا‘‘۔
’’مارچ 1951 کے پنجاب کے انتخابات میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے امیدواروں کو ناکام بنانے کے لیے جو راولپنڈی سازش کیس بنایا گیا تھا اس کے ملزموں پر سب سے پہلا الزام یہ لگایا گیا تھا کہ انہوں نے شہنشاہ معظم جارج ششم کے خلاف بغاوت کی ہے‘‘۔
’’بھارت نے تو جنوری 1951 ہی میں اپنا آئین بنا کر نو آبادیاتی درجے سے نجات پالی تھی مگر نہ جانے پاکستانی حکمران طبقوں نے اپنا آئین بنانے اور نو آبادیاتی درجے سے نجات پانے میں اتنی تاخیر کیوں کی؟ بہر حال فروری 1956ء میں پاکستان کا پہلا آئین بن گیا جو 23 مارچ 1956 کو نافذ ہوا اور اسکے ساتھ ہی پاکستان ایک نو آبادیاتی درجے کی ریاست سے ایک اسلامی ری پبلک آف پاکستان میں تبدیل ہو گیا۔
گویا ایک مکمل آزاد ریاست بن گیا۔ یہی دن ہمارا یوم جمہوریہ ہے۔ یہ یوم جمہوریہ 1956، 1957 اور پھر 1958ء میں بھی بڑے جشن کے ساتھ منایا گیا مگر اکتوبر 1958ء میں ملک گیر مارشل لاء لگ گیا تو اس کے بعد یومِ جمہوریہ منانے کا یہ قومی سلسلہ ٹوٹ گیا اور اب تک یوم جمہوریہ کے بجائے یومِ پاکستان چلا آ رہا ہے۔ کسی جمہوری سیاسی جماعت میں اتنی سکت نہیں ہے کہ اپنا ایک آئینی اور عظیم دن یعنی یوم جمہوریہ مناسکے۔ اب صرف اور صرف خود جمہوریت پسند عوام ہی اس عظیم روایت کو بحال کر سکتے ہیں‘‘
26مارچ 2017ء کو روزنامہ دنیا میں چھپنے والے اپنے کالم میں اسی پس منظر کو مجیب الرحمٰن شامی صاحب نے یوں بیان کیا ہے۔
’’23مارچ اور فوجی پریڈ کا گہرا تعلق یوں ہے کہ پاکستان کو 1956ء میں پہلا دستور دے کر جمہوریہ بنانے اور مارچ برطانیہ سے رسمی تعلق توڑنے کی سعادت حاصل کرنے والے انتہائی شریف النفس اور زیرک وزیر اعظم چودھری محمد علی (مرحوم) نے مجھے بتایا تھا کہ اگست کا مہینہ بارشوں کے ساتھ خاص تھا۔ برسات کا موسم شروع ہوتا اور 14 اگست کو فوجی پریڈ کا انعقاد (اکثر) مشکل ہو جاتا۔ دستور ساز اسمبلی نے اپنا کام مکمل کر لیا تو فیصلہ کیا گیا کہ اسے 23 مارچ کو نافذ کیا جائے، اس دن کی قرارداد لاہور کے حوالے سے تاریخی اہمیت تو تھی ہی، اسے یومِ جمہوریہ بھی قرار دے دیا جایا کہ اس روز فوجی پریڈ منعقد ہو سکے گی۔ مارچ میں بارش کا خطرہ نہیں تھا۔ پاکستان تو دنیا کے نقشے پر اگست 1947ء میں طلوع ہو گیا تھا لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان نے 23 مارچ 1956ء کو جنم لیا۔ گورنر جنرل کا عہدہ ختم کر کے تاجِ برطانیہ سے علیحدگی کا عمل مکمل کر دیا گیا‘‘۔ ’’جنرل ایوب خان نے جب اپنے مربی و دوست اور صدرِ مملکت کے بلند منصب پر فائز ہو جانے والے میجر جنرل سکندر مرزا کے ساتھ مل کر آئین کو منسوخ کیا تو پھر 23 مارچ کا بڑا حوالہ ختم ہو گیا اور یہ قراردادِ لاہور کے ساتھ مختص ہو کر رہ گیا‘‘۔
حقائق پر بات اپنی جگہ مگر شامی صاحب نے اپنے اس کالم ’’دماغ میں بت خانہ‘‘ میں ڈاکٹر مبارک علی صاحب کے حوالے سے انتہائی نا مناسب زبان استعمال کی جس پر ہم آگے چل کر بات کریں گے۔
ڈاکٹر مبارک علی نے مذکورہ کالم کے جواب میں ’’در جوابِ آں غزل‘‘ کے عنوان سے مختصر سا جواب دیا۔ جو یکم اپریل 2017ء کو روزنامہ دنیا میں چھپا۔
’’1940ء کی قراردادِ لاہور کو ایک دلکش داستان بنا کر پیش کرنے کا سلسلہ پاکستان کے قیام کے کئی سال بعد شروع ہوا۔ ابتداء میں 23مارچء کو یومِ جمہوریہ منایا جاتا تھا لیکن جب فوجی حکومتوں نے جمہوریت کو پامال کیا تو ہمارے طبقے یوم جمہوریہ کو بھول گئے۔ جب ان کی ناکامیاں زیادہ بڑھیں تو پھر یوم جمہوریہ کو یوم پاکستان بنا کر لوگوں کو ایک بار پھر اپنی نام نہاد جدوجہد سے آگاہ کرنا شروع کر دیا۔ 1940ء کی ریزولوشن کے بارے میں کہانیاں بیان کی گئیں۔ 1940 ء کی ریزولوشن کی اصل داستان تاریخی دستاویزات میں محفوظ ہیں۔ انٹرنیٹ پر بھی یہ معلومات دی گئی ہیں۔ ان کے مطابق انڈیا کے وائسرائے Lord Linlithgow نے یہ قرارداد چودھری محمد ظفر اللہ سے لکھوائی، جنھوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، بعد میں یہ مسودہ قائد اعظم محمد علی جناح اور برطانوی حکومت کی توثیق کے بعد 23مارچ 1940ء کو مسلم لیگ لاہور میں ہونے والے جلسہ عام میں پیش کیا گیا۔ چونکہ قرارداد کا مسودہ شملہ سے دیر سے پہنچا، اس لیے اس کا اردو ترجمہ فوری طور پر مولانا ظفر علی خان نے کیا۔ اس کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا کہ جب قرارداد کو انگریزی میں پیش کیا گیا تو حاضرین مجلس نے اسے ہاتھ اٹھا کر یا ہاں کہہ کر منظور کیا لیکن یہ ضرور ہوا کہ اس کے دوسرے دن ہی پنجاب کے وزیر اعلیٰ سکندر حیات نے یہ اعلان کر دیا کہ مسلم لیگ پنجاب سے ہاتھ اٹھا لے۔ سندھ کے الٰہی بخش سومرو نے بھی اس سے لاتعلق ہونے کا اظہار کیا۔ بنگال کے فضل حق جنہوں نے قرارداد پیش کی تھی، وہ بھی مسلم لیگ کے بجائے کانگریس سے بات چیت کر رہے تھے۔ بعد میں قرارداد کے متن کی خلاف ورزی بھی کی گئی اور آزاد و خود مختار ریاستوں کے حوالے کو نظر انداز کر دیا گیا‘‘۔
اپنے اس جواب کے آخر میں ڈاکٹر مبارک نے ایک فقرہ لکھا کہ میں ایک محقق اور اسکالر ہوں اس لیے قابلِ اعتراض زبان سے پرہیز کرتا ہوں‘‘۔
یار لوگوں نے اس جملے پر بھی خاصی بَھد اُڑائی۔ جناب مجیب الرحمٰن شامی نے جواب الجواب میں 15 اپریل 2017ء کو ’’قراردادِ لاہور کا مصنف‘‘ کے عنوان سے ایک اور کالم تحریر فرمایا جس میں زبان تو قدرے سنبھل کے استعمال کی گئی مگر لہجہ اور انداز وہی تُوتکار والا تھا۔
ڈاکٹر صفدر محمود جو بزعم خود تاریخِ پاکستان کے واحد مستند مورخ اور’’ٹھیکیدار‘‘ ہیں بعد ازاں اُن کا ایک کالم ’’پاکستان کی بُنیاد اور قائد اعظم پر حملے‘‘ کے عنوان سے روزنامہ جنگ میں 4اپریل 2017ء کو شائع ہوا۔
ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں
’’ہماری بدقسمتی کہ پاکستان لکھاریوں میں ایک ایسا گروہ موجود ہے جسے پاکستان کی نظریاتی بُنیادوں کو تہہ و بالا کرنے، نوجوان نسلوں کے ذہنوں میں بد گمانیوں کا زہر گھولنے اور قائد اعظمؒ کے کردار کو مشکوک بنانے پر مامور کر دیا گیا……حیرت کی بات نہیں کہ انہیں ہندوستان کی محبت اور سرپرستی میسر ہے اور ہندوستانی حکومت انہیں خطابات و اعزازات سے بھی نوازتی ہے وہ خود بھی سیکولرزم سے اس قدر وفاداری کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کو پاکستان میں نظام تعلیم کے اسلامی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ہندوستان میں زیور تعلیم سے آراستہ کرواتے ہیں‘‘۔
جواب میں ڈاکٹر مبارک علی نے ایک کالم روزنامہ جنگ کو لکھ کر بھیجا مگر صحافتی اقدار کو پسِ پُشت ڈال کر کئی روز تک وہ کالم شائع نہیں کیا گیا بلکہ وہ کالم ’’روزنامہ جہانِ پاکستان‘‘ کو بھیج دیا گیا جو 9اپریل کو مذکورہ اخبار میں چھپا (ڈاکٹر مبارک علی اس اخبار میں باقاعدہ کالم بھی لکھتے ہیں)


مضمون کا دوسرا حصہ دانش پہ کل ملاحظہ فرمایئے

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: