پُر اعتماد لڑکی، پرندہ اور جال

0

وہ حیران تھی۔۔۔اور اسے ہونا بھی چاہئے تھا۔۔۔
وہ چند جملے جو بار بار بول رہی تھی وہ اس کی ذہنی کیفیت عیاں کر رہے تھے۔۔
“میرے ساتھ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟
میں تو بڑی پریقین تھی۔۔۔
میں تو بڑی مضبوط تھی۔۔
مجھے تو ہر احساس کا ادراک تھا۔۔۔
میں کوئی ٹین ایج کالج گرل نہیں جسے یوں “بے وقوف” بنادیا جائے۔۔۔
میرے ساتھ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟؟”
وہ سچ بول رہی تھی۔۔۔
لیکن اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ سب سے غیر محفوظ رویہ ہی یہ ہے کہ خود کو نہایت محفوظ سمجھ لیا جائے۔
لیکن میں اسے جانتا تھا وہ اچھی خاصی ذہنی طورپر میچور لڑکی تھی ادب سے لگاو۔۔۔
جذبات و احساسات کا شعور تھا۔۔
اپنی حدود و قیود سے آگاہ تھی۔۔۔ پراعتماد۔
اس کے باوجود فیس بک ان باکس چیٹ میں ایک لڑکے سے ہونے والی گفتگو نے دوست بنایا۔۔
اعتماد بخشا۔۔ پھر یہ تعلق موبائل پر آگیا۔۔۔
سارے جہاں کا درد ہمدردیوں میں سمیٹتے ہوئے وہ فرشتہ صفت انسان “ملاقات” نہ ہونے کی وجہ سے “تو کون اور میں کون” کا نعرہ لگاکر فرار ہوگیا۔
اور انہیں لگا کہ وہ بھی ان لوگوں کی صف میں شامل ہوگئی جن کا عشق ناتمام رہا۔۔۔

میں نے ساری روداد سن کر کہا:
دیکھو بات محبت یا عشق کی ہے ہی نہیں۔۔۔۔
بات اس محبت کے نام پر رچائے جانے والے کھیل کی ہے۔۔۔
جو اکثر شکار گاہوں میں کھیلا جاتا ہے۔۔۔
بات اس اسیری کی ہے جس میں آدمی جانتے بوجھتے پھنس جاتا ہے۔۔
تم نے کسی پرندے کو پھندے میں پھنستے دیکھا ہے؟
شکاری پھندہ لگا کر خاموش بیٹھ جاتا ہے۔۔
کئی پرندے اس پھندے کے آس پاس اترتے ہیں۔۔
کچھ کتراتے ہیں کچھ گریز کرتے ہیں لیکن آخرکار ایک پرندہ اس پھندے کے قریب آجاتا ہے۔۔۔
یہ اس کا تجسس یا بہادری نہیں ہوتی۔۔۔۔
اس میں یہ تخصیص بھی نہیں ہوتی کہ پھنسنے والا زیادہ ذہین یا سیانا پرندہ ہوتا ہے یا بالکل ہی احمق۔۔
پھندے میں وہی پرندہ پھنستا ہے جو تین غلطیاں کرتا ہے
1: وہ پھندے کو بالکل اہمیت نہیں دیتا۔۔
اسے اسکی ناسمجھی کہہ لیں یا اوور کانفیڈنس۔
2: وہ اس کی طرف بڑھنے سے خودکو روکتا نہیں۔۔۔
اسے بہادری کہہ لیں یا بے وقوفی
3: وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس پھندے کا شکار نہیں ہوگا۔۔۔
اسے اس کا یقین کہہ لیں یا بے خبری ?
لیکن ان تین چیزوں سے وہ پھندے کو موقع دیتا ہے
کہ اسے پھانس لیا
اور وہ پھنس جاتا ہے۔
یہی حال تم جیسی لڑکیوں کا بھی ہے۔
تم میں سے اکثر یہ سمجھتی ہیں کہ تمہیں تمہاری حدود کا پتہ ہے۔۔
تمہارے اصول بڑے سخت ہیں۔۔
تمہاری سوچ لبرل ہے۔۔یا تمہاری نیت صاف ہے۔۔
تم مدرسے میں پڑھی ہو یا کو ایجوکیشن میں۔۔۔
جس وقت تم نے مرد کے لگائے پھندے کوایسا کوئی بھی موقع دیا ۔۔تم پھنس جاوگی۔۔
تم حجاب میں ہوگی یا نقاب میں۔۔۔
دوپٹہ میں ہوگی یا جینز میں۔۔۔
تم نے ادب پڑھ رکھا ہوگا یا فلسفہ۔۔
سائنس یا تاریخ۔۔۔
نفسیات کی کسوٹی پر “محبت” کا تجزیہ کرنے ہرقدرت رکھتی ہوگی یا رومانٹک ناولز کی بنیاد پر۔۔۔
محبت کو ایک لطیف احساس سمجھتی ہو یا دماغ کا کیمیکل لوچا۔۔۔
تمہارے سارے اصول تمہاری خود پر لاگو ساری پابندیاں اور تمہیں ایک ضروری جکڑ میں رکھی ہوئی ساری اخلاقی زنجیریں موم کی طرح پگھل جائیں گی۔
کیونکہ ایک مرد جانتا ہے کہ تمہارے جذبات کی وہ کون سی بند کھڑکی ہے جس کی چٹخنی تم نے نہیں لگائی۔۔۔
جہاں سے وہ تمہارے اندر اتر جائے گا۔۔
تم لاکھ چھپاو لیکن وہ تھوڑے سے وقت اور تھوڑی سی گفتگو میں یہ جان لے گا کہ
تمہارے دل کے گرد مضبوط فصیل کا کون سا نرم گوشہ ایسا ہے جہاں سے سیندھ لگا کر وہ تمہارے اندر داخل ہوسکتا ہے
تم لاکھ سمجھتی رہو کہ تمہاری نیت صاف ہے۔۔
یا تم اتنی مضبوط ہو کہ ایک غیر مرد سے ذاتیات پر طویل گفتگو تمہارے ارادے متزلزل نہیں کرسکتی۔
وہ تمہاری ہر بات کو تسلیم کرتے ہوئے تمہیں سراہے گا۔۔ اور تمہیں یہ اعتماد دلائے گا کہ
وہ بھی یہی سوچتا ہوں۔
اس کے بعد وہ تمہیں ایک خاص مقام تک لے آتا ہے
جہاں پینچ کر تمہیں احساس ہوتا ہے کہ اب وہ دوست صرف دوست نہیں رہا۔۔۔
کچھ خاص ہوگیا ہے۔
کیونکہ یہاں تمہارا اس پر اعتماد تمہین تین باتوں کی یقین دہانی کروائے گا۔
ایک۔۔۔۔
تمہیں لگے گا کہ تمہاری ذات کو جسطرح اس نے سمجھا ہے اس طرح کسی اور نے نہیں سمجھا
دوسرا۔۔۔
صرف وہی ہے جو تمہیں اچھا مشورہ۔۔ بہترین تسلی۔۔حوصلہ افزائی اور اعتماد دیتا ہے۔۔
اور اس وقت جب تمہیں اس کی شدید ضرورت ہوتی ہے
اور تیسرا ۔۔۔۔۔
تمہیں لگے گا کہ تم اس کے ساتھ اپنی ذات کی گہرائیوں میں اترے۔۔۔کرب۔۔سچائیاں۔۔اور ایسے راز بلا جھجھک شئیر کرسکتی ہو
جو دنیا میں کسی اور کے ساتھ شئیر نہیں کر سکتی۔


تمہارے یقین کے یہ تین اقدام۔۔۔
اسی پرندے کے تین سٹیپس کی طرح ہیں۔
جو پھندہ دیکھ کر بھی اسے نظر انداز کردیتا ہے۔۔۔
گریز نہیں کرتا۔۔۔
اور موقع دیتا ہے کہ اسے پھانس لیا جائے۔
جیسے ہی تم نے یہ تین سٹپس اٹھائے۔۔۔
تم پھندے میں پھنس جاوگی۔۔
چاہے اس کا احساس تمہیں دیر بعد ہو۔
تم لاکھ چالاک ہوشیار ذہین ہو یا لاکھ محفوظ ہو۔۔
کبھی وہ غلطی مت کرناجو پرندہ کرتا ہے۔
کیونکہ سب سے غیر محفوظ رویہ یہی سمجھنا ہے کہ
“میں محفوظ ہوں”
کیونکہ۔۔۔۔۔
محبت میں پھندے نہیں لگائے جاتے۔۔
گھات لگا کر بیٹھا نہیں جاتا۔۔
جھوٹ موٹ کی ہمدردیاں نہیں بٹوری جاتی۔۔۔
یاد رکھو کہ ایک شکار گاہ میں “محبت” نہیں ہوتی۔۔
صرف شکاری ہوتا ہے اورشکار۔
جس طرح ہر پھندے کا ایک “ڈینجر زون” ہوتا ہے
اسی لئے ہماری ذات کے گرد بھی ہماری حدود کی ایک لکیر ہوتی ہے جہاں سے ڈینجر زون شروع ہوتا ہے۔۔۔
اس لکیر کی حفاظت کرنا پڑتی ہے
تاکہ کوئی اسے کراس نہ کرے۔۔
اور اس بات کی بھی حفاظت کرنا پڑتی ہے کہ ہم خود بھی اسے کراس نہ کریں۔
اور یہ بھی یاد رکھنا کہ ہر مرد شکاری اور ہر عورت شکار نہیں ہوتی۔۔۔
اور نہ ہی میں سارا الزام صرف مرد یا صرف عورت کو دے رہا ہوں۔
کیونکہ اچھے بری خصلتیں ہر جگہ ہوتی ہیں۔
اور نہ ہی میں محبت جیسے خوبصورت اور فطری رشتے کا انکار کر رہا ہوں۔
منٹو نے کہا تھا کہ مرد کے حواس پر عورت نہیں سوار ہوگی تو کیا ہاتھی سوار ہوگا۔
اس نے سچ کہا تھا۔۔
لیکن یہ صرف مرد کی بات نہیں ۔۔۔
مخالف جنس میں کشش انسان کی فطرت میں ہے۔۔۔
یہی فطرت۔۔انسیت۔۔دوستی۔۔محبت تک پہنچتی ہے۔۔لیکن یہ جذبہ اتنا لطیف اور خوبصورت ہے کہ
جب بھی اسے اس کی خوبصورتی سے ہٹ کریا اسے اس کے مقام سے گرا کر اپنایا جائے گا
یہ “شکار اور شکاری” کا کھیل بن جائے گا۔
میں اسی کھیل کی بات کر رہی ہوں
کیونکہ یہاں اکثریت اسی کھیل میں مشغول ہے۔۔۔۔
شکاری گھات میں ہے۔۔۔
پھندے تیار ہیں۔۔۔
لیکن پرندہ وہی پھنسے گا جو پھندے کو اہمیت نہیں دے گا۔
اس میں کوئی تخصیص نہیں کہ وہ بے وقوف ہوگا یا عقلمند۔۔۔۔
کیونکہ کہنے والے تو یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ۔۔۔۔:
وہ پرندے جو نظر رکھتے ہیں
سب سے پہلے اسیر ہوتے ہیں


اس شذرے کو موضوع کی اہمیت کے پیش نظر اسے دانش کے پلیٹ فارم سے بھی شیئر کیا جارہا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: