بائیکاٹ مگر کس لیے: عتیق بیگ

0

احتجاج کرنے کا مقصد فقط اتنا ہوتا ھے کہ آپ کسی کو احساس دلوانے کی کوشش کرتے ہیں کہ حضور والا آپ کے فلاں حکم سے ہماری ” یہ ” بنیادی حقوق متاثر ہو رھے ھیں ۔ لہذا ان احکام کو واپس لیا جائے یا پھر ان میں ترمیم کی جائے ۔ یا آپ اپنا کوئی بنیادی مطالبہ منوانے کے لئے احتجاج کرتے ہیں ۔ مہذب معاشروں میں اگر آپ کی بات میں سچ ہو تو فورا نہ صرف آپ کی بات سنی جاتی ھے بلکہ مناسب احکامات صادر فرما کر آپ کو درپیش مشکلات کا قلعہ بھی قمع کر دیا جاتا ھے ۔ احتجاج کا مقصد کسی کی جان لینا بالکل بھی نہیں ہوتا ۔ لیکن شرط یہ ہے کہ احتجاج کرنے والوں میں مفاد پرست ٹولہ شامل نہ ھو۔ ورنہ کئی پاکستانی احتجاج بے شمار گھروں کے چراغ بجھا گئے ۔ کئی سیاسی احتجاج اس کی مثالوں کے طور پر سامنے رکھے جا سکتے ہیں ۔ لیکن پاکستانی عوام یا ادارے کریں بھی تو کیا کہ مہذب احتجاج ہمارے صاحب اقتدار و اختیار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگنے دیتے ۔  حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ ارباب اختیار تب تک بات ہی نہیں سنتے جب تک کوئی بڑا نقصان نہ ہو جائے یا احتجاج کرنے والوں میں سے کسی کی جان نہ چلی جائے ۔ ورنہ نعلین پاک  کی چوری کے خلاف احتجاج کرنے والا وہ بوڑھا ھم میں سے بہت سے لوگوں نے دیکھ رکھا ھو گا کہ جو چوری کے دن سے لے کر اب تک لاہور کی ایک مصروف شاہراہ پر جھونپڑی ڈالے خاموش اور مہذب احتجاج جاری رکھے ہوئے ہے ۔ نکلا کوئی نتیجہ ؟البتہ بائیکاٹ کرنے کا مقصد کسی کا کام مکمل طور پر روکنا ھوتا ھے ۔ کسی کا معاشی قتل کرنا ھوتا ھے ۔ یا کسی کو بتلانا مقصود ھوتا ھے کہ اوقات میں آو ورنہ شمار میں ہی نہ رھو گے ۔ یہ دباؤ ڈالنے کی ہی مگر سنگین صورت ہوتی ہے.


فروٹ بائیکاٹ مہم کی بجائے اگر فروٹ مافیا کے خلاف احتجاج کیا جاتا تو یہ ناچیز کبھی بھی اس احتجاج کا حصہ نہ بنتا۔ کیونکہ احتجاج صرف احساس دلوانا ھے اور احساس کا مادہ جس انسان میں ہو وہ انسان کبھی کسی مافیا کا حصہ ہی نہیں بنتا۔


کئی بار سنا ھے کہ چرچل کے دور حکومت میں انڈوں کی قیمتیں بڑھنے پر گوروں نے مشترکہ طور پر انڈے خریدنے کا “بائیکاٹ” کیا تھا نتیجے میں فقط تیسرے دن ہی پولٹری والے اپنی اوقات میں آ گئے اور  انڈوں کی بڑھی ہوئی قیمت واپس لے لی گئی ۔ابھی تقریبا ایک سال پہلے کی بات ھے کہ برطانیہ میں لوکل بسوں کے کرائے میں اضافہ کیا گیا تو ملکہء برطانیہ نے “احتجاج” کے طور پر ان لوکل بسوں میں سفر کرنا شروع کر دیا ۔ تیسرے سفر کے ختم ہونے سے پہلے بسوں کے کرایوں میں کمی کر دی گئی ۔ برطانوی ڈاکٹرز کی تنخواہوں میں کمی کی گئی تو ڈاکٹرز نے ڈاکیوں سے یہ گزارش کی کہ ہمارا پیشہ مسیحائی ہے ہمارا احتجاج کرنا کسی بھی طرح انسانیت کے فائدے میں نہیں ۔ اس لئے ہماری جگہ پر آپ لوگ احتجاج کریں ۔ ڈاکیوں نے یہ بات مانی ، اپنے مسیحاؤں کے لئے احتجاج شروع کیا اور نتیجے میں حکومت کو فی الفور ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں اضافہ کرنا پڑا۔

اتنی لمبی تمہید فقط اس لئے باندھی ھے فروٹ بائیکاٹ مہم کی بجائے اگر فروٹ مافیا کے خلاف احتجاج کیا جاتا تو یہ ناچیز کبھی بھی اس احتجاج کا حصہ نہ بنتا۔ کیونکہ احتجاج صرف احساس دلوانا ھے اور احساس کا مادہ جس انسان میں ہو وہ انسان کبھی کسی مافیا کا حصہ ہی نہیں بنتا۔ لہذا ان لوگوں کی گردن پر انگوٹھا رکھنا ہی ان کا واحد حل ھے ۔ جو احتجاج سے نہیں بلکہ بائیکاٹ سے ممکن ھے ۔ اس بائیکاٹ کے تین فائدے ہوئے ایک تو بائیکاٹ کے حق اور مخالفت میں لوگوں کی آراء بڑی کھل کر سامنے آئیں جس کا فائدہ یہ ہوا کہ احتجاج کی یہ صدا ھر سوشل میڈیا استمعال کرنے والے تک پہنچی ۔ اور سوشل میڈیا سے میڈیا تک جنہوں نے اسے قومی سطح پر زبان زد عام کر دیا۔ اس سے لوگوں کو اس احتجاج کے حق میں یا مخالفت میں فیصلہ کرنے میں آسانی پیدا ہوئی جو بلاشبہ ایک مثبت اجتماعی معاشرتی عمل بنا ۔ دوسرا فائدہ یقیننا قیمتوں کی کمی کی صورت میں آیا ۔ گو عارضی ثابت ہوا ( کیونکہ فروٹ کی قیمتیں پھر سے آسمان کو چھونے لگی ہیں ) تیسرا فائدہ یہ ہوا کہ اس بائیکاٹ نے اجتماعی طور پر جو تاثر لوگوں پر چھوڑا اس سے بہت سارے لوگوں کو حوصلہ ملا ہے کہ اب بھی مافیاز کے خلاف تھانے کچہریوں میں دھکے کھائے بنا نہ صرف آواز اٹھائی جا سکتی ھے بلکہ ان کو ٹھیک ٹھاک زک بھی پہنچائی جا سکتی ھے ۔ اس لئے لوگوں نے ملک میں موجود مزید مافیاز کے خلاف اس قسم کی مہم چلانے کا عزم باندھ لیا ھے جو کہ خوش آئند بات ضرور ھے لیکن احتیاط لازم ہے. اس لئے ایک گزارش کرنا چاہوں گا کہ کسی بھی مافیا کے خلاف کوئی بھی مہم شروع کرنے یا اس کا حصہ بننے سے قبل اس کے اجتماعی اثرات پر اچھی طرح سے غور و خوض ضرور کیجئے گا کہیں یہ نہ ہو کہ اجتماعی احتجاج یا بائیکاٹ فائدے کی بجائے الٹا کسی نقصان کا باعث ہی  بن جائے ۔ 

جیسا کہ  موبائل کمپنیوں کے خلاف احتجاج کا معاملہ رہاتھا۔ میری معلومات کے مطابقدنیا کے کسی اور ملک میں شائد ہی موبائل کا استمعال اتنا سستا ہو، جتنا پاکستان میں ھے ۔ موبائل کالز کے سستا ہونے کے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لئے ہماری پارلیمنٹ میں باقاعدہ ایک بل بھی پاس ہو چکا ھے جس میں نائٹ پیکچز کو ختم کرنے کا مطالبہ انتہائی زور و شور سے کیا گیا تھا ۔ کہ نئی نسل اس سستی سہولت سے فائدہ لینے کے چکر میں ساری رات آرام کرنے کو حرام سمجھنے لگی ھے ۔ البتہ ٹیکسوں کی ڈبل کٹوتی کے خلاف مہم ضرور چلائی جانی چاہیئے.آخر میں عرض ھے کہ کوئی مجھے سمجھائے گا کہ گستاخانہ خاکوں کے خلاف جب احتجاج اپنے زور و شور پر تھا تب یہودی پراڈکٹس کا بائیکاٹ کرنے کو بارہا دفعہ کہا گیا لیکن بائیکاٹ تو دور کی بات اس طرح پر زور کمیئن بھی نہ چل پائی جیسا اب فروٹ کی قیمتوں کے خلاف اس قدر کامیاب تحریک ہوسکی. آخر اس فروٹ بائیکاٹ کے پیچھے کون سے محرکات تھے جو کامیابی سے ہمکنار ہوئے ۔ کہیں ہمارا ایمان ہمارا پیٹ تو نہیں ؟؟؟

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: