عمران اور الیکٹیبلز Electables: لالہ صحرائی

1
  • 100
    Shares

دیکھیں جی منہ چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں، سیدھی، صاف اور دوٹوک بات کرتے ہیں، سیدھی اور صاف ستھری بات یہ ہے کہ عمران خان نے تبدیلی کا نعرہ لگایا تھا اور اس سلسلے میں اس نے ابتداء میں صاف ستھرے اور نئے چہروں کے علاوہ نوجوانوں کو اپنی طاقت اور قوت بازو بنایا۔
پھر سب سے پہلے اس نے انتخابی دھاندلی اور کرپشن پر ہاتھ ڈالا اور ثابت کیا کہ وہ اپنی بات میں نہ صرف سچا تھا بلکہ اس کی بدولت ملکی تاریخ میں کرپشن کی اس نہج پر نقاب کشائی اور ذلت افزائی نہ کبھی ہوئی اور نہ کبھی ہو گی یہاں تک کے وقت کے بیشتر فرعون نما لیڈروں اور کرپشن کے بے تاج بادشاہوں کو نہ صرف اپنی بقا کے لالے پڑے ہوئے ہیں بلکہ ہر مرحلے پر وہ جگہ جگہ سے رسوائی بھی سمیٹ رہے ہیں۔
اس پراجیکٹ کیلئے عمران خان نے دھرنے دیے، لوگوں کو نچایا، بدتمیز انداز بیان اپنایا، اشرافیہ سے بدزبانی کی، لوگوں کو اوئے اوئے کہہ کے مخاطب ہوا اور جو بھی الزام آپ لگانا چاہیں ان الزامات میں سچائی ہے یا نہیں اس سے قطع نظر اس نے اپنا ٹارگیٹ سوفیصد حاصل کرکے دکھایا ہے، ملکی عوام کا استحصال کرنے والوں اور حرام خوروں کو نہ صرف تگنی کا ناچ نچایا بلکہ ان کا جینا بھی حرام کرکے رکھ دیا ہے۔
عمران خان نے سب سے پہلے مشکلات، استحصال اور جبر کی ماری ہوئی سادہ لوح عوام کیساتھ مل کر تبدیلی کا خواب دیکھا تھا اس نیت کیساتھ کہ اس کے نئے چہروں کو عوام بھرپور مینڈیٹ سے نوازے گی مگر ایسا نہ ہو سکا کیونکہ موجودہ تھانہ کلچر، وڈیرہ شاہی اور مخصوص سماجی سیٹ۔اپ کے باعث عوام کی بھاری اکثریت چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی کرپٹ عناصر اور اسٹیٹس۔کو کے ساتھ ہی کھڑی رہی ہے اس کی ایک واضع تصویر سوشل میڈیا پر بھی نظر آتی ہے اور یہ سماجی سیٹ۔اپ آئندہ الیکشن میں بھی جوں کا توں رہے گا۔
ان حالات میں کہ عوام جب تحریک انصاف کے نئے لوگوں کو مینڈیٹ دینے کیلئے تیار نہیں الیکٹیبلز کو تحریک انصاف میں شامل کرنا پارٹی کی بجائے اپنی کاز کی بقا کیلئے نہایت ضروری تھا اور جس تعداد میں الیکٹیبلز تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں اسے دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آئیندہ کے الیکشنز میں تحریک انصاف ایک بڑا مینڈیٹ بھی ضرور حاصل کر لے گی۔
اس دور میں باری لگانے والے ٹو پارٹی سسٹم کے درمیان ایک تیسری پارٹی یا چیلنجر قوت کا ہونا نہ صرف ناگزیر ہے بلکہ وقت کی اہم ترین ضرورت بھی ہے اور یہ ضرورت صرف تحریک انصاف یا جماعت اسلامی ہی پوری کر سکتی تھی مگر جماعت اپنے مخصوص اسٹائل کی وجہ سے عوام سے جس قدر دور ہے اس سے یہ توقع رکھنا عبث ہے لیکن تحریک انصاف یہ کمی بہرحال پوری کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
اگلے الیکشن میں تحریک انصاف اگر حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو ان الیکٹیبلز یا لوٹوں کی موجودگی کے باوجود گزشتہ دو جمہوریتوں کے مقابلے میں ایک بہتر گورنمنٹ عوام کو میسر آجائے گی، رہا یہ خدشہ کہ تحریک انصاف میں شامل ہونے والے کرپٹ عناصر وہی گل کھلائیں گے تو پہلی بات یہ کہ اسٹیٹس۔کو کے حواریوں اور اپنے تقدس کے زعم میں عوام میں اپنی جڑیں نہ بنا سکنے والوں کو یہ حق ہی نہیں پہنچتا کہ وہ دو جمہوریتوں کے کرپٹ عناصر کی طرفداری کرتے ہوئے دس سال بِتانے کے بعد یہ سوال اٹھائیں، دوسری بات یہ کہ سردست تو تحریک انصاف عوام کو ایک بہتر حکومت اور گڈ گرونینس فراہم کرنے کا مضبوط ارادہ رکھتی ہے اس ارادے اور وعدے پر اعتبار کرنا چاہیئے، اگر وہ اپنے وعدے پر قائم رہی تو ٹھیک ہے لیکن اگر اس نے بھی حکومت میں آکر موجودہ حکمرانوں جیسا طرزعمل اختیار کیا تو یقیناً اسے بھی سخت تنقید کا سامنا کرنا ہوگا اور مخالف عوام ان کے افعالِ فاسدہ کو بھی کبھی معاف نہیں کرے گی لیکن یہ سیٹ۔اپ پچھلی دو جمہوریتوں کے مقابلے میں اگر آدھے مسائل بھی حل کر دے گی تو سمجھیں سودا برا نہیں۔
الیکٹیبلز اگر تحریک انصاف میں شامل نہ بھی ہوں تو بھی وہ جیت کر اسمبلی میں ضرور آئیں گے، اگر وہ پرانی پارٹیوں کے ایجنڈے پر جیت کے آئیں گے تو وہی کچھ کریں گے جو ماضی میں کرتے رہے ہیں لیکن تحریک انصاف میں آکر اگر وہ آدھی کرپشن اور آدھی گوورنینس پہ بھی کام کرتے ہیں تو بھی زیرو گورنینس اور پوری کرپشن کے مقابلے میں سودا برا نہیں۔
رہا سوال تنقید نگاری گا تو جب تحریک انصاف کی حکومت کرپشن کرے گی تب آپ ضرور تنقید کیجئے گا لیکن یہ کیا تُک بنتی ہے کہ آپ کی خواہش کے خلاف کوئی پارٹی یا کوئی سیٹ۔اپ ہی نہ بنے اور اگر بن رہا ہو تو آپ اسے جوتا لگانا ضروری خیال کریں۔
تحریک انصاف کو اس وقت الیکٹیبلز کے ساتھ ساتھ اپنے عوامی کارکنوں کی مربوط سیاسی تربیت کا بھی انتظام کرنا چاہئے تاکہ ایک طرف پارٹی میں نظم و ضبط کی صورتحال بہتر ہو تو دوسری طرف آنے والے سالوں میں اسے نئی قیادت اپنے ہی تربیت یافتہ کارکنوں میں سے مہیا ہو سکے، یہ تربیت دو اسٹیجز پر مشتمل ہونی چاہئے پہلی سطح میں اپنے علاقائی یونٹوں کی یونین کونسل، ضلع کونسل، صوبائی اور قومی اسمبلی کے حلقوں میں کارکنوں کی اخلاقی و انتظامی تربیتی نشستیں ہونی چاہئیں اور دوسری سطح پر ایک ایسا تربیتی نظام وضع کرنا چاہیئے جس میں مخصوص لوگوں کو تربیت دے کر قیادت کرنے والی ٹیمیں تیار کرنی چاہئیں جو بوقت ضرورت قیادت کی کمی کو پورا کر سکیں، ان کارکنوں کو صف اول کے سیاستدانوں کا اسسٹنٹ بھی بنایا جا سکتا ہے تاکہ وہ ضروری معاملات کو قریب سے دیکھ سکیں اور جب کبھی انہیں فرنٹ پہ آنا پڑے تو کوئی بات، چیز، طریقہ یا انتظامی اسٹرکچر ان کیلئے اجنبی نہ ہو۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. Pingback: تبدیلی آ نہیں گئی تبدیلی آ رہی ہے ۔۔۔۔۔ عماد بزدار – ammad buzdar

Leave A Reply

%d bloggers like this: