خلیج تنازع اور مسلم دنیا کے چیلنجز: وقاص خان

0

چھ نمایاں عرب ملکوں نے پچھلے دنوں قطر کا سفارتی مقاطعہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ اس انتہائی اقدام کے پیچھے امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کے حالیہ سعودی دورے نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ خود صدر ٹرمپ نے بھی اپنی ایک ٹویٹ میں دعوی کیا کہ قطر کے ساتھ اپنائے گئے اس رویے کے پیچھے ان کی سفارشات کا عمل دخل ہے کیونکہ ان کی معلومات کے مطابق قطر اس دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے جس سے پوری دنیا کو خطرات لاحق ہیں۔ ہم اس سارے منظر نامے کو قدرے مختلف انداز سے دیکھتے ہیں۔ جس کی ایک وجہ تو خطے کے بارے میں بدلتی امریکی پالیسی ہے۔ سیاسیات میں دلچسپی رکھنے والے حضرات جانتے ہیں کہ بش جونیئر کے دور میں مشرق وسطی کے ممالک میں جس اکھاڑ پچھاڑ کا عمل شروع ہوا تھا باراک اوباما نے اسے آگے بڑھایا اوراگرچہ وہ دنیا کو اسلحے کے ہاتھ مغوی ہونے سے بچانے کی پالیسی لے کر آئے تھے لیکن اس کے باوجود ان کے دور اقتدار میں اسلحے کی حکمرانی کو عروج نصیب ہوا۔ مشرق وسطی میں من پسند حکمرانوں کو اقتدار کےایوانوں تک پہنچانے کے لیے سیاسی و تحریکی چالبازیاں پہلے سے زیادہ تیز رفتار کے ساتھ رو بہ کار ہوئیں اور ملکوں کے ملک تباہ و برباد کیے گئے۔ باراک اوباما کے بعد صدر ٹرمپ نے اس نکتے کو الیکشن مہم کا حصہ بنایا تھا کہ وہ باراک اوباما کی جنگ پر مبنی خراب خارجہ پالیسیوں کو شٹ ڈاؤن کریں گے، لیکن ابھی تک کی صورتحال میں ایسا کچھ ہوتا نظر نہیں آ رہا بلکہ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ عرب اتحادیوں کو ساتھ ملا کر ایک نیا محاذ کھولنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ سب اچھا نہیں ہے۔
       لیکن اہم بات تو یہ ہے کہ کیا مسلمان ایک نیا محاذ کھولنے کے متحمل ہو سکتے ہیں۔؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ پہلے سے کھلے محاذوں نے ہمیں تباہی کے جس دہانے پر لا کھڑا کر رکھا ہے اس کے لیے یہ آخری دھکا ثابت ہو اور انجام تاریکیوں کے سوا کچھ نہ ہو۔ظاہر ہے بڑے ملکوں کی جنگیں ان کے اپنے مفادات سمیٹنے یا اپنے مفادات کا تحفظ مستحکم کرنے کی خاطر ہوتی ہیں جبکہ تیسری دنیا کے ممالک اور وہاں بسنے والے انسان ان کی اس خون آشام فطرت کے لیے سوائے ایندھن کے اور کچھ کام نہیں آتے۔اب کی بار ہمیں عالمی کھلاڑیوں کے ہاتھوں میں کھلونا بننے سے پہلے ایک بار سوچ لینا چاہیے کہ موجودہ عالمی منظرنامے میں ہمیں کن حقیقی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ہماری رائے میں بنیادی نوعیت کے چیلنجز تین ہیں اور انہی کی جانب ہماری مثبت یا منفی اپروچ کی بنیاد پر ہمارے مستقبل کا فیصلہ ہو گا۔۔

1۔ مسلم تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ مسلمان خود بھاری ہتھیاروں کے ساتھ دوسرے مسلمانوں پر حملہ آور ہیں۔۔ گزشتہ 36 سال، عراق ایران جنگ کے بعد سے، مسلمان اس بھیانک سلسلے کو وسیع سے وسیع تر کیے جا رہے ہیں۔ گروہی، مسلکی اور قبائلی تصادم کے ساتھ ساتھ عرب اسرائیل جنگ، قطر اور ترکی کے روسی بلاک کی طرف میلان، افغان جنگ اور ہندوستان و پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کو بھی ملا لیا جائے تو جو تصویر بنتی ہے وہ راتوں کی نیندیں اڑانے کے لیے کافی ہے۔

2۔ دنیا بھر میں Depopulation اور Displacement کا سب سے بڑا شکار مسلم آبادی ہے۔۔ بظاہر ہمیں ان دونوں عوامل کا احساس نہیں ہے اور جن حلقوں میں اس کا احساس پایا جاتا ہے وہ بھی فقط زندگی کی معاشی ضروریات کے حوالے سے ہے، حالانکہ یہ دونوں عوامل قوموں کی قومیں تباہ کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ 2012 کے اعداد و شمار کے مطابق فقط لیبیا سے 2 ملین لوگ Displacement اور Migration کا شکار ہوئے اور کم از کم تیس ممالک کو اس مہاجرت کے منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑا۔ خود لیبیا میں کیا ہوا اس کا ذکر ہم آئندہ کسی موقع کے لیے اٹھا رکھتے ہیں لیکن لیبیا میں قیام کے دوران اور ترکی و تیونس کے سفر میں ہم نے بے شمار خوشحال خاندانوں کو پراسٹیٹیوشن، بھیک اور جہالت کے پنجہ خون آشام میں تڑپتے دیکھا۔ 2017 کی ایک مصدقہ رپورٹ کے مطابق 11 ملین لوگ شام میں بے گھر ہوئے جن میں سے 5 ملین لوگ اس وقت دوسرے ملکوں میں ریفیو جیز کی زندگی گزار رہے ہیں۔چھ سالہ شامی جنگ میں بے گھر ہونے والے لاکھوں بچوں کا اپنی روایت اور ثقافت سے رشتہ منقطع ہو چکا ہے۔ ان کی تعلیم و تربیت کا بندوبست نہیں ہے۔ صحت کی حالت دگرگوں ہے۔ جبکہ یمن کی ناگفتہ بہ صورتحال اس سب پر مستزاد ہے۔ذرا سوچیے کہ دس سال بعد مسلمانوں کی جو نسل عالمی قیادت کے لیے میدان میں ہو گی کیا وہ اس قابل ہو گی کہ کوئی اس کی سنے۔؟
مسلمان اور عالمی قیادت، یقینا ہمارے قارئین ان لفظوں پر چونک اٹھیں گے لیکن سچ یہی ہے کہ مسلمان آخری امت ہونے کے ناطے عالمی قیادت کے دعویدار ہیں، کیا ان کا دعوی درست ہےیا نہیں، اس پر بات ہو سکتی ہے لیکن یہ اس کا موقع نہیں۔

3۔ چونکہ مسلمانوں کا دعوی ہے کہ وہ کائنات کی سب سے بڑی سچائی کے امین ہیں، ایک ایسی سچائی جس کے اندر کامل انسانیت کی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے، اس لیے وہ اس عالمی سچائی کے نام پر قیادت کے دعویدار ہیں بھی اور رہیں گے بھی۔ لیکن ایک پل کو سوچیے کہ صحت کے اعتبار سے کمزور، تعلیم کے اعتبار سے ناخواندہ، اپنی روایت و ثقافت سے بے بہرہ اور دوسروں کے آسرے پر جینے والی ملت کو کون اپنا قائد ماننے کے لیے راضی ہو سکے گا۔
       کیا ضروری نہیں ہے کہ ہم ان تین نکات کو سامنے رکھ کر دیکھیں کہ مسلمان بحیثیت قوم کس جانب رواں دواں ہیں، صحیح پوزیشن یہ ہے کہ مسلمان ملت ایک لامحدود جنگ میں گھٹنوں تک اتر چکے ہیں، جس میں شیعہ سنی اور دیگر مسلکی تقسیمیں، اخوانی اور بادشاہی عنصر، عرب اسرائیل تنازع، کردوں، عربوں اور ترکوں کی باہمی منافرت اور روشن خیال بمقابلہ قدامت پرست سوچ بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ ہلاکت خیز خبر یہ ہے کہ ان کرداروں کی مؤثر حیثیت قریب زمانے تک ختم ہوتی دکھائی بھی نہیں دیتی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ کم از کم اگلے دس سال تک یہ جنگ چلتی ہی رہے گی۔ جس کی وجہ سے تاریخ انسانی کی سب سے بڑی اور تباہ کن مہاجرت کا عمل بھی جاری رہے گا۔ ایک ایسی  مہاجرت جو کہ جبری مشقت، صنعتی دور کی عطا کردہ ٹیکنیکل غلامی، غربت، افلاس، جہالت اور احساس کم مایگی و درماندگی میں اضافے کا سبب بنے گی۔ آج کے خوشحال اور معزز خاندان اس مہاجرت کی وجہ سے غربت اور جہالت کی دلدل میں پھنستے چلے جائیں گے۔ نتیجے کے طور پر گنتی کے چند ہی سالوں بعد کائنات کی سب سے بڑی سچائی کی دعویدار قوم اپنے آپ کو پستی اور ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں پائے گی۔ یعنی آئندہ نسلوں کے پاس سچائی اور ماضی کی عظمت کی دعویداری تو ہو گی لیکن اس کے ذریعے اپنے حالات بدلنے کا کوئی لائحہ علم نہ ہو گا۔ کیونکہ اس نسل کے پاس تعلیم ہو گی اور نہ ہی زمانے کے ساتھ چلنے کے لیے ٹیکنالوجی، خود داری ہو گی اور نہ ہی حریت فکر و عمل کا حوصلہ۔
       مستقبل کا یہ بھیانک نقشہ ایک واہمہ نہیں بلکہ حقائق کا درست ادراک ہے۔ کروڑوں مسلمان بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ یعنی دس سال بعد مسلمانوں کی آدھی نوجوان نسل تعلیمی میدان میں زیرو ہو گی اور باقی کی آدھی نسل کے پاس جو تعلیم ہو گی تو وہ مذکورہ بالا فرقہ وارانہ عناصر کی زہر ناکی سے متاثر ہو گی۔ جس کی وجہ سے تعلیم یافتہ طبقے بھی قوم کی درست رہنمائی کرنے سے قاصر ہوں گے۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہو گی جس میں مڈل کلاس اور نچلے طبقے میں شدت پسندی کی وجہ سے دوریاں اور جہالت کی وجہ سے توہم پرستی اور مرعوبیت کا عالم ہو گا جبکہ ایلیٹ کلاس اپنی بالادستی قائم رکھنے کی خاطر دنیا کے بڑے کھلاڑیوں کے ہاتھوں میں استعمال ہوکر ملک، قوم اور مذہب بیچ کر مفاد پرستی کی سیاست کریں گے۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ مسلم ممالک میں آج بھی یہی صورتحال ہے لیکن المناک خبر یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس بھیانک دلدل میں ڈوبنے کا احساس تک نہیں ہے بلکہ ان کی پالیسیاں غماز ہیں کہ مسلمان اس دلدل سے نکلنے کے بجائے مزید دھنسنے کی شعوری کوشش کر رہے ہیں۔جس کا ایک مظاہرہ قطر کے ساتھ دیگر عرب ممالک کے حالیہ تنازع کے دوران دیکھنے میں آ یاہے۔

       ضرورت اس امر کی ہے مسلمان اس وقت اقتدار، غلبے اور عالمی سیاسی رسہ کشی کا حصہ بننے کے بجائے اپنا گھر ٹھیک کرنے پر توجہ دیں، مذہبی آزادی دے کر دعوت کے عمل کو آگے بڑھنے دیں، تعلیم کو عام کریں، اخلاقی پیمانے درست کر کے انسانیت کے اجتماعی شعور سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کریں اور آج کی دنیا میں جینا سیکھیں، ظاہر ہے کہ جس نے آج کا بیانیہ نہ جانا اس کا آج محفوظ نہ رہے گا اور جس کا آج غیر یقینی کی کیفیت میں گزرا وہ کل کسی اور کی رہنمائی تو دور خود اپنی سمت بھی درست رکھنے کے لائق نہ ہو سکے گا۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: