داستان گو —- قسط نمبر 5 — ادریس آزاد

0
  • 3
    Shares

کمرے کے دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ ماریہ نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا اور پھردروازہ کھولنے کے لیے اُٹھنے لگی تو شارق نے ماریہ کا ہاتھ پکڑلیا،
’’ماری! کیا کررہی ہو؟ ‘‘
ماریہ ابھی تک شارق کو دوبارہ اُٹھائے جانے سے متعلق کوئی بات بھی نہیں سمجھا پائی تھی۔ ابھی ابھی تو وہ بیدار ہوا تھا۔ ڈاکٹروں کی ہدایت تھی کہ اُسے فوری طور پر بالکل نہ بتایا جائے کہ وہ مَر کر دوبارہ زندہ کیا گیا ہے کیونکہ ابھی اس کے اعصاب کمزور ہیں اور کوئی بھی ’’شاک‘‘ اُسے ذہنی طور پر نقصان پہنچا سکتاہے۔ ماریہ اُس کے ساتھ اِدھر اُدھر کی عام سی باتیں کرتی رہی تھی، جیسا کہ …………….جیسا کہ ہمیں کالج کب سے جاناہے۔ اگلے سمسٹر میں کون کون سے مضمون لینے ہیں وغیرہ۔ ماریہ اور شارق آج سے پندرہ سوسال پہلے، اپنے کالج میں سائیکالوجی کے سٹوڈینٹس تھے۔ماریہ، شارق کے ساتھ فقط کالج اور نئے سمسٹر کی باتیں کرتی رہی۔ ڈاکٹرہارون کی باتیں کرتی رہی۔ اپنے کلاس فیلوز کی باتیں کرتی رہی۔ شارق ان باتوں کی وجہ سے بار بار ماریہ کو شک کی نظروں سے دیکھنے لگ جاتا تھا کہ آخر ماریہ اپنے بھائی اور بھابھی کی وجہ سے پریشان کیوں نہیں ہورہی۔ ماریہ اِتنے سنگین واقعہ کو سیریس کیوں نہیں لے رہی۔ آخر ماریہ کی بھابھی نے اُن دونوں کو زہر دے کر مارنے کی کوشش تھی۔ یہی وجہ تھی کہ شارق بے پناہ حیران تھا۔ اس نے ایک بار کہہ بھی دیا،
’’ماریہ! تم کیا کررہی ہو؟ یہ سب آخر کیا ہورہاہے؟ یہ کون سی جگہ ہے؟ کس کا گھر ہے؟ ہم لوگ یہاں کیوں ہیں؟ کیا تمہارے بھائی اور بھابھی نے ہمیں قید کررکھاہے؟ ماریہ! مجھے قسم سے بے ہوش ہونے سے پہلےکی ساری باتیں اچھی طرح یاد ہیں۔ میں نے ابھی دُودھ کا گلاس رکھا بھی نہیں تھا کہ میرے پیٹ میں شدید درد ہوا تھااور پھر مجھے خون کی قے آئی تھی۔ خون کی اُلٹی کے بعد ہی میں بے ہوش گیا۔ مجھے کچھ یاد نہیں بعد میں کیا ہوتارہا۔ ماریہ! یہ کمرہ کسی ہسپتال کا کمرہ نہیں ہے۔ اتنا تو مجھے اندازہ ہورہاہے۔ تم بتاتی کیوں نہیں؟ ہم ہیں کہاں آخر؟‘‘
تب ماریہ خود کو بہت بے بس سا محسوس کرنے لگی۔ ڈاکٹرز کی ہدایت تھی کہ شارق کو ابھی کچھ نہ بتایا جائے اور شارق کے سوالات ایسےتھے کہ ماریہ کو ہر ہر بات پر رونا آرہا تھا۔ جب سے شارق بیدار ہوا تھا ابھی تک ایک بار بھی ماریہ کی آنکھیں خشک نہ ہوئی تھیں۔ وہ سوچتے ہوئے ڈر رہی تھی کہ جب شارق سنے گا کہ وہ آج پندرہ سوسال بعد دوبارہ زندہ کیاگیاہے اور یہ دنیا بالکل ہی مختلف دنیا ہے، تب شارق کا کیا حال ہوگا۔ آخر اُس نےشارق کا ذہن بدلنے کے لیے کہا،
’’شارق! ہم ڈاکٹر ہارون کے گھر میں ہیں‘‘
’’ڈاکٹرہارون کے گھر میں؟ اچھا؟ اوہ تھینکس گاڈ، تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔ شکرہے تم مجھے یہاں لے آئی ہو۔ ڈاکٹرہارون سے زیادہ ہمارا کوئی خیر خواہ نہیں ماریہ! تھینکس گاڈ‘‘
ماریہ یہی بات کررہی تھی جب کمرے کے دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ ماریہ کا ہاتھ شارق نے پکڑا اور جب کہا کہ، ’’ماریہ کیا کررہی ہو؟‘‘ تو ماریہ نے بہت اُداس نظروں سے شارق کی طرف دیکھا اور پھر اُسے کہا،
’’شارق! کچھ نہیں ہوتا۔ ڈاکٹرہارون ہونگے یا کوئی ملازم ہوگا۔ تم فکر نہ کرو‘‘
اب ماریہ نے آگے بڑھ کر کمرے کا دروازہ کھول دیا۔ سامنے آئیسوان کھڑا تھا۔ آئیسوان سات گھنٹے کا طویل سفر کرکے سیّارہ جبرالٹ سے سیّارہ بعثان تک آیاتھا۔ آئیسوان کا اصل کام ’’ولسما‘‘ میں اُس ادھیڑ عمر شخص کا کیس دیکھنا تھا جو کئی سال سے یاداشت کے مسئلہ کی وجہ سے جگایا نہیں جاسکاتھا۔ لگ بھگ اسّی سال کی تگ و دو کے بعد اب ’’ولسما‘‘ نے مائمل سے درخواست کی تھی کہ اُس شخص کی یاداشت کا ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے ٹائم مشین استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔ آئیسوان اِس شعبہ کا انجارچ تھا۔ اور آئیسوان ہمیشہ ایسے ہر کیس کا، خود جاکر مطالعہ کرنے کا عادی تھا۔ آج بھی وہ اِسی کیس کے لیے یہاں وارد ہوا تھا۔ وہ کچھ ہی دیر پہلے یہاں پہنچاتھا۔ یہاں پہنچتے ہی اُس نے سب سے پہلے ماریہ اور شارق کو دیکھنا چاہا۔ کیونکہ یہ جوڑا بھی آئیسوان کی اجازت سے جگایا گیا تھا۔ دراصل وہ ادھیڑ عمر آدمی جس کے کیس کا مطالعہ کرنے کے لیے آج آئیسوان سیّارہ بعثان پر آیا تھا فی الحقیقت ایک اہم شخص تھا۔ سڈرہ کمیونٹی کے بڑے سائنسدانوں کو آج سے اَسّی سال قبل زمین سے اس شخص کا ڈی این اے ملا تھا اور تب سے یہ لوگ اُسے جگانے کی ہرممکن کوشش کررہے تھے لیکن مسلسل ناکامی کا سامنا تھا۔ آئیسوان نے ماریہ کو دیکھا تو مسکرا دیا۔
’’نئی زندگی مبارک ہو ماریہ!‘‘
ماریہ نے آئیسوان کو پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ اس لیے وہ اُسے نہ پہنچانتی تھی لیکن وہ جانتی تھی کہ یہ معتبر شخص ضرور ’ولسما‘ کا ہی کوئی بڑاآفیسر ہوگا۔ ماریہ نے دروازہ پورا کھول دیا۔ آئیسوان اندر آیا اور اس نے شارق کو دیکھتے ہی کہا،
’’کیسے ہو شارق میاں! کھل گئی آنکھ؟ کیسا محسوس کررہے ہو؟‘‘
شارق کو کچھ سمجھ نہ آیا کہ یہ شخص کون ہے لیکن پھر بھی آئیسوان کی شخصیت میں موجود جادُو اور حُسن نے شارق کو متاثر کیا۔ شارق نے اپنے چہرے پر مُسکراہٹ لانے کی کوشش کرتے ہوئے جواب دیا،
’’فائن! بہت بہتر محسوس کررہاہوں۔ تھینک یُو سر!‘‘
’’ہممم گڈ! تم آرام کرو شارق! میں دوبارہ آؤنگا۔ اور ہاں آرام سے یہ مُراد نہیں کہ بستر پر لیٹے رہو۔ باہر نکلو! گھومو پھرو! تم چل پھر سکتے ہو یار!‘‘
آئیسوان کا لہجہ اِن لوگوں کے ساتھ اتنا فرینک تھا کہ ماریہ اور شارق دونوں حیران بھی ہوئے اور خوش بھی۔ دراصل سڈرہ کمیونٹی کا سارا نظام چلانے والے ہیومین ورژن ٹُو کے لوگ، سب کے سب اخلاق کی بلندیوں پر فائز تھے۔ یہ لوگ کوئی بھی اضافی تکلف نہ کرتے تھے۔ محبت اور خلوص ان کے چہروں پر ہمہ وقت ثبت رہتا تھا۔ اور آئیسوان تو پھر آئیسوان تھا۔ اس کی شخصیت، اس کا لب ولہجہ، اس کے شوق، سب کچھ ہی نرالا اور خوبصورت تھا۔ آئیسوان کو ماضی کے لوگوں کے ساتھ بے پناہ دلچسپی تھی۔ وہ گزشتہ کتنی صدیوں سے صرف ایک ہی شعبے کے ساتھ منسلک تھا اور اب تو پوری سڈرہ کمیونٹی میں اسے ’’معاد‘‘ یعنی پرانے لوگوں کو زندہ کرنےپر سب سے بڑی اتھارٹی سمجھا جاتا تھا۔ آئیسوان کمرے سے واپس جانے لگا۔ جاتے جاتے وہ کسی خیال کے تحت رُکا اور اُس نے ماریہ سے مخاطب ہوکر قدرے آہستہ آواز میں سوال کیا،
’’عادّین آئے تھے؟‘‘
ماریہ لگ بھگ ایک ماہ پہلے جگائی گئی تھی اور اب تک بہت سی باتوں سے واقف تھی۔ وہ جانتی تھی کہ عادین کون ہیں۔ عادّین ماریہ کے پاس بھی آئے تھے۔ چنانچہ ماریہ نے فوراً جواب دیا،
’’نہیں ابھی تو نہیں آئے۔ میں تو یہی سمجھی تھی کہ آپ ’عادّین‘ میں سے ہی ہیں‘‘
آئیسوان نے ماریہ کی بات سن کر مُسکراتے ہوئے کہا،
’’توبہ کرو! مجھے کوئی شوق نہیں عادّین بننے کا۔ بہت بور کام ہے۔ پتہ نہیں یہ لوگ کیسے کرلیتےہیں۔ خیر آئینگے۔ اچھا اب میں چلتاہوں‘‘
یہ کہہ کر آئیسوان کمرے سے نکل گیا۔اور ماریہ نے کمرے کا دروازہ دوبارہ بند کردیا۔ وہ عادّین کو دیکھ چکی تھی۔ یہ تین افراد کی ایک ٹیم کو کہا جاتاتھا۔ جو سڈرہ میں بڑی کلاسوں کی ریاضی کے طلبہ ہوتے تھے۔ جب بھی کوئی ریاضی دان سڈرہ کے کسی بڑے اور اہم ادارے میں جانے لگتا تو اسے پہلے کئی سال تک عادّین کے ساتھ کام کرنا پڑتاتھا۔ عادّین دراصل تحقیق کے لوگ ہوتے تھے۔ جب بھی کسی شخص کو جگایا جاتا تو عادّین کی ایک ٹیم اُسے ملنے کے لیے آتی اور اس سے چند سوالات کرتی۔ ان سوالات کی تفصیلی رپورٹ ’ولسما‘، ’پالما‘ اور سڈرہ کے دیگر بڑے بڑے اداروں کو بھیجی جاتی، جہاں یہ معلومات بعض مخصوص قسم کی تحقیقات میں کام آتیں۔ جب ماریہ کو جگایا گیا تھا تو پہلے دن ہی عادّین کی ٹیم آئی تھی۔ ان لوگوں نے ایک سوال ماریہ سے بار بار پوچھا تھا،
’’آپ کو کیا لگتاہے؟ آپ کتنا عرصہ سوئی رہیں؟‘‘
ماریہ ’’سوئی رہیں‘‘ کے الفاظ پر حیران تو ہوئی لیکن اس نے جواب دیا تھا کہ،
’’یہی کوئی ایک یا دودن‘‘
عادّین کی طرف سے پوچھے گئے سوالا ت کا خیال آیاتو نہ جانے کیوں ماریہ نے شارق سے خود بھی وہی سوال کردیا،
’’شارق! تمہیں کیا لگتاہے کہ تم کتنا وقت سوتے رہے ہو؟‘‘
’’ہاں؟ کتنا وقت؟ ہممم………….. مجھے تو لگتاہے کہ میں بس چند لمحوں کے لیے بے ہوش ہوا تھا‘‘
ماریہ سوچنے لگی کہ اُس کے اور شارق کے جواب میں فرق ہے۔ ماریہ نے ایک یا دودن کہا تھا۔ جبکہ شارق نے چند لمحے بتائے ہیں۔ وہ مختلف باتیں سوچنے لگی۔ ابھی انہیں یہاں کے طور طریقوں کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ اس نے ابھی تک پرسنٹیج کا ذکر تک نہیں سنا تھا اور نہ ہی یہ بات کہ اگر پرسنٹیج مختلف ہو تو دوبارہ زندہ کیے جانے والے لوگوں کو مختلف سیّاروں پر سیٹل کیا جاتاہے۔ وہ کچھ بھی تو نہ جانتی تھی۔
اچانک شارق نے بستر پر اُٹھ کر بیٹھتے ہوئے کہا،
’’ماریہ! ابھی جو ڈاکٹر آیا تھا، وہ تو کہہ رہا تھا کہ مجھے چلنا پھرنا چاہیے۔ کیا ہم دونوں تھوڑی دیر کے لیے کسی کھلی جاسکتے ہیں؟‘‘
ماریہ چونک سی گئی۔ اور ساتھ ہی وہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔
’’بالکل! چلو! باہر چلتے ہیں‘‘
**************
دانش ایک کھلے میدان میں چٹیل زمین پر لیٹاآسمان کی طرف دیکھ رہاتھا۔اُس کے نیچے سبزہ نہیں تھا۔ خالص مِٹی تھی۔آج وہ ٹہلتا ٹہلتا اِس طرف نکل آیا تھا۔ اُنہیں اپنی سپیش شپ کو چھوڑے اورجبرالٹ پر لینڈ کیے آج چودہ دن گزر گئے تھے۔ اس دوران انہیں شوریٰ کے فیصلے سے آگاہ کردیا گیاتھا۔ قافلے کے ہررکن کے پاس الگ الگ فائل پہنچی تھی۔ سب نے پہلے اکیلے اکیلے اور پھر ایک میٹنگ کی شکل میں اُن تمام نکات پر خوب بحث کی تھی۔ پروفیسر ولسن سمیت کسی کو سڈرہ کی شُوریٰ کے کسی فیصلے سے کوئی شکو ہ نہیں تھا۔ سب خوش تھے۔ بلکہ بہت زیادہ خوش تھے۔ کیونکہ ڈرافٹ میں اُن کے دِل کی ہرخواہش کو پورا کرنے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ اگر کوئی واپس اکیسویں صدی میں لوٹ جانا چاہتا تو اُسے ’’گریوٹی بس‘‘ فراہم کرنا بھی سڈرہ کی شوریٰ نے خود پر فرض قراردے دیا تھا۔ دانش کو اب بہت زیادہ لگنے لگا تھا کہ وہ لوگ کسی طرح ’’اگلے جہان‘‘ میں آپہنچے ہیں۔ وہ جتنا سوچتا جاتا تھا اُسے ہر ہر شئے میں ایک ہی حقیقت دکھائی دیتی تھی، کہ یہ اگلاجہان ہے۔ کچھ سوالات اس کے ذہن میں ایسے تھے جن کی وجہ سے اس کا اعتماد متزلزل رہتا۔
آج وہ چلتا چلتا اِتنی دُور نکل آیا تھا کہ آخر ایک جگہ تقریباً جنگل ختم ہوگیا۔ یہ چٹیل میدان تھا۔ تاحدِ نگاہ میدان ہی میدان۔ زمین ہموار تھی۔ مِٹی کا رنگ، بالکل دانش کے اپنے سیّارہ زمین کی مٹی کے رنگ جیسا تھا۔ دانش کو یہاں آنا بہت بھلا لگا۔ اتنے سبزے، اتنے پھولوں، اتنے درختوں میں ایسی جگہ جہاں نہ سبزہ، نہ پھول، نہ درخت تھے، اُسے بہت مختلف لگ رہی تھی۔ ایک خاموشی سی خاموشی تھی۔ ایک سُنسانی سی سُنسانی تھی۔ وہ بے خوف زمین پر لیٹ گیا اور اب وہ دُور آسمانوں میں دیکھ رہا تھا۔ شاید وہ اپنے گھر، سیّارہ زمین کو ڈھونڈنا چاہتاتھا، لیکن الفاسینٹوری کی تیز روشنی میں آسمان پر کیا نظرآتا۔ ہاں البتہ اُسے اس بات کا یقین تھا کہ رات کے آسمان میں زمین کو ڈھونڈا جاسکتاہوگا۔ اس کا ذہن مسلسل مصروف تھا۔ آج تو وہ اپنی بیوی ایلس کو بھی مہمان خانے میں ہی چھوڑآیا۔ وہ کچھ وقت اپنے ساتھ بالکل اکیلے گزارنا چاہتاتھا۔ قافلے کا ہررکن اپنی اپنی جگہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے عمل میں مصروف تھا۔ سب کے سامنے سارے نکات تھے۔ اب ہرکسی نے فیصلہ خود کرنا تھا۔ ڈاکٹربوسٹن اور ڈاکٹرکیمیلا نے تو پہلے دن ہی اپنا فیصلہ سنادیاتھا کہ وہ سڈرہ کمیونٹی میں ہی قیام کرینگے اور فزکس کے لیے کام کرینگے۔ لیکن باقی لوگ ابھی تک کسی فیصلہ پر نہ پہنچ پائے تھے۔ یہاں رہنے کا فیصلہ کیا جائے یا واپس جانے کا؟ یہاں رہنے کا فیصلہ کیا جائے تو ’’رینوویشن‘‘ کو قبول کیا جائے یا اپنی پہلی زندگی کو پورا ہونے دیا جائے؟اپنی پہلی زندگی کو پورا ہونے دیا گیا تو پھرایک بار موت کا ذائقہ بھی چکھنا ہوگا اور جگانے سے پہلے ہماری پرسنٹیج بھی آخری مرتبہ نوٹ کی جائے گی۔ اگر دوبارہ جگائے جانے سے پہلے ہماری پرسنٹیج ساٹھ سے کم ہوئی تو؟
اس طرح کے سوال تھے جو سب کے ذہنوں میں تھے۔ یہ لوگ بیک وقت پریشان بھی تھے اور خوش بھی۔ ہرکوئی فی الحقیقت شدید قسم کی سنسنی کا شکار تھا۔ دانش نے آخر آسمان کی طرف دیکھنا بند کردیا اور زمین پر لیٹے لیٹے کروٹ بدل لی۔پھر وہ ایک کہنی کے بل ذرا سا اُٹھ کر بیٹھ گیا اور مِٹی پر انگلیوں سے مختلف لکیریں لگاتے ہوئے بظاہر کھیلنے لگا۔ فی الحقیقت وہ گہری سوچ میں گم تھا۔معاً دانش کو زمین پر اپنے سامنے چوکور سی روشنی نظرآئی۔ ساتھ اردو میں لکھی تحریر،
’’دانش! اگر آپ کی تنہائی میں خلل نہ ہو تو میں آپ سے ملنا چاہتی ہوں۔ مائمل‘‘
دانش بُری طرح چونک گیا۔ اس نے فوراً آسمان کی طرف دیکھا۔ یقیناً یہ میسج کسی سیٹلائیٹ کے ذریعے دانش تک پہنچ رہاتھا۔ آسمان پر دانش کو کچھ دکھائی نہ دیا لیکن اُسے یقین تھا کہ مائمل کا میسج، اس ویرانے میں اُس تک کسی سیٹلائیٹ کے ذریعے ہی بھیجا جارہاتھا۔ وہ یکلخت اُٹھ کر بیٹھ گیا۔اُسے کچھ سمجھ نہ آئی کہ میسج کا ریپلائی کس طرح کرے۔ اس نے روشنی کے اس چوکھٹے کو غور سے دیکھنا شروع کردیا۔میسج کے آخر میں ایک قدرے بڑا سا دائرہ چمک رہا تھا۔ دانش نے کچھ سوچے سمجھے بغیر اُس دائرے کے درمیان اُنگلی رکھ دی۔اگلے لمحے روشن چوکھٹا غائب ہوگیا۔ ابھی دانش اِس عجیب و غریب مظہر کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ دُور سے اُسے کوئی نہایت تیز رفتار اور بے آواز سواری آتی ہوئی محسوس ہوئی۔اس نے پلک بھی نہ جھپکی ہوگی کہ مائمل اُس کے پاس تھی۔دانش کو مائمل تو نظرآگئی لیکن کوئی گاڑی نظر نہ آئی۔ حالانکہ وہ جب دُور سے آتا ہوا دیکھ رہا تھا تو اسے تیزرفتار سواری نظر آئی تھی۔ وہ ابھی حیرت سے اس جگہ کے آس پاس نظر دوڑا رہا تھا جہاں مائمل کھڑی مسکرارہی تھی کہ مائمل نے اُسے مخاطب کیا،
’’ارے بھئی! میں عام سی سواری میں آئی ہوں۔ یہ تو تمہاری زمانے کی چیز ہے۔ میں ’’میٹا میٹریلز‘‘ (Metamaterials) اور ’’آپٹکل کلوک‘‘ (optical cloak) کی پرانی ٹیکنالوجی سے بنی گاڑی میں آئی ہوں۔ میری گاڑی نظر نہیں آرہی تو یہ’نینووائرز‘ (Nanowires) کا کمال ہے۔ فزکس کا کمال ہے۔ ہاں ہم نے یہ ضرور کیا کہ اس گاڑی کی رفتار بے پناہ تیز کردی۔ سو یہ کوئی جادُو نہیں دانش!‘‘
دانش جوفوراً اُٹھ کر کھڑا ہوگیا تھا ہونقوں کی طرح مائمل کا منہ تکنے لگا۔ اس کے پاس جیسے الفاظ نہیں تھے کہ وہ جواب میں کچھ کہے۔ کچھ دیر مائمل اسے اِسی حال میں دیکھتی رہی اور پھر ہنس پڑی،
’’اچھا! بیٹھو تو سہی! ‘‘
مائمل نے اتنا کہا اور بڑی بے تکلفی سے وہیں زمین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی، جہاں کچھ دیر پہلے دانش بیٹھاتھا۔ دانش بھی جھٹ سے زمین پر بیٹھ گیا۔اب وہ قدرے سنبھل چکا تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ وہ دِل سے ایسا نہیں چاہتا تھا۔ وہ ایسا نہیں چاہتا تھا کہ اُسے سب کچھ جادُوئی سا دکھائی دے۔وہ اِس دنیا کو طلسم ِ ہوشربا یا جہانِ آخرت کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتا۔ اِسی بات کو سوچ کر اُسے اُداسی ہوتی تھی۔ اس پر مستزاد اِس دنیا کی ہر بات ہی نرالی اور حیران کردینے والی تھی۔ مائمل جو کافی دیر قدرے سنجیدگی کے ساتھ اس کی طرف دیکھتی رہی، کہنے لگی،
’’دانش! زندگی ایک تسلسل کا نام ہے۔اس تسلسل میں اگر کبھی تعطل آئے تو دوطرح سے آتا ہے۔ نمبرایک، کہ آپ کی آنکھیں بند ہوجاتی ہیں۔ جسے آپ لوگ مرجانا کہتے ہیں۔ نمبردو، آپ کھلی آنکھوں کے ساتھ زمان و مکاں میں جَست بھرجاتے ہیں۔ جمپ کرجاتے ہیں۔ آپ لوگوں کے ساتھ دوسری طرز کا تعطل پیش آیا ہے۔ دونوں طرح کے تعطل میں، تعطل کا دورانیہ بہت مختصر ہوتاہے۔ مرجانے والے شخص کو جب ہم دوبارہ زندہ کرتے ہیں تو وہ ہمارے حساب دانوں کو بتاتا ہے کہ بس پل دو پل کے لیے ہی اس کی آنکھ بند ہوئی تھی۔ اور آپ لوگ بھی جب کسی وارم ہول سے گزرے ہو تو پل دو پل میں ہی گزرے ہولیکن اس سے آپ کے وقت میں اور باقی لوگوں کے وقت میں اتنا بڑا فرق آگیاہے۔ آپ اپنے وقت کے ایک سینئر سائنسدان ہو اور آپ تو خوب سمجھتے ہو کہ امکانات کی دنیا لامختتم ہے۔ یعنی کبھی نہ ختم ہونے والی‘‘
دانش گویا مسحور تھا۔ مائمل کی آواز میں تاثیر ہی کچھ ایسی تھی۔ دانش کی حیرانی ایک میٹھی سی کیفیت میں بدل گئی۔ وہ اپنے خون میں سرشاری سی محسوس کرنے لگا۔مائمل کی بات بھی اتنی معقول تھی کہ وہ فقط اثبات میں سرہلانے کےسوا اور کچھ نہ کہہ سکا۔ تب مائمل نے دوبارہ کہنا شروع کیا،
’’دانش! آپ کیا سمجھتے ہو کہ ہم لوگ تم لوگوں سے مختلف ہیں؟‘‘
دانش کے لیے یہ سوال غیر متوقع تھا۔وہ پہلے چونکا پھر کسی قدر مسکراتے ہوئےاس نے فقط اتنا کہا،
’’ہاں‘‘
مائمل بھی مسکرادی اور اس نے دوبارہ پوچھا،
’’کیسے؟‘‘
’’آپ لوگ خود کو ہیومین ورژن ٹُو اور ہمیں ہیومین ورژن ون کہتے ہو۔ ظاہر ہے ’ہیومین ورژن ون‘کم تر اور ’ہیومین ورژن ٹو ‘برترہے‘‘
مائمل نے دانش کی بات سنتے ہی کہا،
’’عجیب بات ہے۔ ہم ہیومین ورژن ون کو برتر سمجھتے ہیں اورآپ ہیومین ورژن ٹُوکو برترسمجھ رہے ہو‘‘
اب حیران ہونے کی باری دانش کی تھی۔ اس کی پیشانی پر الجھن والی سلوٹ نمودار ہوتی دیکھ کر مائمل نے ایک لمبی سانس لیتے ہوئے کہا،
’’اچھاآپ سنیے! میں سمجھاتی ہوں۔ سڈرہ کمیونٹی میں پانچ قسم کے انسان پائے جاتے ہیں، نمبرایک، ’’پُرش‘‘، نمبر دو’’بِنادم‘‘ نمبرتین، ’’پارمش‘‘ نمبرچار’’مقسور‘‘ اور نمبر پانچ ’’بشر‘‘۔اب یہ پانچوں کون لوگ ہیں؟ یہ بھی سمجھ لیجیے!
نمبرایک: سڈرہ کمیونٹی میں سب سے افضل درجے کے انسانوں کو ’پُرش‘ کہاجاتاہے۔یہ لوگ اپنی مرضی سے اُن سیّاروں کی طرف جانے اور کئی کئی صدیوں تک وہاں رہنے کے لیے تیّار ہوجاتے ہیں، جن سیّاروں پر ہم نے وائیلنس والے انسانوں کو سیٹل کیا ہے۔وائیلنس والے انسان دوسوبیالیس میں سے چھتیس سیّاروں پر آباد ہیں، اِن چھتیس سیّاروں کو جحمان (Jehman) زُون کہا جاتاہے۔ پُرشوں کو اُن لوگوں کی خدمت اور تربیت کے لیے یہاں سے جحمان بھیجاجاتاہے۔ ہم میں سے جو لوگ پُرش ہیں اُن کی ہمّت اورجذبہ قابلِ رشک ہے۔ اس لیے سڈرہ کمیونٹی میں انہیں سب سے زیادہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔
’’پُرش‘‘ کیوں سب سے خوش قسمت سمجھے جاتے ہیں ؟ کیونکہ وہ بہادر ہیں۔ وہ اپنی خوشی اور اپنی مرضی سے جحمان(Jehman) کے سیّاروں پر رہنا منتخب کرتے ہیں۔ یہ لوگ، اُن انسانوں کی خدمت پر مامُور ہیں جو دُکھ درد کی زندگی محض اس لیے گزار رہے ہیں کہ جلد از جلد ان میں وائیلنس اور تشدد کا عنصر ختم ہوجائے۔ تمام ’’پُرش‘‘ اُن کی خدمت کے لیے خود کو وقف کردیتے ہیں اور سڈرہ کمیونٹی کی خوبصورتیوں اور بہاروں کو قربان کرکے وہاں کی تکلیف دہ زندگی گزارتے ہیں۔ تمام پرش حقیقتِ حال سے آگاہ ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے انہیں یہیں سے بھیجا جاتاہے۔ اس لیے وہ ہمارے دوست ہیں۔ میرے اپنے دوستوں میں کئی پُرش شامل ہیں۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ پُرش دونوں نسلوں کے لوگ ہوسکتے ہیں۔ یعنی ہیومین ورژن ون اور ہیومین ورژن ٹُو، دونوں میں سے پُرش سامنے آسکتے ہیں۔ کئی ہیومین ورژن وَن کے لوگ بھی جو پُرش ہیں میرے دوست ہیں۔ایک تمہارے مُلک اور تمہارے زمانہ کا شخص بھی پُرش ہے اور میرا بہت اچھا دوست ہے۔ اس کا نام عبدالستار ہے۔
خیر! دوسرے نمبرپر خوش قسمت انسان وہ ہیں جنہیں عام طور پر ’’ہیومین ورژن وَن‘‘ کہا جاتاہے۔ جنہیں ہمارے سائنسدان موت کے وقفے سے بیدار کردیتے ہیں اور خاص بات یہ کہ اُن کا پرسنٹیج ساٹھ سے زیادہ ہوتاہے۔ ہمارے اکیڈمیا میں انہیں ’’ہیومین ورژن وَن‘‘ نہیں لکھا جاتا بلکہ ’’بِنادم‘‘ لکھا جاتاہے۔ انہیں سڈرہ کمیونٹی کے اَسّی کے قریب، مختلف سیّاروں پر درجہ بدرجہ سیٹل کیا جاتاہے۔ چھتیس اور اسّی کتنے ہوگئے ؟‘‘
مائمل نے بات کرتے کرتے اچانک دانش سے سوال کردیا، دانش کے منہ سے بے اختیار نکلا،
’’ایک سو سولہ‘‘
مائمل مسکرائی اور دانش جھینب گیا۔ مائمل نے پھر کہنا شروع کیا،
’’یوں ایک سو سولہ(116) سیّارے صرف قدیم دور کے انسانوں کے لیے وقف ہیں۔ باقی ایک سوچھبیس (126)سیّاروں میں سے ایک سو اَٹھارہ (118) سیّارے سدرہ کمیونٹی کے مختلف دفاتر،کاموں اور منصوبوں کے لیے وقف ہیں۔ جیسا کہ پائرہ یا بعثان، یا یہی سیّارہ جبرالٹ وغیرہ۔ اور آخر میں بچ جاتے ہیں آٹھ سیّارے، جنہیں ہم لوگ ’’سُوریازون‘‘ کہتے ہیں۔ سُوریا زُون میں قدیم سیّارہ ’’زمین‘‘ سب سے افضل سمجھا جاتاہے۔ باقی مریخ، مشتری، ٹائٹن وغیرہ اُن میں شامل ہیں۔ تو دوسرے نمبر پر جن انسانوں کو خوش قسمت سمجھا جاتاہے وہ بِنادم ہیں اورسڈرہ کمیونٹی کے اَسّی بڑے سیّاروں پر مقیم ہیں۔ لیکن بِنادم کی سب سے بڑی آبادی سیّارہ ’’شَرَبْری‘‘ پر آباد ہے۔ یہاں رہنے والے لوگ کچھ بھی نہیں کرتے۔ کوئی بھی کام نہیں کرتے۔ یہ بہت ہی بڑا سیّارہ ہے۔ میلوں تک باغات ہی باغات ہیں۔اس سیّارے پر دنیا کی ہرسہولت اور آسانی فراہم کی گئی ہے۔ بِنادم دوسرے نمبر پر خوش نصیب انسان ہیں۔
تیسرے نمبر پر جن انسانوں کو سب سے خوش نصیب سمجھا جاتاہے انہیں ہم ’’پارمش‘‘ کہتے ہیں۔ یہ لوگ ہیومین ورژن ٹُو ہیں۔ میں خود بھی ایک پارمش انسان ہوں۔ پارمش کے ذمہ پوری سڈرہ کمیونٹی کا انتظام و انصرام ہے۔ ہمارا کام ہے صرف اور صرف اَمن اور شانتی کے لیے صبح شام تگ و دور کرتے رہنا اور ہم اس کام میں بے پناہ خوش ہیں۔ پارمش تعداد میں سب سے زیادہ ہیں۔ ایک کھرب انسانوں کی ہماری کمیونٹی میں چالیس کروڑ سے زیادہ پارمش ہیں۔
چوتھے نمبر پر ’’مقسور‘‘ آتے ہیں۔ یہ نہ تو ’ہیومین ورژن وَن‘ ہیں اور نہ ہی ’ہیومین ورژن ٹُو‘ ہیں۔ یہ وہ بچے یا بچیاں ہیں جن کا ڈی این اے کبھی پہلے کہیں موجود ہی نہیں تھا۔ نہ سڈرہ سوسائٹی سے پہلے اور نہ ہی بعد میں۔ ان بچیوں اور بچوں کے ڈی این اے کا پورا کوڈ ہماری یونیورسٹیوں کے سکالرز لکھتے ہیں۔ سب سے پہلے مقسور آبادی کے بچوں اور بچیوں کی شکل وصورت کا کام مکمل ہوتاہے۔ یہ کام بھی ہماری یونیورسٹیوں کے طلبہ کرتے ہیں۔ان طلبہ کو ہم اپنی زبان میں ’’جونیئرز ‘‘ کہتے ہیں۔ جونیئرز کے بنائے تھری ڈی گرافکس کے انسانی خاکوں اور ڈیزائنوں کو کمپیوٹر پروگرامرز کے پاس بھیجا جاتاہے۔ کمپیوٹر پروگرامرز بھی ہمارے یونیورسٹی سطح کے سکالرز ہوتے ہیں۔ یہاں وہ اُس مقسور بچے یا بچی کے ایک ایک مسام کی پروگرامنگ کرتے اور ان کا ڈی این اے، خود سے لکھتے ہیں۔ عام طور پر یہ ہمارے سکالرز کے تھیسز اور مقالہ جات کے طور پر لکھے گئے ڈی این اے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نت نئے انداز کے ڈی این اے لکھے جاتے ہیں۔جب کوڈنگ کا کام پورا ہوجاتاہے تو مقالہ کیمسٹری کے شبعہ جات میں چلا جاتاہے اور ڈی این اے کے مطابق مالیکیولز تیار کیے جاتے ہیں۔ آخر میں بیالوجی کا شعبہ اِن ڈی این ایز کو کسی پروٹوپلازم کے ذریعے بطور انسان کے پیدا کردیتے ہیں۔ یہ وہ بچے ہوتے ہیں جن کی پہلے سے کوئی یاداشت نہیں ہوتی۔ ان میں سے بعض مقالہ جات کے تحت پیدا ہونے والے بچوں کو شیشے کی ٹیوبز میں ہی بڑا کیا جاتاہے، کیونکہ ایسا کرنا عموماً خودمقالہ کا حصہ ہوتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جب آنکھ کھولتے ہیں تو اگرچہ عالم شباب میں ہوتے ہیں لیکن ان کا تجربہ اُسی دن آغازہوتاہے، یعنی آنکھ کھولنے کے دن۔ اپنی پیدائش کے بعد سے ان کی انفرادی شناخت کا سلسلہ شروع ہوجاتاہے اور پھر یہ بچے ایک دن ترقی کرتے کرتے ’پارمش‘ بن جاتے ہیں یا پارمشوں کے ساتھ شامل ہوجاتے ہیں۔ یعنی سڈرہ کمیونٹی کا نظام چلانے والے خدمتگار۔
اور آخری یعنی پانچویں قسم کا تو آپ نے خود ہی اندازہ لگالیا ہوگا۔یعنی بَشر، یہ وہ لوگ ہیں جو درجہ بدرجہ جحمان (Jehman) کے چھتیس سیّاروں پر آباد کیے گئے ہیں۔ جس بشر کا وائیلنس لیول جتنا کم ہے وہ اُتنے کم تکلیف دہ جحمان سیّارے پر ہے۔ لیکن ایک بات سب میں مشترک ہے کہ وہ سڈرہ کمیونٹی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ نہ ہی انہیں یہ معلوم ہے کہ وہ جب مرجاتے ہیں تو ہم اُنہیں دوبارہ زندہ کردیتے ہیں۔ ہمارا اکیڈمیا اُن کو وائیلنس والے انسان نہیں کہتا بلکہ ہم اُنہیں بشرکہہ کر پکارتے ہیں۔
ایسے تمام سیّاروں کوجہاں وائیلنس والے انسانوں کو رکھا جاتاہے، ہماری زبان میں’’جحمان‘‘ (Jehman)کہا جاتاہے۔ جیسا کہ میں نے بتایا سڈرہ کمیونٹی کے دوسوبیالیس سیّاروں میں چھتیس سیّارے ’’جحمان‘‘ زُون کا حصہ ہیں۔ جحمان میں صرف ان لوگوں کو سیٹل کیا جاتاہے جن کا پرسنٹیج ساٹھ سے کم ہوتاہے اور ہم انہیں بشر کہہ کر پکارتے ہیں۔ پرسنٹیج کے اور بھی درجات ہیں۔ ساٹھ سے کم۔ پچاس سے کم۔ چالیس سے کم۔ تیس سے کم۔ بیس سے کم۔ دس سے کم وغیرہ۔ اور اِسی لحاظ سے ’’جحمان ‘‘ کے چھتیس سیّاروں کے بھی درجات ہیں۔ مثلاً سیّارہ نمبر دوسوبیالیس جہاں ہمیں ابھی پوری سیٹلمنٹ تعمیر کرنی ہےاور جہاں نہ تو فضا میں آکسیجن ہے اور نہ ہی کوئی پانی۔ وہاں ہم ابھی پہاڑوں کے نیچے سے معدنیات نکال رہے ہیں۔ پھر سیّارے کی سطح پر موجود پرانے طرز کی فیکٹریوں میں ہم زندگی کے لیے ضروری اجزأ تیار کررہے ہیں۔ جیسا کہ آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ اور درختوں کے اگانے کا نظام اور تمام تر تعمیرات وغیرہ۔ لیکن سڈرہ کمیونٹی یہ کام ایک خودکار طریقے سے انجام دیتی ہے۔ سب سے کم پرسنٹیج والے لوگوں کو ایسے ہی سیّاروں پر بھیج دیا جاتاہے۔ جحمان کے کسی سیّارے پر لوگوں کو یہ علم نہیں کہ سڈرہ کوئی کمیونٹی ہے یا سڈرہ کمیونٹی کے سائنسدانوں نے موت پر قابو پالیاہے۔ چنانچہ وہاں موجود انسان کانوں سے معدنیات نکالتے ہیں۔ اُن کے منہ پر ماسک چڑھا اور کمر پر لوہے کا ایک بھاری بھرکم گیس سلنڈرجما ہوتاہے، جس میں آکسیجن ہوتی ہے۔وہاں ہم صرف اُن انسانوں کو رکھتے ہیں جن کی تربیت بہت طویل اور بہت مشکل ہوتی ہے۔ سیّارہ نمبر دو سوبیالیس، دوسواکتالیس، دوسوچالیس وغیرہ ابھی تعمیر کے مراحل میں ہیں۔ وہاں پہاڑوں سے لوہا نکال کر پگھلایا جاتاہے۔وہاں لوہا پگھلانے کی فلک بوس بھٹیاں ہیں اور ہمہ وقت کام جاری رہتاہے۔ وہاں پہلے پرانے طرز کی بڑی بڑی مشینیریاں بنا ئی جاتی ہیں اور پھر اسی طرح بتدریج سیّارے کی تعمیر کا کام جاری رہتاہے۔اِن سیّاروں پر لوگ تکلیف میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ تکلیف ان کا ’’جبر‘‘ ہے۔ اُن کا جبر، اُن کے ’صبر‘ کا خالق بن جاتاہے۔ جب تک یہ لوگ وائیلنس کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں، وہیں رہتے ہیں، جب یہ لوگ صبر یعنی ٹیمپرامنٹ کو قابُو کرنے کے ماہر ہوجاتے ہیں، انہیں جحمان کے سیّاروں سے نجات مل جاتی ہے۔ جحمان کے سیّاروں پر وہ مشکلات جھیلتے ہیں اورمرجاتے ہیں۔ وہ آپس میں لڑتے، جھگڑتے ہیں تو اُن کاصبر کا پیمانہ ہمارے سامنے آتاہے۔ ہم اُن میں سے ہر ایک بشر کا پورا پورا حساب رکھتے ہیں۔ سو یہ تھیں تمام انسانوں کی اقسام۔ اب آپ بتاؤ کہ آپ برترہو یا میں؟‘‘
اس سے پہلے کہ دانش، مائمل کو کوئی جواب دیتا۔ مائمل نے ایک دم کہا،
’’صرف ایک منٹ! آئیسوان کوئی ضروری بات کرنا چاہتاہے‘‘
اتنا کہہ کر مائمل نے آنکھیں بند کرلیں۔ اب وہ چشم تصور میں دیکھ رہی تھی۔آئیسوان جو سیّارہ بعثان پر تھا مائمل کو بتا نے لگا کہ،
’’ڈاکٹرہارون کا معاملہ سوائے ٹائم مشین کے حل ہوتا نظر نہیں آتا۔ بہرحال ایک آخری کوشش کے طور پر میں نے اُن کے دو طالب علموں کو جگادیا ہے۔ان کے قریبی رشتہ داروں میں کوئی بھی ساٹھ سے اُوپر پرسنٹیج کا نہیں تھا۔ مجبوری تھی۔ یہ لڑکی ہے ماریہ اور لڑکا ہے شارق۔ یہ 2011 میں مارے گئے۔ دونوں ہی ڈاکٹر کے بہت قریب تھے‘‘
مائمل نے سنجیدگی سے آئیسوان کی بات سُنی اور پھر بات ختم کرنے کے انداز میں کہا،
’’بہت اچھا کیا۔ ڈاکٹر ہارون کا جگایا جانا بے حد ضروری ہے۔ اکیڈمیا یہ جاننا چاہتی ہے کہ آخر’’اعمال‘‘ کی ریاضیاتی تھیوری پیش کرتے وقت ان کے ذہن میں کیا تھا۔ جب تک وہ بیدار نہیں ہوتے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ڈاکٹرہارون کی یاداشت ہی مل جاتی تو ہم پرسنٹیج کے نظام کو اور بہتر بناسکتے تھے۔ خیر! آئیسوان ! آپ کے ہوتے ہوئے مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے‘‘
اتنا کہہ کر مائمل نے آنکھیں کھول دیں۔ وہ خیالوں ہی خیالوں میں بولی تھی، اسلیے اس کی بات، دانش نے نہ سنی تھی۔مائمل نے آنکھیں کھولتےہی کہا،
’’اچھا تو میں آپ کو بتارہی تھی کہ ……………….‘‘
اور پھر مائمل دانش کو سڈرہ کمیونٹی کے سیّاروں، انسانوں، نظام اور تحقیقات کے متعلق بتاتی چلی گئی۔
********
یہ سیّارہ ٔ زمین تھا۔ نیلے سمندر میں خشکی کے سبزوشاداب ٹکڑے کسی مصوّر کا شاہکار معلوم ہوتے تھے۔ زمین کے سفید برفیلے قطبین جن پرہزاروں پینگوئنز دوڑتے پھرتے تھے، دُور خلا سے یُوں دکھائی دیتے جیسے زمین کوئی پَری ہو اور قطبین اُس کے سفید پَر۔زمین،سڈرہ کمیونٹی کے دوسوبیالیس سیّاروں میں سب سے پُرفضا مقام تھی۔ یہاں سب کچھ فطری تھا۔ زمین کے مدار میں دُور دُور تک کسی شٹل یا سیٹلائٹ کو کھڑے ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ نہ ہی زمین پر اب کوئی سپیس ایلی ویٹر تھا۔ سب ہٹادیے گئے تھے۔
زمین کے ایک علاقہ ’’باختر‘‘ میں اِس وقت کئی لوگ جمع تھے۔ یہ ایک روشن دن تھا۔باختر برونز ایج میں ایک ملک ایران کا مشرقی حصہ ہوا کرتا تھا۔ یہاں بہت زیادہ قدیم تہذیبوں کے آثار ابھی تک موجود تھے۔ اِن آثار میں، تختِ جمشید، کعبۂ زرتشت، مرقدِ کورش، قصراباتانہ اور قصرتاچارا سرفہرست تھے۔اِن آثار کا علاقہ الگ کردیاگیا تھا۔ ہرطرف سبزہ اُگا دیا گیا تھا۔ ترشے ہوئے انواع واقسام کے پھل دار درختوں میں ڈھکے یہ آثارِ قدیمہ سڈرہ کمیونٹی کے طالب علموں کے تجسس کا سامان تھے۔ آثار سے قدرے فاصلے پر ایک بہت بڑا، میلوں تک پھیلا ہوا باغ تھا۔آج اِسی باغ میں بہت سے لوگ جمع تھے۔
یہ لوگ زرتشت سے ملنے آئے تھے۔ زرتشت آج سے پینتالیس (4500) سو سال پہلے اِسی علاقے میں ہوگزرا تھا۔ ساتھ موجود آثارِ قدیمہ اِسی زرتشت کی یادگاریں تھیں۔ جس جگہ کا نام کعبۂ زرتشت تھا، یہاں زرتشت اپنے دور میں عبادت کیا کرتاتھا۔آج سے ساڑھے چار ہزار سال پہلے زرتشت کو ماننے والے اسی کعبہ میں آگ کی پوجا کیا کرتےتھے۔دوسرے آثار میں، تختِ جمشید تھا۔ یہ ایک قدیم دور کے ایک ایرانی بادشاہ کا تخت تھا۔ پاس ہی مرقدِ کورش تھا۔ یہ ایک قبر تھی۔ اگرچہ کورش کا جسم آج پینتالیس سوسال بعد بھی اسی قبر میں دفن تھا لیکن آج سے دوسوسال پہلے کورش کا ڈی این اے نکال کر اُسے دوبارہ پیدا کردیا گیا تھا۔
آج کی تقریب میں اپنے زمانے سے صرف زرتشت ہی نہیں تھا بلکہ کورش بھی موجود تھا۔کورش کو تاریخ میں سائرس کے نام سے بھی یاد کیا جاتاتھا اور سلطان سکندر ذوالقرنین کے نام سے بھی۔ زمین کی اس تقریب میں زیادہ تر تعداد بِنادم کی ہی تھی۔ البتہ خدّام میں کچھ پارمش اور کچھ مقسور بھی دکھائی دے رہے تھے۔اِس وقت بہت سے لوگ زرتشت کے گرد گھیرا ڈالے کھڑے تھے۔ یہ سب قدیم دور کے انسان تھے۔ زمین کی مختلف صدیوں میں سے اُٹھائے گئے مختلف ادوار کے انسان۔ آج یہاں زمین کے ہر علاقے سے لوگ آئے ہوئے تھے۔ باغ میں ہرطرف اُجلی اور زرق برق پوشاکوں میں ملبوس پرانے زمانے کے انسان نئی زندگیوں کے ساتھ موجود تھے۔ زرتشت ایک نوجوان آدمی تھا۔ ایک ایسا نوجوان جس کی آنکھوں میں بلا کا تدبر اور لہجے میں بے پناہ نفاست تھی۔ زرتشت اپنے گرد گھیرا ڈالے لوگوں سے مخاطب تھا۔ وہ کہہ رہا تھا،
’’ آج کی تقریب میں نے اپنے دو خاص مہمانوں کے اعزاز میں منعقد کی ہے۔آپ لوگوں کے علم میں ہوگا کہ گزشتہ دنوں سڈرہ کمیونٹی نے دو مغنّیاؤں کو پورے اعزاز و اکرام کے ساتھ زمین پر بھیجا۔آج کی اِس تقریب کی مہمانانِ خصوصی یہی دونوں عظیم مغنیائیں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اِن دونوں مغنیاؤں کا تعلق، ہِند کے ایک علاقہ ’’پاکستان‘‘ سے ہے۔اس محفل میں ملک پاکستان کی چند اور ہستیاں بھی بطور خاص مدعو کی گئی ہیں۔آپ احباب جانتے ہیں کہ جب بھی ہمارا کوئی پرانا زمینی ساتھی واپس زمین پرآتاہے تو ہم ان کے اعزاز میں مختلف تقریبات منقعد کرتے ہیں۔ یہ بھی ایسی ہی ایک تقریب ہے‘‘
زرتشت کی بات ختم ہوئی توکسی کی آواز آئی،
’’اُن مغنیاؤں کے نام بھی بتادیجے آقا! ہم بھی اپنے دور میں پاکستان کے شہری تھے اور ہم میں سے ابھی تک بعض لوگوں کو اُن عظیم ہستیوں کا نام معلوم نہیں‘‘
زرتشت کے چہرے پر شوخ سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے جواب دیا،
’’کوئی بات نہیں۔ آج شام کو آپ ان سے ملنے والے ہیں۔ خود ہی دیکھ کر پہچانیے گا اور ہمیں بھی تعارف کروائیے گا‘‘
سب لوگ ہنسنے لگے۔
اب بڑے باغ کے ساتھ ملحق آثارقدیمہ والے علاقہ میں بھی ہلچل شروع ہوگئی۔ خدّام زمین پر قالین بچھارہے تھے۔ رنگارنگ کے اُونچے اور گھنے پیڑوں پر پھدکتے پرندے بھی گویا آج کی تقریب میں شامل تھے۔ جونہی خدّام نے قالین بچھایا، رنگین کبوتروں کی ایک ڈار قالین پرآکراٹھکیلیاں کرنے لگ گئی۔ تختِ جمشید پر بھی نہایت عمدہ قالین بچھا دیا گیا تھا۔جوں جوں شام نزدیک آتی جارہی تھی لوگ تختِ جمشید کے سامنے جمع ہوتے جارہے تھے۔ کسی کے ہاتھ میں شہد سے کشید کی گئی عمدہ شراب کا جام تھا تو کسی کے ہاتھ میں شیریں اور لذیذ مشروب کا۔ یہاں تک کہ سُورج غروب ہونے کو آگیا۔ باغ اور تختِ جمشید کے درمیان، انسانی ہتھیلی سے مشابہہ شفاف پانی کی ایک جھیل تھی۔غروب ہوتا ہوا سُورج جھیل میں جھلملا رہا تھا۔ بہت سی سُرمئی پشت والی مرغابیان پانی کی سطح پر اُچھلتی پھر رہی تھیں۔ سُورج جب دُور میدانوں میں اُترنے لگا تو سُورج کا رنگ کسی یاقوت کی طرح لال ہوگیا۔ جھیل کی سطح پر کچھ دیر کے لیے لال رنگ یوں چمکتا رہا جیسے شیشے کے گلاس میں سُرخ رنگ کی شراب۔ جھیل کا پانی ہوا کے جھونکوں سے تھرتھراتا تو جھیل کا یاقوت بھی تھرتھرانے لگتا۔
جھیل کے کنارے کالے راج ہنسوں کے کئی جوڑے اپنی لمبی چونچوں سے اپنی پشتیں کھجا رہے تھے۔ کسی کسی وقت کوئی مچھلی پانی میں اچھلتی تو اس کا رنگ بھی لال دکھائی پڑتا۔ جھیل کا یاقوتی منظر دیکھنے کے لیے کچھ لوگ وہیں رُک گئے۔ جونہی سورج غروب ہوا باغ کی طرف سے ایک خاص قسم کی تازہ ہواچلنے لگی۔ ہوا میں جانے کیا گھُلا تھا کہ ہر جھونکے کے ساتھ تازگی اور توانائی کا احساس بڑھاتی چلی جارہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں درختوں کی شاخوں سے ہلکی سی موسیقی کی آواز برآمد ہونے لگی۔ جوں جوں سُورج جھُکتا چلا جارہا تھا، پیڑ خود بخود روشن ہوتے چلے جارہے تھے۔ کوئی بلب، کوئی قممہ کہیں نظر نہیں آرہا تھا لیکن پھر بھی روشنی تھی کہ گہری شام کے ساتھ ساتھ گہری ہوتی چلی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ سُورج ڈوب گیا اور پورا باغ روشن ہوگیا۔ موسیقی کی آواز ابھی تک اُبھر رہی تھی۔ اب جھیل کے کنارے کھڑے لوگ ایک ایک کرکے تختِ جمشید کے سامنے جمع ہونے لگے۔ البتہ ابھی بھی دو لوگ جھیل کے کنارے کھڑے آپس میں باتیں کررہے تھے۔ یہ دونوں کون تھے؟
دونوں باپ بیٹے کی زمین پر یہ پہلی ملاقات تھی۔ یہ رستم اور سحراب تھے۔ رستم اور سحراب،ایران میں، زرتشت کے زمانہ سے بھی پہلے ہوگزرے تھے۔ دونوں باپ بیٹا خاصے جذباتی تھےکیونکہ آج وہ ہزاروں سال بعد دوبارہ مل رہے تھے۔ سحراب باربار جذباتی ہوکررستم کو گلے سے لگالیتا اور دونوں کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر جاتیں۔ قدیم ایرانی تاریخ حماسۂ ملی کے مطابق اِن دونوں باپ بیٹے کو ایک دوسرے کے ساتھ لڑنا پڑاتھا۔ رستم اور سحراب، دونوں اپنے وقت کے مایہ ناز پہلوان تھے۔ لیکن بدقسمتی سے دونوں باپ بیٹا دو مخالف فوجوں کی طرف سے آمنے سامنے آگئےتھے۔اور دونوں کے درمیان مبارزت ہوئی تھی۔معاً سحراب نے کہا،
’’بیٹا! تم نے جب مجھے گِرا لیا تھا تو میرا دوبارہ اُٹھنے کو دِل ہی نہ کیا۔ تم جب چار سال کے بچے ہوا کرتے تھے اور میرے سینے پر چڑھ کر بیٹھ جایا کرتے تھے، مجھے اُس وقت، وہی سماں یاد آگیا تھا۔ میں نے اُٹھنا چاہا بھی تو نہ اُٹھ سکا۔ میری آنکھوں کے سامنے سے تمہارے بچپن کے مناظر ہٹ ہی نہیں رہے تھے‘‘
یہ بات کہتے ہوئے سحراب گلوگیر ہوگیاتھا۔ رستم نے بھی ایک سسکی لی اور پھر لمبی سانس لے کر خاموش ہوگیا۔ تھوڑی دیر تک دونوں باپ بیٹا خاموش رہے پھر رستم نے کہا،
’’بابا! چلیے! تختِ جمشید کی طرف چلیے! تھوڑی دیر میں تقریب شروع ہونے والی ہے‘‘
اور وہ دونوں جھیل کے کنارے سے تختِ جمشید کی طرف چل پڑے۔آج اپنے وقت کے ایک ملک پاکستان کی دو مغنیاؤں کے فن کا مظاہرہ دیکھنے کا دن تھا۔ سب لوگ بے تاب تھے اور مغنیاؤں کے نمودار ہونے سے کافی پہلے ہی تختِ جمشید کے سامنے بچھا قالین لوگوں سے بھر گیا۔ قالین پر بے شمار تکیے لگا دیے گئے تھے۔ لوگ تکیوں کے ساتھ کہنیاں ٹکا کر بیٹھ گئے اور ٹولی در ٹولی باتیں کرنے لگے۔

—جاری ہے۔—

پہلی قسط اور ناول کا تعارف اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

دوسری قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

تیسری قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

چوتھی قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: