پاکستان، مزدور اور لیبر منسٹری —- مستقبل کے فیصلہ ساز

0

ایک انجینئر کا جو اداس پنچھی بنا میرے ساتھ اپنی گاڑی دھلواتے ہوئے ایک ہزار ملازموں (زیادہ ترانجینئروں) کی بیروزگاری کا قصہ سنانے لگا۔ یہ انجینئر ایک ٹیلی کام کمپنی میں ملازم تھے۔ اس سے قبل دو سال میں اسی سیکٹر میں سینکڑوں انجینئر بے روزگار ہوئے۔ کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ کوئی اتھارٹی متحرک نہیںہویٔ۔ کسی عدالت نے سؤوموٹو ایکشن نہیں لیا۔
اسی طرح ریل کی سروس پچھلے تیس سال کے اندر زبوں حال ہوکر تباہ و برباد ہوگئی۔ لیکن ریاست عالیہ یا سرکارِ عظمیٰ پر غشی طاری نہیں ہوئی۔ فقط وزراء کے ہٹانے پر اخباری تبصرے ہوئے اور پھر سب خاموش ہوگئے۔ راوی نے بعد ازاں ملک میں چین ہی چین لکھا (یہ چین بغیر زیر کے تھا۔ مگر بعد ازاں ملک میں زیر والا چین بھی آہی گیا)۔
پاکستان نے اداروں کی بھرمار بھی بہت دیکھی۔ بھٹو صاحب نے مزدوروں کو آسمان پر پہنچایا اور باقی تمام اداروں کو زمین پر پٹخ ڈالا۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اسکا سرکاری پالیسی سے کوئی تعلق تھا۔ ہرگز نہیں۔ پاکستان کی سرکاری پالیسی اس وقت کے حکمرانوں کے گھر کی لونڈی تھی۔ آجکل ایسی بری صورتحال نہیں۔ اس کے باوجود بھٹو صاحب اپنے دوستوں اور اہم سرکاری افسروں سے رائے لیتے تھے۔ جن دنوں سوشلزم کا دنیا میں عروج تھا تو پاکستان میں بھی تھا۔ پاکستانی حد درجہ معاملہ فہم واقع ہوئے ہیں۔ ایسے ہی جس دور میں دنیا بھر میں انسانی اور مزدوروں کے حقوق کی کتھا عام تھی، تو اس دور میں پاکستان میں چہار جانب اسی کی اہمیت پر کام ہورہا تھا۔ مشاعرے، تقاریر، پہیہ جام ہڑتالیں، نعرے بازی اور بہت کچھ۔ بھٹو صاحب نے پورے ملک کی سیاست کو اسی ایک نقطے کے گرد گھما دیا۔ آجکل ہمارے دانشور خواتین کے حقوق کیلئے ایسی ہی ایک ملک گیر مہم کی تگ و دو میں مشغول ہیں۔
لیکن سمجھنے کی اہم بات یہ ہے کہ بعد ازاں پاکستانیوں نے اس تمام ٹرینڈ کو بھٹو صاحب سمیت رخصت کردیا۔ دنیا میں سوویت یونین، سوشلزم اور انکے حمایتیبھی اس سے پہلے یا کچھ بعد دادِ شجاعت دئیے بغیر رخصت ہوئے۔ پاکستانیوں نے ایک بار پھر خود کو موقع شناس ثابت کیا اور کہیں بھی کوئی سوویت یونین کا حامی سامنے نہیں آیا۔ بی بی بے نظیر سامنے آئیں لیکن وہ خواتین کے حقوق پر کام زیادہ کرتی تھیں۔ آکسفورڈئین لبرلزم نے مزدور کے حقوق پر زیادہ سبق نہیں سکھایا تھا۔ اس لئے مزدور طاق نسیاںمیں رکھیگئے۔ زیادہ تر مزدور لیڈروں کو چند نوکریاں دیکر اسلام آباد سے رخصت کیا گیا۔باقی کو اچھے ریسٹ ہاؤس میں اچھا کھلا پلا کر خوش کردیا گیا۔ مروت پسند پاکستانی ہمدردی اور خیرخواہی کی موت مارے گئے۔
چینی اس کے بالکل برعکس قوم ثابت ہوئے۔ مزدور سے انہوں نے کام لیا۔ کیونکہ مزدور کا اصل کام ہی مزدوری ہے۔ مزدور وہ ہے کہ جسے اجرت ملے یا نہ ملے، وہ کام ضرور کریگا۔ ایسے ہی چینی اب تک مزدور سے کام لے رہے ہیں۔ تمام دنیا کہتی ہے کہ چین میں صحت کی سہولیات نہیں دی جاتیں۔ آرام کا موقع نہیں دیا جاتا۔ ماحول اچھا نہیں۔ پنشن اور مراعات کم ہیں۔ لیکن مزدور کو کرنے کا کام ضرور ملتا ہے۔ یہی بات چین کی کمیونسٹ پارٹی نے یقینی بنائی کہ مزدور کو کام ملتا رہے۔ بس اس سے انقلاب نمودار ہؤا۔ آج چین کا معاشی حجم اور معاشی طاقت امریکہ سے زیادہ ہے۔ یہ تمام مزدور کی عظمت کی بناء پر ہے۔ یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ مزدور کو مزدوری نہ ملے تو وہ کیا کرے گا، اور ملک میں امن کی کیا صورت ہو گی لیکن چین میں ایسا نہیں ہؤا۔
ہمیں اپنے یہاں اپنے عوام کو کام پر لگانا ہے۔ چین کی آبادی 1953 میں اٹھاون کروڑ تھی۔ یوں سمجھیں کہ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کی آج کی آبادی کے برابر۔ آپ آدھے چین کی آبادی سے کام لینا چاہیں تو بھی آپ کو آج اتنی ہی تگ و دو کرنا ہوگی جس قدر وہاں کے لوگوں نے کی۔ ایوب خان نے پرائیویٹائزیشن کی، بھٹو صاحب نے اسے رد کردیا، ضیاء الحق صاحب نے واپس وہی کیا۔ انیس سو اٹھاسی میں ہم وہیں کھڑے تھے جہاں انیس سو ستاون میں تھے، بلکہ مشرقی بنگال کے واقعے کے بعد اس مقام سے بھی نیچے تھے۔ اس لئے ہماری حقیقت ہمیں خود بنانا ہے۔ ہمیں دنیا بھر کی پالیسی سن کر اور نعرے سمجھ کر بھی اپنی ہی پالیسی اور اپنے ہی مقام سے آگے بڑھنا ہے۔ دنیا خلائی جہاز میں بیٹھ کر آسمان پر جاپہنچے تو بھی ہمیں اپنے ہی سائیکل پر موٹر فٹ کرنا سیکھنا پڑیگی۔ اس کیلئے ہمیں مزدور کی ضرورت پڑیگی بلکہ خود ہی مزدور بننا ہوگا۔ اس کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں۔
پہلا مسئلہ یہ ہے کہ دنیا میں نالائق قومیں زندہ نہیں رہ سکتیں۔ جاہل لوگ تعلیم یافتہ نہیں کہلا سکتے۔ بیکار لوگ عزت نہیں پاسکتے۔ اندھوں کو راہبر نہیں بنایا جاسکتا۔ درشت مزاج لوگ مینیجر نہیں بن سکتے۔ اور مذہب سے دور رہنے والے سکون و اطمینان نہیں پاسکتے۔ ہمیںکام بھی کرکے دکھانا ہے، راستہ دکھانے کیلئے خود کو بصارت و بصیرت افروز ثابت کرنا ہے، تعلیم حاصل کرکے دوسروں کو تعلیم دینا ہے (دین اور دنیا دونوں کی)۔ ساتھ میں نرم مزاجی اور مسلم روایات کاپابند بھی بننا ہے۔ اس کے بغیر ہم کہیں کے بھی نہیں۔ اگر ہم نے کسی طرح سے خود کو کام پر نہیں لگایا تو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ہمیں کوئی بھی مزدور رکھ کر مینیجر کی تنخواہ نہیں دیگا۔ پاکستان میں سکلڈ (مہارتوں کے حامل) مزدور بہت کم ہیں۔ اس لئے ہمیں انہی سے کام لینا ہے۔ یہی لوگ اپنی مہارت کو بڑھائیں گے۔ یہ خود یا انکے بچے پڑھیں گے اور پھر آگے بڑھکر کام کریں گے۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اجتماعی طور پر مزدور کی مزدوری کو تحفظ کئے بغیر مزدور اپنے آپ کو کام پر مصروف نہیں رکھ سکتا۔ ہمیں یہ حساب کرنا ہوگا کہ کتنے مزدور روزانہ کام کرتے ہیں۔ چاہے وہ بڑا مزدور ہو (یونیورسٹی میں کام کرے) یا چھوٹا مزدور ہو کہ اپنے کھیت میں۔ وہ مزدور شمار کیا جائے اور اس سے کام لینے کی کوشش کی جائے۔ اس لئے دنیا بھر میں آج بھی معاشی پالیسی میں مزدور کی مزدوری اور قیمتوں کی مہنگائی کی اہمیت اپنی جگہ موجود ہے۔ کوئی ایک بھی پالیسی ان دو کے بغیر نہیں بن سکتی۔ مزدور کام کریگا تو باقی تمام کام ہوتے رہیں گے۔ مزدور سے کام لینے کی کوشش کی جائے۔مزدور کو کام سے نکالنے والا، اس کو کام پر تنگ کرنے والا، اس کے حقوق دبانے والا، یہ تمام ہمارے لئے بھی مسکل کا باعث ہوں۔ ایسے لوگوں کو سمجھانے اور اصلاح کرنے یا ان سے جان چھڑانے کی کوشش کی جائے۔ مزدور کو اہمیت دیتے ہوئے اس کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس کے سو کوئی چارہ کار نہیں۔
آج جب ٹیلی کام سیکٹر نے انجینئر کو نکال دیا تو کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ لیبر منسٹری کے پاس کوئی بھی یادداشت موجود نہیں۔ اجتماعی ڈیٹا بینک نہیں جس میں پتہ لگ سکے کہ کتنے مزدور، کتنے انجینئر اور کتنے مینیجر کام پر تھے اور اگلے دن ان میں سے کتنے فارغ ہوگئے۔ کیوں فارغ ہوئے اور ان کی مزدوری کیلئے کیا اجتماعی تگ و دو کی گئی۔ کونسا نیا قانون پاس کیا گیا۔ کسی کمپنی نے انہیں فارغ کیا تواس سے قبل حکومت نے اپنی کسی پالیسی میں تبدیلی کے ذریعے انہیں واپس رکھنے کی کوشش کی؟ اگر انجینئر باہر جاسکتے ہیں تو انہیں باہر بھجوانے کا کیا طریقہ کار اختیار کیا گیا۔ کیا کمپنی کو کوئی خصوصی مراعات دی گئیں؟ ٹیکس چھوٹ یا اضافی کاروباری مواقع دئیے گئے؟بجائے اس کے کہ ہمارے انجینئر باہر جاتے، وہ یہاں بھی نوکری سے گئے۔ شروع میں کمپنی انہیں اپنا ملازم رکھتی تھی۔ پھر نوکری کیلئے کسی دوسری کمپنی کو ٹھیکا دیا گیا۔ وہ ٹیلی کام کمپنی کے ملازم ہونے کی بجائے بس عام سے ملازم ہوگئے۔ بعد ازاں وہ اس ملازمت سے بھی گئے۔ بجائے اس کے کہ ہمارے پاکستانی ٹیلی کام کے شعبے میں ایسے ماہر بنتے کہ انہیں دنیا بھر میں عالمی کمپنیوں کا عالمی ملازم بنایا جاتا، انہیں پاکستان میں بھی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے۔ یہ تو بڑا ہی برا ہؤا۔ اس طرح سے ہوتا رہا تو پاکستان کی لیبر فورس کسی کام کی نہیں رہے گی۔ لیکن اس کا حکومت کی پالیسی پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ حکومتی اداروں، عدلیہ اور منسٹری یا وزیر اعظم کے سٹاف کو اسکا کوئی فائدہ یا نقصان نہیں ہؤا۔ یعنی پاکستانی لیبر فورس کو بڑا جھٹکا لگے یا چھوٹا، اس کوئی فرق نہیں پڑتا۔
پاکستان کی ٹیلی کام اتھارٹی کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں۔ نہ ہی کوئی لیبر اتھارٹی قائم ہے کہ جس کی اجازت کے بغیر ایکدم 10 سے زائد مزدوروں کو فارغ نہ کیا جاسکے۔ نہ ہی کوئی عدلیہ کا ایسا میکنزم اور ازخودکار قانون موجود ہے کہ جس سے کسی ادارے کو متحرک کیا جائے اور ملازمت سیے برخواست ہونے والوں کیلئے کوئی اہم فیصلہ کیا جاسکے۔ آج بھی ہمارے ادارے بیزار کن حد تک مرکزیت کی ہزار داستان ہیں۔ کارکردگی کی بجائے بے برکتی کا نمونہ ہیں۔ لیبر منسٹری سے کام ہی نہیں لیا جاتا۔ حالانکہ ہمارے یہاں لیبر تنظیموںکی بھرمار ہے جن سے تجربہ حاصل رکے بہت سی ملک و وقم کیلئے پالیسیاں بنایٔ جا سکتی تھیں۔ لیبر پالیسی میں پڑھنے والے اور پی ایچ ڈی تک کرنے والے لوگ موجود ہیں۔ لیکن کوئی ایک بھی لیبر پالیسی کا ادارہ اور تھنک ٹینک موجود نہیں ہے۔ عالمی اداروں میں لیبر پالیسی پر کام کرنے والے پاکستانی صفر فیصد ہیں۔
کسی نئے اور بڑے پراجیکٹ شروع کرتے ہوئے ہمارا پہلا سوال یہ ہونا چاہئیے کہ اس میں ہمارے مزدور کتنے ہونگے؟ انہیں کس طرح کی مزدوری ملے گی۔ وہ کتنے عرصے بعد وہاں سے فارغ ہونگے۔ اس دوران میں انکا کیا بنے گا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ہمیں کسی کو خوش کرنے سے فرصت ہی نہیں ملتی۔ بیرونی ادارے اور ممالک کے افراد جب ہمارے ساتھ کام کرتے ہیں، تو انکے لئے ہمارے پالیسی سازوں کو خوش کرنا اور کام نکالنا اس قدر آسان ہے کہ اسکا تصور مشکل ہے۔ ایک چائے کی پیالی پر سخاوت کا دریا بہاتے ہوئے ہمارے صاحب بہادر تمام ضابطے ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔ تمام قوانین بھول جاتے ہیں۔ دوسری جانب باہر سے پاکستانیوں کو نکالتے ہوئے کسی کو کوئی مششکل درپیش نہیں ہوتی۔ ایک دھکے میں سینکڑوں بیرون ملک پاکستانیوں کو نکال باہر کرکے زبردستی واپس بھجوا دیا جاتا ہے۔
ہمارے یہاں طریقہ کار یہ ہے کہ مزدور کو تعلیم دینے کی بجائے اسکے بیٹے کو تعلیم دیجاتی ہے۔ مزدور کا بیٹا اپنے باپ کی رقم پر عیاشی کرتا ہے۔ وہ مزدوری کی جانب قدم نہیں بڑھاتا۔ بلکہ اپنے لئے آسانیاں ڈھونڈتا ہؤا باپ کی عزت بھی گنوا دیتا ہے۔ اگر مزدور کو بھی تعلیم دیجاتی تو ہمارے یہاں تعلیم میں پروفیشنلزم بڑھ جاتا۔ حقیقی تعلیم دیجاتی اور مزدور کی کارکردگی میں بھی اضافہ ہوتا۔ اگلی نسل میں تجربہ منتقل ہوتا۔ لیکن بوجوہ ایسا نہیں کیا جاسکا۔ اب کیا جاسکتا ہے۔ لیکن کون کرے۔ لیبر منسٹری کو یہ فرض سونپا جائے کہ لیبر فورس کو تعلیم یافتہ بنائے اور اگلے دس سالوں میں ایسا یقینی بنائے کہ 70 فیصد سے زائد مزدور پڑھے لکھے ہوں۔ ماہر ہوں اور انکے پاس اپنے اوزار ہوں، ورکشاپ ہو۔ حکلومتی محکموں میں بھی رہتے ہوئے ہر مزدور کو اسکی ورکشاپ اور ورکشاپ کی جگہ کا حق دیا جائے۔ مزدور کو اس کے اوزار و ہتھیار رکھنے کی جگہ نہیں دی جائیگی تو وہ کام کیسے کریگا۔
اس تمام کتھا سے ہمیں اہنے لئے مستقبل کا طریقہ کار اور حکمتِ عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ وگرنہ کسی دوسری قوم سے کیا شکایت کی جائے۔ اپنے ہی انداز و اطوار اور طریقِ عمل میں بہتری لانے سے معاملات حل ہوسکتے ہیں۔ عالمی امن کے اہم حصہ داروں بلکہ ضامنوں کو مزید کیا سمجھایا جائے۔مزدور کے بغیر پاکستان کی کوئی معاشی پالیسی بھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ مزدور کی مزدوری کے بغیر کوئی قومی ادارہ چل نہیں سکتا۔
جب ہم پاکستان پر کسی دوسرے ملک کی بیرونی یا اندرونی محاذ آرائی اور مقابلہ بازی کا سوچتے ہیں تو ہمارے خون کھول اٹھتے ہیں۔ لیکن اس کی تیاری کیلئے قوم سے کام لینے کی باقاعدہ کوشش نہیں کرتے۔ یہ صورتحال غور و خوض کا تقاضا کرتی ہے۔ جب ہمارے کارکن اور مزدور آگے بڑھکر چیلنج کو قبول کریں گے، انکی تنظیمات، تھنک ٹینک اور انکی اتھارٹی سے اجتماعی اور انفرادی محنت کے ذریعے عملی میدان میں تگ و دو کریں گے، تو معاملات حل ہوجائیں گے۔ کسی کو کہنے سننے کی ضرورت ہی نہیں پڑیگی۔خندق کے میدان میں ہمارے نبی محمد الرسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھکر خود کام کیا۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ خندق کھودی، اس میں اتر کر پتھر توڑے۔ کدالیں چلائیں اور پہرہ دیا۔ راتوں کو جاگے۔ یہی نہیں بلکہ شروع سے ہی وہ تمام کام اپنے ہاتھوں سے کرنے کے عادی تھے۔ کبھی کسی دوسرے کو ایسے کام کی نصیحت نہیں کرتے تھے جسے خود انہوں نے نہ کیا ہو۔ ایسے عظیم نبی کا امتی ہونے کا حق ادا کرنے کی کوشش ہم پر فرض ہے۔ ہم کسی دوسری قوم کو نصیحت کرنے سے پہلے خود اس قابل ہوں کہ کوئی دوسری قوم ہماری بات کو دھیان سے سنے اور مانے۔ ہمارے اعمال ہماری زبانوں سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ ہمارے ہاتھوں کی محنت ہمیں محفوظ کرسکتی ہے۔ اپنے ہاتھوں سے کمائی جانے والی عزت ہی اصل عزت ہے۔ پاکستانیوں کو یہ حقیقت پلے باند کر کام کردکھانا ہوگا۔ اس سے ہمارے اندر کی قوم بیداری پائے گی، مجتمع ہوکر قوت حاصل کریگی اور بہرونی دنیا ہمیں وقار کیساتھ جینے کی اجازت دیگی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: