ثواب کا گناہ (قضیہِ ساحر لودھی) — معلمہ ریاضی

0

فضل صاحب سرکاری ریکارڈ کیپر تھے، ریٹائرمنٹ میں ایک سال باقی تھا۔
بیٹی کی شادی کی عمر تھی تو بیٹے کی پڑھائی مکمل کروانی تھی۔
سرکاری کوارٹر ریٹائرمنٹ کے ساتھ چھین لیا جانا تھا
تنخواہ میں کبھی اتنی بچت ہوئی ہی نہیں کہ اپنا مکان بنوانے یا لینے کا سوچتے
اب ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی رقم سے ایک ہی کام ہو سکتا تھا
بیٹی کی شادی یا پلاٹ کی خریداری۔۔۔
فضل صاحب آج کل اسی ادھیڑ بن میں لگے رہتے
سوچتے کہ اگر دو تین سال کا اکسٹینشن مل جائے تو بیٹا پڑھائی مکمل کر لے تو اسکی ملازمت کا آسرا ہوجائے گا
مگر ان جیسے سر جھکا کر کام کرنے والوں کو کہاں کوئی رعایت ملتی ہے
افسران کی نظروں میں آنا انہوں نے سیکھا ہی نہیں تھا درخواست دی جو مسترد ہوگئی اور اب۔۔۔۔
ـــــــــــــــــــ
دوسرے شہر سے انکا ہم منصب دوست شفاعت ملنے آیا
سالوں بعد فضل صاحب بھی اسے دیکھ کر خوش ہوگئے۔ دل کا درد سنانے کو کوئی تو میسر آیا
دونوں ہم عمر تھے، ایک ساتھ ہی ریٹائر ہونا تھا۔
’اور سنا کب ریٹائر ہو رہا ہے تو؟‘ فضل صاحب نے پہلا سوال ہی اپنا درد کم کرنے کے لئے کیا
حقیقت یہی ہے کہ ہم دوسروں کی مصیبت دیکھ کر اپنے درد کو ’بہلاتے‘ ہیں
مگر شفاعت کے جواب نے انکے سر پہ بم پھاڑ دیا، ’ابھی چار سال باقی ہیں‘
’اوئے! کیسے باقی ہیں؟ تُو تو میرا جوڑی دار ہے۔ تیری میری ریٹائرمنٹ اکھٹی ہونی ہے” فضل نے بھڑک کے پوچھا
’اوئے فضلو! ہونی تو ساتھ تھی پر کیا ہے کہ میں نے درخواست دیکر بڑھوتی کرا لی ہے‘ بے پرواہی سے جواب دیا گیا
’ہیں!‘ فضل کا دم اٹکنے لگا ’اوئے! کیسے ہوگئی؟ میری تو نہیں ہوئی‘
شفاعت ٹھٹھہ مار کر ہنسا، ’اوئے پاگلا! سادی درخواست سےتھوڑی نا ہوتی ہے، بندے کو کچھ ہاتھ پائوں بھی مارنے پڑتے ہیں‘
فضل صاحب الجھ گئے، ’مطلب؟‘
’میرے اسٹور میں آگ لگ گئی تھی، کچھ ریکارڈ جل گیا مگر ذیادہ تر میں نے ’جان پہ کھیل کر‘ بچا لیا، رپورٹ میں میری بہادری اور فرض شناسی کی تعریف ہوئی اور مل گئی بڑھوتی‘ شفاعت نے تفصیل بتائی
فضل کچھ دیر شفاعت کو عجیب سی نظروں سے دیکھتا رہا پھر تصدیق چاہی، ’وہ آگ تو نے خود لگائی تھی نا!‘
شفاعت نے ایک بار پھر جناتی قہقہہ لگایا، ’اوئے تُو تو بڑا سیانا ہوگیا ہے‘
’مگر یار! آگ لگنے کے بعد بجھانا ذیادہ فرض شناسی ہے یا پوری ملازمت میں کوئی حادثہ نا ہونے دینا؟ میں نے آج تک ایک کاغذ ادِھر سے اُدھر نہیں ہونے دیا۔ یہ وجہ کیوں نہیں بنتی میری ملازمت کی بڑھوتی کی؟‘ فضل صاحب نے دکھ بھرے لہجے میں پوچھا
’اوئے ذیادہ فلسفہ نا پھینک، طریقہ بتا دیا ہے، کر سکتا ہے تو کر لے، ورنہ ریٹائر ہوکربے گھر ہوجا‘ شفاعت نے جھنجلا کر بھیانک منظر کشی کی
ــــــــــــــــــ
بوڑھے فضل نے دوست کی شیطانی باتوں میں آکر اپنے ریکارڈ روم میں آگ لگادی مگر عین وقت پہ ریکارڈ روم کے چوکیدار نے اسے دیکھ لیا۔ اسکے خلاف تادیبی کاروائی میں اسے سال پہلے جبری ریٹائر کر دیا گیا
سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے جرم میں ملنے والا فنڈ بھی نصف کر دیا گیا
فضل کی زندگی میں بس ایک جملہ رہ گیا۔۔۔ ’کاش میں ایسا نا کرتا۔۔۔۔۔۔‘
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پچھلے کئی سالوں سے رمضان ٹرانسمیشن میں ہونے والی بیہودگیاں، سنجیدہ طبقات کی جانب سے حدفِ ملامت ہیں مگر ان میں شرکت کرنے کے خواہشمندوں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں آرہی ہے
ریٹنگ کے نشے میں کوئی اینکر بیہودگی کے ریکارڈ توڑنے میں پیچھے نہیں۔
مگر نا جانے کیوں ہم کسی ایک کو نشانے پہ رکھ لیں تو دوسروں کی طرف سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں
گویا ہم نے بیہودگیوں کو بھی لیول پہ سیٹ کرلیا ہے
اسکا لیول ذیادہ ہے، اسکا کم ہے۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــ
پچھلے دنوں ساحر لودھی صاحب کی ایک معیوب حرکت پہ سوشل میڈیا پہ بے تحاشہ غصہ دیکھنے میں آیا
اتنا غصہ اتنا غصہ ۔۔۔ کہ سعودیہ کے رہائشی ایک صاحب نے اپنے پروفائل پہ اپنے موبائل نمبر اور ای میل کے ساتھ بیانیہ دیا کہ ’جو بہنیں ساحر لودھی کے شو میں جاتی ہیں ان کے لیے میرا یہ اعلان ہے کہ کوئی بھی بہن اگر موقعے کا فائدہ اٹھا کر ساحر لودھی کو جوتا مارے اس کے لیے میں عمرے کی ٹکٹ کا اعلان کرتا ہوں‘
اور پھر دھڑا دھڑ نام نہاد اسلام کے ٹھیکےداروں نے بڑے فخر سےاس پیغام کو پھیلانا شروع کردیا۔ کچھ مرد حضرات پوچھنے لگے اگر ہم ماردیں تو۔۔۔۔۔
ساتھ میں واہ واہ کرتی پوسٹس کی بہار بھی آگئی ہے۔۔۔ ’کیا بات ہے! بڑا اچھا پیکج دیا ہے اس۔۔۔۔ کے خلاف‘
ــــــــــــــــــــــــــــ
واللہ! سر پیٹنے کو دل چاہ رہا ہے قوم کی ذہنی پسماندگی دیکھ کر۔۔۔
ہم دریا دل اسلام پسند موصوف کو یاد کرانا چاہتے ہیں کہ ۔۔۔
عامر لیاقت نے خواتین کے سامنے کھڑے ہوکر ایک نعت خواں کو فحش گالی دی تھی
حمزہ علی عباسی نے قادیانیوں کے مصدقہ کفر پہ بلا وجہ کا سوال اٹھایا تھا اور ہٹ دھرمی سے معافی بھی نہیں مانگی تھی
آپ نے اس وقت کوئی پیکج نہیں دیا؟
بالفرض کوئی لڑکی نادانی میں آپ کی باتوں میں آکر پروگرام میں جا کرجوتا مار دیتی ہے تو جانتے ہیں کیا ہوگا؟
پورے سوشل، ایکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پہ اس منظر کی تصاویراور ویڈیوز لمحوں میں وائرل ہونگی
حمایت و مخالفت کا طوفان آجائے گا۔ اس لڑکی کی تصاویر کی فوٹوشاپس کر کے لطیفے بنائیں جائے گے
ذو معنی فقرے کسے جائیں گے
اور اگر کوئی سمجھائے گا تو دائیں بائیں کی تخصیص کے بغیر سارے مرد مل کر بولیں گے، ’گئی کیوں تھی ایسے گھٹیا پروگرام میں‘
فائدہ کس کا ہوگا؟صرف اس چینل کا جس پہ براہِ راست یہ بیہودگی دکھائی جائے گی۔
جی ہاں! راتوں رات اس چینل کی ریٹنگ زمین سے آسمان پہ پہنچ جائے گی بلکہ ہمارا تو ماننا ہے کہ موصوف کے اعلان کے بعد چینل نے ’کسی نیک‘ لڑکی کو اس ’مقدس‘ کام کے لئے ہائر بھی کر لیا ہوگا
اور اگر کسی عام لڑکی نے یہ حرکت کی تو اپنی بدنامی کے بعد اسکی زندگی میں فقط ایک جملہ بچے گا۔۔۔۔ ’کاش میں ایسا نا کرتی۔۔۔۔‘
ــــــــــــــــــــــ
جناب! چینل پہ جاکر جوتا مارنے والی انعام کی حقدار نہیں بلکہ وہ مائیں بہنیں ہیں جو اس شیطانی نشریات کے وقت تلاوت و تراویح میں مصروف ہوتی ہیں۔ دینا ہے تو کسی ایسی لڑکی کی انعام دیجیے مگر اس میں وہ لائکس اور کمنٹس نہیں ملیں گے جو ابھی آپ کے ’افلاطونی اعلان‘ نے سمیٹے ہیں
بے شک ہیرے کو ہیرا اور لوہے کو لوہا کاٹتا ہے مگر یاد رکھیں کاٹ کر ایک کو دو بھی بنا دیتا ہے
آپ کمرشل ازم کا مقابلہ کمرشل ازم سے کریں گے تو حاصل جمع ’دگنا‘ ہوگا ختم نہیں
آگ لگا کر ریکارڈ بچانے والوں کو شاباش دینا بند کیجئے آپ کے اس اعلان سے تو نا جانے والے بھی اپنی دانست میں ’ثواب‘ کمانے پہنچ جائیں گے
انکی تلاوت و تراویح کا ضیاع کس کے کھاتے لکھا جائے گا؟
ــــــــــــــــــــــ
معلمہ ریاضی، لبنیٰ سعدیہ عتیق

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: