جناب عالی — جلیل عالی پر سلمان باسط کا خاکہ

0
  • 17
    Shares

حال ہی میں صدارتی ایوارڈ حاصل کرنے والے خوبصورت لہجہ کے شاعر، استاد اور ادیب جناب جلیل عالی کا یہ خاکہ جناب سلمان باسط نے چند برس پہلے تحریر کیا، دانش کے قارئین کے لئے پیش خدمت ہے۔


جلیل عالی کو میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں لیکن شاید جلیل عالی مجھے نہیں جانتا امید ہے اس خاکے کے بعد جان جائے گا۔ اگرچہ اس سے میری ملاقات بہت پہلے سے ہے اور اس سے محبت اور دوستی کا رشتہ تا دم آخر قائم ہے لیکن مجھے اندیشہ سا ہے کہ اس شخصیت کے گوشوں کو بے نقاب کرنے کی میری کوشش کہیں کوئی اور گل نہ کھلا دے بہر حال پندرہ بیس لوگوں کے خاکے لکھنے کے بعد بندہ ڈھیٹ ہو جاتا ہے بالکل اس طرح جیسے روف امیر جیسا ایک نقاد پندرہ بیس فنکاروں کے پرخچے اڑانے کے بعد بے شرم ہو جاتا ہے۔
ایک شخص کنویں کے کنارے بیٹھا ہوا اندر جھانک رہا تھا اور پچّیس پچیس پکارے جا رہا تھا قریب سے ایک شخص گذرا اس نے کنویں کے کنارے بیٹھے شخص سے استفسار کیا کہ بھائی یہ پچیس پچیس کی رٹ لگا رکھی ہے آخر کیا بات ہے؟ کنویں والے نے کوئی جواب دیے بغیر اندر جھانکنا اور پچیس پچیس ہانکنا جاری رکھا۔ راہ گیر نے فورا ً’’اسے دھکا دے کر اندر گرا دیا اور باآواز بلند پکارنے لگا ’’چھبیس، چھبیس، چھبیس‘‘۔ سو بھائیو! ایک دن جلیل عالی مجھ سے پوچھ بیٹھا کہ اب تک کتنے خاکے لکھ چکے ہو جس کا سادہ سا نتیجہ یہ ہے کہ آج میں بھی ’’چھبیس چھبیس‘‘ پکار رہا ہوں۔ اب کسی اور بھائی نے کچھ پوچھنا ہو تو بتائیے۔
جلیل عالی کا نام سنتے ہی ہر شخص کے ذہن میں یہ وسوسہ پھن اٹھانے لگتا ہے کہ شاید وہ جمیل الدین عالی کابھائی ہے نتیجتاً لوگ اس سے دوہے، رزمیہ گیت، چٹخارے دار سفرناموں اور بد مزہ کالموں کی توقع رکھتے ہیں لیکن جب یہ حقیقت ان پر منکشف ہوتی ہے کہ اس کا جمیل الدین عالی سے کوئی رشتہ نہیں تو پھر کہیں جا کر لوگ اس کو قبول کرنا شروع کرتے ہیں اور پھر اس کی شخصیت، شاعری اور استادی کے ہنر سے اس طرح متاثر ہوتے ہیں کہ جمیل الدین عالی سے رشتے کا مغالطہ دور کہیں پیچھے رہ جاتا ہے اور نکھرا نکھرا صاف شفاف جلیل عالی ابھر کر سامنے آجاتا ہے جو لوگوں سے کہتا ہے دیکھو میں پتھر کے شہر میں آئینہ سازی کرتا ہوں اور ان آئینوں میں پھول کھلاتا ہوں لیکن آئینوں میں کھلے ان پھولوں کو کوئی چھو نہیں سکتا صرف ان کی خوش رنگی اور خوش سلیقگی کی داد دے سکتا ہے۔
جلیل عالی کی شخصیت کو اگر غور سے دیکھا جائے تو سفاری سوٹ عینک اور سر کا چاند سب سے نمایاں ہیں اگر اس میں داڑھی اور مونچھوں کی مشتبہ جگہ پر جیلٹ بلیو ٹو کا کمال بھی شامل کر لیا جائے تو شخصیت کو کچھ تڑکا سا لگ جاتا ہے اس کے چہرے پر کربناک قسم کی سنجیدگی اگرچہ کسی قسم کی بردباری کا مظاہرہ نہیں کرتی مگر شاید عالی نے یہ اہتمام اسی لیے کر رکھا ہے۔ ناپ تول کر بولنا اور بات گول کر کے مسکرانا اس کا محبوب مشغلہ ہے۔ بات اتنی آہستگی سے کرتا ہے جیسے کوئی راز کہہ رہا ہو چاہے وہ صرف یہی کہنا چاہ رہا ہو کہ وہ سرسید کالج راولپنڈی میں پروفیسر ہے لیکن لہجے کا دھیما پن اور گفتگو کا ٹھہرائو اس کی اس بات کو بھی سربستہ راز بنا دے گا اور یوں لگے گا جیسے وہ ایٹم بم بنانے کا فارمولہ بتا رہا ہے۔
پروفیسر سے یاد آیا کہ وہ تو ہنوز پروفیسر ہے مگر ہماری بھابھی پنڈی کے ایک اہم کالج میں پرنسپل ہیں۔ ایک پرنسپل کا رعب و دبدبہ اور ٹھاٹھ باٹھ تو کوئی پروفیسر ہی جان سکتا ہے۔ ہمارے دوست کے ساتھ دوہری زیادتی یہ ہے کہ کالج میں بھی اسے ایک پرنسپل سے وابسطہ پڑتا ہے اور گھر میں بھی وہ ایک عدد پرنسپل کے ماتحت ہے۔ کالج میں تو پرنسپل صرف پیریڈ ہی پڑھواتا ہے مگر گھر والا پرنسپل تو برتن بھی دھلواتا ہے اس کی ساری دانشوری جھوٹے برتنوں اور صفائی کرنے والے کپڑوں میں کہیں چھپ جاتی ہے۔ کبھی کبھی اس کے اندر کی مردانگی کروٹ لے کر بیدار ہوتی ہے مگر پھر دسمبر میں ACRکا خوف اسے اس تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
اس کے چہرے پر مظلومیت ٹوٹ کر برسی ہے کبھی کبھی تو یونہی اسے دو چار روپے تھما دینے کو جی چاہتا ہے۔ جانے اس کے چہرے پر اتنا پریشان کن خوف کیوں مسلط رہتا ہے۔
جلیل عالی بہت زود رنج شخص ہے اگرچہ مشرقی پنجاب سے دیرینہ تعلق کے باعث بات اسے ذرا دیر سے سمجھ آتی ہے مگر جب آجاتی ہے تو وہ ناراض ہونے کو اپنا فرض اولین سمجھتا ہے فریق ثانی کو حریف اول سمجھ لیتا ہے پلٹتا ہے جھپٹ کر پلٹتا ہے لیکن ساری ایکسرسائز کا مقصد صرف لہو کو گرم رکھنا ہوتا ہے کرتا ورتا وہ کچھ بھی نہیں۔ یوسف حسن اور احمد جاوید کی بور ژوائی ترقی پسندی کے سامنے وہ سینہ سپر ہو جاتا ہے اور اکثر اوقات رجعت پسندی کا لیبل بھی ماتھے پر چپکا بیٹھتا ہے مگر اس کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے اندر گھس کر بیٹھی ہوئی جماعت اسلامی باہر نہیں نکلتی۔ شاید یہ صرف جماعت اسلامی نہیں ہے بلکہ پورے کا پورا اسلام اور پاکستان ہے جس سے محبت اس کی رگ رگ میں رچی ہے جو اس کی پہچان بھی ہے جس کے بارے میں وہ بجا طور پر حساس ہے اور جس پر وہ کبھی کمپرومائز نہیں کرتا۔
محبت اور خوش خلقی جلیل عالی کی شخصیت کا خاص وصف ہے۔ عجز و انکسار کا تو وہ پیکر ہے۔ یہ باتیں میں ذاتی تجربے کی بنا پر کہہ رہا ہوں۔ آپ اس سے مل کر دیکھ لیں بات کر لیں اس کی شاعری پڑھ لیں آپ میری باتوں اور میرے دعوں کی نفی کر ہی نہیں سکتے۔ اس کی حد سے گزرتی ہوئی شرافت تو اختر عثمان جیسے مختصر جغرافیہ رکھنے والے شخص کو بھی اس کے سامنے اکڑنے اور برسنے کی سہولت عطا کرتی ہے یہ الگ بات ہے کہ وہ شرافت ہی شرافت میں بات دل میں رکھ لیتا ہے جبکہ دوسرا شخص بھڑاس شڑاس نکال کے فارغ ہو جاتا ہے۔

کچھ عرصہ قبل جلیل عالی نے ایک آنکھ کا آپریشن کروایا ہے۔ یار لوگوں کا خیال ہے کہ اس آپریشن کی ضرورت کسی بیماری کی وجہ سے نہیں بلکہ آنکھ کے ضروری و غیر ضروری استعمال کی وجہ سے پڑی ہے۔ شاید ایک آنکھ زیادہ استعمال ہوتی رہی ہے۔

ہمارے اس نہایت پیارے دوست نے ایک طویل عرصہ واہ میں بھی قیام کیا ہے سو وہ اب تک اس شہر کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہے۔ واہ کی سڑکوں پر گھومتے وقت وہ بے کل ہو جاتا ہے۔ اسی شہر کی محبت اس کی رگوں میں ابلنے لگتی ہے اور پھر وہ جذبات میں آ کر یہاں گزرے ہوئے ان خوبصورت دنوں کو یاد کرنے لگتا ہے جب جوانی اسے دیکھ کر مسکراتی تھی اور وہ جوانی کی مہکار میں سانس لیتا تھا۔ اب اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جوانی اس سے رخصت ہو چکی ہے وہ تو اب بھی اس کے آس پاس منڈلا رہی ہے بس اب ذرا اسے دیکھ کر مسکراتی نہیں۔ بالکل اس محبوبہ کی طرح جو التفات بھی نہ کرے اور سینے پر مونگ دل کر قریب رہتے ہوئے بھی دوسروں پر نگاہ غلط انداز ڈالے۔
جلیل عالی نے آج کل ایک اور شوق پال رکھی ہے ان دنوں وہ انٹرنیٹ پر دنیا بھر کے علم و فن سے استفادہ کر رہا ہے اب اگر آپ کے ذہن میں اس علم و فن اور انٹرنیٹ کے ذکر سے کلنٹن اور مونٹک سکینڈل کا خیال آ جائے تو قصور میرا ہرگز نہیں۔ آج کل کلنٹن تو اس طرح انٹرنیٹ پر چھایا ہوا ہے جس طرح امریکہ پوری دنیا پر تسلط جمائے ہوئے ہے لیکن جس طرح امریکہ دنیا بھر پر چھائے رہنے کے باوجود بدنام ہے اسی طرح کلنٹن بھی انٹرنیٹ پر ہر وقت موجود رہنے کے باوجود صرف اخلاق باختگی کا پیکر نظر آتا ہے۔ بہرحال ہمیں تو اپنے جلیل عالی کا تذکرہ مقصود ہے جو انٹرنیٹ پر کلنٹن اور مونیکا کی غیر شرعی تصاویر اور تفاصیل صرف اس لیے دیکھتا ہے تا کہ بعد میں اس کی اخلاق باختگی پر تفصیل سے گفتگو کر سکے اور اپنے مسلمان بھائیوں کو حقیقت سے آگاہ کر سکے لیکن انٹرنیٹ پر اس نے دنیا پھر کی حسینائوں سے گفتگو کا سلسلہ جانے کس لیے قائم کر رکھا ہے شاید اس میں بھی امت مسلمہ کی کوئی بھلائی مضمر ہو جو ہماری ناقص عقل میں نہ آتی ہو۔
کچھ عرصہ قبل جلیل عالی نے ایک آنکھ کا آپریشن کروایا ہے۔ یار لوگوں کا خیال ہے کہ اس آپریشن کی ضرورت کسی بیماری کی وجہ سے نہیں بلکہ آنکھ کے ضروری و غیر ضروری استعمال کی وجہ سے پڑی ہے۔ شاید ایک آنکھ زیادہ استعمال ہوتی رہی ہے۔
سرسید کالج میں اس کا وجود ادب کیلئے نعمت ہے خود کالج کیلئے اس کا وجود کیسا ہے اس بارے میں یا اس کے شاگرد بتا سکتے ہیں یا اس کے پرنسپل پروفیسر غلام سرور صاحب۔ سرسید کالج کا ادبی جریدہ سرسیدین ہر سال اس کی تخلیقی صلاحیتوں کا آئینہ وار ہوتا ہے۔ پاکستان بھر کے ادیبوں اور شاعروں کی تخلیقات وہ سرسیدین کا حصہ بناتا ہے اور اس کی چمک دمک میں اضافہ کرتا ہے۔
نپے تلے قدموں سے چلنا کوئی جلیل عالی سے سیکھے۔ اسے چلتا دیکھ کر جانے کیوں دوڑنے کو جی چاہتا ہے غالباً وہ ایک قدم اٹھانے کے بعد سوچتا ہے کہ
ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب
لیکن اس کے ساتھ چلنے والا عجیب سی الجھن کا شکار رہتا ہے۔
میں نے قبل ازیں اس کی شرافت کا ذکر کیا تھا بعض لوگ اس کی شرافت کو بچپن کے کسی نفسیاتی واقعے کا اثر قرار دیتے ہیں بعض اس کی شرافت کو خوف کی سرحد کے اندر شامل کر دیتے ہیں اور بعض لوگ تو عجیب عجیب باتیں کرتے ہیں اور اس کی شرافت کے بارے میں نہایت غیر معقول مثالیں دینے لگ جاتے ہیں مگر یہ طے ہے کہ اس کی شرافت و نجابت قرون وسطیٰ کے مسلمانوں سے ملتی جلتی ہے۔
جلیل عالی کے قد آور شاعر ہونے کے ثبوت کے طو رپر اس کی دو کتابیں بہت بڑی سند ہیں۔ نوجوان نسل میں وہ جس تیزی سے شاعری کا وائرس پھیلا رہا ہے اس سے مجھے وہ سردار جی یاد آجاتے ہیں جن سے کسی نے شکایت کی۔
’’سردار جی آپ اپنی اہلیہ کی غیر اخلاقی حرکات کو کنٹرول کریں وہ سارے گاوں کو خراب کر رہی ہے‘‘ سردار جی نے بڑے رسان سے جواب دیا ’’لو! گاوں کیسا؟ یہاں چار چھ تو گھر ہیں ‘‘۔ سو جلیل عالی اپنی خوبصورت شاعری کے تیزی سے پھیلتے وائرس کے بارے میں یہی عذر پیش کرتا ہے کہ دو تو کتابیں ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: