یونانی فلسفے پر دیومالا کے اثرات: اعجازالحق اعجاز

0

آج کل یونانی حریت فکر واظہار پر کافی خامہ فرسائی ہو رہی ہے اور اسے اڑھائی ہزار سال بعد کی صورت حال پر منطبق کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یونانی فلسفے اور دیومالا کے درمیان پائے جانے والے تعلق کو دانستہ یا نادانستہ نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے ایک مختصر جائزہ پیش ِخدمت ہے۔

یونانی حریت فکر پر بہت زور دیتے تھے مگر حریت فکر کا مطلب وہ ہرگز یہ نہ لیتے تھے کہ روایات کا احترام اور ان کی پاسداری نہ کی جائے یا ان کا مضحکہ اڑایا جائے۔یونانی فلاسفہ کی اکثریت یونانی دیومالاکو تسلیم کرتی تھی جس کے اثرات ان کے فلسفے پر نظر آتے ہیں ۔یونان میں فرد کی سوچ اور اظہار پر پہرے نہ تھے مگر فرد بذات خود اپنے اوپر یہ پابندی عائد کرتا تھا کہ وہ روایت کی پاسداری کرے اوراجتماعیت کے مفادات کا خیال رکھے۔ یونانی فرد اپنے آپ کو جماعت کے تحت رکھتا تھا اور کسی ایسے فعل سے گریز ہی کرتا تھا جس سے جماعت کے مفادات کو نقصان پہنچے۔ چناں چہ وہاں آزادی فکر کا مطلب کچھ حدود میں رہتے ہوئے ہی فکر کی آزادی تھی۔ یونانی اپنی قومی اور معاشرتی زندگی میں خاص معاشرتی اور تہذیبی و ثقافتی نظم و نسق کے قائل تھے اور ان کا فلسفہ ان کی مخصوص ثقافت کا آئینہ دار ہے۔ یونانی فلسفے نے یونانی شاعری سے بھی بہت کچھ حاصل کیا تھا اور یہ شاعری جن دیو مالائی، اخلاقیاتی، کونیاتی اوروجدانی موضوعات سے لبریز تھی اس نے یونانی فلسفے پر بھی گہرے اثرات مرتسم کیے۔ چناں چہ یونانی فلسفے کا آغاز ہی ہومری اور ہیزیوڈی دیومالا کی روایات سے ہوتا ہے۔ یونان میں ہیزیوڈ اور آرفک تھیو گونی کے اثرات بہت دور رس تھے ۔چناں چہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ فیریسائڈیز زمین کے اشیا و مظاہر کی توجیہ فطری علل کے بجائے دیوتاوں کے اثر و نفوذ سے کرتا ہے۔ فیثا غورث کا فلسفہ اس قدر سریت سے لبریز ہے کہ اس کے پیروکار اسے نبی اور صاحب اسرار و کرامات سمجھتے تھے۔ اس نے جنوبی اطالیہ میں ایک انجمن قائم کی تھی جس کے ارکان درویشوں اور رہبانوں کی طرح رہتے تھے۔ وہ مشترکہ ملکیت کے قائل تھے اور اپنے سری افکار کو پوشیدہ رکھنے کے عہد کو پوری شدت سے نبھاتے تھے۔ ہیروڈوٹس نے جن وجد و مستی سے لبریز محفلوں اور زینو فینیز نے آواگون کی جن تعلیمات کا ذکر کیا ہے وہ اس انجمن کا خاصہ تھیں۔ فیثا غورث کا نظریہ اعداد بھی ایک سری نظریہ تھا جس کا اثر افلاطون کے نظریہ امثال پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

نظریہ اعداد کے مطابق ہر شے عددی اضافات سے تشکیل پاتی ہے اور عدد ہی وہ شے ہے جس سے نامعلوم معلوم ہوتا ہے۔ پارمینائڈیز یہ تصور رکھتا تھا کہ اشیا کی حرکت کے پس پردہ کسی دیوی کا ہاتھ ہے ۔کائنات کی مادی تعبیر کرنے والے دیمقراطیس کا یہ خیال ہے کہ کرہ ہوا کے اندر بعض ایسی پراسرار ہستیاں ہیں جن کی شکل و صورت انسانوں جیسی ہے مگر ان کے جسم بہت بڑے بڑے اور ان کی عمریں انسانوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ ان ہستیوں کے انسانی زندگی پر خاص اثرات مرتب ہوتے ہیں اوریہ انسانی خوابوں میں بھی جلوہ گر ہوتی ہیں۔

سقراط بھی دیوتائوں کی اہمیت کا قائل تھا اس کے نزدیک دنیا کی تنظیم کے لیے جس عقل کی ضرورت ہے وہ صرف دیوتائوں کے پاس ہے۔ اس کے ہاں بھی اس دور کے شعرا کی طرح یہ تصور ارتقا ئی مدارج سے گزرتا ہواکثرت سے وحدت کی طرف آتا ہے اور دنیا کے خالق و مالک خدا کو دیوتائوں سے الگ خیال کرنے لگتا ہے اور جسے وہ روح ِ ائنات بھی تصور کرتا ہے جو تمام کائنات اور انسانوں کی محافظ ہے۔ وہ دیوتائوں کے کلی علم کا بھی قائل ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ انسان جو کچھ سوچتے ہیں خدا ان سے باخبر ہے۔ افلاطون کے مکالمات میں جگہ جگہ دیومالا کے نمایاں اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ سمپوزیم میں سقراط زیوس کی طرف شراب اچھالتا ہے۔ یہ یونان کی ایک مذہبی رسم تھی۔سمپوزیم میں محبت کو ایک یا کئی دیوتاوں کے روپ میں پیش کیاگیا ہے۔ ریاست میں بھی افلاطون مذہبی اتھارٹی کو تسلیم کرتا ہے اور سب سے بڑی اتھارٹی ڈیلفی کی اوریکل (Oracle at Delphi) ہی ہے۔ گو یونانی معاشرے میں مذہب کا وہ تصور نہ تھا جو آج ہے۔ یونانی مذہب رسومات کا ایک مجموعہ تھا۔ ریاست (کتاب دوم) میں سقراط یہ بات کرتا نظر آتا ہے کہ مثالی ریاست میں بچوں کو دیوتاوں کے متعلق کون کون سی کہانیاں سنائی جانی چاہییں۔ یوتھی فرو (Euthiphro) اورریاست کی کتاب دوم ہی میں سقراط ایسی کہانیوں پر پابندی کی بھی بات کرتا ہے جن میں دیوتاوں کو لڑتے ہوئے یا جھوٹ بولتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس کے خیال میں اس سے لوگوں کے دلوں سے ان دیوتاوں کا احترام جاتا رہے گا۔ اس کے خیال میں دیوتاوں کا احترام بہت ضروری ہے البتہ وہ بعض دیوتاوں کی نفی کا الزام بھی اپنے سر لیتا ہے۔ سمپوزیم میں یونانی دیو مالا کا حوالہ ملتا ہے کہ انسان کو دو بازووں،دو ٹانگوں اور دو چہروں کے ساتھ پیدا کیا گیا تھا مگر بعد ازاں زیوس نے اس کی طاقت سے خائف ہو کر اسے دو الگ الگ حصوں میں تقسیم کر دیا۔افلاطون اس مذہبی تصور کا قائل تھا کہ انسان کی موجودہ زندگی اصل حقیقت نہیں بلکہ اس کا ایک سایہ ہے اور حقیقی زندگی بعد از مرگ ملے گی ۔اس دنیا کی زندگی مقید جب کہ آخرت کی زندگی روح کے لیے ایک آزاد زندگی ہے۔ طائمیس میں افلاطون نے خالق کائنات جسے اس نے Demiurge کہا ہے کا تصور پیش کیا ہے ۔مگر افلاطون کے مطابق کائنات کو تخلیق کرنے والی قوت نے اسے عدم سے تخلیق (Creatio ex nihilo) نہیں کیا بلکہ اسے ترتیب دیا ہے۔ گورجیاس میں بھی افلاطون ہومر کے خداوں کے حوالے سے آخرت کے تصور پر بات کرتا ہے۔ زینو فینیز ((Xenophanes بھی دیوتاوں پر ایمان رکھتا تھا البتہ وہ یونانی مذہب میں دیوتاوں کو انسانی روپ میں پیش کرنے (Anthropomorphism) کے خلاف تھا۔ارسطو بھی دیوتاوں کی تجسیم کاری کے خلاف تھا مگر وہ یہ تسلیم کرتا تھا دیو مالا نے یونانی فلسفے کی ترقی میں حصہ لیا ہے۔ وہ خدا کو غیر متحرک محرک (Unmoved Mover) اور فاکر فکر کہتا ہے۔اپنی کتاب میٹا فزکس میں وہ لکھتا ہے:
“God is a supreme and eternal living being, so that to God belongs life, continuous and eternal duration. For that is, what God is.”

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: