پی ٹی آئی میں شمولیت: ہنگامہ ہے کیوں برپا؟

0

پاکستان میں کرپٹ نظام کی ستائی ہوئی عوام کے لئے عمران خان اور اسکی جماعت انقلاب کی آخری کرن ہیں۔ اس کرپٹ نظام میں ایسی کوئی آواز جس سے صداقت کی ادنی درجہ کی بھی “بو” آتی ہو ہمارے معاشرے کے لئے ایک خوبصورت باغ کی مانند ہے۔ عمران خان کا میں بذات خود بڑا ناقد ہوں اور ان کی پالیسیوں اور ان کے کارکنوں کی شخصیت پرستی سےبھی بیزار ہوں مگر یہ “کریڈٹ” بھی بہرحال عمران خان کو ہی جاتا ہے کہ معاشرے میں چھایا جمود توڑ کر عوام کو اس بات پر آمادہ کیا کہ اپنے حق پر بات کریں۔ تنقید کے لئے پالیسیز پر جرح کرنا درست عمل ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں پالیسیوں پر تنقید نہیں کی جاتی بلکہ شخصیت پر ذاتی جملے کسے جاتے ہیں۔ دھیان رہے انصافینز کی حالت بھی اس سے مختلف نہیں تحریک انصاف پر جب کوئی اور بات نہیں بن پاتی تو مخالفین یہ کہتے ہیں کہ “جو گھر نہ چلا پایا ملک کیا چلائے گا” وغیرہ جیسے نا معقول جملوں کا عام کارکنان کی زبان پر ہونا ایک مستند رواج کی حثیت حاصل کر چکا ہے. ایسے ہی غیر معقول اور کم فہم جملوں کی کثیر تعداد آپکو اسٹیج اور میڈیا پر بھی ملے گی. حال ہی میں  پیپلز پارٹی کے بڑے بڑے نام جب سے تحریک انصاف میں شامل ہونے شروع ہوئے ہیں تحریک انصاف تیروں کے نشانے پر ہے. بیشتر لوگ اس بنیاد پر تحریک انصاف پر نکتہ چینی کر رہے کہ کرپٹ نظام کے خلاف باتیں کرنے والے اسی کے بچوں کو گود لے رہے ہیں۔ گو کہ مجھے بھی ان سب معاملات پر اور تحریک انصاف کی پالیسیوں پر اشکالات ہمہ وقت رہتی مگر اس معاملے میں یعنی نئی کابینہ کی شمولیت میں میں اختلاف والوں کے بر عکس کھڑا ہوں اور یہ اس وجہ سے ہے. کیونکہ اگر کسی کا یہ خیال ہے بدلاؤ کے لئے کوئی نئی مخلوق جنم لے گی یا کوئی یورپین اورعربین لوگ اکر اس ماحول میں تبدیلی لائیں گے. تو یہ سراسر غلط سوچ ہے. نظام ایسے ہی بدلنا ہے کوئی ذاتی طور پر کتنا ہی کرپٹ ہو کتنا ہی خراب کیوں نہ ہو اگر مین لیڈر ایک مخلص انسان ہو تو اس “کرپٹ شخص” کی چوں چراں نہیں چل سکتی.۔ پاکستان میں نظام کے خلاف کوئی خلائی مخلوق نہیں آنی ہے بلکہ یہی لوگ اپنی سمت بدلیں گے اپنی پالیسیاں درست طور سے نافذ کریں گے. لہذا. کائرہ کی شمولیت پر جنگ و جدل کا ماحول بنانا کوئی عقلمندی اور دانشوری تو نہیں. ہے. ماسوائے خوف یا ذاتی بغض کے اس طرح کی نکتہ چینی کا کوئی مقام نہیں ۔ اگر ہم تاریخ کی کتاب میں درج بدلاؤ کی تحریکیں دیکھیں تو وہی لوگ ان کا حصہ بھی رہے جو اس وقت کے نظام کے مہرے تھے تو قبل الوقت کی قیاس آرائیاں ماسوائے اپنی بھڑاس نکالنے کے کچھ حقیقت نہیں رکھتی ہیں. تحریک انصاف کی حکومت نے خیبر پختون خواہ میں 100 فیصد نہیں تو 60 فیصد تک نظام کو بدل کر رکھ دیا۔ تعلیم ،ہسپتال اور دیگر بنیادی سہولیات میں خاطر خواہ تبدیلی لائی گئی ہے۔ ایسے میں وہاں کونسی ساری کی ساری لیڈر شپ نومولود ہے؟ سب پہلےکسی نہ کسی پارٹی سے منسلک تھے. جس کو چھوڑ کر تحریک انصاف کا دامن پکڑا اب اس کے باوجود مثبت تبدیلی کے گواہ وہاں کے ہزاروں باشندے ہیں جو کہ یہاں دیار غیر میں ہمارے ساتھ رہتے ہیں. ان میں اے این پی کی بھی ایک بڑی کھیپ ہے جو کہ عمران خان کی ناقد مگر کام کی دلدادہ ہے. کیا وہاں کرپٹ لوگ نہیں تھے؟ بلکہ اب بھی ہوں گے. صوبے میں معاملہ کرپشن سے ہٹ کر بھی خطرناک قسم کا تھا مگر ایسے میں تحریک انصاف کی ساٹھ فیصد تبدیلی لانا انتہائی خوش کن امر تھا، اور ہے۔ اب نا انصافی سے یہ رائے دینا کہ “Anp” کے کرپٹوں کو اپنے ساتھ شامل کر کے اپنے ہی نعرے کی مخالفت کی ہے تو کم فہمی ہی کہا جاسکتا اس بات اس کے بنا اگر خیبر پختوں خواہ کے بعض علاقوں کی حالت اور چار حلقوں کو کھولوانے پر دھرنے کا مفصل موازنہ اس پر نقد کیا جاتا تو مقدمہ خاصا مضبوط دکھائی دیتا ہے۔ مگر کسی کی شمولیت پر ایک دم میڈیا ٹرائل کرنا، کاہے کی سیاسی بصیرت ،صحافت،اور دانشمندی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: