پدرم سلطان بود 3 : احمد اقبال

0

سینئر لکھاری اور دانشور جناب احمد اقبال کی زیر طبع خود نوشت سے اقتباس۔ گذشتہ سے پیوستہ۔


لاہور کے ریلوے اسٹیشن کی وسعت اور شان و شوکت کو دیکھ کر مجھے دہلی کا اسٹیشن بہت چھوٹا اور حقیر لگتا تھا جو کبھی میرے لیے انسانوں اور ہر رنگ کی ٹرینوں کا وہ پر شور شہر طلسمات تھا جس کو میں پورا دیکھ ہی نہیں سکتا تھا۔ اب لاہور میرے خیال و نظر کی رسائی تک لاہور تھا جس پر ہزاروں انسان ڈیرہ ڈالے پڑے تھے جیسے اب اور کہیں نہیں جانا، بس یہ اپنا گھر ہے۔ جو بات میں بھولنا چاہوں تو بھی نہیں بھلا سکتا وہ مدد اور ہمدردی کا بے پناہ جذبہ تھا۔ دوسرے تیسرے دن ایک نوجوان لڑکا اور ایک لڑکی گرم ناشتہ اور چائے لے کر پہنچے۔ وہ غالباً’’گورنمنٹ کالج میں پڑھتے تھے‘‘۔ ہمارے علاوہ انہوں نے کتنوں کی ذمے داری اٹھا رکھی تھی یہ نہیں معلوم لیکن وہ وقت پر ناشتا، پھر دوپہر کا کھانا اور پھر رات کا کھانا لاتے رہے۔ انہوں نے کپڑے اور نقد رقم بھی پیش کی تھی لیکن ’’ابا نے کہا کہ اس کی ضرورت نہیں‘‘۔ تقریبا پندرہ دن یہ معمول جاری رہا۔ پھر ایک دن انہوں نے کہا کہ چلئے آپ کی رہائش کا بندوبست ہوگیا ہے۔ ہمارا سباب ایک تانگے پر لادا گیا، وہ لڑکا اور لڑکی سائیکلوں پر ساتھ چلے۔ جی اس وقت بلکہ ضیا کے دور تک لیڈیزسائیکلیںعام استعمال ہوتی تھیں جو پاکستان کی سہراب کمپنی بناتی تھی۔ ایک ایسا لبرل ماحول تھا جس میں نہ عقائد مسلط کرنےوالے تھے اور نہ مذہب کی خود ساختہ صورت کوجبر و تشدد سے’’راہ راست‘‘ بناکے بزور بازو نافذ کرنے والے۔ لاہور کے پرانے باسی اس وقت کو بھولے نہیں ہیں جب صبح، اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی لڑکیاں رنگین آنچل لہراتی سڑک کے کنارے کنارے چلتی جاتی تھیں۔ رنگ پیراہن کا خوشبو زلف لہرانے کا نام تھا کیونکہ اس وقت یونیفارم نہیں تھی اور فلم نگری لاہور سے فیشن شروع ہوتے تھے۔ راہوار تخیل کو پھرلگام دے کر وقت کی قید میں لاتا ہوں۔ ہمارے قیام کابندوبست گڑھی شاہو کی مین روڈ پر ایک تنگ گلی کے آخری گھر میں کیا گیا تھا۔ گلی آگے سے بند تھی اور اس کی نچلی منزل پر ہمیں ملنے والا خاصا کشادہ کمرہ قدرے تاریک تھا۔ بعد میں اس گلی کا سراغ لگانے کی میں نے بہت کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ ایک اندازہ تھا کہ وہ کہاں تھی لین ظاہر ہے وہ غلط تھا ورنہ تو آج بھی بند ہی ہوگی اور نئی تعمیر کے باوجود دائیں ہاتھ کا آخری گھر آخری ہی ہوگا۔ اللہ اس فراخدل شخص پر رحمت کے سب در کھلے رکھے جس نے دوسرے ملک سے آنے والے بے گھراجنبی خاندان کو اپنے گھر میں جگہ دی۔ محلے کے عام لوگوں کا رویہ بھی انتہائی ہمدردانہ تھا۔ ہمارے لیے اتنا سامان خور دو نوش اور کپڑے آتے تھے کہ ہم قبول نہیں کر سکتے تھے۔ میں اور چھوٹا بھائی مختصر گلی عبور کرکے سڑک پر آجاتے تھے اور’’بے پناہ‘‘ ٹریفک کودیکھتے رہتے تھے حالانکہ اس زمانے میں نہ گاڑیاں تھیں نہ موٹر سائیکلیں۔ جس چیز نے ہمیں دم بخود کر دیا وہ ڈھائی آنے پائو کے انگور تھے۔ اس وقت بکری کا گوشت بھی اسی بھائو ملتا تھا۔ سمجھ لیں 15 پیسے پائو۔ جب کوئی بیمار ہوتا تھا تو دیہی سے انگور 4 روپے پائو لائے جاتے تھے اور مریض کو دانے گن کر دئے جاتے تھے۔ میں اور بھائی توخوشی سے نہال ہوگئے۔ ہر وقت انگور کھاتے نظر آتے تھے ایک اور بات کی یاد بہت واضح ہے۔ ایک دن اعلان ہونے لگا کہ ’’چلو چلو اسٹیشن چلو‘‘ وہاں سے سکھوں کی اسپیشل مہاجر ٹرین جانے والی تھی۔ ان کو جہنم رسید کرکے ہندوستان سے آنے والے مہاجرین کے قتل کا حساب برابر کرنا ہے۔ ہم ایک دکان کے تھڑے پر کھڑے جلوس بنتا دیکھتے رہے جو نعرے لگا رہا تھا اور سڑک پر ہزاروں نہ سہی سینکڑوں لوگ ضرور تھے۔ جلوس چلا گیا اور پتا نہیں اسٹیشن پر کیا ہوا۔ انہوں نے وہاں قتل عام کیا یا آگے کہیں۔ لیکن شاید چار لوگ مارے گئے۔ ان شہیدوں کی میت بڑے جوش اور جذبے کے ساتھ لائی گئی اور وہیں گڑھی شاہو کی میو روڈ اب علامہ اقبال روڈ پر ان کی نماز جنازہ ہوئی جس میں پوری سڑک پر خلقت تھی۔
ابا کی انڈیا سے سروس کی تصدیق نہیں ہورہی تھی۔ وہ روز دفتر جاکے کینٹ اسٹیشن کے سامنےحاضری لگاتے اور مایوس لوٹ آتے۔ ہمارا نقد اثاثہ احتیاط کے باوجود کم ہوتا جارہا تھا۔ تقریباً تین ماہ اسی طرح گزرے۔ آخری دن ہمارےپاس 5 آنے رہ گئے تھے۔ اسی دن لاسٹ پے سرٹیفکٹ آگیا جو تصدیق کرتا تھا کہ سرکاری ملازم کہاں تھا کس عہدے پر تھا اور اس کوآخری تنخواہ کب اور کیا دی گئی تھی۔ اب اس دور میں تعاون اور ایمانداری کا جزبہ دیکھئےکہ ابا کو تین ماہ کی تنخواہ کی ادائیگی اسی دن کردی گئی۔ یہ بل بنانے سے پاس کرنے اور چیک ملنے تک کا وہ عمل تھا جو اب مہینوں پورا نہیں ہوتا۔ ریٹائر ہونے والے بوڑھے بھی ملنے والی پنشن کی رقم کا ایک حصہ نذرانہ پیشگی نہ دیں اور دھکے کھاتے رہتے ہیں۔ میری ایک بچپن کے دوست بڑے اچھے عہدے پر تھے۔ ریٹائر ہوئے تو کاروبار کرلیا۔ ان سے زیادہ انکم ٹیکس کاٹ لیا گیا، اس کی واپسی کے لیے کوئی سفارش کام آئی نہ ہائیکورٹ کے آرڈر۔ سیدھا سودا یہ تھا کہ آدھے دے دو آدھے لے لو۔ آمدم بر سر مطلب۔ ہم اس دن دولت مند ہو گئے۔ ابا نے واپس آکے میزبانوں کا شکریہ ادا کیا کہ اب ہم ضرورت مند نہیں رہے۔ وہ دس روپے مہینہ پر پرانی انار کلی میں ایک کرائے کا مکان دیکھ آئے تھے، ہم اسی دن وہاں منتقل ہوئے۔ ابا نے دفتر آنے جانے کے لیے فلپس کی سائیکل120 روپے میں خریدی جو انگلینڈ کی بنی ہوئی تھی۔ ہرکولیس اس سےاچھی اور 150 کی تھی اور یلے کی شان تھی مرسیڈیز کی طرح جو 200 میں ملتی تھی۔ اس گھر میں شاید ہم 3 یا 4 ماہ رہے اس دوران ہی لوگوں نے کہا کہ آپ مہاجر ہیں تو کلیم داخل کریں۔ ابا کے پاس نہ کاغذات نہ ملکیت کا کوئی ثبوت۔ ہمدردوں نے اکسایا کہ ہمت کریں تو سب ہو جائے گا۔ دستاویزات بنانے والے سارے کام کر دیتے ہیں لیکن ابا ڈرتے تھے کہ پاکستان میں کوئی آگے نہ پیچھے۔ میں پکڑا گیا تو فیملی کا کیا بنے گا۔ پاکستان میں لوٹ مار، رشوت اور کرپشن کا آغاز ہی مہاجروں کی آباد کاری والے محکمے سے ہوا۔
اب اس مرحلے پرآگے بڑھنے سے پہلے میں تھوڑا سا لاہورکے ہپس منظر کے بارے میں بتادوں جو اس وقت مجھے بھی معلوم نہیں تھا۔ وقت کے ساتھ سب پتا چلا یا۔ لاہور تقسیم کے وقت پاکستان کا سب سے بڑا اور اہم شہر تھا۔ انڈیا میں تین فلم سنٹر تھے بمبئی، مدراس اور کلکتہ پاکستان میں صرف لاہور تھا۔ یہ سٹی آف کالجز بھی کہلاتا تھا اور سٹی آف گارڈن بھی۔ پاکستان کا پہلا ریڈیو اسٹیشن یہاں 1937 میں بنا جہاں سے دس سال بعد 14 اگست 1947 کو شکیل احمد نے رات بارہ بجے پہلی بار کہا’’یہ ریڈیو پاکستان ہے‘‘؟ اس سے پہلے کہا جاتا تھا کہ یہ آل انڈیا ریڈیو لاہور ہے۔ اردواخبارات کے علاوہ یہاں سے عورتوں بچوں کے متعدد رسالے شائع ہوتے تھے۔ چنانچہ رفتہ رفتہ اس نے فلم اور فیشن کے ساتھ، ادبی اور ثقافتی مرکز کی حیثیت حاصل کر لی تھی۔ علامہ اقبال لاہور میں تھے شاید کافی لوگ نہ جانتے ہوں کہ کرشن چندرا جیسے ادیب، دیوآنند، بلراج ساہنی اور کامنی کوشل جیسے نامور اداکار گورنمنٹ کالج سے ایم اے/بی اے کر کے گئے تھے، لاہور کی خوشحالی میں بڑا حصہ سکھوں کا بھی تھا۔ ان تمام وجوہ کی بنا پر اس بات کی اہمیت بہت تھی کہ لاہور بھارت میں شامل ہوتا ہے یا پاکستان میں۔ ہر سکھ کرپان لیے شیر بنا پھرتا تھا کہ فیصلہ بھارت کے حق میں ہی ہوگا (سنگھ کا مطلب شیر ہی ہوتا ہے)۔ اچانک پانسہ پلٹ گیا۔ مسلمانوں نے سارے حساب برابر کردیے۔ ان کے خوشحال محلے مثلاً شائع عالمی گیٹ نزر آتش کر دئے گئے۔ جو جان بچا کے بھاگ سکے نکل گئے۔ یہاں میں ایک بات کہہ دوں جو شاید بے محل لگے لیکن اس کا ذکر ضروری ہے۔ دیال سنگھ کالج روایت کے مطابق امرتسر کے ایک سکھ نے بنایا تھا جو اپنا سب کچھ اس کارِ خیر کے لیے بیچ آیا تھا، کالج کے ساتھ اس نے ہر کلاس کے طلبا کے لیے نصابی کتابوں کی لائبریری بنائی تھی جہاں سے ہر ضرورت مند کو فری کتب دستیاب تھیں۔ ہوائے بغض و عناد میںیہ لائبریری بھی جلا دی گئی۔ پھر کسی کو یہاں ایسی لائبریری بنانے کی توفیق نہ ہوئی۔
لوٹ کر اصل موضوع پر آتا ہوں۔ نہ جانے کس نے ابا کو مجبور کیا کہ وہ بحالیات والوں کے چکر میں پڑ گئے۔ متروکہ جائیداد میں تالے پڑے تھے لوگ بحالیات والوں کی جیب گرم کرتے تھے اور کسی دکان مکان کا آلاٹمنٹ آرڈر حاصل کر لیتے تھے۔ ایک شخص سے میں بعد میں ملا۔ اس نے کبھی ریڈیو نہیں دیکھا تھا۔ اسے ہال روڈ کی ایک دکان مل گئی جو آج لاہور کی الیکٹرانکس کی ہول سیل مارکیٹ ہے۔ تالا توڑا تو اندر ریڈیو بھرے ہوئے تھے۔ اس نے یہ کاروبار شروع کیا اور اس کام میں مہارت بھی حاصل کرلی۔ ظاہر ہے وہ کروڑ پتی مرا۔ ابا خالی ہاتھ بحالیات کے افسروں کے پیچھے پھرتے تھے اور اپنی رام کہانی سناتے تھے۔ میں شمیم نعمانی ہوں۔ شاعر ہوں۔ گھر لُٹا کے آیا ہوں۔ پاکستان میں کوئی نہیں’’اس دُکھ بھری فریاد کو کانوں تک پہنچنے اور دل پر اثر کرنے کے لیے مال یا سفارش کی ضرورت تھی۔ اس کے بغیر کون سنتا ہے فغان درویش۔ اتفاق ایسا ہوا کہ ابا ایک ہی کے پیچھے پھرتے رہے۔ اس نے جب دیکھا ابا موجود اور وہی ریکارڈ کہ شاعر ہوں، بے نوا ہوں، بے اسرا پڑا ہوں۔ اس نے دیکھا کہ یہ شاعر کمال ڈھیٹ ہے۔ ایک دن ہاتھ جوڑ دیئے کہ ’’میرے باپ کیا چاہئے لے لو مگر میری جان بخش دو، بتائو یہ الاٹ کر دوں؟‘‘ وہ پرانےشاہ عالم مارکیٹ کے نصف جلے ہوئے کھنڈر علاقے میں پھر رہا تھا۔ اس کا اشارہ ایک چار منزلہ عمارت کی طرف دیکھا تو ابا نے اقرار میں سر ہلادیا اور اس نے الاٹمنٹ آرڈر سائن کر کے ہاتھ میں تھمایا اور بھاگ گیا۔ اب جناب بابوجی کی خوشی کا تو ٹھکانا نہیں رہا۔ ؎ع: خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھئے احوال، کہ آگ لینے کو جائیں پیمبری مل جائے۔ کوئی چھوٹا موٹا سر چھپانے کا آسرا چاہا تھا۔ محلوں کا خواب دیکھنے والی آنکھیں کہاں سے لاتے۔ دس روپے مہینہ کرایہ بچانے سے زیادہ فکر تھی کہ میں نہ رہوں تو بچے بے گھر تو نہ ہوں۔ اچانک مل گیا خوابوں کا محل۔ افتاں و خیزاں گھر پہنچے اور چلا کے کہا ’’خانم، مبارک ہو، گھر مل گیا، چارمنزلہ۔ لو مٹھائی کھائو‘‘۔ اب خانم ہونق کھڑی منہ تک رہی ہیں کہ کیا بول رہے ہیں’’چار منزلہ؟ کیا کریں ہم چار آدمی چار منزلوں کا؟ اس کےتو کرائے میں تمہاری تنخواہ بھی نا کافی ہوگی‘‘۔

ابا نے خوش خوش ہنستے ہنستے سارا قصہ سنایا’’اب اندر سے تو میں نے بھی نہیں دیکھا کیسا ہے، کتنا بڑا ہے۔ کسی سکھ کا ہوگا، جلنے سے بچ گیا۔ باہر سے پوری حویلی ہے نئے وضع کی۔ ہر منزل پر چار کمرے تو ہوں گے۔ اوپر کی منزل پر رہیں گے۔ ہوا دار ہوتی ہے۔ نیچے کا کرایہ آئے گا۔ دیکھ لو ہجرت کی برکت۔ پاکستان نے وہ دے دیا جو باپ دادا نے اڑا دیا تھا‘‘ وہ نہ جانے کب تک بولتے رہتے۔ ہم دس سال اور سات سال کے دو بھائی کیا سمجھتے۔ چپکے بیٹھے لڈو کھاتے رہے۔ نہ جانے کتنے عرصے بعد ہم نے والدین کو اتنا خوش دیکھا تھا۔ بس اس کے بعد گویا مسافر نے پھر باندھا رخت سفر۔ مالک مکان کی مبارکباد لے کر اس سے گلے ملے کہ پھر ملیں گے اگر خدا لایا۔ بستر لپیٹا۔ بوری میں گنتی کے چند برتن بھرے ٹین کا کپڑوں والا بکس اٹھایا اور تانگہ چلا پرانی انار کلی سے اندرون شاہ عالمی گیٹ۔ لٹھے کےشٹل کاک برقعے میں اماں پیچھے دھری۔ میں اور بھائی آگے۔ ابا پیچھے موج میں سائیکل پر کرتب دکھاتے۔ کبھی آگے نکلتے کبھی ساتھ چلتے ہاتھ چھوڑ کے سائیکل چلاتے۔ ایک بار پیر ہینڈل پر بھی رکھے، انارکلی سے گزرے بھاٹی گیٹ سے تانگہ دائیں طرف مڑ گیا، آگے سے پھر بائیں۔ خیال رہے اس وقت ان سڑکوں پر نہ کاریں موٹرسائیکلیں تھیں نہ وہ ہجوم کہ لگے جلوس گذر رہا ہے۔ شام ہوتے’’ذاتی کوٹھی‘‘ کے سامنے جا اترے۔ آس پاس ویرانی تھی۔ گھرخالی یا جلے پڑے تھے۔ چابی کہاںتھی ابا نے چور نظروں سے ہر طرف دیکھتے ہوئے شاید زندگی میں پہلی بار قفل شکن ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ بر وزن بت شکن۔ کسی نے نہیں دیکھا یا دیکھا تو حیران پریشان ہونا لا حاصل سمجھا۔ اب اندر قدم رنجہ فرمایا تو عجیب سی بو اور گھپ اندھیرا۔ ابا نے تسلی دی کہ نچلی منزلوں پر ہوتا ہے اور عمارت نہ جانے کب سے بند پڑی تھی’’راستہ ٹٹولتے اوپر دوسری منزل پر گئے۔ اندھیرا اور بور ہے۔ تیسری روشن تھی اور ہوادار۔ ابا چلتے ہوئے چوتھی منزل پر جاپہنچے جس کا آدھا حصہ کشادہ صحن تھا۔ فی زمانہ ٹیرس۔ اس پر خوب روشنی اور ہوا تھی۔ کمرے دوہی تھے۔ صحن میں گرد تھی اور کٹی پتنگیں تحیں۔ سامان یہاں پر چھوڑ کر اماں ابا پانی لینے نیچے گئے۔ ان کی بھی جوانی کے دن تھے۔ میں اور بھائی پتنگوں سے کھیلتے رہے، اڑانا جو نہیں آتا تھا۔ لٹو پھرانا۔ کنکوے بازی۔ کنچے کھیلنا ۔ گلی ڈنڈا شریفوں کے کھیل نہ تھے چنانچہ ممنوع تھے۔ بعد میں گلی ڈنڈا بہت کھیلا لیکن دیگر فنون لطیفہ سے محرومی کا احساس ہمیشہ رہا۔ ہمیں ایک ڈھولک ملی جس پر ہم نے انتظار کا وقت گذارنے کے لیے ہاتھ مارے میں گلی میں عین مقابل کے ایک گھر میںکچن کو دیکھتا رہا جس کا چولہا تو بجھا ہوا تھا لیکن اس پرتوا تھا۔ چمٹا پھونکنی وہیں پڑے تھے، پرات میں آٹا دکھائی دیتا تھا، چکلہ بیلن رکھا تھا، روٹی کی چنگیر تھی۔ لگتا تھا کوئی عورت روٹی پکانا چھوڑ اٹھ کے اندر گئی ہے۔ مجھے یقین تھا وہ جلد آ جائے گی تو اسے سلام کروں گا۔ لیکن وہ نہیں آئی۔ آج میں سوچتا ہوں اس عورت پر کیا بیتی کہ اسے روٹی چھوڑ جان بچا کے ایک دم بھاگنا پڑا؟ وہ کہاں گئی کس کے ساتھ گئی، یقینا’’ اس محلے میں وہ بھی سِکھ ہوگی۔ کیا اسے اٹھا لیا گیا؟ اس کے گھر کے مردوں پر کیا بیتی؟ اب وہ کہاں ہو گی‘‘؟ یہ سب ایک جیسے سوالات ہیں جن کا کسی مذہب یا ملک سے تعلق نہیں۔ یہ’’ سیاہ حاشیے‘‘ ہیں۔ باونڈری لائن کے دونوں طرف۔ ریڈ کلف کے بنائے ہوئے۔ ان باتوں کو اب سمجھنے، کہنے کا فائدہ۔ اماں ابا جب نیچے سے پانی کی بالٹی لائے تو ابا ہانپ رہے تھے اور اماں زار و قطار رو رہی تھیں۔ ’’میں مر کے بھی اس آسیب میں نہیں رہونگی۔ غضب خدا کا۔ ہم دو تو بڑے ہمارے ساتھ یہ دو بچے اور اتنا بڑا ڈھنڈار۔ پتا نہیں اندر سے کیا نکل آئے۔ کوئی چُھپا سِکھ۔ اس کی بد روح‘‘۔
ابا نے حوصلہ دلایا’’کچھ نہیں نکلتا۔ خدا پر بھروسہ رکھو۔ جگہ ویران پڑی تھی۔ ہم صاف کرلیں گے۔ آباد ہوگی تو‘‘۔ مجھے رہنا ہی نہیں یہاں۔ تمہارا کیا ہے۔ صبح دفتر چلے جائو گے۔ پیچھے سے کوئی آ کے کاٹ گیا ہمیں تو‘‘۔ خانم میری بات تو سنو‘‘۔ لیکن ان کو نہ سننا تھی نہ سنی۔ بالاخر ابا ہی کو ہتھیار ڈالناپڑے۔ بہ مشکل تمام دو گھنٹے کسی سِکھ کی حویلی کی ملکیت کے غرور کا مزا لینے کے بعد اس خاندان نے واپسی کا رخت سفر باندھا اور پھر بے گھر مہاجر کا ارفع واعلیٰ مقام حاصل کر لیا۔

مضمون کا پچھلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: